TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ہدایت اور اعمالِ خیر کی طرف دعوت دینے اور ان پر رہنمائی کرنے اور سفارش کرنے اور آپس کی اصلاح کرنے کی ترغیب کا بیان - ہدایت اور اعمالِ خیر کی طرف دعوت دینے اور ان پر رہنمائی کرنے اور سفارش کرنے اور آپس کی اصلاح کرنے کی ترغیب کا بیان - نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 18 of نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 18 of 19 · 9 Hadith
۔ (۹۱۳۲)۔ عَنِ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ دَعَا اِلٰی ھُدًی، کَانَ لَہٗمِنَالْاَجْرِمِثْلُاُجُوْرِمَنْیَّتَّبِعُہٗ لا یُنْقِصُ ذَلِکَ مِنْ اُجُوْرِھِمْ شَیِْئًا، وَمَنْ دَعَا اِلٰی ضَلَالَۃٍ کَانَ عَلَیْہَ مِنَ الْاِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ یَّتَّبِعُہُ لایُنْقِصُ ذَلِکَ مِنْ آثَامِھِمْ شَیْئًا۔)) (مسند احمد: ۹۱۴۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ہدایت کی طرف بلایا تو اس کو اس کی پیروی کرنے والوں کے اجر جتنا اجر ملے گا، جبکہ ان کے اجروں میں کوئی کمی نہیں آئے گی، اس طرح جس نے گمراہی کی طرف بلایا تو اس کو اس کے پیچھے چلنے والوں کے گناہوں جتنا گناہ ملے گا، جبکہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔
Takhreej
(۹۱۳۲) تخریج:أخرجہ مسلم: ۲۶۷۴(انظر: ۹۱۶۰)
Explanation
فوائد:… مسلمان کو امورِ صالحہ کا سبب بننا چاہیے، نہ کہ برے کاموں کا۔
9132
Sahih
۔ (۹۱۳۳)۔ عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِیْرٍ عَنْ اَبِیْہِ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قال: ((مَنْ سَنَّ فِی الْاِسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً، کَانَ لَہُ اَجْرُھَا وَاَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ بَعْدِہِ، مِنْ غَیْرِ اَنْ یُنْتَقَصَ مِنْ اُجُوْرِھِمْ شَیْئٌ، وَمَنْ سَنَّ فِی الْاِسْلَامِ سُنَّۃً سَیِّئَۃً، کَانَ عَلَیْہِ وِزْرُھَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ بَعْدِہِ مِنْ غَیْرِ اَنْ یُنْتَقَصَ مِنْ اَوْزَارِھِمْ شَیْئٌ۔)) (مسند احمد: ۱۹۳۶۹)
۔ سیدنا جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اسلام میں اچھا طریقہ جاری کیا تو اس کو اس کا اجر بھی ملے گا اور اس کے بعد اس پر عمل کرنے والوں کا اجر بھی، جبکہ ان عاملوں کے اجر میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی، اسی طرح جس نے اسلام میں برا طریقہ وضع کیا، اس کو اس کا گناہ بھی ملے گا اور اس کے بعد اس کو اپنانے والوں کا گناہ بھی ملے گا، جبکہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔
Takhreej
(۹۱۳۳) تخریج:أخرجہ مسلم: ۱۰۱۷(انظر: ۱۹۱۵۶)
Explanation
فوائد:… اچھا طریقہ وہ ہے، جس کا شریعت میں اچھے ہونے کا تعین ہو چکا ہے، اس حدیث ِ مبارکہ میں اچھے طریقے کو جاری کرنے سے مراد یہ ہے کہ آدمی کسی نیکی کی ایسے انداز میں ابتدا کرے کہ دوسرے لوگوں کو بھی رغبت ہو اور وہ بھی وہی نیکی شروع کر دیں، چونکہ ابتدا کرنے والا لوگوں کے اس نیک عمل کا سبب بنا، اس لیے وہ اس عمل کی بنا پر تمام لوگوں کے اجر و ثواب کا مستحق ہو گا، مذکورہ بالا حدیث درج ذیل موقع پر بیان کی گئی، اس واقعہ سے اس حدیث کے مفہوم کو سمجھنا آسان ہو جاتاہے: سیدنا جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی صَدْرِ النَّہَارِ قَالَ فَجَاء َہُ قَوْمٌ حُفَاۃٌ عُرَاۃٌ مُجْتَابِی النِّمَارِ أَوْ الْعَبَاء ِ مُتَقَلِّدِی السُّیُوفِ عَامَّتُہُمْ مِنْ مُضَرَ بَلْ کُلُّہُمْ مِنْ مُضَرَ فَتَمَعَّرَ وَجْہُ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِمَا رَأَی بِہِمْ مِنْ الْفَاقَۃِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ فَصَلّٰی ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ: {یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَۃٍ إِلَی آخِرِ الْآیَۃِ إِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیبًا۔