TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ثنائیات کا بیان

Chapter 2 of ترغیبات میں آداب، مواعظ، حکمتوں اور جوامع الکلم کی جامع کتاب، میں ثلاثیات سے ابتداء کی جائے گی، علی ہذا القیاس in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 16 · 9 Hadith
۔ (۹۵۵۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَجُلًا شَکٰی اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَسْوَۃَ قَلْبِہٖفَقَالَلَہُ: ((اِنْاَرَدْتَتَلْیِِیْنَ قَلْبِکَ، فَاَطْعِمِ الْمِسْکِیْنَ، وَامْسَحْ رَاْسَ الْیَتِیْمِ۔)) (مسند احمد: ۷۵۶۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اپنے دل کی سختی کا شکوہ کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: اگر تو اپنے دل کو نرم کرنا چاہتا ہے تو مسکین کو کھانا کھلایا کر اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا کر۔
Takhreej
(۹۵۵۶) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی (انظر: ۷۵۷۶)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کا ہم سے یہ مطالبہ ہے کہ ہم دوسروں کے حق میں نرم دل ،رحمدل اور خیر خواہ بن جائیں، لیکن ممکن ہے کہ ایک آدمی طبعی طور پر ہی سخت دل ہو۔ اس حدیث ِ مبارکہ میں سنگ دلی کو دور کرنے کا ایک نسخہ بیان کیا گیا ہے کہ دنیوی وسائل سے محروم لوگوں کے لیےخورد و نوش کا اہتمام کیا جائے اور دنیوی سہاروں سے محروم افراد کی دلجوئی کی جائے۔
9556
Sahih
۔ (۹۵۵۷)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اَکْثَرَ مَایُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ اَلْاَجْوَفَانِ۔))، قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَا الْاَجْوَفَانِ؟ قَالَ: ((الْفَرْج وَ الْفَمُ۔)) قَالَ: ((اَتَدْرُوْنَ اَکْثَرَ مَا یُدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّۃَ تَقْوٰی اللّٰہِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ۔)) (مسند احمد: ۹۶۹۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک لوگوں کو سب سے زیادہ جہنم میں داخل کرنے والی چیز اَجْوَفَانِ ہے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اَجْوَفَانِ سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شرمگاہ اور منہ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ لوگوں کو سب سے زیادہ جنت میں داخل کرنے والی چیز کون سی ہو گی؟ اللہ تعالیٰ کا ڈر اور حسن اخلاق۔
Takhreej
(۹۵۵۷) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۲۴۶، والترمذی: ۲۴۰۹ (انظر: ۹۶۹۶)
9557
Sahih
۔ (۹۵۵۸)۔ عَنْ اَبِیْ سَعَیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَسُئِلَ اَیُّ النَّاسِ خَیْرٌ؟ فَقَالَ: ((مُؤُمِنٌ مُجَاھِدٌ بِمَالِہِ وَنَفْسِہِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔)) قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ((مُؤُمِنٌ فِیْ شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ یَتَّقِی اللّٰہَ وَیَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّہِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۴۲)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ کون سے لوگ سب سے بہتر ہیں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ مؤمن جو اپنے نفس اور مال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والا ہو۔ اس نے کہا: پھر کون سا آدمی افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر وہ آدمی ہے، جو کسی گھاٹی میں الگ تھلگ ہو کر اپنے ربّ کی عبادت کرے اور لوگوں کو اپنے شرّ سے محفوظ رکھے۔
