TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کے مسائل - نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کے مسائل - Book 161 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 161 of Musnad Ahmad, with 3 chapters and 24 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

24 Hadith · 3 Chapters
اس چیز کی ترغیب دینے اور اس کی فضیلت اور ایسا کرنے والے کے ثواب کابیان
۔ (۹۵۲۴)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتَی رَجُلٌ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَرْمِیْ الْجَمْرَۃَ، فَقَالَ: یا رَسُوْلَ اللہِ! اَیُّ الْجِھَادِ اَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ؟ قَالَ: فَسَکَتَ عَنْہُ حَتّٰی اِذَا رَمَی الثَّانِیَۃَ عَرَضَ لَہُ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللہِ! اَیُّ الْجِھَادِ اَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ؟ قَالَ: فَسَکَتَ عَنْہُ ثُمَّ مَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی اِذَا اعْتَرَضَ فِی الْجَمْرَۃِ الثَّالِثَـــۃِ عَرَضَ لَہُ، فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیُّ الْجِھَادِ اَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ؟ قَالَ: ((کَلِمَۃُ حَقٍّ تُقَالُ لِِاِمَامٍ جاَئِرٍ۔)) قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ فِیْ حَدِیْثِہِ وَکَانَ الْحَسَنُ یَقُوْلُ: لِاِمَامٍ ظَالِمٍ۔ (مسند احمد: ۲۲۵۱۱)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمرے کو کنکریاں مار رہے تھے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا جہاد اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے؟ جواباً آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش رہے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسرے جمرے کو کنکریاں ماریں تو پھر وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے درپے ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا جہاد اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس بار بھی خاموش رہے اور جب آگے چلے اور تیسرے جمرے کے پاس پہنچے تو وہی آدمی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا جہاد اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے؟ اس بار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ظالم حکمران کے سامنے حق کلمہ کہنا۔
Takhreej
(۹۵۲۴) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۰۱۲ (انظر: ۲۲۱۵۸)
9524
Sahih
اس چیز کی ترغیب دینے اور اس کی فضیلت اور ایسا کرنے والے کے ثواب کابیان
۔ (۹۵۲۵)۔ عَنْ طَارِقٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اَیُّ الْجِھَادِ اَفْضَلُ؟ قَالَ: ((کَلِمَۃُ حَقٍّ عِنْدَ اِمَامٍ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: سُلْطَانٍ) جَائِرٍ۔)) (مسند احمد: ۱۹۰۳۴)
۔ سیدنا طارق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: کون سا جہاد سب سے زیادہ فضیلت والا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ظالم بادشاہ کے سامنے حق کلمہ کہنا۔
Takhreej
(۹۵۲۵) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ النسائی: ۷/ ۱۶۱ (انظر: ۱۸۸۲۸)
Explanation
فوائد:… کلمۂ حق سے مراد امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کی کوئی بات کہنا ہے۔ اس کو افضل جہاد قرار دینے کی وجہ یہ ہے کہ جو مجاہد، دشمن سے لڑتا ہے اسے فتح اور غلبے کی امید بھی ہوتی ہے اور شکست اور مغلوب ہو جانے کا خدشہ بھی ہوتا ہے۔ لیکن جو شخص، جابر بادشاہ کے سامنے کلمۂ حق پیش کرتا ہے، وہ اپنے آپ کو ہلاکت میں دھکیل رہا ہوتا ہے، اسے جلد ہی بادشاہ کے سامنے مقہور و مجبور کی حیثیت سے حاضر ہونا پڑتا ہے، الا ما شاء اللہ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب و محب بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا: {وَلَایَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَائِمٍ ذَالِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَائُ } (سورۂ مائدہ: ۵۴) … وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے، یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، جسے چاہے دے دیتا ہے۔ جب تک اہل ایمان اس صفت سے متصف ہو کر اللہ تعالیٰ کیلیے بے لوث جذبات کا اظہار نہیں کرتے، اس وقت تک انہیں ایمان کی مٹھاس اور شیریں نصیب نہیں ہو سکتی، معاشرے میں جن برائیوں اور بیہودگیوں کا چلن عام ہو جاتا ہے، جنہیں معاشرہ سرے سے برائی تسلیم کرنے پر آمادہ ہی نہیں ہوتا، ان کے خلاف نیکی پر استقامت اختیار کرنااور ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر کاربند رہنا اس صفتِ حمیدہ کے بغیر ممکن نہیں۔ وگرنہ بیسیوں لوگ ایسے ہیں جو برائی اور معاشرتی خرابیوں سے اپنا دامن تو بچانا چاہتے ہیں، لیکن ان میں ملامت گروں کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں ہوتی، نتیجتًا وہ ان برائیوں کے دلدل میں پھنس جاتے ہیں اور حق و باطل کے مکسچر کو اسلام سمجھ کر اپنے آپ کو مطمئن کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سچی محبت سے محروم رہتے ہیں۔ فرعون و نمرود جیسے باطل پرستوں، جو لمحہ بھر کیلیے نہ مخالفین کو برداشت کرسکتے ہیں اور نہ انہیں کسی قسم کی ایذا پہنچانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت کر سکتے ہیں، کے سامنے حق و انصاف کا اعلان نہ صرف دل گردے کا کام ہے بلکہ لقمۂ اجل بننے کے مترادف ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا لحاظ کرنا اِن ظالموں کی ایذا رسانی کی بہ نسبت برتر ہے، یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے افضل جہاد قرار دے کر ہمیں ہر وقت اس قربانی کے لیے اپنے آپ کو پیش کرنے کی ترغیب دلائی ہے۔
9525
Sahih
اس چیز کی ترغیب دینے اور اس کی فضیلت اور ایسا کرنے والے کے ثواب کابیان
۔ (۹۵۲۶)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْحَضْرَمِیِّ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ مَنْ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ مِنْ اُمَّتِیْ قَوْمًا یُعْطَوْنَ مِثْلَ اُجُوْرِ اَوَّلِھِمْ، یُنْکِرُوْنَ الْمُنْکِرَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۶۸)
۔ ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں بعض لوگ ایسے بھی ہوں گے کہ جن کو پہلے والے لوگوں کے اجر کی طرح ثواب دیا جائے گا، وہ برائی کا انکار کرتے ہوں گے۔
Takhreej
(۹۵۲۶) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۲۳۱۸۱)
Explanation
فوائد:… اگرچہ برائی کا انکار نہ کرنے میں سستی اور اسلامی حمیت کے کم پڑ جانے کا بھی دخل ہوتا ہے، لیکن اس معاملے میں اصل رکاوٹ لوگوں کا ظاہری مقام و مرتبہ ہے، ہم اس سستی کو شرمانے سے تعبیر کرتے ہیں، جو دراصل ایسی بزدلی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے اسلام کا پاس و لحاظ نہیں رکھا جاتا۔
9526
Sahih
نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے واجب ہونے، ایسا کرنے پر ابھارنے اور اس معاملے میں سختی کا بیان
۔ (۹۵۲۷)۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ) قَالَ: انْتَھَیْتُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ فِیْ قُبَّۃٍ حَمْرَائَ (قَالَ عَبْدُ الْمَلِکِ اَحَدُ الرُّوَاۃِ: مِنْ اَدَمٍ ) فِیْ نَحْوٍ مِنْ اَرْبَعِیْنَ رَجُلًا (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: جَمَعَنَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَحْنُ اَرْبَعُوْنَ) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌): فَکُنْتُ مِنْ آخِرِ مَنْ اَتَاہُ، فَقَالَ: ((اِنَّکُمْ مَفْتُوْحٌ عَلَیْکُمْ مَنْصُوْرُوْنَ، وَمُصِیْبُوْنَ، فَمَنْ اَدْرَکَ ذٰلِکَ مِنْکُمْ، فَلْیَتَّقِ اللّٰہَ، وَلْیَاْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ، وَلْیَنْہَ عَنِ الْمُنْکَرِ، وَلْیَصِلْ رَحِمَہُ، مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْیَتَبَوَّاْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ، وَمَثَلُ الَّذِیْیُعِیْنُ قَوْمَہُ عَلٰی غَیْرِ الْحَقِّ، کَمَثَلِ بَعِیْرٍ رُدِّیَ فِیْ بِئْرٍ، فَھُوَ یُنْزَعُ مِنْھَا بِذَنَبِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۳۸۰۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچا، آپ (چمڑے کے) سرخ خیمے میں تھے اور آپ کے پاس تقریبًا چالیس آدمی بیٹھے تھے۔ ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں جمع کیا، جبکہ ہم چالیس افراد تھے، سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سب سے آخر میں آنے والا میں تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمھیں فتوحات نصیب ہوں گی، تمھاری مدد کی جائے گی اور تم غنیمتیں حاصل کرو گے۔ جو آدمی ایسا زمانہ پا لے وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے، نیکی کا حکم دے، برائی سے رک جائے اور صلہ رحمی کرے۔ جس نے مجھ پرجان بوجھ کر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کرے۔ وہ آدمی جو کسی قوم کی غیر حق بات پر مدد کرتا ہے، اس کی مثال اس اونٹ کی سی ہے جو کسی کنویں میں گرا دیا گیا اور پھر دم سے پکڑ کا کھینچا گیا۔
Takhreej
