مسنداحمد

Musnad Ahmad

نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل

ہدایت اور اعمالِ خیر کی طرف دعوت دینے اور ان پر رہنمائی کرنے اور سفارش کرنے اور آپس کی اصلاح کرنے کی ترغیب کا بیان

۔ (۹۱۳۲)۔ عَنِ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ دَعَا اِلٰی ھُدًی، کَانَ لَہٗمِنَالْاَجْرِمِثْلُاُجُوْرِمَنْیَّتَّبِعُہٗ لا یُنْقِصُ ذَلِکَ مِنْ اُجُوْرِھِمْ شَیِْئًا، وَمَنْ دَعَا اِلٰی ضَلَالَۃٍ کَانَ عَلَیْہَ مِنَ الْاِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ یَّتَّبِعُہُ لایُنْقِصُ ذَلِکَ مِنْ آثَامِھِمْ شَیْئًا۔)) (مسند احمد: ۹۱۴۹)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ہدایت کی طرف بلایا تو اس کو اس کی پیروی کرنے والوں کے اجر جتنا اجر ملے گا، جبکہ ان کے اجروں میں کوئی کمی نہیں آئے گی، اس طرح جس نے گمراہی کی طرف بلایا تو اس کو اس کے پیچھے چلنے والوں کے گناہوں جتنا گناہ ملے گا، جبکہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔

۔ (۹۱۳۳)۔ عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِیْرٍ عَنْ اَبِیْہِ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قال: ((مَنْ سَنَّ فِی الْاِسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً، کَانَ لَہُ اَجْرُھَا وَاَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ بَعْدِہِ، مِنْ غَیْرِ اَنْ یُنْتَقَصَ مِنْ اُجُوْرِھِمْ شَیْئٌ، وَمَنْ سَنَّ فِی الْاِسْلَامِ سُنَّۃً سَیِّئَۃً، کَانَ عَلَیْہِ وِزْرُھَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ بَعْدِہِ مِنْ غَیْرِ اَنْ یُنْتَقَصَ مِنْ اَوْزَارِھِمْ شَیْئٌ۔)) (مسند احمد: ۱۹۳۶۹)

۔ سیدنا جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اسلام میں اچھا طریقہ جاری کیا تو اس کو اس کا اجر بھی ملے گا اور اس کے بعد اس پر عمل کرنے والوں کا اجر بھی، جبکہ ان عاملوں کے اجر میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی، اسی طرح جس نے اسلام میں برا طریقہ وضع کیا، اس کو اس کا گناہ بھی ملے گا اور اس کے بعد اس کو اپنانے والوں کا گناہ بھی ملے گا، جبکہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔

۔ (۹۱۳۴)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَاَلَ رَجُلٌ عَلٰی عَھْدِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَمْسَکَ الْقَوْمُ، ثُمَّ اِنَّ رَجُلاً اَعْطَاہُ، فَاَعْطَی الْقَوْمُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ سَنَّ خَیْرًا فَاسْتُنَّ بِہٖ،کَانَلَہُاَجْرُہُوَمِنْاُجُوْرِمَنْتَبِعَہُغَیْرَ مُنْتَقِصٍ مِنْ اُجُوْرِھِمْ شَیْئًا، وَمَنْ سَنَّ شَرًّا فَاسْتُنَّ بِہٖکَانَعَلَیْہِ وِزْرُہُ وَمِنْ اَوْزَارِ مَنْ تََبِعَہُ غَیْرَ مُنْتَقِصٍ مِنْ اَوْزَارِھِمْ شَیْئًا۔)) (مسند احمد: ۲۳۶۷۸)

۔ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے عہد ِ نبوت میں سوال کیا، لوگوں نے اسے کچھ نہ دیا، پھر ایک آدمی نے اس کو کوئی چیز دی اور اسے دیکھ کر دوسرے لوگوں نے بھی اس کو کچھ نہ کچھ دیا،یہ صورتحال دیکھ کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اچھا طریقہ جاری کیا اور پھر اس کو اپنایا گیا تو اس کو اس کا اجر بھی ملے گا اور اس کی پیروی کرنے والوں کا بھی، جبکہ ان کے اپنے اجر میں کوئی کمی نہیں آئے گی اور جس نے برا طریقہ وضع کیا اور پھر اس کو اپنا لیا گیا تو اس کو اپنا گناہ بھی ملے گا اور اس طریقے کو اپنانے والوں کا بھی، جبکہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔

۔ (۹۱۳۵)۔ عَنْ اَبِی مَسْعُوْدٍ اَلْاَنْصَارِیِّ، قَالَ: اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٌ فَقَالَ: اِنِّی اُبْدِعَ بِی فَاحْمِلْنِیْ؟ قَالَ: ((مَاعَنْدِیْ مَااَحْمِلُکَ عَلَیْہِ، وَلٰکِنْ اِئْتِ فُلانًا۔)) فَاَتَاہُ فَحَمَلَہُ، فَاَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَخْبَرَہُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ دَلَّ عَلٰی خَیْرٍ فَلَہٗمِثْلُاَجْرِفَاعِلِہِ۔)) (مسنداحمد: ۱۷۲۱۲)

۔ سیدنا ابو مسعود انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: میری سواری تھک گئی ہے، لہٰذا آپ مجھے کوئی سواری دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے پاس تو سواری نہیں ہے، البتہ تو فلاں کے پاس جا، (وہ تجھے سواری دے دے گا)۔ پس وہ اس آدمی کے پاس گیا اور اس نے واقعی اس کو سواری دے دی، پھر وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کے بارے میں خبر دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو نیکی پر دلالت کرتا ہے، اس کو بھی نیکی کرنے والے کے برابر اجر ملتا ہے۔

۔ (۹۱۳۶)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) نَحْوُہُ وَفِیْہِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسَ عِنْدِیْ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَفَـلَا اَدُلُّہُ عَلٰی مَنْ یَّحْمِلُہُ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ دَلَّ عَلٰی خَیْرٍ فَلَہُ مِثْلُ اَجْرِ فَاعِلِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۹۵)

۔ (دوسری سند) اسی قسم کی حدیث بیان کی گئی ہے، البتہ اس میں ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے پاس تو سواری نہیں ہے۔ یہ سن کر ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں ایسے شخص کی طرف اس کی رہنمائی نہ کروں، جو اس کو سواری دے دے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو نیکی پر دلالت کرتا ہے، اس کو بھی نیکی کرنے والے کے برابر اجر ملتا ہے۔

۔ (۹۱۳۷)۔ عَنْ بُرَیْدَۃَ الْاَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌،اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِرَجُلٍ اَتَاہُ: ((اِذْھَبْ، فَاِنَّ الدَّالَ عَلَی الْخَیْرِ کَفَاعِلِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۱۵)

۔ سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے پاس آنے والے ایک آدمی سے فرمایا: تو جا، پس بیشک نیکی پر دلالت کرنے والا اس کو کرنے والے کی طرح ہے۔

۔ (۹۱۳۸)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہُ: ((یَا مُعَاذُ، اَنْ یَھْدِیَ اللّٰہُ عَلٰییَدَیْکَ رَجُلاً مِنْ اَھْلِ الشِّرْکِ، خَیْرٌ لَکَ مِنْ اَنْ یَکُوْنَ لَکَ حُمْرُ النَّعَمِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۲۴)

۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے معاذ! اللہ تعالیٰ کا تیرے ذریعے کسی مشرک کو ہدایت دے دینا،یہ تیرے لیے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے۔

۔ (۹۱۳۹)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنَّا جُلُوْسًا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاِنَّہُ سَاَلَہُ سَائِلٌ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِشْفَعُوْا تُؤْجَرُوْا، وَلْیََقْضِ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَی لِسَانِ نَبِیِّہِ مَا اَحَبَّ۔)) (مسند احمد: ۱۹۸۱۳)

۔ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک سوالی نے سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم سفارش کرو، تمہیں اجر دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی زبان سے جو چاہتا ہے، حکم دیتا ہے۔

۔ (۹۱۴۰)۔ عَنْ اَبِیْ الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلَا اُخْبِرُکُمْ بِاَفْضَلَ مِنْ دَرَجَۃِ الصَّلَاۃِ وَالصِّیَامِ وَالصَّدَقَۃِ؟)) قَالُوْا: بَلیٰ،قَالَ: ((اِصْلاحُ ذَاتِ البَیْنِ، وَفَسَادُ البَیْنِ ھِیَ الْحَالِقَۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۸۰۵۸)

۔ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو نماز، روزے اور صدقے کی بہ نسبت زیادہ فضیلت والے درجے کی خبر نہ دوں؟ لوگوں نے کہا: جی کیوں نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرابت کی اصلاح کرنا اور رشتوں میں فساد ڈالنا تو (دین کو) مونڈ دینے والی چیز ہے۔