TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اس واجب کو ادا نہ کرنے والی ہر امت کی ہلاکت کا بیان - اس واجب کو ادا نہ کرنے والی ہر امت کی ہلاکت کا بیان - نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 3 · 10 Hadith
۔ (۹۵۳۸)۔ عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ اَبِیْ خَالِدٍ، عَنْ قَیْسٍ قَالَ: قَامَ اَبُوْبَکْرٍ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَاَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: یَااَیُّھَا النَّاسُ! اِنَّکُمْ تَقْرَئُ وْنَ ھٰذِہِ الْآیَۃَ {یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ اِذَا اھْتَدَیْتُمْ} وَاِنَّا سَمِعْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِنَّ النَّاسَ اِذَا رَاَوُا الْمُنْکَرَ فَلَمْ یُغَیِّرُوْہُ اَوْشَک اَنْ یَعُمَّھُمُ اللّٰہُ بِعِقَابِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۳۰)
۔ قیس کہتے ہیں: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر کہا: لوگو! بیشک تم یہ آیت پڑھتے ہو: اے ایمان والو! اپنی فکر کرو، جب تم راہ راست پر چل رہے ہو تو جو شخص گمراہ رہے اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں۔ (سورۂ مائدہ: ۱۰۵) ، لیکن ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بیشک جب لوگ برائی کو دیکھ کر اس کو تبدیل نہیں کریں گے تو قریب ہو گا کہ اللہ تعالیٰ ان پر عام عذاب مسلط کردے۔
Takhreej
(۹۵۳۸) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین أخرجہ ابوداود: ۴۳۳۸، وابن ماجہ: ۴۰۰۵، والترمذی: ۲۱۶۸، ۳۰۵۷ (انظر: ۳۰)
Explanation
فوائد:… بعض لوگوں کے ذہن میں ظاہری الفاظ سے یہ شبہ پیدا ہوا کہ اگر اپنی اصلاح کر لی جائے تو کافی ہے، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ضروری نہیں ہے، لیکنیہ مطلب صحیح نہیں ہے، کیونکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ بھی نہایت اہم ہے، اگر ایک مسلمان یہ فریضہ ہی ترک کر دے تو وہ ہدایت پر قائم کیسے رہے گا۔ اس آیت کا صحیح مطلب یہ ہے کہ تمہارے سمجھانے کے باوجود اگر لوگ نیکی کا راستہ اختیار نہ کریںیا برائی سے باز نہ آئیں تو تمہارے لیےیہ نقصان دہ نہیں ہے کہ تم خود نیکی پر قائم اور برائی سے مجتنب ہو۔
9538
Sahih
۔ (۹۵۳۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَمَّا وَقَعَتْ بَنُوْ اِسْرَائِیْلَ فِی الْمَعَاصِیْ، نَھَتْھُمْ عُلَمَاؤُھُمْ، فَلَمْ یَنْتَھُوْا فَجَالَسُوْھُمْ فِیْ مَجَالِسِھِمْ، قَالَ یَزِیْدُ: اَحْسِبُہُ قَالَ: وَاَسْوَاقِھِمْ، وَوَاکَلُوْھُمْ وَشَارَبُوْھُمْ، فَضَرَبَ اللّٰہُ قُلُوْبَ بَعْضِھِمْ بِبَعْضٍ، وَلَعَنَھُمْ عَلٰی لِسَانِ دَاوٗدَ،وَعَیْسَی بْنِ مَرْیَمَ، ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا وَکَانُوْا یَعْتَدُوْنَ۔)) وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُتَّکِئًا، فَجَلَسَ، فَقَالَ: ((وَالَّذِیْنَفْسِیْ بِیِدِہِ! حَتّٰی تَاْطِرُوْھُمْ عَلَی الْحَقِّ اَطْرًا۔)) (مسند احمد: ۳۷۱۳)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب بنو اسرائیل میں نافرمانیاں شروع ہوئیں تو ان کے علماء نے ان کو منع کیا، لیکن جب وہ باز نہ آئے تو ان کے علماء نے ان کے ساتھ ان کی مجلسوں اور بازاروں میں بیٹھنا اور ان کے ساتھ کھانا پینا شروع کر دیا، پس اللہ تعالیٰ نے بعض کے دلوں کو بعض کے دلوں کے ساتھ خلط ملط کر دیا اور داود علیہ السلام اور عیسی بن مریم علیہ السلام کی زبانوں کے ذریعے ان پر لعنت کی،یہ اس وجہ سے تھا کہ وہ نافرمانی اور زیادتی کرتے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھ گئے اور فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! (اس وقت کام بنے گا) جب تم ان کو حق کی طرف موڑو گے۔