(۹۵۲۷) تخریج: اسنادہ صحیح عند من یصحح سماع عبد الرحمن من ابیہ مطلقا، أخرجہ ابویعلی: ۵۳۰۴ (انظر: ۳۸۰۱)
Explanation
فوائد: … عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ فاتحین کسی علاقہ کو فتح کرنے کے بعد اپنے آپ کو حدود و قیود سے آزاد سمجھ کر من مانیاں کرنے لگتے ہیں، لیکن اسلام نے مسلم فاتحین کو خیر و بھلائی کے امور کا پابند بنا دیا۔ قوم کی غیر حق بات پر مدد کرنے والے کی جو مثال بیان کی گئی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا شخص گناہ میں پڑا اور اس قدر ہلاک ہو گیا کہ اب اپنے آپ کو چھٹکارا بھی نہیں دلا سکتا۔ موجودہ دور میںاکثر لوگ انانیت و قومیت میں پڑ کر اس مثال کے مصداق بنتے رہتے ہیں۔
9527
Sahih
نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے واجب ہونے، ایسا کرنے پر ابھارنے اور اس معاملے میں سختی کا بیان
۔ (۹۵۲۸)۔ عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((یُؤْتٰی بِالرَّجُلِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُلْقٰی فِی النَّارِ، فَتَنْدَلِقُ اَقْتَابُ بَطْنِہِ فَیَدُوْرُ بِھَا فِی النَّارِ کَمَا یَدُوْرُ الْحِمَارُ بِالرَّحٰی۔ قَالَ: فَیَجْتَمِعُ اَھْلُ النَّارِ عَلَیْہِ فَیَقُوْلُوْنَ: یَا فُلانُ، اَمَا کُنْتَ تَاْمُرُنَا بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْھَانَا عَنِ الْمُنْکَرِ؟ قَالَ: فَیَقُوْلُ بَلٰی: قَدْ کُنْتُ آمُرُ بِالْمَعْرُوْفِ فَـلَا آتِیْہِ، وَاَنْھٰی عَنِ الْمُنْکَرِ وَآتِیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۲۱۴۳)
۔ سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی کو روزِ قیامت لایا جائے گا، اسے دوزخ میں پھینک دیا جائے گا، اس کے پیٹ کی آنتیں باہر نکل آئیں گی اور وہ چکی کے گرد گھومنے والے گدھے کی طرح ان کے ارد گرد چکر لگانا شروع کر دے گا۔ جہنم والے جمع ہو کر کہیں گے: اے فلاں! کیا تو ہمیں نیکی کا حکم دیتا اور برائی سے منع نہیں کرتا تھا؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں، میں نیکی کا حکم تو دیتا تھا، لیکن خود نہیں کرتا تھا اور برائی سے منع تو کرتا تھا، لیکن خود باز نہیں آتا تھا۔
Takhreej
(۹۵۲۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۹۸۹ (انظر: ۲۱۸۰۰)
Explanation
فوائد:… اس فرمانِ نبوی میں علمائے اسلام کے لیے بہت بڑی وعید بیان کی گئی ہے، ہر عالم اور مبلّغ کو چاہیے کہ وہ جو کچھ بیان کرتا ہے، اس پر خود بھی عمل کرے، وگرنہ نہ اس کی زبان میں کوئی تأثیر ہو گی اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معزز ہو گا۔
9528
Sahih
نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے واجب ہونے، ایسا کرنے پر ابھارنے اور اس معاملے میں سختی کا بیان
۔ (۹۵۲۹)۔ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِھَابٍ قَالَ: اَوَّلُ مَنْ قَدَّمَ الْخُطْبَۃَ قَبْلَ الصَّلَاۃِ مَرْوَانُ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ:یَا مَرْوَانُ خَالَفْتَ السُّنَّۃَ، قَالَ: تُرِکَ مَا ھُنَاکَ یَا اَبَا فُلَانٍ، فَقَالَ ابوسَعیْدٍ: (اَلْخُدْرِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) اَمَّاھٰذَا فَقَدْ قَضٰی مَا عَلَیْہِ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ رَاٰی مِنْکُمْ مُنْکَرًا فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہِ، فَاِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِہِ، فَاِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہٖ،وَذٰلِکَاَضْعَفُالْاِیْمَانِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۴۸۰)
۔ سیدنا طارق بن شہاب کہتے ہیں: پہلا شخص، جس نے نماز سے پہلے خطبہ دیا، وہ مروان ہے، ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے مروان! تو نے سنت کی مخالفت کی ہے، اس نے کہا: اے ابو فلاں! وہ والے امور چھوڑ دیئے گئے ہیں، سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس آدمی نے اپنی ذمہ داری ادا کر دی ہے، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تم میں جو آدمی برائی کو دیکھے، اس کو اپنے ہاتھ سے تبدیل کرے، اگر اتنی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے اور اگر اتنی طاقت بھی نہ ہو تو دل سے برا سمجھے، اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔
Takhreej
(۹۵۲۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۴۹(انظر: ۱۱۴۶۰)
Explanation
فوائد:… برائی کو دل سے برا سمجھنا ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے، گویا برائی کو پسند کرنا یا اس میں پڑ جانا ایمان کے منافی چیز ہے۔
9529
Sahih
نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے واجب ہونے، ایسا کرنے پر ابھارنے اور اس معاملے میں سختی کا بیان
۔ (۹۵۳۰)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ! لَتَاْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ، وَلَتَنْھَوُنَّ عَنِ الْمُنْکَرِ، اَوْ لَیُوْشِکَنَّ اللّٰہُ اَنْ یَبْعَثَ عَلَیْکُمْ عِقَابًا مِنْ عِنْدِہِ، ثُمَّ لَتَدْعُنَّہُ فَـلَا یَسْتَجِیْبُ لَکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۳۶۹۰)
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم ضرور ضرور نیکی کا حکم دو گے اور ضرور ضرور برائی سے منع کرو گے، وگرنہ قریب ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے کوئی عذاب تم پر مسلط کر دے اور پھر تم اس کو پکارو گے، لیکن وہ تمہیں جواب نہیں دے گا۔
Takhreej
(۹۵۳۰) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الترمذی: ۲۱۶۹ (انظر: ۲۳۳۰۱)
Explanation
فوائد:… اللہ اکبر! اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرمائے، اس وقت امت ِ مسلمہ کی بھاری اکثریت اس وعید کی مستحق بن چکی ہے۔ عوام تو عوام، خواص نے بھی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے کو ترک کر دیا ہے۔
9530
Sahih
نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے واجب ہونے، ایسا کرنے پر ابھارنے اور اس معاملے میں سختی کا بیان
۔ (۹۵۳۱)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَرَفْتُ فِیْ وَجْھِہِ اََنْ قَدْ حَفَزَہُ شَیْئٌ، فَتَوَضَّاَ ثُمَّ خَرَجَ فَلَمْ یُکَلِّمْ اَحَدًا، فَدَنَوْتُ مِنَ الْحُجُرَاتِ فَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: ((یَااَیُّھَا النَّاسُ، اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ : مُرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ، وَانْھَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ، مِنْ قَبْلِ اَنْ تَدْعُوْنِیْ فَـلَا اُجِیْبُکُمْ، وَتَسْاَلُوْنِیْ فَـلَا اُعْطِیْکُمْ، وَتَسْتَنْصُرُوْنِیْ فَـلَا اَنْصُرُکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۶۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے سے پہنچان گئی کہ کسی چیز نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کچھ کرنے پر آمادہ کیا ہے، بہرحال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وضو کیا اور کسی سے کلام کیے بغیر باہر چلے گئے، میں حجروں کے قریب ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اے لوگو! بیشک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: نیکی کا حکم دیا کرو اور برائی سے منع کیا کرو، قبل اس کے کہ تم مجھے پکارو گے، لیکن میں تم کو جواب نہیں دوں گا، تم مجھ سے سوال کرو گے، لیکن میں تم کو عطا نہیں کروں گا اور تم مجھ سے مدد طلب کرو گے، لیکن میں تمہاری مدد نہیں کروں گا۔
Takhreej
(۹۵۳۱) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۰۰۴ (انظر: ۲۵۲۵۵)
9531
Sahih
نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے واجب ہونے، ایسا کرنے پر ابھارنے اور اس معاملے میں سختی کا بیان
۔ (۹۵۳۲)۔ عَنْ اَبِی الرُّقَادِ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ مَوْلَایَ وَاَنَا غُلَامٌ، فَدُفِعْتُ اِلٰی حُذَیْفَۃَ وَھُوَ یَقُوْلُ: اِنْ کَانَ الرَّجُلُ لَیَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَۃِ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَیَصِیْرُ مُنَافِقًا، وَاِنِّیْ لَاَسْمَعُھَا مِنْ اَحَدِکُمْ فِی الْمَقْعَدِ الْوَاحِدِ اَرْبَعَ مَرَّاتٍ، لَتَاْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ، وَلَتَنْھَوُنَّ عَنِ الْمُنْکَرِ، وَلَتَحَاضُّنَّ عَلَی الْخَیْرِ، اَوْ لَیُسْحِتَنَّکُمُ اللّٰہُ جَمِیْعًا بِعَذابٍ، اَوْ لَیُؤَمِّرَنَّ عَلَیْکُمْ شِرَارَکُمْ، ثُمَّ یَدْعُوْ خِیَارُکُمْ فَـلَایُسْتَجَابُ لَھُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۳۷۰۱)
۔ ابو رقاد کہتے ہیں: میں اپنے آقا کے ساتھ نکلا، جبکہ میں لڑکا تھا، پھر جب مجھے سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تک پہنچا دیا گیا تو وہ کہہ رہے تھے: بیشک ایک آدمی عہد ِ نبوی میں ایسی بات کرتا تھا کہ وہ اس کی وجہ سے منافق ہو جاتا تھا، لیکن اب میں نے تمہاری مجلس میں وہی بات چار دفعہ سنی ہے، (سنو کہ) تم ضرور ضرور نیکی کا حکم کرو گے، برائی سے منع کرو گے اور خیر پر لوگوں کو ابھارو گے، وگرنہ اللہ تعالیٰ تم سب کو عذاب سے برباد کر دے گا یا تمہارے بدترین لوگوں کو تمہارا حکمران بنا دے گے، پھر تمہارے نیکوکار لوگ اللہ تعالیٰ کو پکاریں گے، لیکن ان کی دعا قبول نہیں کی جائے گی۔
