مسنداحمد

Musnad Ahmad

فقر اور غِنٰی کے مسائل

فقیر مہاجرین اور کمزور لوگوں کی فضیلت کا بیان

۔ (۹۳۱۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ یَوْمٍ وَنحْنُ عِنْدَہُ: ((طُوْبٰی لِلْغُرَبَائِ۔)) فَقِیْلَ: مَنِ الْغُرَبَائُ؟ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اُنَاسٌ صَالِحُوْنَ فِی اُنَاسٍ سُوئٍ کَثِیْرٍ، مَنْیَعْصِیْھِمْ اَکْثَرُ مِمَّنْ یُطِیْعُھُمْ۔)) قَالَ: وَکُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا آخَرَ حِیْنَ طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((سَیَاْتِی اُنَاسٌ مِنْ اُمَّتِییَوْمَ الْقَیَامَۃِ نُوْرُھُمْ کَضَوْئِ الشَّمْسِ۔)) قُلْنَا: مَنْ اُولٰئِکَ؟ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! (وَفِی رَوَایَۃٍ) فَقَالَ: اَبُوْبَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نَحْنُ ھُمْ یاَرَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((لَاَ، وَلَکُمْ خَیْرٌ کَثِیْرٌ۔)) فَقَالَ: ((فُقَرَائُ الْمُھَاجِرِیْنَ الَّذِیْنَ تُتَّقَی بِھِمُ الْمَکَارِہُ، یَمُوْتُ اَحَدُھُمْ وَحَاجَتُہُ فِی صَدْرِہِ، یُحْشَرُوْنَ مِنْ اَقْطَارِ الْاَرْضِ۔)) (مسند احمد: ۶۶۵۰)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا، جبکہ ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھے: غُرَباء کے لیے خوشخبری ہے۔ کسی نے کہا: غرباء کون لوگ ہیں؟ اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ بہت زیادہ برے لوگوں کے اندر پائے جانے والے نیک لوگ ہوتے ہیں، ان کی بات نہ ماننے والوں کی تعداد بات ماننے والوں کی بہ نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں: ایک اور دن کی بات ہے، سورج طلوع ہو رہا تھا، جبکہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن میرے امت میں سے ایسے لوگ آئیں گے کہ ان کا نور سورج کی روشنی کی طرح ہو گا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہوں گے؟ ایک روایت میں ہے: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان سے مراد ہم لوگ ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی نہیں، اور تم لوگوں میں بھی بڑی خیر ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ فقراء مہاجرین ہیں، جن کے ذریعے ناپسندیدہ چیزوں سے بچا جاتا ہے اور ان میں جب کوئی فوت ہوتا ہے تو اس کی ضرورت اس کے سینے میں ہوتی ہے، ان لوگوں کو زمین کے مختلف خطوں سے جمع کیا جائے گا۔

۔ (۹۳۱۳)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ فُقَرَائَ الْمُھَاجِرِیْنَیَسْبِقُوْنَ الْاَغْنِیَائَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِاَرْبَعِیْنَ خَرِیْفًا۔)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: فَاِنْ شِئْتُمْ اَعْطَیْنَاکُمْ مِمَّا عَنْدَنَا وَاِنْ شِئْتُمْ ذَکَرْنَا اَمْرَکُمْ لِلسُّلْطَانِ، قَالُوْا: فَاِنَّا نَصْبِرُ فَلا نَسْاَلُ شَیْئًا۔ (مسند احمد: ۶۵۷۸)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک فقراء مہاجرین بروز قیامت مالدار لوگوں سے چالیس سال پہلے سبقت لے جائیں گے۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر تم لوگ چاہتے ہو تو ہم تمہیں اپنے مال میں سے دے دیتے ہیں اور اگر چاہتے ہو تو ہم تمہارا معاملہ سلطان کے سامنے ذکر کر دیتے ہیں، انھوں نے کہا: ہم صبر کریں گے اور کسی سے کسی چیز کا سوال نہیں کریں گے۔

