TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ضیافت کی مدت اور مہمان کے حق اور اس کی ذمہ داری کا بیان - ضیافت کی مدت اور مہمان کے حق اور اس کی ذمہ داری کا بیان - نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 11 of نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 11 of 19 · 9 Hadith
۔ (۹۰۹۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((حَقُّ الضِّیَافَۃِ ثَلاثَۃُ اَیَّامٍ، فَمَا اَصَابَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَھُوَ صَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۰۹۲۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ضیافت کا حق تین دن ہے، اس کے بعد مہمان جو کچھ پائے گا، وہ اس کے لیے صدقہ ہو گا۔
Takhreej
(۹۰۹۲) تخریج:اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ الطیالسی: ۵۲۶۰، والبزار: ۱۹۳۰، وابویعلی: ۶۵۹۰ (انظر: ۱۰۹۰۷)
9092
Sahih
۔ (۹۰۹۳)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۱۱۰۴۵م)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اسی طرح کی حدیث بیان کرتے ہیں۔
Takhreej
(۹۰۹۳) تخریج:حدیث حسن (انظر: ۱۱۰۴۵)
9093
Sahih
۔ (۹۰۹۴)۔ عَنْ اَبِیْ شُرَیْحٍ الْخُزَاعِی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الضِّیَافَۃُ ثَـلَاثَۃُ اَیَّامٍ، وَجَائِزَتُہُ یَوْمٌ وَلَیْلَۃٌ، وَلایَحِلُّ لِلرَّجُلِ اَنْ یُقِیْمَ عِنْدَ اَحَدٍ حَتّٰییُؤْثِمَہُ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَکَیْفَیُؤْثِمُہُ؟ قَالَ: ((یُقِیْمُ عِنْدَہُ وَلَیْسَ لَہُ شِیْئٌیَقْرِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۸۴)
۔ سیدنا ابو شریح خزاعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ضیافت تین ایام ہے اور مہمان کا جائزہ ایک دن رات تک ہے، اور کسی شخص کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ کسی کے پاس اس قدر ٹھہرے کہ اسے گنہگار کر دے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ اسے گنہگار کیسے کرے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی صورت یہ ہے کہ مہمان اس کے پاس ٹھہرے، جبکہ اس کے پاس ضیافت کے لیے کوئی چیز موجود نہ ہو۔
Takhreej
(۹۰۹۴) تخریج:أخرجہ مسلم: ۴۸(انظر: ۱۶۳۷۱)
Explanation
فوائد:… جائزہ سے مراد طاقت کے مطابق بہترین کھانا ہے، ویسے ضیافت تین دن تک ہوتی ہے، اس کے بعد مہمان پر صدقہ ہو گا۔ معلوم ہو اکہ مہمان کے لیے پہلے عمدہ کھانے کا اہتمام کیا جائے، لیکن تکلف سے بچنا ضروری ہے، اس کے بعد دو دن مزید معمول کے مطابق مہمان نوازی کی جائے، تین دنوں کے بعد میزبانی بطورِ صدقہ ہو گی۔ آج کل لوگ معرفت والے مہمانوں کے لیے بہت تکلف کرتے ہیں، بلکہ ایک ایک دسترخوان پر چھ سات سات ڈشیں سج جاتی ہیں، بعض لوگ تو ایسی ضیافت کے لیے قرض بھی لے لیتے ہیں اور بعض کو دیکھا ہے کہ وہ ایسی میزبانی کر کے اپنے مہینے کے روٹین خرچ کو خراب کر دیتے ہیں اور مہینے کے آخر میں پریشان نظر آتے ہیں، جبکہ اجنبی مہمان کو ایک قسم کا کھانا کھلانے میں ہر آدمی کے لیے دشوار نظر آتا ہے۔ یہ تمام امور مسنون ضیافت کا تقاضا نہیں ہیں۔
9094
Sahih
۔ (۹۰۹۵)۔ عَنِ الْعَبَّاسِ الْجُرَیْرِیِّ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَاعُثْمَانَ النَّھْدِیَّ،یَقُوْلُ: تَضَیَّفْتُ اَبَاھُرَیْرَۃَ سَبْعًا، قَالَ: وََسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: قَسَمَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ اَصْحَابِہٖتَمْرًا،فَاَصَابَنِیْ سَبْعَ تَمَرَاتٍ اِحْدَاھُنَّ حَشَفَۃٌ، فَلَمْ یَکُنْ شَیْئٌ اَعَجَبَ اِلَیَّ مِنْھَا شَدَّتْ مَضَاغِیْ۔ (مسند احمد: ۹۳۶۲)
۔ ابو عثمان نہدی کہتے ہیں: میں سات دنوں تک سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مہمان بنا رہا، میں نے ان کو یہ کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ میں کھجوریں تقسیم کیں، میرے حصے میں سات کھجوریں آئیں، ان میں ایک ردّ ی کھجور بھی تھی، جبکہ وہ مجھے سب سے زیادہ پسند تھی، اس کو بڑے زور سے چبانا پڑا۔
