TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مجالس اور ان کے آداب کا بیان - مجالس اور ان کے آداب کا بیان - Book 160 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 160 of Musnad Ahmad, with 6 chapters and 40 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

40 Hadith · 6 Chapters
ضرورت کے علاوہ راستوں میں بیٹھنے کی ممانعت کا بیان
۔ (۹۴۸۴)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِیَّاکُمْ وَالْجُلُوْسَ فِی الطُّرُقَاتِ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَالَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا بُدٌّ نَتَحَدَّثُ فِیْھَا، قَالَ: ((فَاَمَّا اِذَا اَبَیْتُمْ فَاَعْطُوْا الطَّرِیْقَ حَقَّہُ۔)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَمَا حَقُّ الطَّرِیْقِ؟ قَالَ: ((غَضُّ الْبَصَرِ، وَکَفُّ الْاَذٰی، وَرَدُّ السَّلَامِ، وَالْاَمْرُ بِالْمَعْرُوْفِ، وَالنَّھْیُ عَنِ الْمُنْکَرِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۲۹)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: راستوں میں بیٹھنے سے بچو۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہماری مجلسوں کے لیے اس سے کوئی چارۂ کار نہیں ہے، ہم نے راستوں پر باتیں کرنا ہوتی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم نے انکار ہی کرنا ہے تو پھر راستے کو اس کا حق دیا کرو۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! راستے کا حق کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نگاہ جھکا کر رکھنا، تکلیف نہ دینا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا۔
Takhreej
(۹۴۸۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۴۶۵، ومسلم: ۲۱۲۱ (انظر: ۱۱۳۰۹)
9484
Sahih
ضرورت کے علاوہ راستوں میں بیٹھنے کی ممانعت کا بیان
۔ (۹۴۸۵)۔ عَنْ اَبِیْ طَلْحَۃَ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ۔ (مسند احمد: ۱۶۴۸۰)
۔ سیدنا ابو طلحہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Takhreej
(۹۴۸۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۱۶۱(انظر: ۱۶۳۶۷)
9485
Sahih
ضرورت کے علاوہ راستوں میں بیٹھنے کی ممانعت کا بیان
۔ (۹۴۸۶)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: مَرَّرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی مَجْلِسٍ مِنَ الْاَنْصَارِ فَقَالَ: ((اِنْ اَبَیْتُمْ اِلَّا اَنْ تَجْلِسُوْا فَاھْدُوْا السَّبِیْلَ وَرُدُّوْا السَّلَامَ وَاَعِیْنُوْا الْمَظْلُوْمَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۷۹۱)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انصاریوں کی ایک مجلس کے پاس سے گزرے اور فرمایا: اگر تم نے راستوں میں بیٹھنا ہی ہے تو مسافر کی رہنمائی کیا کرو، سلام کا جواب دیا کرو اور مظلوم کی مدد کیا کرو۔
Takhreej
(۹۴۸۶) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابن حبان: ۵۹۷ (انظر: ۱۸۵۹۰)
9486
Sahih
ضرورت کے علاوہ راستوں میں بیٹھنے کی ممانعت کا بیان
۔ (۹۴۸۷)۔ عَنْ اَبِیْ شُرَیْحٍِ بْنِ عَمْرٍو الْخُزَاعِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اِیَّاکُمْ وَالْجُلُوْسَ عَلَی الصُّعُدَاتِ، فَمَنْ جَلَسَ مِنْکُمْ عَلَی الصَّعِیْدِ فَلْیُعْطِہِ حَقَّہُ۔)) قَالَ: قُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَا حَقُّہُ؟ قَالَ:((غُضُوْضُ الْبَصَرِ، وَرَدُّ التَّحِیَّۃِ، وَاَمْرٌ بِمَعْرُوْفٍ، وَنَھْیٌ عَنْ مُنْکَرٍ۔)) (مسند احمد: ۲۷۷۰۵)
۔ سیدنا ابو شریح بن عمرو خزاعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: راستوں پر بیٹھنے سے بچو، اگر کوئی راستے میں بیٹھنا چاہے تو وہ اس کا حق ادا کرے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! راستے کا حق کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نظر کو جھکا کر رکھنا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا۔
Takhreej
