مسنداحمد

Musnad Ahmad

نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل

یتیم کی کفالت کرنے، اس کے ساتھ احسان کرنے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے اوربیواؤں اور مسکینوں کی حفاظت و نگرانی کرنے کی ترغیب کا بیان

۔ (۹۰۶۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَافِلُ الْیَتِیْمِ لَہُ اَوْ لِغَیْرِہِ اَنَا وَھُوَ کَھَاتَیْنِ فِی الْجَنَّۃِ اِذَا اتَّقَی اللّٰہَ۔)) وَاَشَارَ مَالِکٌ (اَحَدُ الرُّوَاۃِ) بِالسَّبَّابَۃِ وَالْوُسْطٰی۔ (مسند احمد: ۸۸۶۸)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اپنے یا کسی اور کے یتیم کی کفالت کرنے والا اور میں جنت میں اس طرح ہوں گے۔ ساتھ مالک راوی نے انگشت ِ شہادت اور درمیانی انگلی کے ساتھ اشارہ کیا۔

۔ (۹۰۶۴)۔ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ ضَمَّ یَتِیْمًا بَیْنَ اَبَوَیْنِ مُسْلِمَیْنِ اِلٰی طَعَامِہِ وَشَرَابِہٖحَتّٰییَسْتَغْنِیَ عَنْہُ، وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ اَلْبَتَّۃَ، وَمَنْ اَعْتَقَ اِمْرَاً مُسْلِمًا کَانَ فِکَاکَہُ مِنَ النَّارِ، یُجْزٰی بِکُلِّ عُضْوٍ مِنْہُ عُضْوًا مِنْہُ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۵۹۷)

۔ سیدنا مالک بن حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ماں باپ دونوں کی طرف سے ہو جانے والے یتیم کو اپنے کھانے اور پینے میں اپنے ساتھ ملا لیا،یہاں تک کہ وہ یتیم اس سے غنی ہو گیا تو ایسے آدمی کے لیے قطعی طور پر جنت واجب ہو جائے گی اور جس نے مسلمان غلام آزاد کیا تو وہ اس کے لیے جہنم سے آزادی کا باعث ہو گا، اس غلام کا ہر عضو آزاد کرنے والے کے ہر عضو کو آگ سے کفایت کرنے والا ہو گا۔

۔ (۹۰۶۵)۔ عَنْ زُرَارَۃَ بْنِ اَوْفٰی، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِہِ، یُقَالُ لَہُ مَالِکٌ، اَوِ ابْنُ مَالِکٍ، یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اَیُّمَا مُسْلِمٍ ضَمَّ یَتِیْمًا بَیْنَ اَبَوَیْنِ مُسْلِمَیْنِ اِلٰی طَعَامِہِ وَشَرَابِہٖحَتّٰییَسْتَغْنِیَ، وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ اَلْبَتَّۃَ، وَاَیُّمَا مُسْلِمٍ اَعَتَقَ رَقَبَۃً، اَوْ رَجُلاً مُسْلِمًا، کَانَتْ فِکَاکَہُ مِنَ النَّارِ، وَمَنْ اَدْرَکَ وَالِدَیْہِ، اَوْ اَحَدَھُمَا، فَدَخَلَ النَّارَ، فَاَبْعَدَہُ اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۵۹۶)

۔ زرارہ بن اوفی اپنی قوم کے مالک یا ابن مالک نامی صحابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتا ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مسلمان نے مسلم ماں باپ دونوں کی طرف سے یتیم ہو جانے والے بچے کو اپنے کھانے پینے میں اپنے ساتھ رکھا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس یتیم کو غنی کر دیا تو اس کے لیے قطعی طور پر جنت واجب ہو جائے گی، جس مسلمان نے مسلمان غلام کو آزاد کیا تو یہ آگ سے اس کی آزادی کاباعث بنے گا اور جس آدمی نے اپنے والدین دونوں یا کسی ایک کو پایا اور پھر بھی جہنم میں داخل ہو گیا تو اللہ تعالیٰ اس کو دور کر دے۔

۔ (۹۰۶۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اُحَرِّجُ حَقَّ الضَّعِیْفَیْنِ الْیَتِیْمِ وَالْمَرْاَۃِ۔)) (مسند احمد: ۹۶۶۴)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں دو کمزوروں یتیم اور عورت کے حقوق کو ممنوع اور حرام قرار دیتا ہوں۔

۔ (۹۰۶۷)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا،اَنَّ رَجُلًا شَکٰی اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَسْوَۃَ قَلْبِہٖ،فَقَالَ: ((امْسَحْرَاْسَالْیَتِیْمِ وَاَطْعِمِ الْمِسْکِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۹۰۰۶)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اپنی دل کی سختی کی شکایت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا کر اور مسکین کو کھانا کھلایا کر۔

۔ (۹۰۶۸)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ مَسَحَ رَاْسَ یَتِیْمٍ لَمْ یَمْسَحْہُ اِلاَّ لِلّٰہِ کَانَ لَہُ بِکُلِّ شَعْرَۃٍ مَرَّتْ عَلَیْھَایَدُہُ حَسَنَاتٌ، وَمَنْ اَحْسَنَ اِلٰییَتِیْمَۃٍ، اَوْ یَتِیْمٍ عِنْدَہُ، کُنْتُ اَنَا وَھُوَ فِی الْجَنَّۃِ کَھَاتَیْنِ۔)) وَفَرَّقَ بَیْنَ اِصْبَعَیْہِ السَّبَّابَۃِ وَالْوُسْطٰی۔ (مسند احمد: ۲۲۵۰۵)

۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے صرف اللہ تعالیٰ کے لیے کسییتیم کے سر پھر ہاتھ پھیرا تو اس کا ہاتھ جتنے بالوں پر سے گزرے گا، اس کو اتنے بالوں کے بقدر نیکیاں ملیں گی اور جس نے یتیم بچے یا بچی کے ساتھ احسان کیا تو میں اور وہ جنت میں ان دو انگلیوں کی طرح ہوں گے۔ ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انگشت ِ شہادت اوردرمیانی انگلی سے اشارہ کیا۔

۔ (۹۰۶۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((السَّاعِیْ عَلَی الْاَرْمَلَۃِ وَالْمِسْکِیْنِ کَالْمُجَاھِدِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، اَوْ کَالَّذِیْیَقُوْمُ اللَّیْلَ وَیَصُوْمُ النَّھَارَ۔)) (مسند احمد: ۸۷۱۷)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیوہ اور مسکین کے لیے محنت کرنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے یا رات کو قیام کرنے والے اور دن کو روزہ رکھنے والے کی طرح ہے۔