Takhreej
(۹۵۳۲) تخریج: اثر حسن، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۵/ ۴۴ (انظر: ۲۳۳۱۲)
Explanation
فوائد:… نیکی کا حکم نہ کرنا اور برائی سے منع نہ کرنا، یہ اتنا بڑا شرّ ہے کہ جس عہد میں یہ پایا جائے گا، اس وقت زمانے کے نیک لوگوں کی دعائیں بھی قبول نہیں ہوں گی۔ دراصل جس معاشرے میں نیکی کا حکم نہ دیا جاتا ہو اور برائی سے نہ روکا جاتا ہے، اس معاشرے کے افراد اتنے بے حیا، باغی اور ڈھیٹ ہو جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو ان پر رحم ہی نہیں آتا۔
9532
Sahih
نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے واجب ہونے، ایسا کرنے پر ابھارنے اور اس معاملے میں سختی کا بیان
۔ (۹۵۳۳)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((جَاھِدُوْا النَّاسَ فِی اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی الْقَرِیْبَ وَالْبَعِیْدَ، وَلَا تُبَالُوْا فِی اللّٰہِ لَوْمَۃَ لَائِمٍ ، وَاَقِیْمُوْا حُدُوْدَ اللّٰہِ فِی الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۵۷)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے لیے لوگوں سے جہاد کرو، وہ قریب ہوں یا دور، اللہ تعالیٰ کے لیے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کرو اور حضر و سفر میں اللہ تعالیٰ کی حدود قائم کرو۔
Takhreej
(۹۵۳۳) تخریج: حدیث حسن (انظر: ۲۲۷۷۶)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ کی ذات بہت عظیم ہے، اس سے سچا تعلق قائم ہو جائے تو ان امور پر عمل کرنا آسان ہو جاتا ہے، بہرحال اسلامی اور بڑے راسخ مزاج کی ضرورت ہے، جو اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھتا ہو۔
9533
Sahih
نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے واجب ہونے، ایسا کرنے پر ابھارنے اور اس معاملے میں سختی کا بیان
۔ (۹۵۳۴)۔ عَنْ اَبِیْ سَعیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَحْقِرَنَّ اَحَدُکُمْ نَفْسَہَ اَنْ یَرٰی اَمْرًا لِلّٰہِ عَلَیْہِ فِیْہِ مَقاَلًا ثُمَّ لَا یَقُوْلُہُ، فَیَقُوْلُ اللّٰہُ: مَامَنَعَکَ اَنْ تَقُوْلَ فِیْہِ؟ فَیَقُوْلُ: رَبِّ خَشِیْتُ النَّاسَ، فَیَقُوْلُ: وَاَنَا اَحَقُّ اَنْ یُّخْشٰی۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۷۵)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی اپنے آپ کو اتنا حقیر نہ سمجھ لے کہ جب وہ ایسا معاملہ دیکھے، جس میں اللہ تعالیٰ کے لیے بات کرنا اس کی ذمہ داری بنتی ہو، لیکن وہ خاموش ہو جائے، پھر جب اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ کس چیز نے تجھے اُس موقع پر بات کرنے سے روک دیا تھا، وہ کہے گا: اے میرے ربّ! میں لوگوں سے ڈر گیا تھا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں اس چیز کا زیادہ حقدار تھا کہ مجھ سے ڈرا جاتا۔
Takhreej
(۹۵۳۴) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابو البختری، لم یسمع من ابی سعید، بینھما راو، وھو رجل مبھم، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۰۰۸ (انظر: ۱۱۲۵۵)
9534
Zaeef
نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے واجب ہونے، ایسا کرنے پر ابھارنے اور اس معاملے میں سختی کا بیان
۔ (۹۵۳۵)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعالٰی لَیَسْاَلُ الْعَبْدَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتّٰییَقُوْلَ : مَامَنَعَکَ اِذْ رَاَیْتَ الْمُنْکَرَ تُنْکِرُہُ؟ فاِذَا لَقَّنَ اللّٰہُ عَبْدًا حُجَّتَہُ قَالَ: یَا رَبِّ وَثِقْتُ بِکَ وَفَرِقْتُ مِنَ النَّاسِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۶۵)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ قیامت والے دن بندے سے مختلف امور کے بارے میں پوچھے گا، یہاں تک کہ وہ یہ سوال بھی کرے گا کہ جب تو نے برائی دیکھی تھی تو کس چیز نے تجھے اس کو انکار کرنے سے روک دیا تھا؟ پس جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے ذہن میں اس کی دلیل بٹھائے گا تو وہ کہے گا: اے میرے ربّ! میں نے تجھ پر اعتماد کیا اور لوگوں سے ڈر گیا۔
Takhreej
(۹۵۳۵) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابویعلی: ۱۳۴۴ (انظر: ۱۱۲۴۵)
Explanation
فوائد:… ممکن ہے کہ بعض حالات و ظروف کے پیشِ نظر بندے کا عذر قبول ہو جائے۔
9535
Sahih
نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے واجب ہونے، ایسا کرنے پر ابھارنے اور اس معاملے میں سختی کا بیان