(۹۴۸۷) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، عبد اللہ بن سعید المقبری متروک الحدیث، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۲/۴۴۸ (انظر: ۲۷۱۶۳)
Explanation
فوائد:… ان احادیث ِ مبارکہ میں اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ انسانیت کو ہر قسم کی تکلیف سے بچانے کے لیے صرف اسلام نے ٹھوس اقدامات کئے ہیں کہ عام راستوں اور گزرگاہوں کو معاشرے کی اجتماعی ملکیت قرار دیا۔ اس لیے ان پر مجلسیں جما کر بیٹھنا صحیح نہیں، اس سے گزرنے والوں کو تکلیف ہو سکتی ہے، بالخصوص پردہ دار عوتوں کو، جو لوگوں کے سامنے آنے یا ان کے سامنے سے گزرنے کو ناپسند کرتی ہیں۔ اگر کسی مجبوری کی بنا پر کسی گزرگاہ پر بیٹھنا ہی پڑ جائے تو ایسا انداز اختیار کیا جائے کہ گزرنے والوں کو کوئی تکلیف نہ ہو، مثلاً گزرنے والی عورتوں سے نظر بچا کر رکھنا، اچھی گفتگو کرنا، زیادہ بوجھ لادے ہوئے آدمی کی مدد کرنا، مظلوم اور مصیبت زدہ کے ساتھ تعاون کرنا، بھٹکے ہوئے کی رہنمائی کر دینا، سلام کا جواب دینا۔ اگراسلام میں شاہراہوں اور گزرگاہوں کے حقوق یہ ہیں تو پھر ان پر تجاوزات قائم کر کے یا شادی بیاہ کے موقع پر ان کو بند کر کے یا لڑکوں کا سڑکوں پر کھیلیں شروع کر کے ہزاروں انسانوں کو تکلیف دینا کیسے جائز ہو سکتا ہے؟ لیکن بدقسمتی سے یہ چیز ہمارے ملک میں عام ہے۔ مزید کہا جا سکتا ہے کہ تنگ سڑکوں، موڑوں اور اترائی و چڑھائی پر (LT ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) یعنی چھوٹی گاڑی والوں کو (HT ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) یعنی بڑی ٹرانسپورٹ کا خیال رکھنا چاہئے، کیونکہ ٹریلر اور ٹرک وغیرہ کا سڑک سے اترنا مشکل ہوتا ہے۔ شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: یہ احادیث چند ایک اہم آداب ِ اسلامی پر مشتمل ہیں، جن کا تعلق راستوں اور گھروں کے صحنوں میں بیٹھنے سے ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ان آداب کا احترام کریں، بالخصوص ان امور کا، جو فرض ہیں، مثلاً عورتوں سے نگاہوں کو پست کرنا کہ دوسری کئی احادیث میں بھی اس کا حکم دیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: {قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَیَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَھُمْ ذٰلِکَ اَزْکٰی لَھُمْ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا یَصْنَعُوْنَ} … مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں،یہی ان کے لیے زیادہ پاکیزگی کا ذریعہ ہے، لوگ جو کچھ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ سب سے خبردار ہے۔ (سورۂ نور: ۳۰) غور کریں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ حکم امت ِ اسلامیہ کی پہلی نسل یعنی صحابہ کرام کو براہِ راست دیا گیا، حالانکہ وہ مطہّر اور منوّر تھے اور ان کے لیے کسی عورت کے چہرے اور ہاتھوں کے علاوہ جسم کا کوئی اور حصہ دیکھنا ممکن ہی نہ تھا، جیسا کہ مختلف احادیث سے پتہ چلتا ہے، مثال کے طور پر خثعمی عورت کی حدیث اور بنت ِ ہبیرہ وغیرہ کی حدیث ہے، جو میری تصنیفات (جلباب المرأۃ) اور (آداب الزفاف) میں مذکور ہیں۔ میں کہتا ہوں: جس زمانے میں صرف عورت کے چہرے اور ہاتھوں پر نگاہ پڑنا ممکن تھی، اس وقت بھی نگاہیں پست رکھنے کا حکم تھا۔ کوئی شک وشبہ نہیں کہ عصرِ حاضر میں اس حکم میں مزید تاکید پیدا ہو گئی ہے، جس میں عورتوں نے لباس بھی زیب ِ تن کر رکھا ہوتا ہے اور ننگی بھی ہوتی ہیں۔ ان ہی عورتوں کے بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا: بعض عورتوں ایسی بھی ہوں گی کہ جو ملبوس ہونے کے باوجود برہنہ ہوں گی، وہ لوگوں کو اپنی طرف مائل کریں گی اور خود ان کی طرف مائل ہوں گی، ان کے سر بختی اونٹوں کی کوہانوں کی طرح ہوں گے۔ ایسی عورتیں جنت میں داخل نہیں ہوں گی …۔ (صحیحہ: ۱۳۲۶) اس لیے بالعموم ہر مسلمان پر اور بالخصوص ہر مسلم نوجوان پر واجب ہے کہ وہ اپنی نظریں جھکا کر رکھا کرے، خاص طور پر (مختلف چوراہوں پر آویزاں) حیا سوز اور ہیجان انگیز تصاویر کو دیکھنے سے گریز کریں۔ ایسے دور میں نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ ان فتنوں سے بچنے کے لیے پہلی فرصت میں شادی کریں اور استطاعت نہ ہونے کی صورت میں روزے رکھنے کا اہتمام کریں، اس سے بری خواہشات ختم ہو جاتی ہیں۔ سو میں اللہ تعالیٰ سے سوال کرتا ہوں کہ وہ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو اپنی اطاعت و فرمانبرداری کرنے کی توفیق دے اور اپنی نافرمانیوں سے محفوظ رکھے، بیشک وہ سننے والا اور جواب دینے والا ہے۔
