مسنداحمد

Musnad Ahmad

فقر اور غِنٰی کے مسائل

فقیر لیکن سوال سے بچنے والے میاں بیوی کے قصے اور اللہ تعالیٰ کی طرف ان کی کی گئی تکریم کا بیان

۔ (۹۳۲۹)۔ عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ: قَالَ اَبَوْھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: بَیْنَمَا رَجُلٌ وَامْرَاَۃٌ لَہُ فِی السَّلَفِ الْخَالِیْ لَایَقْدُرَانِ عَلیٰ شَیْئٍ، فَجَائَ الرَّجُلُ مِنْ سَفْرِہِ فَدَخَلَ عَلیَ امْرَاَۃٍ جَائِعًا قَدْ اَصَابَتْہُ مَسْغَبَۃٌ شَدِیْدَۃٌ، َفقَالَ لِاِمْرَاَتِہِ: اَعِنْدَکِ شَیْئٌ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، اَبْشِرْ اَتَاکَ رِزْقُ اللّٰہِ، فَاسْتَحَثَّھَا فَقَالَ: وَیْحَکِ، اِبْتَغِیْ اِنْ کَانَ عِنْدَکِ شَیْئٌ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، ھُنْیَۃً نَرْجُوْ رَحْمَۃَ اللّٰہِ حَتّٰی اِذَا طَالَ عَلَیْہِ الطَّوَی قَالَ: وَیْحَکِ قُوْمِیْ فَابْتَغِیْ اِنْ کَانَ عِنْدَکِ خُبْزٌ فَاْتِیْنِيْ بِہٖفَاِنِّی قَدْ بَلَغْتُ وَجَھِدْتُ، فَقَالَتْ: نَعَمْ، الآنَ یَنْضَجُ التَّنُّوْرُ فَـلَا تَعْجَلْ، فَلَمَّا اَنْ سَکَتَ عَنْھَا سَاعَۃً وَتَحَیَّنَتْ اَیْضًا اَنْ یَّقُوْلَ لَھَا، قَالَتْ ھِیَ مِنْ عِنْدِ نَفْسِھَا لَوْ قُمْتُ فَنَظَرْتُ اِلیٰ تَنُّوْرِیْ، فَقَامَتْ فَوَجَدَتْ تَنُّوْرَھَا مَلآیَ جُنُوبَ الْغَنَمِ،وَرَحْیَیْھَا تَطْحَنَانِ، فَقَامَتْ اِلیٰ الرَّحیٰ فَنَفَضَتْھَا وَاَخْرَجَتْ مَافِیْ تَنُّوْرِھَا مِنْ جُنُوبِ الْغَنَمِ، قَالَ اَبُوْھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: فَوَالَّذِیْ نَفْسُ اَبِی الْقَاسِمْ بِیَدِہِ، عَنْ قَوْلِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ اَخَذَتْ مَا فِیْ رَحْیَیْھَا وَلَمْ تَنْفُضْھَا، لَطَحَنَتْھَا اِلیٰیَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۹۴۴۵)

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: گزرے ہوئے زمانے کی بات ہے کہ ایک آدمی اور اس کی بیوی کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے تھے، (یعنی ان کے پاس کوئی چیز نہیں تھی)، ایک دن وہ آدمی سفر سے واپس آیا اور اپنی بیوی پر داخل ہوا، جبکہ وہ سخت بھوک میں مبتلا تھا، اس نے اپنی بیوی سے کہا: کیا تیرے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، خوش ہو جاؤ، بس ابھی تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کا رزق آیا، پھر اس شخص نے اس خاتون کو ترغیب دلائی اور کہا: تو ہلاک ہو جائے، اگر تیرے پاس کوئی چیز ہے تو وہ پیش کر؟ اس نے کہا: جی بالکل، لیکن تھوڑی دیر، ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید کرتے ہیں، لیکن پھر جب بھوک کا وقفہ زیادہ ہوا تو اس نے کہا: او تو مر جائے، کھڑی ہو ، کوئی روٹی تلاش کر کے میرے سامنے پیش کر، میں تھک چکا ہوں اور مجھ پر مشکل بن رہی ہے، اس نے کہا: جی ابھی تنور کھانے پکانے کے قابل ہوتا ہے، جلدی نہ کرو، پھر جب خاوند تھوڑی دیر کے لیے خاموش رہا اور اس عورت نے سمجھا کہ وہ پھر بات کرے گا تو اب کی بار وہ خود سے ہی کہنے لگی کہ اگر میں کھڑی ہو کر اپنے تنور کو دیکھ ہی لوں (کیا پتہ کہ واقعی اس میں کوئی چیز پک رہی ہو)، پس وہ اٹھی اور اپنے تنور کو اس حال میں پایا کہ وہ بکری کی دستیوں سے بھرا ہوا تھا اور اس کی دونوں چکیاں غلہ پیس رہی تھیں، پس وہ چکی کی طرف گئی اور اس کا جائزہ لیا اور تنور سے بکری کی دستیاں نکالیں۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں ابو القاسم کی جان ہے، اللہ کے رسول محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر وہ دونوں چکیوں سے آٹا نکال لیتی اور ان کا جائزہ نہ لیتی تو وہ قیامت کے دن تک غلہ پیستی رہتیں۔

