۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک درخت سے گزرنے والوں کو تکلیف ہوتی تھی، پس ایک آدمی نے اس کو کاٹ کر راستے سے دور کر دیا اور اس وجہ سے اس کو جنت میں داخل کر دیا گیا۔
۔ (دوسری سند)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک مسلمان آدمی کا ایسے راستے سے گزر ہوا، جس پر کانٹوں والا تنہ تھا، اس نے کہا: میں ضرور ضرور ان کانٹوں کو راستے سے ہٹا دوں گا، تاکہ کوئی مسلمان زخمی نہ ہو جائے، پس اس وجہ سے اس کو بخش دیا گیا۔
۔ (تیسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی خاردار شاخ کی وجہ سے جنت میں داخل ہو گیا، (اس کی تفصیلیہ ہے کہ) وہ مسلمانوں کے راستے پر تھی اور اس نے اس کو ہٹا دیا تھا۔
۔ (چوتھی سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کسی راستے پر جا رہا تھا، وہاں اس نے کانٹے دار شاخ پائی اور کہا: میں اس کو ضرور ضرور دور کروں گا، ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وجہ سے مجھے بخش دے، پس اس نے اس کو ہٹا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش کر جنت میں داخل کر دیا۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: لوگوں کے راستے میں ایک درخت تھا، اس سے لوگوں کو تکلیف ہوتی تھی، پس ایک آدمی آیا اور اس کو لوگوں کی گزرگاہ سے ہٹا دیا، پھر انھوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس تحقیق میں نے اس بندے کو دیکھا کہ وہ جنت میں اس درخت کے سائے میں حسب ِ منشا زندگی گزار رہا تھا۔
۔ سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عبد العزی بن خطل کو قتل کیا، جبکہ وہ کعبہ کے پردے کے ساتھ لٹکا ہوا تھا، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتائیں، جس سے میں فائدہ حاصل کر سکوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دیا کر، یہ تیرے لیے صدقہ ہو گا۔
۔ (ایک روایت میں ہے): میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسی چیز کی خبر دیں، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے نفع دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دیکھو، جو چیز لوگوں کو تکلیف دے رہی ہو، اس کو راستے سے ہٹا دو۔
۔ (ایک روایت میں ہے) میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے لیے ایسے عمل کی نشاندہی کرو، جو مجھے جنت میں داخل کر دے یا جس سے میں فائدہ حاصل کر سکوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹاؤ۔
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے میرے امت کے اچھے اور برے عمل پیش کیے گئے، میں نے اچھے اعمال میں راستے سے ہٹا دی جانے والی تکلیف دہ چیز کو اور برے اعمال میں مسجد میں پڑی ہوئی اس بلغم کو دیکھا، جس کو دفن نہیں کیا گیا۔
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مسلمانوں کے راستے سے ایسے چیز کو ہٹا دیا، جو ان کو تکلیف دیتی تھی، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے نیکی لکھے گا اور جس کے لیے نیکی لکھ دی گئی، اس کو اللہ تعالیٰ جنت میں داخل کر دے گا۔
۔ موسیٰ بن ابی عیسیٰ کہتے ہیں: ایک دن مریم رضی اللہ عنہا نے عیسیٰ علیہ السلام کو گم پایا اور ان کو تلاش کرنے کے لیے اِدھر اُدھر گھومنے لگیں، وہ ایک جولاہے کو ملیں، لیکن اس نے ان کی رہنمائی نہیں کی، پس انھوں نے اسے بد دعا دی،یہی وجہ ہے کہ تو ان کو بے قدرا دیکھتا تھا، پھر وہ ایک درزی کو ملیں، اس نے ان کی رہنمائی کی، پس انھوں نے اس کو دعا دی، اسی سبب سے تو دیکھتا ہے کہ درزی سے مانوس ہوا جاتا ہے، یعنی لوگ اس کے پاس بیٹھتے ہیں۔