Takhreej
(۹۵۳۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، ابو عبیدۃ لم یسمع من ابیہ عبدا للہ بن مسعود، وشریک بن عبد اللہ سییء الحفظ، أخرجہ الترمذی: ۳۰۴۷، وأخرجہ بنحوہ ابوداود: ۴۳۳۶، وابن ماجہ: ۴۰۰۶ (انظر: ۳۷۱۳)
Explanation
فوائد: … بہرحال اہل علم کو چوکنا اور متنبہ رہنا چاہیے، عوام اور معاشرے میں کسی برائی کے عام ہو جانے کا یہ مطلب نہیں کہ اہل علم بھی اس کے بارے میں غیر محتاط ہو جائیں۔ ((فَضَرَبَ اللّٰہُ قُلُوْبَ بَعْضِھِمْ بِبَعْضٍ)) اس ترکیب کے دو معانی ہو سکتے ہیں:(۱)اللہ تعالیٰ نے بعض کے دلوں کو بعض کے دلوں کے ساتھ خلط ملط کر دیا اور نتیجتاً وہ سب برے دلوں والے ہو گئے۔ (۲) اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں کے دلوں کے وجہ سے فرمانبرداروں کے دل بھی کالے کر دیئے، اس طرح سب کے دل حق، خیر اور رحمت کو قبول کرنے کے معاملے میں سخت ہو گئے۔
9539
Zaeef
۔ (۹۵۴۰)۔ عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِیْرٍ، عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ قَوْمٍ یَعْمَلُوْنَ بِالمْعَاصِیْ، وَفِیْھِمْ رَجُلٌ اَعَزُّ مِنْھُمْ وَاَمْنَعُ لَا یُغَیِّرُوْنَ، اِلَّا عَمَّھُمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِعِقَابٍ اَوْ قَالَ: اَصَابَھُمُ الْعِقَابُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۴۲۹)
۔ سیدنا جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب لوگ نافرمانیاں کر رہے ہوتے ہیں، جبکہ ان میں سے ایک ایسا آدمی بھی موجود ہوتا ہے جو سب سے زیادہ عزت والا ہوتا ہے اور اس کے لیےیہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ ان کو اس برائی سے روک سکے، لیکن وہ روکتا نہیں ہے، تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں پر عام سزا نازل کر دیتا ہے۔
Takhreej
(۹۵۴۰) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۳۷۹(انظر: ۱۹۲۱۶)
Explanation
فوائد:… خاندانوں کے سربراہوں کی سب سے بڑی ذمہ دارییہ ہے کہ وہ اپنے ماتحت افراد کو خیر کے قریب کریں اور ان کو شرّ سے دور رکھیں، جبکہ یہ ذمہ داری ادا کرنے والے مسئولین عنقا بن چکے ہیں۔
9540
Sahih
۔ (۹۵۴۱)۔ عَنْ مُنْذِرٍ الْثَوْرِیِّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِیْ اِمْرَاَۃٌ مِنَ الْاَنْصَارِ ھِیَ حَیَّۃٌ الْیَوْمَ اِنْ شِئْتَ اَدْخَلْتُکَ عَلَیْھَا، قُلْتُ: لَا، حَدِّثْنِیْ، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلٰی اُمِّ سَلَمَۃَ، فَدَخَلَ عَلَیْھَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَاَنَّہُ غَضْبَانُ، فَاسْتَتَرْتُ مِنْہُ بِکُمِّ دِرْعِیْ، فَتَکَلَّمَ بِکَلَامٍ لَمْ اَفْھَمْہُ، فَقُلْتُ:یَا اَمَّ الْمُؤُمِنِیْنَ، کَاَنِّیْ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ وَھُوَ غَضْبَانُ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ اَوَمَا سَمِعْتِ مَا قَالَ؟ قَالَتْ: وَمَا قَالَ؟ قَالَتْ: قَالَ: اِنَّ الشَّرَّ اِذَا فَشَا فِی الْاَرْضِ فَلَمْ یُتَنَاہَ عَنْہُ، اَرْسَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بَاْسَہَ عَلٰی اَھْلِ الْاَرْضِ، قَالَتْ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَفِیْھِمُ الصَّالِحُوْنَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَفِیْھِمُ الصَّالِحُوْنَ، یُصِیْبُھُمْ مَا اَصَابَ النَّاسَ، ثُمَّ یُقْبِضُھُمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اِلٰی مَغْفِرَتِہِ وَرِضْوَانِہِ، اَوْ اِلٰی رِضْوَانِہِ وَمَغْفِرَتِہِ۔ (مسند احمد: ۲۷۰۶۲)
۔ حسن بن محمد کہتے ہیں: مجھے ایک انصاری خاتون نے بیان کیا، وہ ابھی تک زندہ ہے، اگر تو چاہتا ہو تو میں تجھے اس کے پاس لے جاتا ہوں، اس نے کہا: نہیں، بس تم مجھے بیان کرو، اس خاتون نے کہا: میں سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گئی، اتنے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی ان کے پاس تشریف لے آئے، لیکنیوں لگ رہا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غصے میں ہیں، میں نے اپنی قمیص کی آستین کے ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پردہ کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کچھ کلام کیا، لیکن میں نہ سمجھ پائی، میں نے کہا: اے ام المؤمنین! ایسے لگ رہا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غصے کی حالت میں تشریف لائے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، کیا تو نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات سنی نہیں ہے؟ میں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کیا فرمایا؟ انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک جب زمین میں شرّ پھیل جائے گا اور پھر اس سے باز نہیں رہا جائے گا، تو اللہ تعالیٰ اہل زمین پر اپنا عذاب نازل کر دے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ایسی حالت میں کہ ان میں نیک لوگ بھی ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں، ان میںنیکوکار بھی ہوں گے، لیکن لوگوں پر نازل ہونے والا عذاب ان کو بھی اپنی گرفت میں لے لے گا، پھر اللہ تعالیٰ ان کو اپنی بخشش اور رضامندی کی طرف لے جائے گا۔
Takhreej
(۹۵۴۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف شریک بن عبد اللہ النخعی ولاضطراب فیہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۳/ ۷۴۷ (انظر: ۲۶۵۲۷)
Explanation
فوائد:… لیکنیہ ممکن ہے کہ بعض نیک لوگ معذور ہوں، جو اللہ تعالیٰ کے عذاب میں آ جانے کے باوجود اس کی بخشش کے مستحق ٹھہریں۔
9541
Zaeef
۔ (۹۵۴۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا رَاَیْتَ اُمَّتِیْ لَا یَقُوْلُوْنَ لِلظَّالِمِ مِنْھُمْ: اَنْتَ ظَالِمٌ فَقَدْ تُوُدِّعَ مِنْھُمْ۔)) (مسند احمد: ۶۷۷۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو میری امت کو اس طرح دیکھے گا کہ وہ ظالم کو یوں نہیں کہے گی کہ تو ظالم ہے تو (سمجھ لینا کہ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت) ان سے اٹھا لی گئی ہے۔
Takhreej
(۹۵۴۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، ابو الزبیر محمد بن مسلم لم یسمع من عبد اللہ بن عمرو، أخرجہ الحاکم: ۴/ ۹۶، والبیھقی فی الشعب : ۷۵۴۶ (انظر: ۶۷۷۶)
9542
Zaeef