۔ (۹۳۱۴)۔ حَدَّثَنَا الْھُذَیْلُ بْنُ مَیْمُوْنٍ الْکُوْفِیُّ الْجُعْفِیُّ، کَانَ یَجْلِسُ فِی مَسْجِدِ الْمَدِیْنَۃِیَعْنِی مَدِیْنَۃَ اَبِی جَعْفَرٍ، قَالَ عَبْدُاللّٰہِ: ھٰذَا شَیْخٌ قَدِیْمٌ کُوْفِیٌّ، عَنْ مُطَرِّحِ بْنِ یَزِیْدَ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ یَزِیْدَ، عَنِ الْقَاسِمِ (یَعْنِی ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ)، عَنْ اَبِی اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((دَخَلْتُ الْجَنَّۃَ فَوَجَدْتُّ فِیْھَا خَشْفَۃً بَیْنَیَدَیَّ، فَقُلْتُ: مَاھٰذَا؟ قَالَ: بِلَالٌ، قَالَ: فَمَضَیْْتُ فَاِذَا اَکْثَرُ اَھْلِ الْجَنَّۃِ فُقَرَائُ الْمُھَاجِرِیْنَ وَذرَارِیُّ الْمُسْلِمِیْنَ، وَلَمْ اَرَ اَحَدًا اَقَلَّ مِنَ الْاِغْنِیَائِ وَالنِّسَائِ، فَقَیْلِ لِی: اَمَّا الْاَغْنِیَائُ فَھُمْ ھَاھُنَا بِالْبَابِ یُحَاسَبُوْنَ وَیُمَحَّصُوْنَ، وَاَمَّا النِّسَائُ فَاَلْھَاھُنَّ الْاَحْمَرَانِ الذَّھَبُ وَالْحَرِیْرُ، قَالَ: ثُمَّ خَرَجْنَا مِنْ اَحَدِ اَبْوَابِ الْجَنَّۃِ الثَّمَانِیَۃِ، فَلَمَّا کُنْتُ عِنْدَ الْبَابِ اَتَیْتُ بِکِفَّۃٍ فَوُضِعْتُ فِیْھَا وَوُضِعَتْ اُمَّتِی فِی کِفَّۃٍفَرَجَحَتُ بِھَا، ثُّمَّ اُتِیَ بِاَبِی بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَوُضِعَ فِی کِفَّۃٍ وَجِیْیئَ بِجَمِیْعِ اُمَّتِی فِی کِفَّۃٍ فَوُضِعُوْا فَرَجَحَ اَبُوْبَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَجِیْئَ بِعُمَرَ فَوُضِعَ فِی کِفَّۃٍ وَجِیْیئَ بِجَمِیْعِ اُمَّتِی فَوُضِعُوْا فَرَجَحَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَعُرِضَتْ اُمَّتِی رَجُلًا رَجُلًا فَجَعَلُوْا یَمرُّوْنَ فَاسْتَبْطَاْتُ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ ثُمَّ جَائَ بَعْدَ الْاِیَاسِ، فَقُلْتُ: عَبْدَ الرَّحْمٰنِ۔ فَقاَلَ: بِاَبِیْ وَاُمِّیْیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَاخَلَصْتُ اِلَیْکَ حَتّٰی ظَنَنْتُ اَنِّیْ لَا اَنْظُرُ اِلَیْکَ اَبَدًا اِلاَّ بَعْدَ الْمَشِیْبَاتِ، قَالَ: وَمَا ذَاکَ؟ قَالَ: مِنْ کَثْرَۃِ مَالِیْ، اُحَاسَبُ وَاُمَحَّصُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۸۷)

۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں جنت میں داخل ہوا اور اپنے سامنے سے آہٹ سنی، میں نے پوچھا کہ یہ کون سی آواز ہے؟ اس نے کہا: یہ سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں، پھر میں آگے کو بڑھا اور دیکھا کہ جنت میں زیادہ تر لوگ فقراء مہاجرین اور مسلمانوں کے بچے ہیں اور سب سے کم مالدار لوگ اور عورتیں ہیں، پھر مجھے بتلایا گیا کہ مالدار لوگوں کا جنت کے دروازے پر ابھی محاسبہ کیا جا رہا ہے اور ان کی مزید جانچ پڑتال کی جا رہی ہے، رہا مسئلہ خواتین کا، تو دو سرخ چیزوںیعنی سونے اور ریشم نے ان کو غافل کر دیا تھا، پھر ہم جنت کے آٹھ دروازوں میں سے کسی ایک دروازے سے باہر آئے، جب میں دروازے پر ہی تھا تو میرے پاس ایک پلڑا لایا گیا اور مجھے اس میں اور میرے امت کو دوسرے پلڑے میں رکھا گیا، پس میں بھاری ثابت ہوا، پھر سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لا کر ایک پلڑے میں رکھا گیا اور باقی امت کو دوسرے میں، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ والا پلڑا جھک گیا، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لایا گیا اور ایک پلڑے میں رکھا اور باقی ساری امت کو دوسری پلڑے، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھاری ثابت ہوئے، پھر میری امت کے ایک ایک آدمی کو پیش کیا گیا، پس وہ آگے کو گزرتے گئے، میں نے اس معاملے میں سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سست اور متأخر پایا، پھر وہ ناامید ہو جانے کے بعدا ٓیا، میں نے کہا: عبد الرحمن! انھوں نے کہا: جی اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا، آپ تک پہنچنے سے پہلے مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ میں کبھی بھی آپ کو نہیں دیکھ سکوں گا، مگر بڑھاپوں کے بعد، میں نے کہا: وہ کیوں؟ انھوں نے کہا: میرے مال کی کثرت کی وجہ سے میرا محاسبہ ہوتا رہا اور مزید جانچ پڑتال کی جاتی رہی۔

۔ (۹۳۱۵)۔ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَالِمٍ اللَّخْمِيِّ، قَالَ: بَعَثَ عُمَرُبْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ اِلیٰ اَبِی سَلاَّمٍ الْحَبَشِیِّ، فَحُمِلَ اِلَیْہِ عَلَی الْبَرِیْدِیَسْاَلُہُ عَنِ الْحَوْضِ، فَقُدِّمَ بِہٖعَلَیْہِ، فَسَاَلَہُ فَقَالَ: سَمِعْتُ ثَوْبَانَ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ حَوْضِیْ مِنْ عَدَنٍٍ اِلیٰ عَمَّانَ الْبَلْقَائِ، مَاؤُہُ اَشَدُّ بَیاَضًا مِنَ اللَّبَنِ وَاَحْلیٰ مِنِ الْعَسَلِ، وَاَکَاوِیْبُہُ عَدَدُ النُّجُوْمِ، مَنْ شَرِبَ مِنْہُ شَرْبَۃً لَمْ یَظْمَاْ بَعْدَھَا اَبَدًا، اَوَّلُ النَّاسِ وُرُوْدًا عَلَیْہِ فُقَرَائُ الْمُھَاجِرِیْنَ۔))، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَابِ: مَنْ ھُمْ؟ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((ھُمُ الْشُّعْثُ رُؤُوْسًا، اَلدُّنْسُ ثِیَابًا، الذین لا یَنْکِحُوْنَ الْمُتَنَعِّمَاتِ، وَلا تُفْتَحُ لَھُمْ اَبْوَابُ السُّدَدِ۔)) فَقَالَ عُمَرُبْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ: لَقَدْ نَکَحْتُ الْمُتَنَعِّمَاتِ، وَفُتِحَتْ لِیَ السُّدَدُ اِلاَّ اَنْ یَّرْحَمَنِی اللّٰہُ، وَاللّٰہِ لاجَرَمَ اَنْ لا اَدْھُنَ رَاْسِیْ حَتّٰییَشْعَثَ، وَلا اَغْسِلُ ثَوْبِی الَّذِیْیَلِیْ جَسَدِیْ حَتّٰییَتَّسِخَ۔ (مسند احمد: ۲۲۷۲۵)

