ضیافت کی مدت اور مہمان کے حق اور اس کی ذمہ داری کا بیان - ضیافت کی مدت اور مہمان کے حق اور اس کی ذمہ داری کا بیان - نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Chapter 11 of نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ضیافت کا حق تین دن ہے، اس کے بعد مہمان جو کچھ پائے گا، وہ اس کے لیے صدقہ ہو گا۔
۔ سیدنا ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ضیافت تین ایام ہے اور مہمان کا جائزہ ایک دن رات تک ہے، اور کسی شخص کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ کسی کے پاس اس قدر ٹھہرے کہ اسے گنہگار کر دے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ اسے گنہگار کیسے کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی صورت یہ ہے کہ مہمان اس کے پاس ٹھہرے، جبکہ اس کے پاس ضیافت کے لیے کوئی چیز موجود نہ ہو۔
Takhreej
(۹۰۹۴) تخریج:أخرجہ مسلم: ۴۸(انظر: ۱۶۳۷۱)
Explanation
فوائد:… جائزہ سے مراد طاقت کے مطابق بہترین کھانا ہے، ویسے ضیافت تین دن تک ہوتی ہے، اس کے بعد مہمان پر صدقہ ہو گا۔
معلوم ہو اکہ مہمان کے لیے پہلے عمدہ کھانے کا اہتمام کیا جائے، لیکن تکلف سے بچنا ضروری ہے، اس کے بعد دو دن مزید معمول کے مطابق مہمان نوازی کی جائے، تین دنوں کے بعد میزبانی بطورِ صدقہ ہو گی۔
آج کل لوگ معرفت والے مہمانوں کے لیے بہت تکلف کرتے ہیں، بلکہ ایک ایک دسترخوان پر چھ سات سات ڈشیں سج جاتی ہیں، بعض لوگ تو ایسی ضیافت کے لیے قرض بھی لے لیتے ہیں اور بعض کو دیکھا ہے کہ وہ ایسی میزبانی کر کے اپنے مہینے کے روٹین خرچ کو خراب کر دیتے ہیں اور مہینے کے آخر میں پریشان نظر آتے ہیں، جبکہ اجنبی مہمان کو ایک قسم کا کھانا کھلانے میں ہر آدمی کے لیے دشوار نظر آتا ہے۔ یہ تمام امور مسنون ضیافت کا تقاضا نہیں ہیں۔
۔ ابو عثمان نہدی کہتے ہیں: میں سات دنوں تک سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا مہمان بنا رہا، میں نے ان کو یہ کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ میں کھجوریں تقسیم کیں، میرے حصے میں سات کھجوریں آئیں، ان میں ایک ردّ ی کھجور بھی تھی، جبکہ وہ مجھے سب سے زیادہ پسند تھی، اس کو بڑے زور سے چبانا پڑا۔
Takhreej
(۹۰۹۵) تخریج:اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۱۵۷، والترمذی: ۲۴۷۴ (انظر: ۹۳۷۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی اپنے مسلمان بھائی کے پاس جائے اور وہ اسے کوئی کھانا کھلائے تو اس کو چاہیے کہ وہ کھانا کھا لے اور اس کے بارے میں سوال نہ کرے، اس طرح اگر وہ کوئی مشروب پلائے تو وہ پی لے اور اس کے بارے میں سوال نہ کرے۔
۔ سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مہمان کی (پہلی) رات کی ضیافت ہر مسلمان پر واجب ہے، اگر وہ میزبان کے ملحقہ صحن میں اس حال میں صبح کرتا ہے کہ وہ اس حق سے محروم رہتا ہے تو یہ اس پر قرض ہو گا، مہمان چاہے تو اس کو تقاضا کر لے اور چاہے تو چھوڑ دے۔
Takhreej
(۹۰۹۷) تخریج:اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین سوی صحابیۃ، أخرجہ ابوداود: ۳۷۵۰، وابن ماجہ: ۳۶۷۷ (انظر: ۱۷۱۷۲)
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان کسی قوم کا مہمان بنا، لیکن اس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ اپنے حق سے محروم رہا، تو ہر مسلمان پر حق ہو گا کہ وہ اس مہمان کی مدد کرے، یہاں تک کہ وہ اپنے میزبان کی کھیتی اور مال سے اپنی اس رات کی مہمانی کا حق وصول کر لے۔
Takhreej
(۹۰۹۸) تخریج:اسنادہ ضعیف لجھالۃ ابن المھاجر، أخرجہ ابوداود: ۳۷۵۱(انظر: ۱۷۱۷۸)
Explanation
فوائد:… میزبانی، مہمان کا حق ہے۔ میزبان کو چاہیے کہ خندہ پیشانی کے ساتھ اس کا استقبال کرے اور حسب ِ استطاعت اور خوش دلی سے اس کی مہمان نوازی کا حق ادا کرے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مہمان کسی قوم کے پاس اترا، لیکن اس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ اپنے حق سے محروم رہا تو اس کے لیے جائز ہو گا کہ وہ اپنی میزبانی کے بقدر چیز لے لے، اس میں اس پر کوئی حرج نہیں ہو گا۔
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں بعض علاقوں کی طرف بھیجتے ہیں، جب ہم بعض ایسے لوگوں کے پاس اترتے ہیں، جو ہماری ضیافت نہیں تو اس کے بارے میں آپ کیا فرمائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم بعض ایسے لوگوں کے پاس اترو اور وہ تمہارے لیے ایسی چیز کا حکم دیں، جو مہمان کے لیے مناسب ہو، تو تم اس چیز کو قبول کرو، اور اگر وہ ایسے نہ کریں تو تم ان سے مہمان کا وہ حق وصول کرو جو ان کا ادا کرنا بنتا تھا۔
فوائد:… والدین اور بیوی بچوں کے حقوق کی طرح مہمان کی ضیافت بھی ایک حق ہے، جیسے جب خاوند اپنی بیوی کی جائز ضروریات پوری نہ کر رہا ہو تو اس کی بیوی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے خاوند کے مال سے اپنا حق چوری کر لیا کرے، ایسے ہی مہمان کا معاملہ ہے کہ میزبان اس کی ضیافت کا حق ادا نہیں کر رہے تو وہ ان سے اپنا حق وصول کر سکتاہے۔ یہ دراصل اسلام کا حسن ہے کہ ایک آدمی اپنے علاقے اور اہل وعیال سے دور ہے تو دوسرے مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اس کی میزبانی کا حق ادا کریں۔