مسنداحمد

Musnad Ahmad

نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل

مسلمانوں کی خیرخواہی کرنے کی ترغیب کا بیان

۔ (۹۱۰۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ۔)) قَالُوْا: لِمَنْ؟ قَالَ: ((لِلّٰہِ وَرَسُوْلِہِ وَلِاَئِمَّۃِ الْمُسْلِمِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۳۲۸۱)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دین خیرخواہی ہے۔ صحابہ نے کہا: کس کے لیے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی، اس کے رسول اور مسلمانوں کے حکمرانوں کے لیے۔

۔ (۹۱۰۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنََّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ۔)) ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ۔ قَالَ: قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لِمَنْ؟ قَالَ: ((لِلّٰہِ وَلِکِتَابِہٖوَلِاَئِمَّۃِ الْمُسْلِمِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۷۹۴۱)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دین خیرخواہی ہے۔ تین بار فرمایا، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کس کے لیے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی، اس کی کتاب اور مسلمانوں کے لیڈروں کے لیے۔

۔ (۹۱۰۵)۔ عَنْ تَمِیْمِ نِ الدَّارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ، اَلدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ۔)) ثَلاثًا۔ وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((اِنَّمَا الدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ۔)) قَالُوْا: لِمَنْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((لِلّٰہِ وَلِکِتَابِہٖ وَلِرَسُوْلِہِ، وَلِاَئِمَّۃِ الْمُسْلِمِیْنِ وَعَامَّتِھِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۷۰۶۴)

۔ سیدنا تمیم داری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دین خیرخواہی ہے، دین خیرخواہی ہے۔ تین دفعہ فرمایا، ایک روایت میں ہے: صرف اور صرف دین خیرخواہی کا نام ہے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کس کے لیے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی، اس کی کتاب، اس کے رسول، مسلمانوں کے حکمرانوں اور عام مسلمانوں کے لیے۔

۔ (۹۱۰۶)۔ عَنْ حَکِیْمِ بْنِ اَبِیْیَزِیْدَ عَنْ اَبِیْہِ عَمَّنْ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((دَعُوْا النَّاسَ فَلْیُصِبْ بَعْضُھُمْ مِنْ بَعْضٍ فَاِذَا اسْتَنْصَحَ رَجُلٌ اَخَاہُ فَلْیَنْصَحْ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۴۷۱)

۔ ایک صحابی ٔ رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں کو چھوڑ دو تاکہ بعض بعض سے نفع حاصل کر سکے، ہاں جب کوئی کسی سے نصیحت طلب کرتے تو وہ نصیحت کرے۔

۔ (۹۱۰۷)۔ عَنْ جَرِیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: اُبَایِعُکَ عَلَی الْاِسْلامِ فَقَبَضَ یَدَہُ وَقَالَ: ((النُّصْحُ لِکُلِّ مُسْلِمٍ۔)) (مسند احمد: ۱۹۳۷۴)

۔ سیدنا جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: میں اسلام پر آپ کی بیعت کرتا ہوں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ پیچھے ہٹا لیا اور فرمایا: ہر مسلمان کے لیے خیر خواہی کرنی ہو گی۔

۔ (۹۱۰۸)۔ عَنْ زَیَادِ بْنِ عِلاقَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ جَرِیْرَ بْنَ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَامَ یَخْطُبُیَوْمَ تُوُفِّیَ الْمُغِیْرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ فَقَالَ: عَلَیْکُمْ بِاتِّقَائِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَالْوَقَارِ وَالسَّکِیْنَۃِ حَتّٰییَاْتِیَکُمْ اَمِیْرٌ، فَاِنَّمَایَاْْتِیْکُمُ الْآنَ، ثُمَّ قَالَ: اسْتَعْفُوْا لِاَمِیْرِکُمْ فَاِنَّہُ کَانَ یُحِبُّ الْعَفْوَ، وَقَالَ: اَمَّا بَعْدُ فَاِنِّیْ اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: اُبَایِعُکَ عَلَی الْاِسْلامِ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : وَاشْتَرَطَ عَلَیَّ ((وَالنُّصْحَ لِکُلِّ مُسْلِمٍ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((وَتَنْصَحُ لِلْمُسْلِمِ وَتَبْرَاُ مِنَ الْکَافِرِ۔)) فَبَایَعْتُہُ عَلٰی ھٰذَا وَرَبِّ ھٰذَا الْمَسْجِدِ! اِنِّیْ لَکُمْ لَنَاصِحٌ جَمِیْعًا ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَنَزَلَ۔ (مسند احمد: ۱۹۳۶۵)

۔ زیاد بن علاقہ کہتے ہیں: جس دن سیدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہوئے، اس دن سیدنا جریر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کھڑے ہو کر مسلمانوں سے خطاب کیا اور کہا: تم پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور نیا امیر آنے تک وقار اور سکینت اختیار کرو، بس وہ ابھی آنے والا ہے۔ پھر کہا: اپنے امیر سیدنا مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لیے معافی کا سوال کرو، کیونکہ وہ معافی کو پسند کرتے تھے۔ ایک حدیث بھی سن لو، أَمَّا بَعْدُ! میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا اور کہا: میں اسلام پر آپ کی بیعت کرتا ہوں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ پر یہ شرط لگائی کہ میں ہر مسلمان کے لیے خیرخواہی کروں۔ ایک روایت میں ہے: اور تو ہر مسلمان کے لیے خیرخواہی کرے اور کافر سے براء ت کا اظہار کرے۔ اس مسجد کے ربّ کی قسم! میں نے اسی چیز پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی، اور اب میں تم سب کی خیرخواہی کر رہا ہوں۔ پھر انھوں نے بخشش کا سوال کیا اور نیچے اتر آئے۔

۔ (۹۱۰۹)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: اَحَبُّ مَاتَعَبَّدَنِیْ بِہٖعَبْدِیْ اِلیَّ النُّصْحُ لِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۴۴)

۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ چیز، جس کے ذریعے بندہ میری عبادت کرتا ہے، یہ ہے کہ میرے لیے خیرخواہی کی جائے۔

۔ (۹۱۱۰)۔ عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، رَفَعَہُ، وَقَالَ شَاذَانُ مَرَّۃً: عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ۔)) وَذَکَرَ شَاذَانُ اَیْضًا حَدِیْثَ ((الدَّالُّ عَلَی الْخَیْرِ کَفَاعِلِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۱۸)

۔ سیدنا ابو مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ شخص امانتدار ہو تا ہے، جس سے مشورہ طلب کیا جائے۔ شاذان راوی نے یہ حدیث بھی ذکر کی: نیکی پر رہنمائی کرنے والا اس نیکی کو کرنے والے کی طرح ہے۔