9487
Zaeef
بہترین اور بدترین مجلسوں کا بیان
۔ (۹۴۸۸)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ عَمْرَۃَ الْاَنْصَارِیِّ، قَالَ: اُخْبِرَ اَبُوْ سَعِیْدٍ بِجَنَازَۃٍ فَعَادَ وَقَدْ تَخَلَّفَ، حَتّٰی اِذَا اَخَذَ النَّاسُ مَجَالِسَھُمْ ثُمَّ جَائَ، فَلَمَّا رَآہُ الْقَوْمُ تَشَذَّبُوْا عَنْہُ فَقَامَ بَعْضُھُمْ لِیَجْلِسَ فِیْ مَجْلِسٍ فَقَالَ: لَا، اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ خَیْرَ الْمَجَالِسِ اَوْسَعُھَا۔)) ثُمَّ تَنَحّٰی وَجَلَسَ فِیْ مَجْلِسٍ وَاسِعٍ۔ (مسند احمد: ۱۱۱۵۴)
۔ عبد الرحمن بن ابی عمرہ انصاری کہتے ہیں: سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ایک جنازے کا بتایا گیا، اس سے وہ لوٹے اور پھر مجلس سے اتنے پیچھے رہ گئے کہ لوگ اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے، جب لوگوں نے ان کو آتے ہوئے دیکھا تو وہ منتشر ہو گئے اور بعض لوگوں نے کہا کہ ان کو چاہیے کہ اس مجلس میں بیٹھ جائیں، لیکن انھوں نے کہا: جی نہیں، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیشک بہترین مجلس وہ ہوتی ہے، جو وسیع ہو۔ پھر وہ علیحدہ ہوئے اور ایک وسیع مجلس میں بیٹھ گئے۔
Takhreej
(۹۴۸۸) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط البخاری، أخرجہ ا بوداود: ۴۸۲۰ (انظر: ۱۱۱۳۷)
Explanation
فوائد:… کشادہ مجلس میں جہاں بیٹھنے والے راحت اور سکون محسوس کرتے ہیں، وہاں باہر سے آنے والے افراد کے لیے نہ کوئی دشواری ہوتی ہے اور نہ گفتگو متاثر ہوتی ہے۔ ایسی مجلس میں سامعین کو توجہ اور انہماک کے ساتھ بات سننے کا موقع ملتا ہے۔ اس کے برعکس تنگ مجلس میںبیٹھنے والوں کو گھٹن اور تنگی محسوس ہوتی ہے، نیز آنے والے افراد زیادہ پریشانی کا سبب بنتے ہیں اور ان کی وجہ سے گفتگو بھی متاثر ہوتی ہے۔
9488
Sahih
بہترین اور بدترین مجلسوں کا بیان
۔ (۹۴۸۹)۔ عَنْ اَبِیْ عَیَّاضٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَھٰی اَنْ یَّجْلِسَ بَیْنَ الضَّحِّ وَالظِّلِّ وَقَالَ: ((مَجْلِسُ الشَّیْطَانِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۴۹۹)
۔ صحابی ٔ رسول بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آدمی کو اس طرح بیٹھنے سے منع فرمایا کہ اس کے جسم کا کچھ حصہ دھوپ میں ہو اور کچھ سائے میں اور فرمایا: یہ تو شیطان کی بیٹھک ہے۔
Takhreej
(۹۴۸۹) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الحاکم: ۴/ ۲۷۱ (انظر: ۱۵۴۲۱)
Explanation
فوائد:… شارح ابوداود علامہ عظیم آبادی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ لکھتے ہیں: جب انسان کے بعض حصے پر دھوپ اور بعض پر سایہ پڑ رہا ہو تو وہ وہاں سے کھڑا ہو جائے اور مکمل سائے میںیا مکمل دھوپ میں بیٹھ جائے، کیونکہ اگر وہ وہیں بیٹھا رہا تو اس کے مزاج میں فساد آ جائے گا، کیونکہ اس کا جسم دھوپ اور سائے جیسی دو متضاد چیزوں کی لپیٹ میں ہو گا۔ لیکن مناسب یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس بیٹھک سے منع کرنے کے لیے جو علت بیان کی ہے کہ یہ تو شیطان کی بیٹھک ہے، اسی پر اکتفا کیا جائے۔ (عون المعبود)
9489
Sahih
بہترین اور بدترین مجلسوں کا بیان
۔ (۹۴۹۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا کاَنَ اَحَدُکُمْ جَالِسًا فِی الشَّمْسِ فَقَلَصَتْ عَنْہُ، فَلْیَتَحَوَّلْ مِنْ مَجْلِسِہِ۔)) (مسند احمد: ۸۹۶۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی دھوپ میں بیٹھا ہو اور پھر دھوپ اس سے ہٹ جائے تو اس کو چاہیے کہ اس مجلس سے پھر جائے۔
Takhreej
(۹۴۹۰) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۴۸۲۱(انظر: ۸۹۷۶)