Takhreej
(۹۰۹۵) تخریج:اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۱۵۷، والترمذی: ۲۴۷۴ (انظر: ۹۳۷۳)
9095
Sahih
۔ (۹۰۹۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا دَخَلَ اَحَدُکُمْ عَلٰی اَخِیْہِ الْمُسْلِمِ فَاَطْعَمَہُ طَعَامًا فَلْیَاْکُلْ مِنْ طَعَامِہِ، وَلا یَسْاَلْہُ عَنْہُ، فَاِنْ سَقَاہُ شَرَابًا مِنْ شَرَابِہٖفَلْیَشْرَبْ مِنْ شَرَابِہٖ،وَلایَسْاَلْہُ عَنْہُ۔)) (مسند احمد: ۹۱۷۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی اپنے مسلمان بھائی کے پاس جائے اور وہ اسے کوئی کھانا کھلائے تو اس کو چاہیے کہ وہ کھانا کھا لے اور اس کے بارے میں سوال نہ کرے، اس طرح اگر وہ کوئی مشروب پلائے تو وہ پی لے اور اس کے بارے میں سوال نہ کرے۔
Takhreej
(۹۰۹۶) تخریج:حدیث حسن، أخرجہ ابویعلی: ۶۳۵۸، والحاکم: ۴/ ۱۲۶(انظر:)
9096
Sahih
۔ (۹۰۹۷)۔ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِیْکَرِبَ الْکِنْدِیِّ اَبِیْ کَرِیْمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَیْلَۃُ الضَّیْفِ وَاجِبَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ، فَاِنِ اصْبَحَ بِفِنَائِہِ مَحْرُوْمًا کَان دَیْنًا لَہُ عَلَیْہِ اِنْ شَائَ اقْتَضَاہُ، وَاِنْ شَائَ تَرَکَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۰۴)
۔ سیدنا مقدام بن معدیکرب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مہمان کی (پہلی) رات کی ضیافت ہر مسلمان پر واجب ہے، اگر وہ میزبان کے ملحقہ صحن میں اس حال میں صبح کرتا ہے کہ وہ اس حق سے محروم رہتا ہے تو یہ اس پر قرض ہو گا، مہمان چاہے تو اس کو تقاضا کر لے اور چاہے تو چھوڑ دے۔
Takhreej
(۹۰۹۷) تخریج:اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین سوی صحابیۃ، أخرجہ ابوداود: ۳۷۵۰، وابن ماجہ: ۳۶۷۷ (انظر: ۱۷۱۷۲)
9097
Sahih
۔ (۹۰۹۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طِرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَیُّمَا مُسْلِمٍ اَضَافَ قَوْمًا فَاَصْبَحَ الضَّیْفُ مَحْرُوْمًا، فَاِنَّ حَقًّا عَلٰی کُلِّ مْسِلِمٍ نَصْرُہُ حَتّٰییَاْخُذَ بِقَرَی لَیْلَتِہِ مِنْ زَرْعِہِ وَمَالِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۱۰)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مسلمان کسی قوم کا مہمان بنا، لیکن اس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ اپنے حق سے محروم رہا، تو ہر مسلمان پر حق ہو گا کہ وہ اس مہمان کی مدد کرے، یہاں تک کہ وہ اپنے میزبان کی کھیتی اور مال سے اپنی اس رات کی مہمانی کا حق وصول کر لے۔
Takhreej
(۹۰۹۸) تخریج:اسنادہ ضعیف لجھالۃ ابن المھاجر، أخرجہ ابوداود: ۳۷۵۱(انظر: ۱۷۱۷۸)
Explanation
فوائد:… میزبانی، مہمان کا حق ہے۔ میزبان کو چاہیے کہ خندہ پیشانی کے ساتھ اس کا استقبال کرے اور حسب ِ استطاعت اور خوش دلی سے اس کی مہمان نوازی کا حق ادا کرے۔
9098
Zaeef
۔ (۹۰۹۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَیُّمَا ضَیْفٍ نَزَلَ بِقْوْمٍ فَاَصْبَحَ الضَّیْفُ مَحْرُوْمًا، فَلَہُ اَنْ یَاْخُذَ بِقَدْرِ قِرَاہُ، وَلا حَرَجَ عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۸۹۳۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مہمان کسی قوم کے پاس اترا، لیکن اس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ اپنے حق سے محروم رہا تو اس کے لیے جائز ہو گا کہ وہ اپنی میزبانی کے بقدر چیز لے لے، اس میں اس پر کوئی حرج نہیں ہو گا۔
Takhreej
(۹۰۹۹) تخریج:اسنادہ صحیح، أخرجہ الطحاوی فی شرح مشکل الآثار : ۲۸۱۶(انظر: ۸۹۴۸)
9099
Sahih