۔ (۹۵۳۶)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((لَا یَمْنَعَنَّ رَجُلًا مِنْکُمْ مَخَافَۃُ النَّاسِ، اَنْ یَّتَکَلَّمَ بِالْحَقِّ اِذَا رَآہٗوَعَلِمَہُ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ) اِذَا رَآہٗاَوْعَلِمَہُاَوْرَآہٗاَوْسَمِعَہُ (زَادَفِیْ رِوَایَۃٍ) فَاِنَّہُ لَا یُقَرِّبُ مِنْ اَجَلٍ وَلَا یُبَاعِدُ مِنْ رِزْقٍ اَنْ یَقُوْلَ بِحَقٍّ اَوْ یُذَکِّرُ بِعَظِیْمٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۴۹۴)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی حق کو دیکھ لے، اس کو جان لے اور اس کو سن لے تو پھر لوگوں کا ڈر اس کو یہ حق بیان کرنے سے روکنے نہ پائے، پس بیشک حق بیان کرنے یا عظیم چیز کی نصیحت کرنے سے نہ اس کی موت قریب ہو گی اور نہ اس کا رزق دور ہو گا۔
Takhreej
(۹۵۳۶) تخریج: حدیث صحیح دون قولہ: فَاِنَّہُ لَا یُقَرِّبُ مِنْ اَجَلٍ وَلَا یُبَاعِدُ مِنْ رِزْقٍ اَنْ یَقُوْلَ بِحَقٍّ اَوْ یُذَکِّرُ بِعَظِیْمٍ ، أخرجہ ابویعلی: ۱۴۱۱(انظر: )
9536
Sahih
نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے واجب ہونے، ایسا کرنے پر ابھارنے اور اس معاملے میں سختی کا بیان
۔ (۹۵۳۷)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: بَایَعَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَمْسًا، وَاَوْثَقَنِیْ سَبْعًا، وَاَشْھَدَ عَلَیَّ تِسْعًا، اَنِّیْ لَا اَخَافُ فِیْ اللّٰہِ لَوْمَۃَ لَائِمٍ۔ اَلْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۲۱۸۴۱)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پانچ دفعہ مجھ سے بیعت کی، سات دفعہ عہدو پیمان کیااور نو چیزوں کو مجھ پر گواہ بنایا کہ میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈروں۔
Takhreej
(۹۵۳۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابو الیمان عامر بن عبد اللہ الھوزنی فی عداد المجھولین، أخرجہ (انظر: ۲۱۵۰۹)
Explanation
فوائد:… مضبوط اور راسخ عقیدے کا تقاضا تو یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ پر اعتماد کر کے کسی ملامت والے کی ملامت کا پاس و لحاظ نہ رکھے۔ یہاںیہ تنبیہ کرنا ضروری ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے فریضے کو سر انجام دینے کے لیے حکمت اور مصلحت انتہائی ضروری ہے، نیکی کا حکم دینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی پر بے جا سختی کی جائے، کسی کی توہین کی جائے، کسی کو برسرِ عام ڈانٹ دیا جائے، اپنی بے عزتی کے مترادف انداز اپنایا جائیے،ایسا انداز اپنایا جائے کہ اگلا آدمی انتقامی کاروائی پر اتر آئے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلَا السَّیِّئَۃُ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ۔} … اور نہ نیکی برابر ہوتی ہے اور نہ برائی۔ (برائی کو) اس (طریقے) کے ساتھ ہٹا جو سب سے اچھا ہے، تو اچانک وہ شخص کہ تیرے درمیان اور اس کے درمیان دشمنی ہے، ایسا ہوگا جیسے وہ دلی دوست ہے ۔ (سورۂ فصلت: ۳۴)
9537
Zaeef
اس واجب کو ادا نہ کرنے والی ہر امت کی ہلاکت کا بیان
۔ (۹۵۳۸)۔ عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ اَبِیْ خَالِدٍ، عَنْ قَیْسٍ قَالَ: قَامَ اَبُوْبَکْرٍ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَاَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: یَااَیُّھَا النَّاسُ! اِنَّکُمْ تَقْرَئُ وْنَ ھٰذِہِ الْآیَۃَ {یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ اِذَا اھْتَدَیْتُمْ} وَاِنَّا سَمِعْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِنَّ النَّاسَ اِذَا رَاَوُا الْمُنْکَرَ فَلَمْ یُغَیِّرُوْہُ اَوْشَک اَنْ یَعُمَّھُمُ اللّٰہُ بِعِقَابِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۳۰)
۔ قیس کہتے ہیں: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر کہا: لوگو! بیشک تم یہ آیت پڑھتے ہو: اے ایمان والو! اپنی فکر کرو، جب تم راہ راست پر چل رہے ہو تو جو شخص گمراہ رہے اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں۔ (سورۂ مائدہ: ۱۰۵) ، لیکن ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بیشک جب لوگ برائی کو دیکھ کر اس کو تبدیل نہیں کریں گے تو قریب ہو گا کہ اللہ تعالیٰ ان پر عام عذاب مسلط کردے۔
Takhreej
(۹۵۳۸) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین أخرجہ ابوداود: ۴۳۳۸، وابن ماجہ: ۴۰۰۵، والترمذی: ۲۱۶۸، ۳۰۵۷ (انظر: ۳۰)
Explanation
