مسنداحمد

Musnad Ahmad

نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل

ہمسائے کے ساتھ احسان کرنے کی ترغیب کا بیان


۔ (۹۰۷۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہُ، وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلا یُؤْذِ جَارَہُ وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْرًا اَوْ لِیَسْکُتْ۔)) (مسند احمد: ۹۹۶۸)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ اپنے مہمان کی عزت کرے، جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ اپنے ہمسائے کو تکلیف نہ دے اور جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ خیر و بھلائی والی بات کرے یا پھر خاموش رہے۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۹۰۷۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۱۳۶، ۶۰۱۸، ومسلم: ۴۷ (انظر: ۹۹۶۷)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… آج کے مفاد پرستانہ اور ابن الوقتی دور میں ہمسائیوں کے حقوق کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے، ان کے حقوق کی ادائیگی تو کجا، سرے سے ان کی شناخت ہی نہیں کی جاتی۔گلی کے ایک کونے میں صف ِ ماتم بچھی ہوتی ہے تو دوسرے کونے پہ شادی کی رسومات رقص کناں ہوتی ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ہمسائے کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچائی جائے۔