مسنداحمد

Musnad Ahmad

نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل

مسلمان کی پشت پناہی کرنے، اس سے محبت کرنے، اس پر شفقت کرنے اور اس کی تکلیف کی وجہ سے تکلیف محسوس کرنے کی رغبت کا بیان

۔ (۹۱۱۶)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنَّہُ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((مَثَلُ الْمُؤْمِنِ فِیْ تَوَادِّھِمْ وَتَعَاطُفِھِمْ وَتَرَاحُمِھِمْ، مَثَلُ الْجَسَدِ اِذَا اشْتَکٰی مِنْہُ عُضْوٌ تَدَاعٰی سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّہَرِ وَالْحُمّٰی۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۷۰)

۔ سیدنانعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے سے محبت کرنے، باہم ہمدردی کرنے اور ایک دوسرے پر رحم کرنے میں مومنوں کی مثال ایک جسم کی سی ہے کہ جب اس کا ایک عضو تکلیف میں ہوتا ہے تو اس کی وجہ سے باقی سارا جسم بیداری اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

۔ (۹۱۱۷)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْمُؤْمِنُ کَرَجُلٍ وَاحِدٍ اِذَا اشْتَکٰی رَاْسُہُ اشْتَکٰی کُلُّہُ، اِنِ اشْتَکٰی عَیْنُہُ اشْتَکٰی کُلُّہُ۔)) (مسند تاحمد: ۱۸۶۲۵)

۔ سیدنانعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سارے مومن ایک آدمی کی مانند ہیں، جب اس کا سر تکلیف میں ہوتا ہے تو سارا جسم تکلیف میں پڑ جاتا ہے اور جب اس کی آنکھ دکھتی ہے تو سارے کا سارا جسم دکھنے لگتا ہے۔

۔ (۹۱۱۸)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ کَالْبُنْیَانِیَشُدُّ بَعْضُہُ بَعْضًا۔)) (مسند احمد: ۱۹۸۵۶)

۔ سیدنا ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک مؤمن دوسرے مؤمن کے لیے عمارت کی طرح ہے، جس کا بعض حصہ بعض کو مضبوط کرتا ہے۔

۔ (۹۱۱۹)۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدِ نِ السَّاعِدِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الْمُؤْمِنَ مِنْ اَھْلِ الْاِیْمَانِ بِمَنْزِلَۃِ الرَّاْسِ مِنَ الْجَسَدِ، یَاْلَمُ الْمُؤْمِنُ لِاَھْلِ الْاِیْمَانِ کَمَا یَاْلَمُ الْجَسَدُ لِمَا فِیْ الرَّاْسِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۶۵)

۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اہل ایمان لوگوں سے مؤمن کا تعلق وہ ہے جو جسم سے سر کا ہوتا ہے، مؤمن دوسرے اہل ایمان کی خاطر ایسے ہی تکلیف محسوس کرتا ہے جیسے سر کی بیماری کی وجہ سے سارا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے۔

۔ (۹۱۲۰)۔ عَنْ سَیَّارٍ، اَنَّہُ سَمِعَ خَالِدَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ الْقَسْرِیِّ، وَھُوَ یَخْطُبُ عَلَی الْمِنْبَرِ، وَھُوَ یَقُوْلُ: حَدَّثَنِیْ اَبِیْ عَنْ جَدِّیْ اَنَّہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَتُحِبُّ الْجَنَّۃَ؟۔)) قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَاَحِبَّ لِاَخِیْکَ مَاتُحِبُّ لِنَفْسِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۷۷۲)

۔ خالد بن عبدا للہ قسری نے کہا، جبکہ وہ منبر پر خطاب کر رہے تھے: میرے باپ نے میرے دادے سے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو جنت کو پسند کرتا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر جو اپنے لیے پسند کرتا ہے ، وہی کچھ اپنے بھائی کے لیے پسند کر۔

۔ (۹۱۲۱)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لا یُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتّٰییُحِبُّ لِاَخِیْہِ مَا یُحِبُّہُ لِنَفْسِہِ مِنَ الْخَیْرِ۔)) (مسند احمد: ۱۳۶۶۴)

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بندہ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک اپنے بھائی کے لیے وہ خیر و بھلائی پسند نہ کرے جو اپنے لیے کرتا ہے۔