} وَالْآیَۃَ الَّتِی فِی الْحَشْرِ{اتَّقُوا اللّٰہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللّٰہَ} تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ دِینَارِہِ مِنْ دِرْہَمِہِ مِنْ ثَوْبِہِ مِنْ صَاعِ بُرِّہِ مِنْ صَاعِ تَمْرِہِ حَتّٰی قَالَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ قَالَ فَجَاء َ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ بِصُرَّۃٍ کَادَتْ کَفُّہُ تَعْجِزُ عَنْہَا بَلْ قَدْ عَجَزَتْ قَالَ ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتّٰی رَأَیْتُ کَوْمَیْنِ مِنْ طَعَامٍ وَثِیَابٍ حَتّٰی رَأَیْتُ وَجْہَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَہَلَّلُ کَأَنَّہُ مُذْہَبَۃٌ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ سَنَّ فِی الْإِسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً فَلَہُ أَجْرُہَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِہَا بَعْدَہُ مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْقُصَ مِنْ أُجُورِہِمْ شَیْء ٌ وَمَنْ سَنَّ فِی الْإِسْلَامِ سُنَّۃً سَیِّئَۃً کَانَ عَلَیْہِ وِزْرُہَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِہَا مِنْ بَعْدِہِ مِنْ غَیْرِ أَنْ یُنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِہِمْ شَیْئٌ۔)) …ہم دن کے شروع میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس تھے تو ایک قوم ننگے پاؤں ننگے بدن چمڑے کی عبائیں پہنے تلوراوں کو لٹکائے ہوئے حاضر ہوئی ان میں سے اکثر بلکہ سارے کے سارے قبیلہ مضر سے تھے،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ اقدس ان کے فاقہ کو دیکھ کر متغیر ہوگیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر تشریف لے گئے پھر تشریف لائے تو سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان اور اقامت کہی۔ پھر آپ نے خطبہ دیا اور فرمایا: {یٰا اَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّنِسَا ئً وَّاتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَا ئَ لُوْنَ بِہ وَالْاَرْحَامَ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا} … اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کی بیوی پیدا کی اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں اور اللہ سے ڈرو جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور رشتوں سے بھی، بے شک اللہ ہمیشہ سے تم پر پورا نگہبان ہے۔ (سورۂ نسآئ: ۱) اور وہ آیت جو سو رۂ حشر میں ہے: {یٰا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ} … اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور اللہ سے ڈرو، یقینا اللہ اس سے پور ی طرح باخبر ہے جو تم کر رہے ہو۔ (سورۂ حشر: ۱۸)، پس آدمی اپنے دینار اور درہم اور اپنے کپڑے اور گندم کے صاع سے اور کھجور کے صاع سے صدقہ کرتا ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے فرمایا اگرچہ کھجور کا ٹکڑا ہی ہو پھر انصار میں سے ایک آدمی تھیلی اتنی بھاری لے کر آیا کہ اس کا ہاتھ اٹھا نے سے عاجز ہو رہا تھا، پھر لوگوں نے اس کی پیروی کییہاں تک کہ میں نے دو ڈھیر کپڑوں اور کھانے کے دیکھے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ اقدس کندن کی طرح چمکتا ہوا نظر آ نے لگا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اسلام میں اچھا طریقہ جاری کیا تو اس کو اس کا اجر بھی ملے گا اور اس کے بعد اس پر عمل کرنے والوں کا اجر بھی، جبکہ ان عاملوں کے اجر میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی، اسی طرح جس نے اسلام میں برا طریقہ وضع کیا، اس کو اس کا گناہ بھی ملے گا اور اس کے بعد اس کو اپنانے والوں کا گناہ بھی ملے گا، جبکہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔ (صحیح مسلم: ۱۶۹۱) جس آدمی نے زیادہ مقدار میں صدقہ کیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے عمل کو سراہا ہے، کیونکہ اس کے عمل کی وجہ سے دوسرے لوگوں میں رغبت پیدا ہوئی۔ یہی معاملہ برے عمل کا ہے، جو آدمی دوسرے لوگوں کی برائیوں کا سبب بنے گا، تو اس کو ان کی برائیوں کا گناہ ملے گا، جب کہ کسی کی وجہ سے کسی کے گناہ میں کمی واقع نہیں ہو گی۔