فوائد:… بعض لوگوں کے ذہن میں ظاہری الفاظ سے یہ شبہ پیدا ہوا کہ اگر اپنی اصلاح کر لی جائے تو کافی ہے، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ضروری نہیں ہے، لیکنیہ مطلب صحیح نہیں ہے، کیونکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ بھی نہایت اہم ہے، اگر ایک مسلمان یہ فریضہ ہی ترک کر دے تو وہ ہدایت پر قائم کیسے رہے گا۔ اس آیت کا صحیح مطلب یہ ہے کہ تمہارے سمجھانے کے باوجود اگر لوگ نیکی کا راستہ اختیار نہ کریںیا برائی سے باز نہ آئیں تو تمہارے لیےیہ نقصان دہ نہیں ہے کہ تم خود نیکی پر قائم اور برائی سے مجتنب ہو۔
9538
Sahih
اس واجب کو ادا نہ کرنے والی ہر امت کی ہلاکت کا بیان
۔ (۹۵۳۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَمَّا وَقَعَتْ بَنُوْ اِسْرَائِیْلَ فِی الْمَعَاصِیْ، نَھَتْھُمْ عُلَمَاؤُھُمْ، فَلَمْ یَنْتَھُوْا فَجَالَسُوْھُمْ فِیْ مَجَالِسِھِمْ، قَالَ یَزِیْدُ: اَحْسِبُہُ قَالَ: وَاَسْوَاقِھِمْ، وَوَاکَلُوْھُمْ وَشَارَبُوْھُمْ، فَضَرَبَ اللّٰہُ قُلُوْبَ بَعْضِھِمْ بِبَعْضٍ، وَلَعَنَھُمْ عَلٰی لِسَانِ دَاوٗدَ،وَعَیْسَی بْنِ مَرْیَمَ، ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا وَکَانُوْا یَعْتَدُوْنَ۔)) وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُتَّکِئًا، فَجَلَسَ، فَقَالَ: ((وَالَّذِیْنَفْسِیْ بِیِدِہِ! حَتّٰی تَاْطِرُوْھُمْ عَلَی الْحَقِّ اَطْرًا۔)) (مسند احمد: ۳۷۱۳)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب بنو اسرائیل میں نافرمانیاں شروع ہوئیں تو ان کے علماء نے ان کو منع کیا، لیکن جب وہ باز نہ آئے تو ان کے علماء نے ان کے ساتھ ان کی مجلسوں اور بازاروں میں بیٹھنا اور ان کے ساتھ کھانا پینا شروع کر دیا، پس اللہ تعالیٰ نے بعض کے دلوں کو بعض کے دلوں کے ساتھ خلط ملط کر دیا اور داود علیہ السلام اور عیسی بن مریم علیہ السلام کی زبانوں کے ذریعے ان پر لعنت کی،یہ اس وجہ سے تھا کہ وہ نافرمانی اور زیادتی کرتے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھ گئے اور فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! (اس وقت کام بنے گا) جب تم ان کو حق کی طرف موڑو گے۔
Takhreej
(۹۵۳۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، ابو عبیدۃ لم یسمع من ابیہ عبدا للہ بن مسعود، وشریک بن عبد اللہ سییء الحفظ، أخرجہ الترمذی: ۳۰۴۷، وأخرجہ بنحوہ ابوداود: ۴۳۳۶، وابن ماجہ: ۴۰۰۶ (انظر: ۳۷۱۳)
Explanation
فوائد: … بہرحال اہل علم کو چوکنا اور متنبہ رہنا چاہیے، عوام اور معاشرے میں کسی برائی کے عام ہو جانے کا یہ مطلب نہیں کہ اہل علم بھی اس کے بارے میں غیر محتاط ہو جائیں۔ ((فَضَرَبَ اللّٰہُ قُلُوْبَ بَعْضِھِمْ بِبَعْضٍ)) اس ترکیب کے دو معانی ہو سکتے ہیں:(۱)اللہ تعالیٰ نے بعض کے دلوں کو بعض کے دلوں کے ساتھ خلط ملط کر دیا اور نتیجتاً وہ سب برے دلوں والے ہو گئے۔ (۲) اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں کے دلوں کے وجہ سے فرمانبرداروں کے دل بھی کالے کر دیئے، اس طرح سب کے دل حق، خیر اور رحمت کو قبول کرنے کے معاملے میں سخت ہو گئے۔
9539
Zaeef
اس واجب کو ادا نہ کرنے والی ہر امت کی ہلاکت کا بیان
۔ (۹۵۴۰)۔ عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِیْرٍ، عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ قَوْمٍ یَعْمَلُوْنَ بِالمْعَاصِیْ، وَفِیْھِمْ رَجُلٌ اَعَزُّ مِنْھُمْ وَاَمْنَعُ لَا یُغَیِّرُوْنَ، اِلَّا عَمَّھُمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِعِقَابٍ اَوْ قَالَ: اَصَابَھُمُ الْعِقَابُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۴۲۹)
۔ سیدنا جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب لوگ نافرمانیاں کر رہے ہوتے ہیں، جبکہ ان میں سے ایک ایسا آدمی بھی موجود ہوتا ہے جو سب سے زیادہ عزت والا ہوتا ہے اور اس کے لیےیہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ ان کو اس برائی سے روک سکے، لیکن وہ روکتا نہیں ہے، تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں پر عام سزا نازل کر دیتا ہے۔
Takhreej
(۹۵۴۰) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۳۷۹(انظر: ۱۹۲۱۶)
Explanation
فوائد:… خاندانوں کے سربراہوں کی سب سے بڑی ذمہ دارییہ ہے کہ وہ اپنے ماتحت افراد کو خیر کے قریب کریں اور ان کو شرّ سے دور رکھیں، جبکہ یہ ذمہ داری ادا کرنے والے مسئولین عنقا بن چکے ہیں۔
9540
Sahih
اس واجب کو ادا نہ کرنے والی ہر امت کی ہلاکت کا بیان