۔ عباس بن سالم لخمی سے مروی ہے کہ عمر بن عبد العزیز نے ابو سلام حبشی کو بلا بھیجا، اس کو پیغام رساں کے ذریعے لایا گیا، وہ ان سے حوض کے بارے میں حدیث سننا چاہتے تھے، پس ان کو ان کے پاس لایا گیا، عمر بن عبد العزیز نے ان سے سوال کیا اور انھوں نے جواباً کہا: میں نے سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے حوض (کی وسعت) عدن سے عمان بلقاء تک ہے، اس کا پانی برف سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے، اس کے پیالے ستاروں کی تعدادجتنے ہیں،جس نے اس سے پانی پی لے، وہ اس کے بعد کبھی بھی پیاسا نہیں ہو گا، اس پر سب سے پہلے آنے والے فقراء مہاجرین ہوں گے۔ سیدنا عمربن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کون ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ وہ ہیں جن کے بال پراگندہ ہوتے ہیں، کپڑے میلے ہوتے ہیں، جو آسودہ حال عورتوں سے شادی نہیں کر سکتے اور جن کے لیے بند دروازے نہیں کھولے جاتے۔ یہ سن کر عمر بن عبد العزیز نے کہا: میں نے تو آسودہ حال عورتوں سے شادی بھی ہے اور میرے لیے بند دراوازے بھی کھولے گئے ہیں، الا یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر رحم کر دے، اللہ کی قسم! اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ میں اپنے سر پر اس وقت تک تیل نہیں لگاتا ، جب تک وہ پراگندہ نہیں ہو جاتا اور زیب ِ تن کیے ہوئے کپڑے نہیں دھوتا، جب تک وہ میلے نہیں ہو جاتے۔

۔ (۹۳۱۶)۔ عَنْ اَبِیْ الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِبْغُوْنِیْ ضُعَفَائَکُمْ فَاِنَّکُمْ اِنَّمَا تُرْزَقُوْنَ وَتُنْصَرُوْنَ بِضُعَفَائِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۷۴)

۔ سیدنا ابودردا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول االلہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا: ضعفاء کو میرے لیے تلاش کر کے لاؤ،بیشک تم لوگ انہی کمزوروں کی وجہ سے رزق دیے اور مدد کئے جاتے ہو۔

۔ (۹۳۱۷)۔ عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو، اَنَّ سَلْمَانَ وَصُہَیْبًا وَبِلَالًا کَانُوْا قُعُوْدًا فِیْ اُنَاسٍ فَمَرَّ بِھِمْ اَبُوْ سُفْیَانَ بْنُ حَرْبٍ فَقَالُوْا: مَا اَخَذَتْ سُیُوْفُ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ مِنْ عُنُقِ عَدُوِّ اللّٰہِ مَأْخَذَھَا بَعْدُ، فَقَالَ اَبُوْ بَکْرٍ: اَتَقُوْلُوْنَ ھٰذَا لِشَیْخِ قُرَیْشٍ وَسَیِّدِھَا؟ قَالَ: فَاُخْبِرَ بِذٰلِکَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((یَا اَبَابَکْرٍ، لَعَلَّکَ اَغْضِبْتَھُمْ، فَلَئِنْ کُنْتَ اَغْضَبْتَھُمْ لَقَدْ اَغْضَبْتَ رَبَّکَ تَبارَکَ وَتَعَالیٰ۔)) فَرَجَعَ اِلَیْھِمْ فَقَالَ: اَیْ اِخْوَتَنَا! لَعَلَّکُمْ غَضَبْتُمْ؟ فَقَالُوْا: لا یَااَبَابَکْرٍ،یَغْفِرُ اللّٰہُ لَکَ۔ (مسند احمد: ۲۰۹۱۶)

۔ سیدنا عائذ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا سلمان، سیدنا صہیب اور سیدنا بلال کچھ لوگوں میں بیٹھے ہوئے تھے، وہاں سید نا ابو سفیان بن حرب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گزر ہوا، اِن لوگوں نے کہا: اللہ کے دشمن کی گردن اتارنے میں اللہ کی تلواروں نے اپنا حق ادا نہیں کیا، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا تم یہ بات قریش کے بزرگ اور سردار کے بارے میں کہتے ہو؟ (کچھ خیال کرو)۔ پھر جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ ساری بات بتلائی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو بکر! شاید تو نے ان کو ناراض کر دیا ہو اور اگر تو نے ان کو ناراض کر دیا تو تیرا ربّ بھی تجھ پر ناراض ہو جائے گا۔ یہ سن کر سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کی طرف لوٹے اور کہا: اے ہمارے بھائیو! شاید تم مجھ سے ناراض ہو گئے ہو؟ انھوں نے کہا: نہیں، اے ابو بکر! اللہ تعالیٰ تجھ کو بخش دے۔