9133
Sahih
۔ (۹۱۳۴)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَاَلَ رَجُلٌ عَلٰی عَھْدِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَمْسَکَ الْقَوْمُ، ثُمَّ اِنَّ رَجُلاً اَعْطَاہُ، فَاَعْطَی الْقَوْمُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ سَنَّ خَیْرًا فَاسْتُنَّ بِہٖ،کَانَلَہُاَجْرُہُوَمِنْاُجُوْرِمَنْتَبِعَہُغَیْرَ مُنْتَقِصٍ مِنْ اُجُوْرِھِمْ شَیْئًا، وَمَنْ سَنَّ شَرًّا فَاسْتُنَّ بِہٖکَانَعَلَیْہِ وِزْرُہُ وَمِنْ اَوْزَارِ مَنْ تََبِعَہُ غَیْرَ مُنْتَقِصٍ مِنْ اَوْزَارِھِمْ شَیْئًا۔)) (مسند احمد: ۲۳۶۷۸)
۔ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے عہد ِ نبوت میں سوال کیا، لوگوں نے اسے کچھ نہ دیا، پھر ایک آدمی نے اس کو کوئی چیز دی اور اسے دیکھ کر دوسرے لوگوں نے بھی اس کو کچھ نہ کچھ دیا،یہ صورتحال دیکھ کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اچھا طریقہ جاری کیا اور پھر اس کو اپنایا گیا تو اس کو اس کا اجر بھی ملے گا اور اس کی پیروی کرنے والوں کا بھی، جبکہ ان کے اپنے اجر میں کوئی کمی نہیں آئے گی اور جس نے برا طریقہ وضع کیا اور پھر اس کو اپنا لیا گیا تو اس کو اپنا گناہ بھی ملے گا اور اس طریقے کو اپنانے والوں کا بھی، جبکہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔
Takhreej
(۹۱۳۴) تخریج:صحیح لغیرہ، أخرجہ البزار: ۲۹۶۴، والطبرانی فی الاوسط : ۳۷۰۵، والحاکم: ۲/ ۵۱۶ (انظر: ۲۳۲۸۹)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ سے بھی واضح ہو رہا ہے کہ اچھے طریقے کو جاری کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس انداز میں نیک عمل کی ابتداء کی جائے ، جس سے دوسرے لوگوں میں رغبت پیدا ہو اور وہ بھی وہی عمل کرنا شروع کر دیں۔
9134
Sahih
۔ (۹۱۳۵)۔ عَنْ اَبِی مَسْعُوْدٍ اَلْاَنْصَارِیِّ، قَالَ: اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٌ فَقَالَ: اِنِّی اُبْدِعَ بِی فَاحْمِلْنِیْ؟ قَالَ: ((مَاعَنْدِیْ مَااَحْمِلُکَ عَلَیْہِ، وَلٰکِنْ اِئْتِ فُلانًا۔)) فَاَتَاہُ فَحَمَلَہُ، فَاَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَخْبَرَہُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ دَلَّ عَلٰی خَیْرٍ فَلَہٗمِثْلُاَجْرِفَاعِلِہِ۔)) (مسنداحمد: ۱۷۲۱۲)
۔ سیدنا ابو مسعود انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: میری سواری تھک گئی ہے، لہٰذا آپ مجھے کوئی سواری دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے پاس تو سواری نہیں ہے، البتہ تو فلاں کے پاس جا، (وہ تجھے سواری دے دے گا)۔ پس وہ اس آدمی کے پاس گیا اور اس نے واقعی اس کو سواری دے دی، پھر وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کے بارے میں خبر دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو نیکی پر دلالت کرتا ہے، اس کو بھی نیکی کرنے والے کے برابر اجر ملتا ہے۔
Takhreej
(۹۱۳۵) تخریج:أخرجہ مسلم: ۱۸۹۳(انظر: ۱۷۰۸۴)
Explanation
فوائد:… نیکی کا سبب بننا بھی نیکی ہے۔
9135
Sahih
۔ (۹۱۳۶)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) نَحْوُہُ وَفِیْہِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسَ عِنْدِیْ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَفَـلَا اَدُلُّہُ عَلٰی مَنْ یَّحْمِلُہُ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ دَلَّ عَلٰی خَیْرٍ فَلَہُ مِثْلُ اَجْرِ فَاعِلِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۹۵)
