۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک لوگوں میں سے میرا سب سے زیادہ قابل رشک دوست وہ مؤمن ہے، جو کم مال اور کم افرادی کنبے والا ہو، لیکن نماز کی زیادہ مقدار والا ہو، اچھے انداز میں اپنے ربّ کی عبادت کرنے والا، لوگوں میں گمنام ہو، اس کی طرف انگلیوں سے اشارہ نہ کیا جاتا ہو اور اس کی موت جلدی آ جائے اور اس کی میراث کم ہو اور اس کے رونے والے بھی کم ہوں۔
Takhreej
(۹۳۰۰) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، لیث بن ابی سلیم و عبید اللہ بن زحر الافریقی ضعیفان، ثم ھو منقطع، فان عبد اللہ لم یسمع من القاسم، أخرجہ الطیالسی: ۱۱۳۳، والطبرانی: ۷۸۶۰(انظر: ۲۲۱۹۷)
۔ سیدنا نقادہ اسدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا نقادہ کو ایک آدمی کی طرف ایک اونٹنی لینے کے لیے بھیجا، لیکن اس آدمی نے اس کو کچھ دیے بغیر واپس کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دوسرے آدمی کی طرف بھیجا، اس نے اونٹنی دے دے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ نقادہ اونٹنی لے کر آ رہا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس اونٹنی میں اور اس کو بھیجنے والے میں برکت فرما۔ سیدنا نقادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور اس میں بھی برکت ہو، جو اس کو لایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور اس میں بھی برکت ہوجو اس کو لایا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو دوہنے کا حکم دیا، پس اس کو دوہا گیا، اس نے خوب دودھ دیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! فلاں اور اس کی اولاد کے مال کو زیادہ کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد اونٹنی نہ دینے والا پہلا آدمی تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! فلاں کی روزی کو یومیہ بنا دے۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد اونٹنی بھیجنے والا شخص تھا۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میرے گھر والوں کی روزی گزارے کے بقدر بنا دے۔
Takhreej
(۹۳۰۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۰۵۵(انظر: ۸۷۵۳)
Explanation
فوائد:… قُوْت سے مراد بدن کی بقاء کے لیے ضروری اشیائے خوردنی، بقدرسد رمق روزی اور قوت لایموت۔
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بروز قیامت ہر کوئی، وہ غنی ہو یا فقیر،یہ چاہے گا کہ کاش اس کو دنیا میں بقدر سد رمق روزی دی گئی ہوتی۔
۔ سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے تو بھوک کی وجہ لوگ نماز کے قیام کے دوران گر جاتے تھے، ایسے لوگوں کا تعلق اصحاب ِ صفہ سے ہوتا تھا، بدّو لوگ کہتے تھے: یہ تو پاگل ہو گئے ہیں، پس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کو پورا کرتے تو ان کی طرف پھر کر فرماتے: اگر تم کو پتہ چل جائے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہارے لیے کیا اجرو ثواب ہے تو تم یہ پسند کرو گے کہ کاش حاجت اور فاقے میں اور اضافہ ہو جائے۔ سیدنا فضالہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا۔
۔ سیدنا محمو د بن لبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو چیزیں ہیں، ابن آدم تو ان کو ناپسند کرتا ہے (لیکن حقیقت میں وہ دونوںاس کے لیے بہتر ہیں)، ایک موت ہے، اور موت مؤمن کے لیے فتنے سے بہتر ہے اور دوسری قلت مال ہے، حالانکہ قلت ِ مال کی وجہ سے حساب قلیل ہوتا ہے۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جناب موسی علیہ السلام نے کہا: اے میرے ربّ! تو اپنے مؤمن بندے کو دنیا میں غربت زدہ اور تنگ حال بنا دیتا ہے؟ اتنے میں جناب موسی علیہ السلام کے لیے جنت کا دروازہ کھول دیا گیا اور وہ اس کی طرف دیکھنے لگے، پھر اللہ تعالیٰ نے کہا: اے موسی! یہ جنت میں نے اسی مؤمن کے لیے تیار کی ہے۔ پھر جناب موسی نے کہا: اے میرے ربّ! تیری عزت کی قسم! تیرے جلال کی قسم! اگر اس مؤمن کے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں کٹے ہوئے ہوں اور پھر اس کو اس کے یوم ولادت سے لے کر روزِ قیامت تک چہرے کے بل گھسیٹا جاتا رہے اور لیکن اگر اس کا انجام یہ جنت ہوا تو وہ تو یوں سمجھے گا کہ اس نے کبھی کوئی تنگی دیکھی ہی نہیں۔ پھر موسی علیہ السلام نے کہا: اے میرے ربّ! تو نے اپنے کافر بندے کے لیے دنیا میں بڑی وسعت پیدا کی ہے؟ اتنے میں موسی علیہ السلام کے لیے جہنم کی طرف ایک دروازہ کھولا جا ئے گا اور ان سے کہا جائے گا: اے موسی! یہ جہنم میں نے اسی کافر کے لیے تیار کی ہے۔ موسی علیہ السلام نے کہا: اے میرے ربّ! تیری عزت اور جلال کی قسم! اگر اس کو اس کے یوم تخلیق سے روزِ قیامت تک پوری دنیا دے دی جائے، لیکن اس کا انجام یہ ہو تو وہ تو یوں سمجھے گا کہ اس نے کبھی کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔
Takhreej
(۹۳۰۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابن لھیعۃ، ولضعف دراج فی روایتہ عن ابی الھیثم (انظر: ۱۱۷۶۷)
Explanation
فوائد:… یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن انجام کے اعتبار سے تو مؤمن اور کافر کییہی سوچ ہو گی، جو اس حدیث میں بیان کی گئی ہے، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتاہے:
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یُؤْتٰی بِأَنْعَمِ أَہْلِ الدُّنْیَا مِنْ أَہْلِ النَّارِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُصْبَغُ فِی النَّارِ صَبْغَۃً، ثُمَّ یُقَالُ: یَا ابْنَ آدَمَ! ہَلْ رَأَیْتَ خَیْرًا قَطُّ؟ ہَلْ مَرَّ بِکَ نَعِیمٌ قَطُّ؟ فَیَقُولُ: لَا وَاللّٰہِ! یَا رَبِّ! وَیُؤْتٰی بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا فِی الدُّنْیَا مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ فَیُصْبَغُ صَبْغَۃً فِی الْجَنَّۃِ فَیُقَالُ لَہُ: یَا ابْنَ آدَمَ! ہَلْ رَأَیْتَ بُؤْسًا قَطُّ؟ ہَلْ مَرَّ بِکَ شِدَّۃٌ قَطُّ؟ فَیَقُولُ: لَا وَاللّٰہِ! یَا رَبِّ! مَا مَرَّ بِی بُؤْسٌ قَطُّ وَلَا رَأَیْتُ شِدَّۃً قَطّ۔)) … قیامت کے دن جہنم والوں میں سے اس آدمی کو لایا جائے گا، جو اہل دنیا میں بہت نعمتوں والا تھا، پھر اسے آگ میں ایک غوطہ دیا جائے گا پھر اس سے کہا جائے گا: اے ابن آدم! کیا تو نے کبھی کوئی بھلائی بھی دیکھی ہے؟ کیا تجھے کبھی کوئی نعمت بھی ملی ہے؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! اللہ کی قسم! نہیں۔ پھر اہل جنت میں سے اس آدمی کو پیش کیا جائے گا، جسے دنیا میں لوگوں سے سب سے زیادہ تکلیفں آئی ہوں گی، پھر اسے جنت میں ایک دفعہ غوطہ دے کر پوچھا جائے گا: اے ابن آدم! کیا تو نے کبھی کوئی تکلیف بھی دیکھی؟ کیا تجھ پر کبھی کوئی سختی بھی گزری؟ وہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! اللہ کی قسم! نہیں، کبھی مجھ پر کوئی تکلیف نہیں پڑی اور نہ ہی میں نے کبھی کوئی شدت و سختی دیکھی۔ (صحیح مسلم: ۵۰۲۱)
اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا و آخرت میں سکون عطا فرمائے۔ (آمین)
۔ سماک بن حرب کہتے ہیں: سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے کوفہ کے منبر پر ہمیں بیان کیا اور کہا: اللہ کی قسم! تمہارا نبی تو ردّی کھجوروں سے سیر ہو جاتا تھا، لیکن تم قسما قسم کی کھجوروں اور مکھن کے بغیر راضی ہی نہیں ہوتے۔