9490
Sahih
بہترین اور بدترین مجلسوں کا بیان
۔ (۹۴۹۱)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الْمَجَالِسَ ثَلَاثَۃٌ سَالِمٌ، وَغَانِمٌ، وَشَاجِبٌ)) (مسند احمد: ۱۱۷۴۱)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجلسیں تین قسم کی ہوتی ہیں، سلامتی والی، غنیمت والی اور بے تکی باتوں اور بک بک والی۔
Takhreej
(۹۴۹۱) تخریج: اسنادہ ضعیف، لضعف ابن لھیعۃ، ولضعف روایۃ دراج عن ابی الھیثم، أخرجہ ابویعلی: ۱۳۸۴، وابن حبان: ۵۸۵، والطبرانی فی الکبیر : ۱۷/ ۸۳۷ (انظر: ۱۱۷۱۸)
9491
Zaeef
بہترین اور بدترین مجلسوں کا بیان
۔ (۹۴۹۲)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمَجَالِسُ بِالْاَمَانَۃِ اِلَّا ثَلَاثَۃَ مَجَالِسَ، مَجْلِسٌ یُسْفَکُ فِیْہِ دَمٌ حَرَامٌ، وَمَجْلِسٌ یُسْتَحَلُّ فِیْہِ فَرْجٌ حَرَامٌ، وَمَجْلِسٌ یُسْتَحَلُّ فِیْہِ مَالٌ مِنْ غَیِْرِ حَقٍّ۔)) (مسند احمد: ۱۴۷۴۹)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجالسیں امانت کے ساتھ ہوتی ہیں، ما سوائے تین مجلسوں کے، (۱) وہ مجلس جس میں حرام خون بہایا جائے، (۲) وہ مجلس جس میں حرام شرمگاہ کو حلال سمجھ لیا جائے اور (۳) وہ مجلس جس میں بغیر کسی حق کے مال کو حلال سمجھا جائے۔
Takhreej
(۹۴۹۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ ابن اخی جابر بن عبدا للہ، أخرجہ ابوداود: ۴۸۶۹(انظر: ۱۴۶۹۳)
Explanation
فوائد:… مجلسیں امانت ہی ہوتی ہیں، لیکن جب کسی مسلمان یا مجلس کے شرّ سے دوسرے کو نقصان پہنچنے کا امکان ہو تو پھر اس قدر راز کو فاش کرنا ضروری ہے کہ لوگوں کو اس نقصان سے بچایا جا سکے۔
9492
Zaeef
بہترین اور بدترین مجلسوں کا بیان
۔ (۹۴۹۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَا مِنْ قَوْمٍ جَلَسُوْا مَجْلِسًا لَمْ یَذْکُرُوْا اللّٰہَ فِیْہِ، اِلَّا رَاَوْہُ حَسْرَۃًیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۷۰۹۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مجلس میں لوگ اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کرتے، وہ قیامت والے دن اس مجلس کو اپنے لیے باعث ِ حسرت خیال کریں گے۔
Takhreej
(۹۴۹۳) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۷۰۹۳)
9493
Sahih
بہترین اور بدترین مجلسوں کا بیان
۔ (۹۴۹۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا قَعَدَ قَوْمٌ مَقْعَدًا لَا یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ، وَیُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَّا کَانَ عَلَیْھِمْ حَسْرَۃًیَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَاِنْ دَخَلُوْا الْجَنَّۃَ لِلثَّوَابِ۔)) (مسند احمد: ۹۹۶۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھتے ہیں اور اس میں نہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں اور نہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر دورود بھیجتے ہیں تو وہ مجلس قیامت کے دن ان کے لیے باعث ِ حسرت ہو گی، اگرچہ وہ دوسرے اعمال کی وجہ سے جنت میں داخل ہو جائیں۔
Takhreej
(۹۴۹۴) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین أخرجہ ابن حبان: ۵۹۱، الطبرانی فی الاوسط : ۴۸۳۱، والحاکم: ۱/۴۹۲(انظر: ۹۹۶۷)
9494
Sahih
بہترین اور بدترین مجلسوں کا بیان
۔ (۹۴۹۵)۔ وعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ ثُمَّ تَفَرَّقُوْا لَمْ یَذْکُرُوْا اللّٰہَ، کَاَنّمَا تَفَرَّقُوْا عَنْ جِیْفَۃِ حِمَارٍ۔)) (مسند احمد: ۱۰۴۱۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب لوگ کہیں جمع ہوں اور پھر اللہ تعالیٰ کا ذکر کیے بغیر منتشر ہو جائیں، تو وہ ایسے ہی ہوں گے جیسے مرے ہوئے گدھے کے پاس سے اٹھے ہوں۔
Takhreej