۔ (۹۵۴۳)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَاْخُذَ اللّٰہُ شَرِیْطَتَہُ مِنْ اَھْلِ الْاَرْضِ، فَیَبْقٰی فِیْھَا عَجَاجَۃٌ، لَایَعْرِفُوْنَ مَعْرُوْفًا، وَلَا یُنْکِرُوْنَ مُنْکَرًا۔)) (مسند احمد: ۶۹۶۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک برپا نہیں ہو گی، جب تک ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ اہل زمین سے خیر اور دین والے لوگوں کو لے جائے اور ایسے گھٹیا لوگ رہ جائیں، جو نہ نیکی کو پہچانتے ہوں گے اور نہ برائی سے روکتے ہوں گے۔
Takhreej
(۹۵۴۳) تخریج: فیہ عنعنۃ الحسن البصری، وقد روی مرفوعا وموقوفا، الأشبہ وقفہ، أخرجہ الحاکم: ۴/ ۴۳۵ (انظر: ۶۹۶۴)
Explanation
فوائد:… دنیا میں آخر میں گھٹیا اور برے لوگ ہی رہ جائیں گی اور ان ہی پر قیامت قائم ہو گی۔
9543
Sahih
۔ (۹۵۴۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، یَرْفِعُہُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ یُوَقِّرِ الْکَبِیْرَ، ویَرْحَمِ الصَّغِیْرَ، وَیَاْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ، وَیَنْھٰی عَنِ الْمُنْکَرِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ ہم میں نہیں ہے، جو بڑوں کی عزت نہ کرے، چھوٹوں پرشفقت نہ کرے، نیکی کا حکم نہ دے اور برائی سے منع نہ کرے۔
Takhreej
(۹۵۴۴) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الترمذی: ۱۹۲۱(انظر: ۲۳۲۹)
9544
Sahih
۔ (۹۵۴۵)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَثَلُ الْقَائِمِ عَلٰی حُدُوْدِ اللّٰہِ تَعَالٰی وَالْمُدْھِنِ فِیْھَا (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَالْوَاقِعُ فِیْھَا) کَمَثَلِ قَوْمٍ اسْتَھَمُوْا عَلٰی سَفِیْنَۃٍ فِی الْبَحْرِ فَاَصَابَ بَعْضُھُمْ اَسْفَلَھَا وَاَصَابَ بَعْضُھُمْ اَعَلَاھَا، فَکَانَ الَّذِیْنَ فِیْ اَسْفَلِھَا یَصْعَدُوْنَ فَیَسْتَقُوْنَ الْمَائَ فَیَصُبُّوْنَ عَلَی الَّذِیْنَ فِیْ اَعْلَاھَا، فَقَالَ الَّذِیْنَ فِیْ اَعْلَاھَا: لَا نَدَعُکُمْ تَصْعَدُوْنَ فَتُؤُذُوْنَنَا، فَقَالَ الَّذِیْنَ فِیْ اَسْفَلِھَا: فَاِنَّا نَنْقُبُھَا مِنْ اَسْفَلِھَا فَنَسْتَقِیْ، قَالَ: فَاِنْ اَخَذُوْا عَلٰی اَیْدِیْھِمْ فَمَنَعُوْھُمْ نَجَوْا جَمِیْعًا وَاِنْ تَرَکُوْھُمْ غَرَقُوْا جَمِیْعًا۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۵۱)
۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی حدود کو قائم کرنے اور ان کو پھلانگنے والے کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے، جنھوںنے سمندری سفر کرنے کے لیے کشتی کے بارے میں قرعہ اندازی کی، بعض اس کے نچلے حصے میں آ گئے اور بعض اوپر والے حصے میں، نچلے حصے والے پانی لینے کے لیے اوپر والے حصے کی طرف چڑھتے تھے اور اوپر والوں پر پانی گر جاتا تھا، پس انھوں نے کہا: ہم تم کو اس طرح نہیں چھوڑیں گے کہ تم اوپر چڑھتے رہو اور ہمیں تکلیف دو، یہ سن کر نیچے والوں نے کہا: تو پھر ہم پانی حاصل کرنے کے لیے نیچے سے سوراخ کر لیتے ہیں، پس اگر اوپر والوں نے ان کے ہاتھوں کو پکڑ کر ان کو ایسا کرنے سے روک لیا تو وہ سارے کے سارے نجات پا جائیں گے اور اگر انھوں نے اُن کو اُن کے حال پر چھوڑ دیا تو سار غرق ہو جائیں گے۔
Takhreej
(۹۵۴۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۶۸۶(انظر: ۱۸۳۶۱)
Explanation
فوائد:… اہل علم کو ان کی ذمہ داری سمجھانے کے لیے بڑی واضح مثال بیان کی گئی ہے، جبکہ حدیث میں بیان کی گئی مثال کا انجام غرق تھا اور تبلیغ کی ذمہ داری ادا نہ کرنے والوں کا انجام ہمیشہ کی ناکامی ہے۔ نَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَنَتُوْبُ اِلَیْہِ۔