۔ (دوسری سند) سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے کہا: میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتا ہوں، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایسے مہینے بھی آتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بل پڑ جاتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ردّی کھجوروں سے بھی سیر نہیں ہو پاتے تھے۔
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جو کی روٹی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر والوں کی ضرورت سے زائد نہیں ہوتی تھی۔
۔ ابو العلاء کہتے ہیں: بنو سُلَیم کے ایک آدمی نے مجھے بیان کیا، میرایہی خیال ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تھا، بہرحال اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو اس چیز کے ساتھ آزماتا ہے، جو اس کو عطا کرتا ہے، پس جو شخص اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی ہو جائے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے رزق میں برکت کرتا ہے اور مزید وسعت عطا کرتا ہے اور جو اس تقسیم پر راضی نہیںہوتا، اس کے رزق میں برکت نہیں کی جاتی۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، جبکہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے: غُرَباء کے لیے خوشخبری ہے۔ کسی نے کہا: غرباء کون لوگ ہیں؟ اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بہت زیادہ برے لوگوں کے اندر پائے جانے والے نیک لوگ ہوتے ہیں، ان کی بات نہ ماننے والوں کی تعداد بات ماننے والوں کی بہ نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں: ایک اور دن کی بات ہے، سورج طلوع ہو رہا تھا، جبکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن میرے امت میں سے ایسے لوگ آئیں گے کہ ان کا نور سورج کی روشنی کی طرح ہو گا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہوں گے؟ ایک روایت میں ہے: سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان سے مراد ہم لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں، اور تم لوگوں میں بھی بڑی خیر ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ فقراء مہاجرین ہیں، جن کے ذریعے ناپسندیدہ چیزوں سے بچا جاتا ہے اور ان میں جب کوئی فوت ہوتا ہے تو اس کی ضرورت اس کے سینے میں ہوتی ہے، ان لوگوں کو زمین کے مختلف خطوں سے جمع کیا جائے گا۔
Takhreej
(۹۳۱۲) تخریج: حدیث حسن لغیرہ (انظر: ۶۶۵۰)
Explanation
فوائد:… فقراء مہاجرین کے جہاد کی وجہ سے دوسرے لوگوں کو امن ملتا ہے، سینے میں ضرورت ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اپنے دل کی خواہش پوری نہ کر سکے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے مہمان بن گئے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک فقراء مہاجرین بروز قیامت مالدار لوگوں سے چالیس سال پہلے سبقت لے جائیں گے۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم لوگ چاہتے ہو تو ہم تمہیں اپنے مال میں سے دے دیتے ہیں اور اگر چاہتے ہو تو ہم تمہارا معاملہ سلطان کے سامنے ذکر کر دیتے ہیں، انھوں نے کہا: ہم صبر کریں گے اور کسی سے کسی چیز کا سوال نہیں کریں گے۔
Takhreej
(۹۳۱۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۹۷۹(انظر: ۶۵۷۸)
Explanation
فوائد:… صحیح مسلم کی تفصیلی روایتیوں ہے:
ابوعبدالرحمن کہتے ہیں: وَجَاء َ ثَلَاثَۃُ نَفَرٍ إِلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَأَنَا عِنْدَہُ فَقَالُوا یَا أَبَا مُحَمَّدٍ إِنَّا وَاللّٰہِ مَا نَقْدِرُ عَلَی شَیْء ٍ لَا نَفَقَۃٍ وَلَا دَابَّۃٍ وَلَا مَتَاعٍ فَقَالَ لَہُمْ مَا شِئْتُمْ إِنْ شِئْتُمْ رَجَعْتُمْ إِلَیْنَا فَأَعْطَیْنَاکُمْ مَا یَسَّرَ اللّٰہُ لَکُمْ وَإِنْ شِئْتُمْ ذَکَرْنَا أَمْرَکُمْ لِلسُّلْطَانِ وَإِنْ شِئْتُمْ صَبَرْتُمْ فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ إِنَّ فُقَرَاء َ الْمُہَاجِرِینَیَسْبِقُونَ الْأَغْنِیَاء َ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِلَی الْجَنَّۃِ بِأَرْبَعِینَ خَرِیفًا قَالُوا فَإِنَّا نَصْبِرُ لَا نَسْأَلُ شَیْئًا۔)) … تین آدمی سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، میں بھی ان کے پاس موجود تھا، انھوں نے کہا:اے ابومحمد! اللہ کی قسم! ہمارے پاس کچھ نہیں ہے، نہ خرچ ہے، نہ سواری، نہ مال ومتاع۔ سیدنا عبداللہ نے ان تینوں آدمیوں سے کہا: تم کیا چاہتے ہو، اگر تم یہ چاہتے ہو کہ تم ہماری طرف لوٹ آؤ ہم تمہیں وہ دیں گے جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تمہارے مقدر میں لکھ دیا ہے اور اگر تم چاہو تو تمہارا ذکر بادشاہ سے کریں اور اگر تم چاہو تو صبر کرو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم فقراء مہاجرین قیامت کے دن مالداروں سے چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے۔ ان صحابہ نے کہا: ہم لوگ صبر کریں گے اور کچھ نہیں مانگے گے۔
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں جنت میں داخل ہوا اور اپنے سامنے سے آہٹ سنی، میں نے پوچھا کہ یہ کون سی آواز ہے؟ اس نے کہا: یہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ہیں، پھر میں آگے کو بڑھا اور دیکھا کہ جنت میں زیادہ تر لوگ فقراء مہاجرین اور مسلمانوں کے بچے ہیں اور سب سے کم مالدار لوگ اور عورتیں ہیں، پھر مجھے بتلایا گیا کہ مالدار لوگوں کا جنت کے دروازے پر ابھی محاسبہ کیا جا رہا ہے اور ان کی مزید جانچ پڑتال کی جا رہی ہے، رہا مسئلہ خواتین کا، تو دو سرخ چیزوںیعنی سونے اور ریشم نے ان کو غافل کر دیا تھا، پھر ہم جنت کے آٹھ دروازوں میں سے کسی ایک دروازے سے باہر آئے، جب میں دروازے پر ہی تھا تو میرے پاس ایک پلڑا لایا گیا اور مجھے اس میں اور میرے امت کو دوسرے پلڑے میں رکھا گیا، پس میں بھاری ثابت ہوا، پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو لا کر ایک پلڑے میں رکھا گیا اور باقی امت کو دوسرے میں، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ والا پلڑا جھک گیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو لایا گیا اور ایک پلڑے میں رکھا اور باقی ساری امت کو دوسری پلڑے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھاری ثابت ہوئے، پھر میری امت کے ایک ایک آدمی کو پیش کیا گیا، پس وہ آگے کو گزرتے گئے، میں نے اس معاملے میں سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو سست اور متأخر پایا، پھر وہ ناامید ہو جانے کے بعدا ٓیا، میں نے کہا: عبد الرحمن! انھوں نے کہا: جی اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا، آپ تک پہنچنے سے پہلے مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ میں کبھی بھی آپ کو نہیں دیکھ سکوں گا، مگر بڑھاپوں کے بعد، میں نے کہا: وہ کیوں؟ انھوں نے کہا: میرے مال کی کثرت کی وجہ سے میرا محاسبہ ہوتا رہا اور مزید جانچ پڑتال کی جاتی رہی۔
Takhreej
(۹۳۱۴) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، علی بن یزید الھانی واھی الحدیث، وعبید اللہ بن زحر الافریقی و ابو المھلب مطرح ضعیفان، أخرجہ الطبرانی فی الاوس : ۶۱۴۶، وفی الصغیر : ۹۳۷(انظر: ۲۲۲۳۲)
Explanation
فوائد:… مہاجرین کی فضیلت دوسری احادیث سے ثابت ہے، مذکورہ بالا روایت سے ملتی جلتی ایک حدیث ِ مبارکہ درج ذیل ہے:
