TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مجلس کو برخاست کرتے وقت کے اذکار کا بیان - مجلس کو برخاست کرتے وقت کے اذکار کا بیان - مجالس اور ان کے آداب کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 5 of مجالس اور ان کے آداب کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 5 of 6 · 4 Hadith
۔ (۹۵۱۷)۔ عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: بَلَغَنِیْ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنْ اِنْسَانٍ یَکُوْنُ فِیْ مَجْلِسٍ فَیَقُوْلُ حِیْنَیُرِیْدُ اَنْ یَّقُوْمَ: سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ، اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ، اِلَّا غُفِرَ لَہُ مَا کَانَ فِیْ ذٰلِکَ الْمَجْلِسِ۔)) فَحَدَّثْتُ ھٰذَا الْحَدِیْثَیَزِیْدَ بْنَ خُصَیْفَۃَ قَالَ: ھٰکَذَا حَدَّثَنِی السَّائِبُ بْنُ یَزِیْدَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۲۰)
۔ اسماعیل بن عبداللہ بن جعفر کہتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو انسان کسی مجلس میں ہو اور پھر مجلس سے اٹھتے وقت یہ دعا پڑھے: سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ، اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ (تو پاک ہے، اے اللہ! اور تیری تعریف کے ساتھ، نہیں ہے کوئی معبودِ برحق مگر تو ہی، میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں )تو اس کے اس مجلس میں ہونے والے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔ جب میں نے یہ حدیثیزید بن خصیفہ کو بیان کی تو انھوں نے کہا: سیدنا سائب بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مجھے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۹۵۱۷) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الطحاوی فی شرح معانی الآثار : ۴/ ۲۸۹، والطبرانی فی الکبیر : ۶۶۷۳(انظر: ۱۵۷۲۹)
9517
Sahih
۔ (۹۵۱۸)۔ عَنْ اَبِیْ بَرْزَۃَ الْاَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِآخِرَۃٍ اِذَا طَالَ الْمَجْلِسُ فَقَامَ قَالَ: ((سُبْحَانَّکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ، اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ، اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ۔)) فَقَالَ لَہُ بَعْضُنَا: اَنَّ ھٰذَا قَوْلٌ مَا کُنَّا نَسْمَعُہُ مِنْکَ فِیْمَا خَلَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھٰذَا کَفَّارَۃُ مَا یَکُوْنُ فِی الْمَجْلِسِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۰۷)
۔ سیدنا ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آخری زندگی کی بات ہے کہ جب مجلس لمبی ہو جاتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس سے اٹھتے وقت یہ دعا پڑھتے: سُبْحَانَّکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ، اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ، اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ (تو پاک ہے، اے اللہ! اور تیری تعریف کے ساتھ، میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی معبودِ برحق ہے، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں)۔ ہم میں سے کسی نے کہا: پہلے تو ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس قسم کے دعائیہ کلمات نہیں سنتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کلمات مجلس میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہیں۔
Takhreej
(۹۵۱۸) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابوداود: ۴۸۵۹(انظر: ۱۹۷۶۹)
9518
Sahih
۔ (۹۵۱۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ جَلَسَ فِیْ مَجْلِسٍ کَثُرَ فِیْہِ لَغَطُہُ فَقَالَ قَبْلَ اَنْ یَّقُوْمَ: سُبْحَانَکَ رَبَّنَا وَبِحْمِدَکَ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ ثُمَّ اَتُوْبُ اِلَیْکَ، اِلَّا غَفَرَ اللّٰہُ لَہُ مَا کَانَ فِیْ مَجْلِسِہِ ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۴۲۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی ایسی مجلس میں بیٹھا، جس میں اس کی لغویات بہت زیادہ ہوں اور پھر وہ اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے یہ کلمات ادا کر لے سُبْحَانَّکَ رَبَّنَا وَبِحْمِدَکَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ ثُمَّ اَتُوْبُ اِلَیْکَ (تو پاک ہے، اے ہمارے ربّ! تو ہی معبودِ برحق ہے، میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور پھر تیری طرف رجوع کرتا ہوں) تو اس سے اس مجلس میں جو کچھ ہوا ہو گا، اس کو بخش دیا جائے گا ۔
Takhreej
(۹۵۱۹) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ الترمذی: ۳۴۳۳، وأخرجہ بنحوہ ابوداود: ۴۸۵۸ (انظر: ۱۰۴۱۵)
9519
Sahih
۔ (۹۵۲۰)۔ عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا جَلَسَ مَجْلِسًا اَوْ صَلّٰی تَکَلَّمَ بِکَلِمَاتٍ، فَسَاَلَتْہُ عَائِشَۃُ عَنِ الْکَلِمَاتِ، فَقَالَ: ((اِنْ تَکَلَّمَ بِخَیْرٍ کَانَ طَابِعًا عَلَیْھِنِّ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَاِنْ تَکَلَّمَ بِغَیْرِ ذٰلِکَ کَانَ کَفَّارَۃً ، سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۹۱)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب کسی مجلس میں بیٹھتےیا نماز ادا کرتے تو کچھ دعائیہ کلمات کہتے تھے، سیدہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ان کلمات کے بارے میں دریافت کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر آدمی خیر والی باتیں کرے گا تو یہ کلمات روزِ قیامت تک ان پر مہر ہوں گے اور اگر خیر کے علاوہ کوئی اور بات کرے گا تو یہ کلمات اس کے لیے کفارہ بن جائیں گے، کلمات یہ ہیں: سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ (تو پاک ہے اور تیری تعریف کے ساتھ، نہیں ہے کوئی معبودِ برحق مگرتو ہی، میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں)۔
Takhreej
(۹۵۲۰) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ النسائی: ۳/ ۷۱ (انظر: ۲۴۴۸۶)
Explanation
فوائد:… ان احادیث ِ مبارکہ میں کفارۂ مجلس والی دعا پڑھنے کی اہمیت اور فوائد بیان کیے گئے ہیں، ہر مجلس کے بعد یہ دعا پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
9520
Sahih