۔ (دوسری سند) اسی قسم کی حدیث بیان کی گئی ہے، البتہ اس میں ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے پاس تو سواری نہیں ہے۔ یہ سن کر ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں ایسے شخص کی طرف اس کی رہنمائی نہ کروں، جو اس کو سواری دے دے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو نیکی پر دلالت کرتا ہے، اس کو بھی نیکی کرنے والے کے برابر اجر ملتا ہے۔
Takhreej
(۹۱۳۶) تخریج:انظر الحدیث بالطریق الأول
9136
Sahih
۔ (۹۱۳۷)۔ عَنْ بُرَیْدَۃَ الْاَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌،اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِرَجُلٍ اَتَاہُ: ((اِذْھَبْ، فَاِنَّ الدَّالَ عَلَی الْخَیْرِ کَفَاعِلِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۱۵)
۔ سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے پاس آنے والے ایک آدمی سے فرمایا: تو جا، پس بیشک نیکی پر دلالت کرنے والا اس کو کرنے والے کی طرح ہے۔
Takhreej
(۹۱۳۷) تخریج:اسنادہ صحیح (انظر: ۲۳۰۲۷)
9137
Sahih
۔ (۹۱۳۸)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہُ: ((یَا مُعَاذُ، اَنْ یَھْدِیَ اللّٰہُ عَلٰییَدَیْکَ رَجُلاً مِنْ اَھْلِ الشِّرْکِ، خَیْرٌ لَکَ مِنْ اَنْ یَکُوْنَ لَکَ حُمْرُ النَّعَمِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۲۴)
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے معاذ! اللہ تعالیٰ کا تیرے ذریعے کسی مشرک کو ہدایت دے دینا،یہ تیرے لیے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے۔
Takhreej
(۹۱۳۸) تخریج:اسنادہ ضعیف جدا، بقیہ بن الولید ضعیفیعتبر بہ، وھو یدلس تدلیس التسویۃ، وشیخہ ضبارۃ مجھول، ودوید بن نافع فلیس بذاک القوی (انظر: ۲۲۰۷۴)
Explanation
فوائد:… دنیا میں ملنے والی سب سے بڑی نعمت ہدایت ہے، کیونکہیہی وہ نعمت ہے، جو دائمی اور ابدی کامیابی کا سبب بنتی ہے۔
9138
Zaeef
۔ (۹۱۳۹)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنَّا جُلُوْسًا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاِنَّہُ سَاَلَہُ سَائِلٌ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِشْفَعُوْا تُؤْجَرُوْا، وَلْیََقْضِ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَی لِسَانِ نَبِیِّہِ مَا اَحَبَّ۔)) (مسند احمد: ۱۹۸۱۳)
۔ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک سوالی نے سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم سفارش کرو، تمہیں اجر دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی زبان سے جو چاہتا ہے، حکم دیتا ہے۔
Takhreej
(۹۱۳۹) تخریج:أخرجہ البخاری: ۱۴۳۲ (انظر: ۱۹۵۸۴)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ کی فقہ یہ ہے کہ محتاج کی جائز ضرورت پوری کرنے کے لیے سفارش کرنی چاہیے، اگر سفارش قبول ہو گئی تو بہت خوب، بصورت ِ دیگر سفارش کرنے کا ثواب تو ملے گا۔ دوسرے حصے کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عطا کرنے یا نہ کرنے میں سے جو کچھ چاہا، وحییا الہام کے ذریعے اپنے نبی کی زبان پر ظاہر کر دے گا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَۃً حَسَنَۃًیَّکُنْ لَّہ نَصِیْبٌ مِّنْھَا وَمَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَۃً سَیِّئَۃًیَّکُنْ لَّہ کِفْلٌ مِّنْھَا وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْء ٍ مُّقِیْتًا۔} … جو کوئی سفارش کرے گا، اچھی سفارش، اس کے لیے اس میں سے ایک حصہ ہوگا اور جو کوئی سفارش کرے گا، بری سفارش، اس کے لیے اس میں سے ایک بوجھ ہوگا اور اللہ ہمیشہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔ (سورۂ نسائ: ۸۵)
9139
Sahih