۔ (۹۱۰۰)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ قَالَ: قُلْنَا لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِنَّکَ تَبْعَثُنَا فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ لا یَقْرُوْنَّا فَمَاتَرٰی فِیْ ذٰلِکَ؟ فَقَالَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَاَمَرُوْا لَکُمْ بِمَا یَنْبِغِیْ لِلضَّیْفِ فَاقْبَلُوْا، وَاِنْ لَمْ یَفْعَلُوْا فَخُذُوْا مِنْھُمْ حَقَّ الضَّیْفِ الَّذِیْیَنْبَغِیْ لَھُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۷۴۷۸)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں بعض علاقوں کی طرف بھیجتے ہیں، جب ہم بعض ایسے لوگوں کے پاس اترتے ہیں، جو ہماری ضیافت نہیں تو اس کے بارے میں آپ کیا فرمائیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم بعض ایسے لوگوں کے پاس اترو اور وہ تمہارے لیے ایسی چیز کا حکم دیں، جو مہمان کے لیے مناسب ہو، تو تم اس چیز کو قبول کرو، اور اگر وہ ایسے نہ کریں تو تم ان سے مہمان کا وہ حق وصول کرو جو ان کا ادا کرنا بنتا تھا۔
Takhreej
(۹۱۰۰) تخریج:أخرجہ البخاری: ۲۴۶۱، ۶۱۳۷، ومسلم: ۱۷۲۷(انظر: ۱۷۳۴۵)
Explanation
فوائد:… والدین اور بیوی بچوں کے حقوق کی طرح مہمان کی ضیافت بھی ایک حق ہے، جیسے جب خاوند اپنی بیوی کی جائز ضروریات پوری نہ کر رہا ہو تو اس کی بیوی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے خاوند کے مال سے اپنا حق چوری کر لیا کرے، ایسے ہی مہمان کا معاملہ ہے کہ میزبان اس کی ضیافت کا حق ادا نہیں کر رہے تو وہ ان سے اپنا حق وصول کر سکتاہے۔ یہ دراصل اسلام کا حسن ہے کہ ایک آدمی اپنے علاقے اور اہل وعیال سے دور ہے تو دوسرے مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اس کی میزبانی کا حق ادا کریں۔
9100
Sahih

Chapters

19
01
نیکی اور گناہ کی تعریف کا بیان
4 Hadith
02
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
26 Hadith
03
اولاد اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنا
10 Hadith
04
اولاد کے فوائد اور ان کی تربیت کرنے اور ان پر نرمی کرنے کی ترغیب کا بیان
11 Hadith
05
بیٹیوں کا اکرام کرنے کی ترغیب اور ان کی تربیت اور ان پر نرمی کرنے کی فضیلت کا بیان
13 Hadith
06
صلہ رحمی کی ترغیب کا بیان
14 Hadith
07
یتیم کی کفالت کرنے، اس کے ساتھ احسان کرنے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے اوربیواؤں اور مسکینوں کی حفاظت و نگرانی کرنے کی ترغیب کا بیان
7 Hadith
08
ہمسائے کے ساتھ احسان کرنے کی ترغیب کا بیان
14 Hadith
09
ضیافت اور اس کے آداب کے ابواب مہمان کا اکرام کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت و برکت کا بیان
6 Hadith
10
مہمان کے لیے تکلف نہ کرنے کا بیان
2 Hadith
11
ضیافت کی مدت اور مہمان کے حق اور اس کی ذمہ داری کا بیان
9 Hadith
12
جب مہمان زیادہ ہو جائیں تو ضیافت کرنے کے لیے مسلمانوں کاایک دوسرے کے ساتھ مل جانا اور باہمی تعاون کرنا
2 Hadith
13
مسلمانوں کی خیرخواہی کرنے کی ترغیب کا بیان
8 Hadith
14
مسلمان کی مدد کرنے، اس کی تنگی کو دور کرنے، اس کی حاجت کو پورا کرنے اور اس کے نقائص پر پردہ ڈالنے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
15
مسلمان کی پشت پناہی کرنے، اس سے محبت کرنے، اس پر شفقت کرنے اور اس کی تکلیف کی وجہ سے تکلیف محسوس کرنے کی رغبت کا بیان
6 Hadith
16
مؤمن کی مدد کرنے اور اس کی عزت کا دفاع کرنے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
17
مسلمانوں کے نقائص پر پردہ ڈالنے اور ان کو شہرت نہ دینے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
18
ہدایت اور اعمالِ خیر کی طرف دعوت دینے اور ان پر رہنمائی کرنے اور سفارش کرنے اور آپس کی اصلاح کرنے کی ترغیب کا بیان
9 Hadith
19
راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے اور راہ بھولے کی رہنمائی کرنے کی ترغیب کا بیان
11 Hadith
No chapter matched that.