(۹۴۹۵) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۱۰۴۱۳)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ کی تسبیحات، تہلیلات، تکبیرات اور تحمیدات بیان کر کے اس کا ذکر کرنا جہاں باعثِ اجرِ عظیم ہے، وہاں اس سے غفلت برتنا باعث ِ حسرت و ندامت ہے۔ انسان کو چاہئے کہ اپنے جسم کی مختلف حالتوںیعنی چلنے،کھڑا ہونے، بیٹھنے اور لیٹنے کے دوران اللہ تعالیٰ کو کسی نہ کسی انداز میںیاد کرتا رہے۔ ہمارے جسم کو لیٹنے، بیٹھنے اور کھڑے ہونے کی صلاحیت حاصل ہونااللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے، جس پر اس نے اپنے ذکر کا مطالبہ کیا۔ کسی مجلس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ کرنا یا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے رحمت و سلامتی کی دعا نہ کرنا اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے کہ وہ اس غفلت کو معاف کر دے یا اس کی وجہ سے مؤاخذہ کرے۔ شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کہتے ہیں: یہ احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہر مجلس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنا واجب ہے ، اس دلالت کی درج ذیل وجوہات ہیں: اولاً: پھر اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو انھیں عذاب دے اور اگر چاہے تو انھیں بخش دے۔ یہ جملہ اس وقت کہا جا سکتاہے، جب واجب کو ترک کیا گیا ہو اور اس کا ترک کرنا معصیت ہو۔ ثانیاً: اگرچہ وہ (دوسرے اعمال کے) اجر و ثواب کی وجہ سے جنت میں داخل ہو جائیں۔ سے پتہ چلتا ہے کہ جو شخص مجلس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود نہیں بھیجے گا، وہ جہنم میں داخل ہونے کا حقدار ہو گا، اگرچہ یہ ممکن ہے کہ اس کے ایمان کے اجر و ثواب کے صلے میں اسے جنت میں داخل کر دیا جائے۔ (ثالثاً) تو وہ مردار گدھے جیسی چیز سے اٹھتے ہیں یہ تشبیہ تقاضا کرتی ہے کہ ان کا عمل قبیح ہے اور یہ تشبیہ اسی چیز سے متعلقہ ہو سکتی ہے، جو حرام ہو۔ ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ متنبہ رہے اور ہر مجلس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے سے غافل نہ ہو جائے، وگرنہ یہ غفلت اس کے لیے نقصان اور حسرت کا باعث بنے گی۔ مناوی نے (فیض القدیر) میں کہا: اس سے مجلس سے کھڑے ہوتے وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کی تاکید پیدا ہو تی ہے، اس ذکر و درود کے لیے کوئی بھی الفاظ کہے جا سکتے ہیں، ذکر کی کامل ترین صورت دعائے کفارۂ مجلس ہو گی: ((سُبْحَانَکَ اَللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ، اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ، اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ۔)) اور درود بھیجنے کے لیے تشہد والا درود پڑھا جائے۔ (صحیحہ: ۸۰)
9495
Sahih
مجلس میں آنے والے کے مخصوص آداب کا بیان
۔ (۹۴۹۶)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنَّا اِذَا جِئْناَ اِلَیْہِیَعْنِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَلَسَ اَحَدُنَا حَیْثُیَنْتَھِیْ۔ (مسند احمد: ۲۱۱۴۵)
۔ سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف آتے تھے تو جہاں مجلس ختم ہو رہی ہوتی تھی، وہیں بیٹھ جاتے تھے۔
Takhreej
(۹۴۹۶) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ ابوداود: ۴۸۲۵، والترمذی: ۲۷۲۵ (انظر: ۲۰۸۵۵)
Explanation
فوائد:… بعد میں آنے والے وڈیروںیا خیر و بھلائی کی رغبت رکھنے والے صوفی مزاج لوگوں کییہ عادت ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ کرام کی بابرکت مجالس میں ایسا نہیں ہوتا تھا، وہاں جس کو جہاں جگہ ملتی تھی، وہ وہیں بیٹھ جاتا تھا۔ شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ لکھتے ہیں: اس حدیث میں عہد ِ نبوی کے ایک ادب ِ مجلس کا ذکر کیا گیا ہے۔ عصر حاضر میں اہل علم سمیت اکثر لوگ اس کو ترک کر چکے ہیں۔ وہ ادب یہ ہے کہ جب کوئی آدمی کسی مجلس میں پہنچے تو جہاں مجلس ختم ہو رہی ہے، وہیں بیٹھ جائے، اگرچہ اسے دروازے کی دہلیز پر بیٹھنا پڑے، وہ اس چیز کا انتظار نہ کرے کہ لوگ اس کے لیے کھڑے ہوںتاکہ وہ آگے جا سکے، جیسا کہ متکبر سرداروں اور بڑائی خور لوگوں کا وطیرہ ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسا کرنے سے صراحت کے ساتھ منع کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (( لایُقِیْمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَقْعَدِہٖ ثُمَّ یَجْلِسُ فِیْہِ، وَلٰکِنْ تَفَسَّحُوْا وَتَوَسَّعُوْا )) … کوئی آدمی دوسرے آدمی کو اس کی مجلس سے کھڑا مت کرے اور پھروہاں خود بیٹھ جائے، (البتہ تم کو چاہئے کہ) کھلے ہو جاؤ اور وسعت پیدا کرو۔ (مسلم) اور صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے: جب کوئی آدمی سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لیے اپنی مجلس سے کھڑا ہوتا تو وہ وہاں نہیں بیٹھتے تھے، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرما دیا کہ مجلس میں بیٹھا ہوا آدمی کسی کی خاطر کھڑا ہو۔ دیکھیں صحیحہ: ۲۲۸۔(صحیحہ: ۳۳۰)
9496
Sahih
مجلس میں آنے والے کے مخصوص آداب کا بیان
۔ (۹۴۹۷)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا یُقِیْمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِہِ، فَیَجْلِسَ فِیْہِ، وَلٰکِنْ تَفَسَّحُوْا وَتَوَسَّعُوْا۔)) (مسند احمد: ۴۶۵۹)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی کسی آدمی کو اس کی مجلس سے کھڑا نہ کرے، اور پھر وہ خود وہاں بیٹھ جائے، البتہ کھلے اور وسیع ہو جایا کرو۔
Takhreej
(۹۴۹۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۲۷۰، ومسلم: ۲۱۷۷ (انظر: ۴۶۵۹)
9497
Sahih
مجلس میں آنے والے کے مخصوص آداب کا بیان
۔ (۹۴۹۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا یُقِیْمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِہِ، وَلٰکِنِ افْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰہُ لَکُمْ۔)) (مسند احمد: ۸۴۴۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی شخص کسی شخص کو اس کی مجلس سے کھڑا نہ کیا کرے، البتہ کھلے ہو جایا کرو، اللہ تعالیٰ بھی وسعت پیدا کر دے گا۔
Takhreej
(۹۴۹۸) تخریج: اسنادہ حسن (انظر: ۸۴۶۲)
Explanation
فوائد:… کسی آدمی کو مجلس سے اٹھا کر اس کی جگہ پر بیٹھ جانا انتہائی سوئے ادبی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع کیا ہے، کسی مجلس میں بیٹھنے کا قانون پہلے آئیے پہلے پائیے کا ہے۔
9498
Sahih
مجلس میں آنے والے کے مخصوص آداب کا بیان
۔ (۹۴۹۹)۔ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ اَبِی الْحَسَنِ الْبَصَرِیِّ،یُحَدِّثُ عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ، اَنَّہُ دُعِیَ اِلٰی شَھَادَۃٍ مَرَّۃً، فَجَائَ اِلٰی الْبَیْتِ، فَقَامَ لَہُ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِہِ، فَقَالَ: نَھَانَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا قَامَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ مِنْ مَجْلِسِہِ اَنْ یَجْلِسَ فِیْہِ، وَعَنْ اَنْ یَمْسَحَ الرَّجُلُ یَدَہُ بِثَوْبِ مَنْ لَا یَمْلِکُ۔ (مسند احمد: ۲۰۷۲۴)
۔ سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ ان کو گواہی کے لیے بلایا گیا، پس وہ گھر آئے اور ایک آدمی ان کی خاطر اپنی مجلس سے کھڑا ہو گیا، لیکن انھوں نے کہا: جب کوئی آدمی کسی دوسرے آدمی کی خاطر اپنی مجلس سے کھڑا ہو تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم کو اس کی جگہ میں بیٹھ جانے سے منع کیا اور اس سے بھی منع فرمایا کہ آدمی ایسے شخص کے کپڑے سے ہاتھ صاف کرے، جس کا وہ مالک نہ ہو۔
Takhreej
(۹۴۹۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ ابی عبد اللہ مولی آل ابی موسی الاشعری، أخرجہ ابوداود: ۴۸۲۷ (انظر: ۲۰۴۵۰)
9499
Zaeef
مجلس میں آنے والے کے مخصوص آداب کا بیان
۔ (۹۵۰۰)۔ عَنْ اَبِی الْخَصِیْبِ، قَالَ: کُنْتُ قَاعِدًا، فَجَائَ ابْنُ عُمَرَ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِہِ لَہُ، فَلَمْ یَجْلِسْ فِیْہِ، وَقَعَدَ فِیْ مَکَانٍ آخَرَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: مَاکَانَ عَلَیْکَ لَوْ قَعَدْتَ؟ فَقَالَ: لَمْ اَکُنْ اَقْعُدُ فِیْمَقْعَدِکَ وَلَا مَقْعَدِ غَیْرِکَ بَعْدَ شَیْئٍ شَھِدْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَائَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَامَ لَہُ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِہِ، فَذَھَبَ لِیَجْلِسَ فِیْہِ، فَنَھَاہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۵۵۶۷)
