۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کیا کرو، وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بات تو سمجھ آ رہی ہے کہ ہم مظلوم کی مدد کریں، بھلا ظالم کی مدد کیسے کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس کو ظلم سے منع کرو۔ ایک روایت میں ہے: تم اس کو ظلم سے روکو، یہ دراصل اس کی مدد ہو گی۔
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو لڑکے لڑ پڑے، ایک کا تعلق مہاجرین سے تھا اور دوسرے کاانصار سے، اول الذکر نے آواز دی: او مہاجرو! آخر الذکر نے یوں للکارا: او انصاریو! یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر آگئے اورفرمایا: کیا جاہلیت والی پکار پکاری جا رہی ہے؟ صحابہ نے کہا: جی نہیں، اللہ کی قسم! بس ایک لڑکے نے دوسرے کی دُبُر پر ہاتھ یا پاؤں مار دیا ہے، (اس وجہ سے لڑائی ہو گئی ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چلو کوئی حرج نہیں ہے، لیکن چاہیےیہ کہ آدمی اپنے بھائی کی مدد کرے، وہ ظالم ہو یا مظلوم، اگر وہ ظالم ہو تو اس کو ظلم سے منع کرے،یہ اس کے لیے مدد ہو گی اور اگر وہ مظلوم ہے تو اس کی تائید و نصرت کرے۔
۔ سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی موجود گی میں مؤمن کو ذلیل کیا گیا اور اس نے اس کی مدد نہ کی، جبکہ وہ اس کی مدد کرنے پر قادر ہو تو اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس کو ساری مخلوق کے سامنے ذلیل کرے گا۔
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی کی عزت کا دفاع کیا، تو اللہ تعالیٰ پر حق ہو گا کہ وہ روزِ قیامت آگ کو اس کے چہرے سے ہٹا دے۔
۔ سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مؤمن کو کسی ایسے منافق سے بچایا جو اس کی عیب جوئی کر رہا تھا تو اللہ تعالیٰ اس پر ایک فرشتہ نازل کریں گے، جو روزِ قیامت اس کے گوشت کو جہنم کی آگ سے بچائے گا، اور جس نے مؤمن کو عیب دار قرار دینے کے لیے کسی معیوب چیز کے ساتھ اس کا پیچھا کیا تو اللہ تعالیٰ اس کو جہنم کے پل پر روک لے گا، یہاں تک کہ وہ اپنی کہی ہوئی بات سے نکل جائے۔