۔ (۹۵۳۸)۔ عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ اَبِیْ خَالِدٍ، عَنْ قَیْسٍ قَالَ: قَامَ اَبُوْبَکْرٍ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَاَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: یَااَیُّھَا النَّاسُ! اِنَّکُمْ تَقْرَئُ وْنَ ھٰذِہِ الْآیَۃَ {یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ اِذَا اھْتَدَیْتُمْ} وَاِنَّا سَمِعْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُوْلُ : ((اِنَّ النَّاسَ اِذَا رَاَوُا الْمُنْکَرَ فَلَمْ یُغَیِّرُوْہُ اَوْشَک اَنْ یَعُمَّھُمُ اللّٰہُ بِعِقَابِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۳۰)
۔ قیس کہتے ہیں: سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر کہا: لوگو! بیشک تم یہ آیت پڑھتے ہو: اے ایمان والو! اپنی فکر کرو، جب تم راہ راست پر چل رہے ہو تو جو شخص گمراہ رہے اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں۔ (سورۂ مائدہ: ۱۰۵) ، لیکن ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بیشک جب لوگ برائی کو دیکھ کر اس کو تبدیل نہیں کریں گے تو قریب ہو گا کہ اللہ تعالیٰ ان پر عام عذاب مسلط کردے۔
Takhreej
(۹۵۳۸) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین أخرجہ ابوداود: ۴۳۳۸، وابن ماجہ: ۴۰۰۵، والترمذی: ۲۱۶۸، ۳۰۵۷ (انظر: ۳۰)
Explanation
فوائد:… بعض لوگوں کے ذہن میں ظاہری الفاظ سے یہ شبہ پیدا ہوا کہ اگر اپنی اصلاح کر لی جائے تو کافی ہے، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ضروری نہیں ہے، لیکنیہ مطلب صحیح نہیں ہے، کیونکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ بھی نہایت اہم ہے، اگر ایک مسلمان یہ فریضہ ہی ترک کر دے تو وہ ہدایت پر قائم کیسے رہے گا۔
اس آیت کا صحیح مطلب یہ ہے کہ تمہارے سمجھانے کے باوجود اگر لوگ نیکی کا راستہ اختیار نہ کریںیا برائی سے باز نہ آئیں تو تمہارے لیےیہ نقصان دہ نہیں ہے کہ تم خود نیکی پر قائم اور برائی سے مجتنب ہو۔
9538
Sahih