۔ (۹۵۴۱)۔ عَنْ مُنْذِرٍ الْثَوْرِیِّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِیْ اِمْرَاَۃٌ مِنَ الْاَنْصَارِ ھِیَ حَیَّۃٌ الْیَوْمَ اِنْ شِئْتَ اَدْخَلْتُکَ عَلَیْھَا، قُلْتُ: لَا، حَدِّثْنِیْ، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلٰی اُمِّ سَلَمَۃَ، فَدَخَلَ عَلَیْھَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَاَنَّہُ غَضْبَانُ، فَاسْتَتَرْتُ مِنْہُ بِکُمِّ دِرْعِیْ، فَتَکَلَّمَ بِکَلَامٍ لَمْ اَفْھَمْہُ، فَقُلْتُ:یَا اَمَّ الْمُؤُمِنِیْنَ، کَاَنِّیْ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ وَھُوَ غَضْبَانُ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ اَوَمَا سَمِعْتِ مَا قَالَ؟ قَالَتْ: وَمَا قَالَ؟ قَالَتْ: قَالَ: اِنَّ الشَّرَّ اِذَا فَشَا فِی الْاَرْضِ فَلَمْ یُتَنَاہَ عَنْہُ، اَرْسَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بَاْسَہَ عَلٰی اَھْلِ الْاَرْضِ، قَالَتْ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَفِیْھِمُ الصَّالِحُوْنَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَفِیْھِمُ الصَّالِحُوْنَ، یُصِیْبُھُمْ مَا اَصَابَ النَّاسَ، ثُمَّ یُقْبِضُھُمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اِلٰی مَغْفِرَتِہِ وَرِضْوَانِہِ، اَوْ اِلٰی رِضْوَانِہِ وَمَغْفِرَتِہِ۔ (مسند احمد: ۲۷۰۶۲)
۔ حسن بن محمد کہتے ہیں: مجھے ایک انصاری خاتون نے بیان کیا، وہ ابھی تک زندہ ہے، اگر تو چاہتا ہو تو میں تجھے اس کے پاس لے جاتا ہوں، اس نے کہا: نہیں، بس تم مجھے بیان کرو، اس خاتون نے کہا: میں سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گئی، اتنے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی ان کے پاس تشریف لے آئے، لیکنیوں لگ رہا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غصے میں ہیں، میں نے اپنی قمیص کی آستین کے ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پردہ کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کچھ کلام کیا، لیکن میں نہ سمجھ پائی، میں نے کہا: اے ام المؤمنین! ایسے لگ رہا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غصے کی حالت میں تشریف لائے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، کیا تو نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات سنی نہیں ہے؟ میں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کیا فرمایا؟ انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک جب زمین میں شرّ پھیل جائے گا اور پھر اس سے باز نہیں رہا جائے گا، تو اللہ تعالیٰ اہل زمین پر اپنا عذاب نازل کر دے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ایسی حالت میں کہ ان میں نیک لوگ بھی ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں، ان میںنیکوکار بھی ہوں گے، لیکن لوگوں پر نازل ہونے والا عذاب ان کو بھی اپنی گرفت میں لے لے گا، پھر اللہ تعالیٰ ان کو اپنی بخشش اور رضامندی کی طرف لے جائے گا۔
Takhreej
(۹۵۴۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف شریک بن عبد اللہ النخعی ولاضطراب فیہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۳/ ۷۴۷ (انظر: ۲۶۵۲۷)
Explanation
فوائد:… لیکنیہ ممکن ہے کہ بعض نیک لوگ معذور ہوں، جو اللہ تعالیٰ کے عذاب میں آ جانے کے باوجود اس کی بخشش کے مستحق ٹھہریں۔
9541
Zaeef
اس واجب کو ادا نہ کرنے والی ہر امت کی ہلاکت کا بیان
۔ (۹۵۴۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا رَاَیْتَ اُمَّتِیْ لَا یَقُوْلُوْنَ لِلظَّالِمِ مِنْھُمْ: اَنْتَ ظَالِمٌ فَقَدْ تُوُدِّعَ مِنْھُمْ۔)) (مسند احمد: ۶۷۷۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو میری امت کو اس طرح دیکھے گا کہ وہ ظالم کو یوں نہیں کہے گی کہ تو ظالم ہے تو (سمجھ لینا کہ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت) ان سے اٹھا لی گئی ہے۔
Takhreej
(۹۵۴۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، ابو الزبیر محمد بن مسلم لم یسمع من عبد اللہ بن عمرو، أخرجہ الحاکم: ۴/ ۹۶، والبیھقی فی الشعب : ۷۵۴۶ (انظر: ۶۷۷۶)
9542
Zaeef
اس واجب کو ادا نہ کرنے والی ہر امت کی ہلاکت کا بیان
۔ (۹۵۴۳)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَاْخُذَ اللّٰہُ شَرِیْطَتَہُ مِنْ اَھْلِ الْاَرْضِ، فَیَبْقٰی فِیْھَا عَجَاجَۃٌ، لَایَعْرِفُوْنَ مَعْرُوْفًا، وَلَا یُنْکِرُوْنَ مُنْکَرًا۔)) (مسند احمد: ۶۹۶۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک برپا نہیں ہو گی، جب تک ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ اہل زمین سے خیر اور دین والے لوگوں کو لے جائے اور ایسے گھٹیا لوگ رہ جائیں، جو نہ نیکی کو پہچانتے ہوں گے اور نہ برائی سے روکتے ہوں گے۔
Takhreej
(۹۵۴۳) تخریج: فیہ عنعنۃ الحسن البصری، وقد روی مرفوعا وموقوفا، الأشبہ وقفہ، أخرجہ الحاکم: ۴/ ۴۳۵ (انظر: ۶۹۶۴)
Explanation
فوائد:… دنیا میں آخر میں گھٹیا اور برے لوگ ہی رہ جائیں گی اور ان ہی پر قیامت قائم ہو گی۔
9543
Sahih