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَتَعْلَمُ اَوَّلَ زُمْرَۃٍتَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مِنْ اُمَّتِيْ؟)) قُلْتُ: اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗاَعْلَمُ۔فَقَالَ: ((الْمُھَاجِرُوْنَ،یَاْتُوْنَیَوْمَ الْقِیَامَۃِاِلٰی بَابِ الْجَنَّۃِ وَیَسْتَفْتِحُوْنَ فَیَقُوْلُ لَھُمُ الْخَزَنَۃُ: اَوَقَدْ حُوْسِبْتُمْ؟ فَیَقُوْلُوْنَ: بِاَيِّشَیْئٍ نُحَاسَبُ؟ وَاِنَّمَاکَانَتْ اَسْیَافُنَا عَلٰی عَوَاتِقِنَا فِيْسَبِیْلِ اللّٰہِ حَتّٰی مِتْنَا عَلٰی ذٰلِکَ۔ قَالَ:فَیُفْتَحُ لَھُمْ،فَیَقِیْلُوْنَ فِیْہِ اَرْبَعِیْنَ عَامًا قَبْلَ اَنْ یَّدْخُلَھَا النَّاسُ۔)) … کیا آپ کو میری امت کی اس جماعت کے بارے میں علم ہے جو سب سے پہلے جنت میں داخل ہو گی؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: وہ جماعت مہاجرین کی ہے۔ وہ روزِ قیامت جنت کے دروازے پر آ کر دروازے کھولنے کا مطالبہ کریں گے۔ دربان ان سے پوچھے گا: آیا تمھارا حساب و کتاب ہو چکاہے؟ وہ کہیں گے: کس موضوع پر ہم سے حساب کتاب لیا جائے؟ اللہ تعالیٰ کے راستے میں مرتے دم تک ہماری تلواریں ہمارے کندھوں پر رہیں۔ سو وہ ان کے لیے دروازہ کھول دے گا اور وہ (داخل ہو کر) عام لوگوں کے داخلے سے پہلے چالیس سال کا قیلولہ بھی کر چکے ہوں گے۔ (حاکم:۲/۷۰، شعب الایمان: ۴/۲۸/۴۲۶۰،صحیحہ: ۸۵۳)
۔ عباس بن سالم لخمی سے مروی ہے کہ عمر بن عبد العزیز نے ابو سلام حبشی کو بلا بھیجا، اس کو پیغام رساں کے ذریعے لایا گیا، وہ ان سے حوض کے بارے میں حدیث سننا چاہتے تھے، پس ان کو ان کے پاس لایا گیا، عمر بن عبد العزیز نے ان سے سوال کیا اور انھوں نے جواباً کہا: میں نے سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے حوض (کی وسعت) عدن سے عمان بلقاء تک ہے، اس کا پانی برف سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے، اس کے پیالے ستاروں کی تعدادجتنے ہیں،جس نے اس سے پانی پی لے، وہ اس کے بعد کبھی بھی پیاسا نہیں ہو گا، اس پر سب سے پہلے آنے والے فقراء مہاجرین ہوں گے۔ سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ وہ ہیں جن کے بال پراگندہ ہوتے ہیں، کپڑے میلے ہوتے ہیں، جو آسودہ حال عورتوں سے شادی نہیں کر سکتے اور جن کے لیے بند دروازے نہیں کھولے جاتے۔ یہ سن کر عمر بن عبد العزیز نے کہا: میں نے تو آسودہ حال عورتوں سے شادی بھی ہے اور میرے لیے بند دراوازے بھی کھولے گئے ہیں، الا یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر رحم کر دے، اللہ کی قسم! اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ میں اپنے سر پر اس وقت تک تیل نہیں لگاتا ، جب تک وہ پراگندہ نہیں ہو جاتا اور زیب ِ تن کیے ہوئے کپڑے نہیں دھوتا، جب تک وہ میلے نہیں ہو جاتے۔
۔ سیدنا ابودردا رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول االلہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: ضعفاء کو میرے لیے تلاش کر کے لاؤ،بیشک تم لوگ انہی کمزوروں کی وجہ سے رزق دیے اور مدد کئے جاتے ہو۔
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ کے اولین مصداق فقیر مہاجرین ہیں۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: کمزوروں کی وجہ سے لوگوں کی مدد کی جاتی ہے، یہ تائید و نصرت صالحین کی ذات کی وجہ سے نہیں، بلکہ ان کی دعا اور اخلاص کی وجہ سے ہوتی ہے،جیسا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو یہ گمان ہو نے لگا کہ وہ اپنے سے کم مال والے صحابہ پر فضیلت رکھتے ہیں، تونبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّمَا یَنْصُرُ اللّٰہُ
ٰذِہِ الْأُمَّۃَ بِضَعِیْفِھَا: بَدَعْوَتِھِم وَ صَلَاتِھِمْ وإِخْلَاصِھِمْ۔)) … اللہ تعالیٰ اس امت کے کمزور لوگوں کی دعاؤں، نمازوں اور اخلاص کی وجہ سے اس امت کی مدد کرتا ہے۔ (سنن نسائی: ۲/ ۶۵، الفوائد لتمام: ق ۱۰۵/ ۲، الحلیۃ لأبی نعیم: ۵/ ۲۶)