Takhreej
(۹۵۵۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۸۸۸(انظر: ۱۱۱۲۵)
9558
Sahih
۔ (۹۵۵۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الصِّحَۃَ وَالْفَرَاغَ نِعْمَتَانِ مِنْ نِعَمِ اللّٰہِ مَغْبُوْنٌ فِیْھِمَا کَثِیْرٌ مِنَ النَّاسِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک صحت اور فراغت اللہ تعالیٰ کی ایسی دو نعمتیں ہیں کہ بہت سے لوگ ان کی وجہ سے گھاٹے میں مبتلا ہیں۔
Takhreej
(۹۵۵۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۴۱۲ (انظر: ۲۳۴۰)
Explanation
فوائد:… بہت سے لوگ صحت اور فراغت سے فائدہ حاصل نہیں کرتے، بلکہ جب وہ ان دو نعمتوں کو ان کے غیر محل میںصرف کرتے ہیں، تو یہی دو بڑی نعمتیں ان کے حق میں وبال جان بن جاتی ہیں، جبکہ اگر وہ ان کا صحیح استعمال کرتے تو یہ ان کے لیے دنیا و آخرت کی خیر و بھلائی کا سبب بنتیں، گویا کہ انھوں نے خیر کے عوض وبال حاصل کیا ہے ۔
9559
Sahih
۔ (۹۵۶۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِبَعْضِ جَسَدِیْ، فَقَالَ: ((اعْبُدِ اللّٰہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ، وَکُنْ فِیْ الدُّنْیَا کَاَنَّکَ غَرِیْبٌ اَوْ عَابِرُ سَبِیْلٍ۔)) (مسند احمد: ۶۱۵۶)
۔ حضرت عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے جسم کا ایک حصہ پکڑا اور فرمایا: اللہ کی عبادت اس طرح کروکہ گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو اور دنیا میں اس طرح ہو جاؤ کہ گویا کہ تم اجنبییامسافر ہو۔
Takhreej
(۹۵۶۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین (انظر: ۶۱۵۶)
Explanation
فوائد:… جیسے آدمی سفر کے دوران یا اجنبی لوگوں کے درمیان نہ دل لگاتا ہے اور نہ اپنے وجود کا خاص خیال رکھتاہے، اسی طرح کامعاملہ دنیا کا ہے، یہ دل لگانے کی جگہ نہیں ہے اور یہاں کسی کی پروا نہیں ہونی چاہیے، سوائے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے۔ اللہ کی عبادت اس طرح کروکہ گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو حدیث ِ جبریل میں عابد کی اس کیفیت کو احسان کہا گیا ہے۔ حافظ ابن حجرl نے کہا: عبادت کے اس انداز یا احسان کا معنی و مفہوم یہ ہوتا ہے کہ عبادت کو پرخلوص بنایا جائے، اس میں خشوع و خضوع کا خوب اہتمام کیا جائے، عبادت کے دوران اسی کی طرف مکمل توجہ کی جائے اور دل میں معبودِ برحق کا خوف رکھا جائے۔ سیدنا ابو دردائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حدیث میں دو کیفیتوں کو بیان کیا گیا ہے، سب سے اعلی کیفیت اور حالت یہ ہے کہ عبادت کرنے والے پر یہ تصور غالب آجائے کہ وہ دل سے اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا تھا اور یہ تصور اتنا مضبوط ہو کہ بالآخر اسے یوں محسوس ہو کہ وہ اپنی آنکھوں سے حق تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے کأنک تراہ کا یہی معنی ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کم از کم وہ یہ حقیقت تو ذہن نشین کر لے اللہ تعالیٰ اس کے ہر عمل سے آگاہ ہے، فانہ یراک کا یہ مفہوم ہے۔ ان دونوں حالتوں کا نتیجہیہ نکلے گا کہ اللہ تعالیٰ سے معرفت ہو گی اور دل میں اس کی خشیت پیدا ہو گی۔ امام نووی نے کہا: اس کا معنییہ ہے کہ جب تم اور اللہ تعالیٰ ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہو گے تو تم تمام آداب کا لحاظ کرو گے، بہرحال تم نہیں دیکھ رہے ہوتے، جبکہ وہ ہر وقت تم کو دیکھ رہا ہوتا ہے، اس لیے تم کو چاہیے کہ عبادت میں حسن پیدا کرو۔ اس حدیث کا تقدیری معنییہ ہو گا: اگر تم اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ رہے تو پھر بھی اچھے انداز میں عبادت کو جاری رکھو، کیونکہ وہ تو تجھے دیکھ رہا ہوتا ہے، حدیث ِجبریل کا یہ حصہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو، گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو، اگر تم نہیں دیکھ رہے تو وہ تو تمہیں دیکھ رہا ہے۔ اصولِ دین میں سے ایک عظیم اصل اور قواعد المسلمین میں سے ایک اہم قاعدہ ہے۔ یہ صدیقوں کا سہارا ہے، سالکین کا مقصد ہے، عارفین کا خزانہ ہے اور صالحین کی عادت ہے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جو جوامع الکلم عطا کیے گئے، یہ جملہ ان میں سے ایک ہے۔ غور فرمائیے کہ اہل تحقیق نے صالح لوگوں کی مجالس میں بیٹھنے کو مستحب قرار دیا ہے، تاکہ ان کے احترام میں اور ان سے شرم محسوس کرتے ہوئے معائب و نقائص سے بچا جا سکے، تو پھر اس آدمی کے بارے میں کیا خیال ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ جس کے ظاہری ومخفی حالات سے آگاہ رہتا ہے۔ (فتح الباری: ۱/ ۱۶۰) امام نووی نے کہا: اس کا معنییہ ہے کہ جب تم اور اللہ تعالیٰ ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہو گے تو تم تمام آداب کا لحاظ کرو گے، بہرحال تم نہیں دیکھ رہے ہوتے، جبکہ وہ ہر وقت تم کو دیکھ رہا ہوتا ہے، اس لیے تم کو چاہیے کہ عبادت میں حسن پیدا کرو۔ اس حدیث کا تقدیری معنییہ ہو گا: اگر تم اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ رہے تو پھر بھی اچھے انداز میں عبادت کو جاری رکھو، کیونکہ وہ تو تجھے دیکھ رہا ہوتا ہے، حدیث ِجبریل کا یہ حصہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو، گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو، اگر تم نہیں دیکھ رہے تو وہ تو تمہیں دیکھ رہا ہے۔ اصولِ دین میں سے ایک عظیم اصل اور قواعد المسلمین میں سے ایک اہم قاعدہ ہے۔ یہ صدیقوں کا سہارا ہے، سالکین کا مقصد ہے، عارفین کا خزانہ ہے اور صالحین کی عادت ہے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جو جوامع الکلم عطا کیے گئے، یہ جملہ ان میں سے ایک ہے۔ غور فرمائیے کہ اہل تحقیق نے صالح لوگوں کی مجالس میں بیٹھنے کو مستحب قرار دیا ہے، تاکہ ان کے احترام میں اور ان سے شرم محسوس کرتے ہوئے معائب و نقائص سے بچا جا سکے، تو پھر اس آدمی کے بارے میں کیا خیال ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ جس کے ظاہری ومخفی حالات سے آگاہ رہتا ہے۔ (فتح الباری: ۱/ ۱۶۰)
9560
Sahih
۔ (۹۵۶۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَفَ عَلٰی نَاسٍ جُلُوْسٍ فَقَالَ: ((اَلاَ اُخْبِرُکُمْ بِخَیْرِکُمْ مِنْ شَرِّکُمْ؟)) فَسَکَتَ الْقَوْمُ، فَاَعَادَھَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: بَلٰییَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((خَیْرُکُمْ مَنْ یُرْجٰی خَیْرُہُ، وَشَرُّکُمْ مَنْ لَا یُرْجٰی خَیْرُہُ، وَلَا یُؤْمَنُ شَرُّہُ۔)) (مسند احمد: ۸۷۹۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھے ہوئے کچھ لوگوں کے پاس آ کر کھڑے ہوئے اور کہا: کیا میں تمہیںیہ نہ بتلاؤں کہ تمہارے بد ترین لوگوں میں سے بہترین لوگ کون سے ہیں؟ لوگ خاموش رہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین دفعہ یہی جملہ دوہرایا، بالآخر ایک بندے نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہترین وہ ہے، جس کی خیر کی امید رکھی جاتی ہو اور تم میں بدترین وہ ہے، جس کی خیر کی امید نہ رکھی جاتی ہو اور جس کے شرّ سے امن بھی نہ ہو۔