۔ ابو خصیب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بیٹھا ہوا تھا، سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما تشریف لائے، ایک آدمی ان کو جگہ دینے کے لیے اپنی مجلس سے کھڑا ہو گیا، لیکن وہ اس جگہ میں نہیں، بلکہ کسی اور جگہ میں بیٹھ گئے، اس آدمی نے کہا: اگر تم میری جگہ میں بیٹھ جاتے تو تم پر کوئی حرج تو نہیں تھا؟ انھوں نے کہا: نہ میں نے تیری بیٹھک میں بیٹھنا اور نہ کسی اور کی بیٹھکمیں، اس چیز کے بعد میں نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موجودگی میں دیکھی، اس کی تفصیلیہ ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، تو ایک آدمی اس کی خاطر اپنی مجلس سے کھڑا ہو گیا اور وہ اس کی جگہ میں بیٹھنے لگا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس وہاں بیٹھنے سے منع فرما دیا۔
Takhreej
(۹۵۰۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ حال ابی الخصیب، أخرجہ ابوداود: ۴۸۲۸(انظر: ۵۵۶۷)
Explanation
فوائد:… لیکن درج ذیل حدیث اورشرح پر غور کریں۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (( لَایَقُوْمُ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ مِنْ مَجْلِسِہٖوَلٰکِنِافْسَحُوْایَفْسَحِ اللّٰہُ لَکُمْ۔)) … کوئی آدمی کسی کے لیے اپنی نشست سے کھڑا نہ ہو، بلکہ مجلس میں گنجائش پیدا کر لیا کرو، اللہ تعالیٰ تمھارے لیے وسعت پیدا کر دے گا۔ (مسند احمد: ۲/ ۴۸۳صحیحہ: ۲۲۸) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مجلس میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو دوسروں کی خاطر کھڑے نہیں ہونا چاہئے، ہاں ان کے بیٹھنے کے لیے گنجائش پیدا کر دینی چاہئے۔ شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ رقمطراز ہیں: اس حدیث میں واضح دلالت موجود ہے کہ یہ آداب ِ اسلامیہ میں سے نہیں ہے کہ کوئی آدمی کسی کے احترام کی وجہ سے مجلس سے کھڑا ہو جائے اور وہ اس کی جگہ میں بیٹھ جائے، بلکہ اسے چاہئے کہ آنے والے کے لیے وسعت پیدا کرے۔ جب لوگ زمین پر بیٹھے ہوں تو مجلس میں وسعت پیدا کرنا ممکن ہو گا اور کرسیوں کی صورت میں ناممکن ہے۔ بہرحال کسی کی خاطر کھڑا ہونے سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اس حدیث کی مخالفت ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ ناپسند کرتے تھے کہ کوئی آدمی اپنی مجلس سے کھڑا ہو اور وہ وہاں بیٹھجائیں۔ مذکورہ بالا حدیث کے الفاظ لَایَقُوْمُ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ… (کوئی آدمی کسی کے لیے کھڑا نہ ہو) کم از کم کراہت پر دلالت کرتے ہیں، کیونکہیہاں نفی بمعنی نہی ہے، وگرنہ نہی کا اصل تقاضا تو تحریم ہے۔ واللہ اعلم۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (( لایُقِیْمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَقْعَدِہٖثُمَّیَجْلِسُ فِیْہ)) … کوئی آدمی دوسرے آدمی کو اس کی جگہ سے کھڑا کر کے اس کی جگہ پر مت بیٹھے۔ (مسلم) ذہن نشین رہے کہ ان دونوں احادیث میں کوئی تعارض نہیں ہے، کیونکہ اُس میں دوسرے کو اٹھانے سے اور اِس میں دوسرے کے خود اٹھنے سے منع کیا گیا ہے۔
9500
Zaeef
مجلس میں آنے والے کے مخصوص آداب کا بیان
۔ (۹۵۰۱)۔ عَنْ اَبِی الْمَلِیْحِ، اَنَّہُ قَالَ لِِاَبِیْ قِلَابۃَ: دَخَلَتُ اَنَا وَاَبُوْکَ عَلَی ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَحَدَّثَنَا اَنَّہُ دَخَلَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَلْقَی لَہُ وِسَادَۃً مِنْ اَدَمٍ حَشْوُھَا لِیْفٌ، فَلَمْ اَقْعُدْ عَلَیْھَا، بَقِیَتْ بَیْنِیْ وَبَیْنَہُ۔ (مسند احمد: ۵۷۱۰)
۔ ابو ملیح سے مروی ہے، انھوں نے ابو قلابہ سے کہا: میں اور تمہارے ابو، ہم دو سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے پاس گئے، انھوں نے ہمیں بیان کیا کہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے لے چمڑے کا تکیہ رکھا، اس کا بھراؤ کھجور کے پتے تھے، لیکن وہ اس پر نہ بیٹھے اور وہ تکیہ ان کے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے درمیان پڑا رہا۔