۔ (۹۳۳۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔ قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ عَلیٰ اَھْلِہِ فَلَمَّا رَایٰ مَابِھِمْ مِنَ الْحَاجَۃِ خَرَجَ اِلَی الْبَرِیَّۃِ، فَلَمَّا رَاَتِ امْرَاَتُہُ قَامَتْ اِلَی الرَّحیٰ فَوَضَعَتْھَا، وَاِلَی التَّنُّوْرِ فَسَجَرَتْہُ ثُمَّ قَالَتْ: اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنَا، فَنَظَرَتْ فَاِذَا الْجَفْنَۃُ قَدِ امْتَلَاَتْ قَالَ: وَذَھَبَتْ اِلَی التَّنُّوْرِ فَوَجَدَتْہُ مُمْتَلِئًا قَالَ: فَرَجَعَ الزَّوْجُ قَالَ: اَصَبْتُمْ بَعْدِیْ شَیْئًا؟ قَالَتِ امْرَاَتُہُ: نَعَمْ مِنْ رَّبِّنَا، قَامَ اِلَی الرَّحیٰ فذُکِرَ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اَمَا اِنَّہُ لَوْ لَمْ یَرْفَعُھَا لَمْ تَزَلْ تَدُوْرُ اِلیٰیَوْمِ الْقِیَامَۃِ، شَھِدْتُّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَقُوْلُ: ((وَاللّٰہِ! لَاَنْ یَّاْتِیَ اَحَدُکُمْ صِیْرًا ثُمَّ یَحْمِلُہُیَبِیْعُہُ فَیَسْتَعِفُّ مِنْہُ خَیْرٌ لَہُ مِنْ اَنْ یَّاْتِیَ رَجُلاً یَسْاَلَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۶۶۷)

۔ (دوسری سند) راوی کہتا ہے: ایک آدمی اپنے اہل کے پاس آیا، جب اس نے ان کی حاجت کو دیکھا تو وہ دوسری مخلوق کی طرف نکل گیا، جب اس کی بیوی نے یہ صورتحال دیکھی تو وہ چکی کی طرف گئی اور اس کو سیدھا کیا اور تنور کی طرف جا کر اس کو آگ لگائی اور پھر کہا: اے اللہ! ہمیں رزق دے، پس اس نے دیکھا کہ ٹب بھرا ہوا ہے، پھر اس نے تنور کی طرف دیکھا تو وہ بھی بھرا ہوا ہے، اُدھر سے جب خاوند لوٹا تو اس نے کہا: کیا میرے جانے کے بعد کوئی چیز ملی ہے؟ اس کی بیوی نے کہا: جی ہاں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے (بہت کچھ مل گیا ہے)۔ پھر وہ چکی کی طرف گیا اور …۔ جب یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے ذکر کی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر وہ اس کو نہ اٹھاتا تو وہ قیامت کے دن تک چلتی رہتی۔ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر تم میں سے کوئی آدمی درختوں کی شاخیں اٹھا کر لائے اور ان کو بیچ کر سوال سے بچ جائے تو یہ عمل اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی آدمی کے پاس جائے اور اس سے سوال کرے۔