۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اپنے یا کسی اور کے یتیم کی کفالت کرنے والا اور میں جنت میں اس طرح ہوں گے۔ ساتھ مالک راوی نے انگشت ِ شہادت اور درمیانی انگلی کے ساتھ اشارہ کیا۔
۔ سیدنا مالک بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ماں باپ دونوں کی طرف سے ہو جانے والے یتیم کو اپنے کھانے اور پینے میں اپنے ساتھ ملا لیا،یہاں تک کہ وہ یتیم اس سے غنی ہو گیا تو ایسے آدمی کے لیے قطعی طور پر جنت واجب ہو جائے گی اور جس نے مسلمان غلام آزاد کیا تو وہ اس کے لیے جہنم سے آزادی کا باعث ہو گا، اس غلام کا ہر عضو آزاد کرنے والے کے ہر عضو کو آگ سے کفایت کرنے والا ہو گا۔
۔ زرارہ بن اوفی اپنی قوم کے مالک یا ابن مالک نامی صحابی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان نے مسلم ماں باپ دونوں کی طرف سے یتیم ہو جانے والے بچے کو اپنے کھانے پینے میں اپنے ساتھ رکھا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس یتیم کو غنی کر دیا تو اس کے لیے قطعی طور پر جنت واجب ہو جائے گی، جس مسلمان نے مسلمان غلام کو آزاد کیا تو یہ آگ سے اس کی آزادی کاباعث بنے گا اور جس آدمی نے اپنے والدین دونوں یا کسی ایک کو پایا اور پھر بھی جہنم میں داخل ہو گیا تو اللہ تعالیٰ اس کو دور کر دے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں دو کمزوروں یتیم اور عورت کے حقوق کو ممنوع اور حرام قرار دیتا ہوں۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی دل کی سختی کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا کر اور مسکین کو کھانا کھلایا کر۔
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے صرف اللہ تعالیٰ کے لیے کسییتیم کے سر پھر ہاتھ پھیرا تو اس کا ہاتھ جتنے بالوں پر سے گزرے گا، اس کو اتنے بالوں کے بقدر نیکیاں ملیں گی اور جس نے یتیم بچے یا بچی کے ساتھ احسان کیا تو میں اور وہ جنت میں ان دو انگلیوں کی طرح ہوں گے۔ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگشت ِ شہادت اوردرمیانی انگلی سے اشارہ کیا۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیوہ اور مسکین کے لیے محنت کرنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے یا رات کو قیام کرنے والے اور دن کو روزہ رکھنے والے کی طرح ہے۔