۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمرے کو کنکریاں مار رہے تھے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا جہاد اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے؟ جواباً آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسرے جمرے کو کنکریاں ماریں تو پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درپے ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا جہاد اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بار بھی خاموش رہے اور جب آگے چلے اور تیسرے جمرے کے پاس پہنچے تو وہی آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا جہاد اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے؟ اس بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ظالم حکمران کے سامنے حق کلمہ کہنا۔
۔ سیدنا طارق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: کون سا جہاد سب سے زیادہ فضیلت والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ظالم بادشاہ کے سامنے حق کلمہ کہنا۔
۔ ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں بعض لوگ ایسے بھی ہوں گے کہ جن کو پہلے والے لوگوں کے اجر کی طرح ثواب دیا جائے گا، وہ برائی کا انکار کرتے ہوں گے۔