مسنداحمد

Musnad Ahmad

نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل

مؤمن کی مدد کرنے اور اس کی عزت کا دفاع کرنے کی ترغیب کا بیان

۔ (۹۱۲۲)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اُنْصُرْ اَخَاکَ ظَالِمًا اَوْ مَظْلُوْمًا۔)) قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھٰذَا نَنْصُرُہُ مَظْلُوْمًا فَکَیْفَ نَنْصُرُہُ ظَالِمًا؟ قَالَ: ((تَمْنَعُہُ مِنَ الظُّلْمِ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((تَحْجِزُہُ تَمْنَعُہُ مِنَ الظُّلْمِ فَاِنَّ ذٰلِکَ نَصْرُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۳۱۱۰)

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کیا کرو، وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بات تو سمجھ آ رہی ہے کہ ہم مظلوم کی مدد کریں، بھلا ظالم کی مدد کیسے کریں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اس کو ظلم سے منع کرو۔ ایک روایت میں ہے: تم اس کو ظلم سے روکو، یہ دراصل اس کی مدد ہو گی۔

۔ (۹۱۲۳)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اقْتَتَلَ غُلامَانِ غُلامٌ مِنَ الْمُہَاجِرِیْنَ وَغُلامٌ مِنَ الْاَنْصَارِ، فَقَالَ الْمُھَاجِرِیُّ: یَا لَلْمُھَاجِرِیْنَ، وَقَالَ الْاَنْصَارِیُّ: یَالَلْاَنْصَارِ! فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اَدَعْوَی الْجَاھِلِیَّۃِ؟)) فَقَالُوْا: لا، وَاللّٰہِ اِلاَّ اَنَّ غُلامَیْنِ کَسَعَ اَحَدُھُمَا الْآخَرَ، فَقَالَ: ((لابَاْسَ لِیَنْصُرَ الرَّجُلُ اَخَاہُ ظَالِمًا اَوْ مَظْلُوْمًا فَاِنْ کَانَ ظَالِمًا فَلْیَنْہَہُ فَاِنَّ لَہُ نُصْرَۃً، وَاِنْ کَانَ مَظْلُوْمًا فَلْیَنْصُرْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۲۱)

۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو لڑکے لڑ پڑے، ایک کا تعلق مہاجرین سے تھا اور دوسرے کاانصار سے، اول الذکر نے آواز دی: او مہاجرو! آخر الذکر نے یوں للکارا: او انصاریو! یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر آگئے اورفرمایا: کیا جاہلیت والی پکار پکاری جا رہی ہے؟ صحابہ نے کہا: جی نہیں، اللہ کی قسم! بس ایک لڑکے نے دوسرے کی دُبُر پر ہاتھ یا پاؤں مار دیا ہے، (اس وجہ سے لڑائی ہو گئی ہے)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چلو کوئی حرج نہیں ہے، لیکن چاہیےیہ کہ آدمی اپنے بھائی کی مدد کرے، وہ ظالم ہو یا مظلوم، اگر وہ ظالم ہو تو اس کو ظلم سے منع کرے،یہ اس کے لیے مدد ہو گی اور اگر وہ مظلوم ہے تو اس کی تائید و نصرت کرے۔

۔ (۹۱۲۴)۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ اُذِلَّ عِنْدَہُ مُؤْمِنٌ فَلَمْ یَنْصُرْہُ وَھُوَ قَادِرٌ عَلٰی اَنْ یَنْصُرَہُ، اَذَّلَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلٰی رُؤُوْسِ الْخَلائِقِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۰۸۱)

۔ سیدنا سہل بن حنیف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص کی موجود گی میں مؤمن کو ذلیل کیا گیا اور اس نے اس کی مدد نہ کی، جبکہ وہ اس کی مدد کرنے پر قادر ہو تو اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس کو ساری مخلوق کے سامنے ذلیل کرے گا۔

۔ (۹۱۲۵)۔ عَنْ اَبِیْ الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ رَدَّ عَنْ عِرْضِ اَخِیْہِ الْمُسْلِمِ، کَانَ حَقًّا عَلَی اللّٰہِ اَنْ یَرُدَّ عَنْہُ نَارَ جَھَنَّمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۸۰۸۶)

۔ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی کی عزت کا دفاع کیا، تو اللہ تعالیٰ پر حق ہو گا کہ وہ روزِ قیامت آگ کو اس کے چہرے سے ہٹا دے۔

۔ (۹۱۲۶)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ اَنَسٍ الْجُھَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ حَمٰی مُؤْمِنًا مِنْ مُنَافِقٍ یَعِیْبُہُ بَعَثَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی مَلَکًا یَحْمِیْ لَحْمَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ نَّارِ جَھَنْمَ، وَمَنْ بَغٰی مُؤْمِنًا بِشَیْئٍ یُرِیْدُ شَیْنَہُ، حَبَسَہُ اللّٰہُ عَلٰی جَسْرِ جَھَنَّمَ حَتّٰییَخْرُجَ مِمَّا قَالَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۳۴)

۔ سیدنا معاذ بن انس جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مؤمن کو کسی ایسے منافق سے بچایا جو اس کی عیب جوئی کر رہا تھا تو اللہ تعالیٰ اس پر ایک فرشتہ نازل کریں گے، جو روزِ قیامت اس کے گوشت کو جہنم کی آگ سے بچائے گا، اور جس نے مؤمن کو عیب دار قرار دینے کے لیے کسی معیوب چیز کے ساتھ اس کا پیچھا کیا تو اللہ تعالیٰ اس کو جہنم کے پل پر روک لے گا، یہاں تک کہ وہ اپنی کہی ہوئی بات سے نکل جائے۔