Takhreej
(۹۵۰۱) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم (انظر: ۵۷۱۰)
Explanation
فوائد:… غور کریں کہ سیدا لاولین والآخرین ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لیے تکیہ پیش کر رہے ہیں،یہ علیحدہ بات ہے کہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا احترام کرتے ہوئے اس تکیے پر نہ بیٹھے۔ ایسی احادیث ِ مبارکہ کے بعد ہمیں ادنی و اعلی مہمانوں میں اس طرح فرق کرنے سے باز آ جانا چاہیے کہ اعلی کی پرتکلف ضیافت کی جاتی ہے اور ادنی کو پوچھنے کے لیے تیار کوئی نہیں ہوتا ہے۔
9501
Sahih
مجلس میں آنے والے کے مخصوص آداب کا بیان
۔ (۹۵۰۲)۔ عَنْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ، قَالَ: جَلَسْتُ اِلَی ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَمَعَہُ رَجُلٌ یُحَدِّثُہُ، فَدَخَلْتُ مَعَھُمَا، فَضَرَبَ بِیَدِہِ صَدْرِیْ، وَقَالَ: اَمَا عَلِمْتَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا تَنَاجَی اثْناَنِ فَـلَا تَجْلِسْ اِلَیْھِمَا حَتّٰی تَسْتَاْذِنَھُمَا۔)) (مسند احمد: ۵۹۴۹)
۔ سعید مقبری کہتے ہیں: میں آیا اور سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے ساتھ بیٹھ گیا، جبکہ ان کے ساتھ ایک اور آدمی گفتگو کر رہا تھا، جب میں ان کے ساتھ داخل ہوا تو سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے میری چھاتی پر ہاتھ مارا اور کہا: کیا تو یہ نہیں جانتا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب دو آدمی سرگوشی کر رہے ہوں تو ان کے ساتھ نہ بیٹھ،یہاں تک کہ تو ان سے اجازت لے لے۔
Takhreej
(۹۵۰۲) تخریج: حدیث حسن لغیرہ (انظر: ۵۹۴۹)
Explanation
فوائد:… شریعت ِ اسلامیہ کا امتیازی وصف اعتدال ہے۔ جہاں بعض مصلحتوں کی بنا پر اکٹھے تین افراد میں سے دو کو علیحدہ ہو کر صلاح و مشورہ کرنے سے منع کیا گیا ہے، وہاں اگر پہلے ہی سے کسی مقام پر دو افراد رازدارانہ انداز میں گفت و شنید کر رہے ہوں تو بعد میں آنے والے افراد کو بغیر اجازت ان کی مجلس میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ قارئین ِ کرام! آپ کا ذاتی تجربہ ہو گاکہ بسا اوقات مختلف وجوہات کی بنا پر آپ بھی نہیں چاہتے ہوں گے کہ کوئی آدمی آپ کی مجلس میں گھس کر آپ کے مخفی سلسلۂ کلام کو منقطع کر دے، اگرچہ آنے والا آپ کا کتنا ہی قریبی اور مخلص دوست کیوں نہ ہو نبی مہربان ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پہلے سے ہی آپ کے حق میںفیصلہ کر دیا ہے ۔ عام دوستوں اور تعلق داروں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ ان آداب کا خیال نہیں رکھتے، آگے سے تعلق کی وجہ سے ٹوکا بھی نہیں جاتا، جبکہ اندر سے کڑتے رہتے ہیں۔
9502
Sahih
مجلس میں موجود لوگوں کے ساتھ خاص آداب
۔ (۹۵۰۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا کُنْتُمْ ثَلَاثَۃً فَـلَا یَتَنَاجَ اثْنَانِ دَوْنَ صَاحِبِھِمَا، فَاِنَّ ذٰلِکَ یُحْزِنُہُ (وَفِیْ لَفْظٍ) لَا یَتَسَارَّ اثْنَانِ دُوْنَ الثَّالِثِ اِذَا لَمْ یَکُنْ مَعَھُمْ غَیْرُھُمْ۔)) (مسند احمد: ۳۵۶۰)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم تین افراد ہو تو دو آدمی اپنے تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں، کیونکہیہ چیز اس کو پریشان کرے گی۔ ایک روایت میں ہے: دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر راز دارانہ بات نہ کریں، جب ان کے ساتھ کوئی اور نہ ہو۔
Takhreej
(۹۵۰۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۱۸۴ (انظر: ۳۵۶۰)
Explanation
فوائد:… جب تین افراد ایک ساتھ ہوں یا ہم سفر ہوں، تو ایسے موقع و مقام پر تیسرے کو چھوڑ کر صرف دو افراد کا باہم رازدارانہ انداز میں گفتگو کرنا ممنوع ہے، کیونکہ اس سے تیسرے کی دلآزاری ہوتی ہے یا وہ بدگمانی میں مبتلاہو جاتا ہے۔ ہاں جب لوگ زیادہ ہوں تو دو افراد کے آپس میں سرگوشی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
9503
Sahih