Takhreej
(۹۵۶۱) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الترمذی: ۲۲۶۳(انظر: ۸۸۱۲)
Explanation
فوائد:… مسلمان کے وجود میں خیر بھی ہو اور وہ ایسا خیر رساں بھی ہو کہ کسی کو اس سے کوئی خطرہ نہ ہو، ہر کوئی اس اپنی جان و مال او رعزت و عظمت کا محافظ سمجھے۔
9561
Sahih
۔ (۹۵۶۲)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا حَلِیْمَ اِلَّا ذُوْ عَثْرَۃٍ، وَلَا حَکِیْمَ اِلَّا ذُوْتَجْرِبَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۶۸۴)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بردبار کوئی نہیں ہوتا، مگر لغزشوں والا اور دانا کوئی نہیں ہوتا، مگر تجربے والا۔
Takhreej
(۹۵۶۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف دراج فی روایتہ عن ابی الھیثم، أخرجہ الترمذی: ۲۰۳۳(انظر: ۱۶۶۱)
Explanation
فوائد:… بہرحال لغزشوں اور تجربوں کے بعد ہی بردباری اور دانائی نصیب ہوتی ہے، اسی لیے اچھے معاشرے میں بزرگوں کے پند و نصائح کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
9562
Zaeef
۔ (۹۵۶۳)۔ عَنْ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( اَلْحَسْبُ: اَلْمَالُ، وَالْکَرَمُ: التَّقْوٰی۔)) (مسند احمد: ۲۰۳۶۲)
۔ سیدنا سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حسب مال ہے اور کرم تقوی ہے۔
Takhreej
(۹۵۶۳) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۲۱۹، والترمذی: ۳۲۷۱ (انظر: ۲۰۱۰۲)
Explanation
فوائد:… لوگوں کے ہاں جس چیز کی وجہ سے آدمی کی قدر و منزلت میں اضافہ ہوتا ہے، وہ مال ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں جس چیز کی وجہ سے عظمت ملتی ہے، وہ تقوی ہے۔
9563
Sahih
۔ (۹۵۶۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ لَا بَنُوْ اِسْرَائِیْلَ لَمْ یُخْنَزِ اللَّحْمُ، وَلَوْ لَا حَوَائُ لَمْ تَخُنْ اُنْثٰی زَوْجَھَا۔)) (مسند احمد: ۸۰۱۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر بنو اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت کو خزانہ نہ کیا جاتا اور اگر سیدہ حوائ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نہ ہوتیں تو کوئی بیوی اپنے خاوند سے خیانت نہ کرتی۔
Takhreej
(۹۵۶۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۷۰(انظر: ۸۰۳۲)
Explanation
فوائد:… بنواسرائیل پر من و سلوی نازل ہوتا تھا، امام قتادہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے کہا: بنو اسرائیل نے سلوی کا گوشت ذخیرہ کیا، جبکہ ان کو ایسا کرنے سے روکا گیا تھا، سو ان کو اس چیز کا بدلہ دیا گیا۔ جب ابلیس نے آدم علیہ السلام کے لیے بات کو مزین کیا تو سیدہ حواء علیہا السلام نے اس کو قبول کیا اور وہ اچھی شکل میں پیش کی گئی اس بدی کی طرف مائل ہو گئیں،یہاں تک کہ آدم علیہ السلام اور سیدہ حواء علیہا السلام دونوں نے جنت کے ممنوعہ درخت کا پھل کھا لیا، جس کی وجہ سے ان کو جنت سے زمین کی طرف نکال دیا گیا۔
9564
Sahih