9545
Sahih
۔ (۹۵۴۶)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قِیْلَیَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَتٰی نَدَعُ الُاِئْتَمَارَ باِلْمَعْرُوْفِ وَالْنَھْیَ عَنِ الْمُنْکَرِ؟ قَالَ: ((اِذَا ظَھَرَ فِیْکُمْ مَاظَھَرَ فِیْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ، اِذَا کَانَتِ الْفَاحِشَۃُ فِیْ کِبَارِکُمْ وَالْمُلْکُ فِیْ صِغَارِکُمْ، وَالْعِلْمُ فِیْ رِذَالِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۲۹۷۳)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کب نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کو ترک کر سکتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب وہ امور دکھائی دینے لگیں، جو بنو اسرائیل میں نمودار ہوئے تھے اور وہ یہ ہیں کہ جب بے حیائی بڑوں میں، بادشاہت چھوٹوں میں اور علم گھٹیا لوگوں میں آ جائے گا۔
Takhreej
(۹۵۴۶) تخریج: اسنادہ قوی، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۰۱۵ (انظر: ۱۲۹۴۳)
Explanation
فوائد:… یہ تینوں نحوستیں امت ِ مسلمہ میں پائی جا رہی ہیں۔
9546
Sahih
۔ (۹۵۴۷)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَرَفْتُ فِیْ وَجْھِہِ اَنْ قَدْ حَفَزَہُ شَیْئٌ، فَتَوَضَّاَ ثُمَّ خَرَجَ فَلَمْ یُکَلِّمْ اَحَدًا ، فَدَنَوْتُ مِنَ الْحُجُرَاتِ فَسَمِعْتُہُیَقُوْلُ: ((یَااَیُّھَا النَّاسُ، اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ: مُرُوْا باِلْمَعْرُوْفِ، وَانْھَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ، مِنْ قَبْلِ اَنْ تَدْعُوْنِیْ فَـلَا اُجِیْبُکُمْ، وَتَسْاَلُوْنِیْ فَـلَا اُعْطِیْکُمْ، وَتَسْتَنْصِرُوْنِیْ فَـلَا اَنْصُرُکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۶۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے سے پہنچان گئی کہ کسی چیز نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کچھ کرنے پر آمادہ کیا ہے، بہرحال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وضو کیا اور کسی سے کلام کیے بغیر باہر چلے گئے، میں حجروں کے قریب ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اے لوگو! بیشک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: نیکی کا حکم دیا کرو اور برائی سے منع کیا کرو، قبل اس کے کہ تم مجھے پکارو گے، لیکن میں تم کو جواب نہیں دوں گا، تم مجھ سے سوال کرو گے، لیکن میں تم کو عطا نہیں کروں گا اور تم مجھ سے مدد طلب کرو گے، لیکن میں تمہاری مدد نہیں کروں گا۔
Takhreej
(۹۵۴۷) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۰۰۴ (انظر: ۲۵۲۵۵)
Explanation
فوائد:… اس دنیا میں خیر و بھلائی کو عام کرنے کے لیے اور شرو معصیت کو ختم کرنے کے لیے انبیاء و رسل کا مبارک سلسلہ شروع کیا گیا، جو بالآخر حضرت محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ختم ہو گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد نبوت و رسالت کا سلسلہ تو بند ہو گیا، لیکن انبیائے کرام کی ذمہ داری علمائے اسلام کو سونپ دی گئی، جبکہ اس دنیا میں سعادت مند وہی ہیں، جن کو امورِ خیر کو عام کرنے اور شرّ کا وجود ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
9547
Sahih