اس روایت کی سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے، بلکہ مطلوبہ تفسیر کے علاوہ یہ روایت صحیح بخاری میں بھی ہے، اور اسی طرح اس کو امام احمد (۱/ ۱۶۳) نے بھی روایت کیا ہے ۔ (صحیحہ: ۷۷۹) اس حدیث کامعنییہ ہے کہ ضعیف لوگوں کی عبادات و ادعیہ میں اخلاص زیادہ ہوتا ہے اور ان کو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے میں لذت محسوس ہوتی ہے، کیونکہ ان کے دل دنیا کیمحبت اور چاہت سے خالی ہوتے ہیں، ان کا صرف ایک مقصد ہوتا ہے کہ ان کی دعائیں قبول اور ان کے اعمال پاک ہو جائیں۔ امیر اور غریب اور قوی اور ضعیف میں بیان کیا گیا مذکورہ بالا فرق امیر اور قوی لوگوں کے لیے قابل تسلیم نہیں ہے، کیونکہ وہ ان تجربات سے نہیں گزرے اور ان کو سرے سے یہ احساس نہ ہو سکا کہ اِن لوگوں کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تعلق ہوتا ہے۔
۔ سیدنا عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا سلمان، سیدنا صہیب اور سیدنا بلال کچھ لوگوں میں بیٹھے ہوئے تھے، وہاں سید نا ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا، اِن لوگوں نے کہا: اللہ کے دشمن کی گردن اتارنے میں اللہ کی تلواروں نے اپنا حق ادا نہیں کیا، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم یہ بات قریش کے بزرگ اور سردار کے بارے میں کہتے ہو؟ (کچھ خیال کرو)۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ساری بات بتلائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو بکر! شاید تو نے ان کو ناراض کر دیا ہو اور اگر تو نے ان کو ناراض کر دیا تو تیرا ربّ بھی تجھ پر ناراض ہو جائے گا۔ یہ سن کر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ان کی طرف لوٹے اور کہا: اے ہمارے بھائیو! شاید تم مجھ سے ناراض ہو گئے ہو؟ انھوں نے کہا: نہیں، اے ابو بکر! اللہ تعالیٰ تجھ کو بخش دے۔
Takhreej
(۹۳۱۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۵۰۴ (انظر: ۲۰۶۴۰)
Explanation
فوائد:… غور کریں کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ جیسی عظیم ہستی کو فقیر صحابہ کے حقوق کے بارے میں متنبہ کیا جا رہا ہے، حالانکہ جو واقعہ پیش آیا، اس میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ حق بجانب تھے، کیونکہ سیدنا سلمان، سیدنا صہیب اور سیدنا بلال کے تبصرے کا مطلب یہ تھا کہ ابو سفیان کو مشرف باسلام ہونے سے پہلے قتل ہو جانا چاہیے تھا، جبکہ یہ تبصرہ اتنا مناسب نہیں تھا، کیونکہ اب سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ مسلمان ہو چکے تھے۔
۔ بعض صحابۂ کرام بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فقیر مؤمن جنت میں غنی مسلمانوں سے چار سو سال پہلے داخل ہوں گے۔ میں نے کہا: حسن تو چالیس برسوں کا ذکر کرتا ہے ؟ لیکن انھوں نے اصحاب ِ رسول کے حوالے سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو چار سو سال کی بات کی ہے، یہاں تک کہ غنی آدمی کہے گا: کاش میں بھی بہت زیادہ محتاج ہوتا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ان فقیروں کی صفات بیان کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں کہ جب جنگ کا موقع آتا ہے تو ان کو بھیجا جاتا ہے، لیکن جب غنیمت کی باری آتی ہے تو اوروں کوروانہ کیا جاتا ہے اور یہ وہ لوگ ہیںجن کو (وڈیروں کے) دروازوں سے دور کر دیا جاتا ہے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فقراء مسلمان، مالدار مسلمانوں سے نصف یومیعنی پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