۔ (۹۱۴۰)۔ عَنْ اَبِیْ الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلَا اُخْبِرُکُمْ بِاَفْضَلَ مِنْ دَرَجَۃِ الصَّلَاۃِ وَالصِّیَامِ وَالصَّدَقَۃِ؟)) قَالُوْا: بَلیٰ،قَالَ: ((اِصْلاحُ ذَاتِ البَیْنِ، وَفَسَادُ البَیْنِ ھِیَ الْحَالِقَۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۸۰۵۸)
۔ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو نماز، روزے اور صدقے کی بہ نسبت زیادہ فضیلت والے درجے کی خبر نہ دوں؟ لوگوں نے کہا: جی کیوں نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرابت کی اصلاح کرنا اور رشتوں میں فساد ڈالنا تو (دین کو) مونڈ دینے والی چیز ہے۔
Takhreej
(۹۱۴۰) تخریج:اسنادہ صحیح، أخرجہ ابوداود: ۴۹۱۹، والترمذی: ۲۵۰۹ (انظر: ۲۷۵۰۸)
Explanation
فوائد:… اہل اسلام بھائی بھائی ہیں،انسانی لغزشوں کی وجہ سے کبھی کبھییہ رشتۂ اخوت متأثر ہو جاتا ہے، جس کی بنا پر پورے مسلم معاشرے میں فساد اور بگاڑ پیدا ہو جا تا ہے، اس لیے صلح کروانے کو عظیم صدقہ شمار کیا گیا ہے، جو بعض مسلمان دوسرے مسلمانوں کے حق میں کرتے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَاِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَھُمَا} (سورۂ حجرات: ۹) … اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے مابین صلح کر وا دیا کرو۔ عہدِ نبوی میں عمرو بن عوف کی اولاد کے درمیان کچھ جھگڑا ہو گیا تھا، ان کے مابین صلح صفائی کروانے کے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود کچھ صحابہ کو ساتھ لے کر تشریف لے گئے تھے۔ (بخاری، مسلم) معلوم ہوا کہ جب بعض مسلمان جھگڑ پڑیں تو دوسرے لوگ اس بات کے ذمہ دار ہوں گے کہ ان کے مابین صلح کروا دیں۔
9140
Sahih

Chapters

19
01
نیکی اور گناہ کی تعریف کا بیان
4 Hadith
02
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
26 Hadith
03
اولاد اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنا
10 Hadith
04
اولاد کے فوائد اور ان کی تربیت کرنے اور ان پر نرمی کرنے کی ترغیب کا بیان
11 Hadith
05
بیٹیوں کا اکرام کرنے کی ترغیب اور ان کی تربیت اور ان پر نرمی کرنے کی فضیلت کا بیان
13 Hadith
06
صلہ رحمی کی ترغیب کا بیان
14 Hadith
07
یتیم کی کفالت کرنے، اس کے ساتھ احسان کرنے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے اوربیواؤں اور مسکینوں کی حفاظت و نگرانی کرنے کی ترغیب کا بیان
7 Hadith
08
ہمسائے کے ساتھ احسان کرنے کی ترغیب کا بیان
14 Hadith
09
ضیافت اور اس کے آداب کے ابواب مہمان کا اکرام کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت و برکت کا بیان
6 Hadith
10
مہمان کے لیے تکلف نہ کرنے کا بیان
2 Hadith
11
ضیافت کی مدت اور مہمان کے حق اور اس کی ذمہ داری کا بیان
9 Hadith
12
جب مہمان زیادہ ہو جائیں تو ضیافت کرنے کے لیے مسلمانوں کاایک دوسرے کے ساتھ مل جانا اور باہمی تعاون کرنا
2 Hadith
13
مسلمانوں کی خیرخواہی کرنے کی ترغیب کا بیان
8 Hadith
14
مسلمان کی مدد کرنے، اس کی تنگی کو دور کرنے، اس کی حاجت کو پورا کرنے اور اس کے نقائص پر پردہ ڈالنے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
15
مسلمان کی پشت پناہی کرنے، اس سے محبت کرنے، اس پر شفقت کرنے اور اس کی تکلیف کی وجہ سے تکلیف محسوس کرنے کی رغبت کا بیان
6 Hadith
16
مؤمن کی مدد کرنے اور اس کی عزت کا دفاع کرنے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
17
مسلمانوں کے نقائص پر پردہ ڈالنے اور ان کو شہرت نہ دینے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
18
ہدایت اور اعمالِ خیر کی طرف دعوت دینے اور ان پر رہنمائی کرنے اور سفارش کرنے اور آپس کی اصلاح کرنے کی ترغیب کا بیان
9 Hadith
19
راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے اور راہ بھولے کی رہنمائی کرنے کی ترغیب کا بیان
11 Hadith
No chapter matched that.