TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ترغیبات میں آداب، مواعظ، حکمتوں اور جوامع الکلم کی جامع کتاب، میں ثلاثیات سے ابتداء کی جائے گی، علی ہذا القیاس - ترغیبات میں آداب، مواعظ، حکمتوں اور جوامع الکلم کی جامع کتاب، میں ثلاثیات سے ابتداء کی جائے گی، علی ہذا القیاس - Book 162 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 162 of Musnad Ahmad, with 16 chapters and 112 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

112 Hadith · 16 Chapters
مفردات کا بیان
۔ (۹۵۴۸)۔ حَدَّثَنَا اَبُوْ النَّضْرِ، ثَنَا الْمُبَارَکُ، ثَنَا الْحَسَنُ، اَنَّ شَیْخًا مِنْ بَنِیْ سَلِیْطٍ، اَخْبَرَہُ، قَالَ: اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اُکَلِّمُہُ فِیْ سَبْیٍ اُصِیْبَ لَنَا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ، فَاِذَا ھُوَ قَاعِدٌ وَعَلَیْہِ حَلْقَۃٌ قَدْ اَطَافَتْ بِہٖ،وَھُوَیُحَدِّثُ الْقَوْمَ، عَلَیْہِ اِزَارُ قُطْنٍ لَہُ غَلِیْظٌ، فَاَوَّلُ شَیْئٍ سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ وَھُوَ یُشِیْرُ بِاِصْبَعَیْہِ: ((اَلْمُسْلِمُ اَخُوْ الْمُسْلِمِ، لَا یَظْلِمُہُ، وَلَا یَخْذُلُہُ، التَّقْوٰی ھَاھُنَا، التَّقْوٰی ھٰھُنَا۔)) یَقُوْلُ: اَیْ فِی الْقَلْبِ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۰۰)
۔ حسن بصری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بنو سلیط کاایک بزرگ صحابی کہتا ہے: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس اپنے ایک قیدی کی بات کرنے کے لیے گیا، جو دورِ جاہلیت میں پکڑا گیا تھا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ حلقے کی صورت میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو گھیر کر بیٹھے ہوئے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں سے گفتگو کر رہے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کاٹن کی موٹی چادر پہنی ہوئی تھی، پہلی بات جو میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی، وہ یہ تھی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ وہ اس کو بے یار و مدد گار چھوڑتا ہے، تقوییہاں ہے، تقوییہاں ہے۔ یعنی دل میں۔
Takhreej
(۹۵۴۸) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ بنحوہ ابویعلی: ۶۲۲۸ (انظر: ۲۳۲۱۳)
Explanation
فوائد:… تقوی کااصل منبع و محور دل اور سینہ ہے، جہاں اللہ تعالیٰ کی عظمت، خشیت اور مراقبت کی وجہ سے تقوی پیدا ہوتا ہے، پھر ایسے آدمی کے وجود پر اس چیز کے واضح آثار نظر آنے لگتے ہیں۔
9548
Sahih
مفردات کا بیان
۔ (۹۵۴۹)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوْفِ شَیْئًا، فَاِنْ لَّمْ تَجِدْ فَالْقَ اَخَاکَ بِوَجْہٍ طَلْقٍ۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۵۲) (۹۵۵۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَالَ: اَعْدَدْتُّ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَا لَا عَیْنٌ رَاَتْ، وَ لَا اُذُنٌ سَمِعَتْ، وَ لَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ۔)) (مسند احمد: ۸۱۲۸)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی نیکی کو ہر گز حقیر نہ سمجھنا، پس اگر تیرے پاس کچھ نہ ہو تو مسکراتے چہرے کے ساتھ مل لیا کر۔
Takhreej
(۹۵۴۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۲۶ (انظر: ۲۱۵۱۹)
Explanation
فوائد:… اگر فرض کریں کہ کسی انسان میں کوئی نیکی کرنے کی ہمت باقی نہ رہے تو یہ تو اس کے بس کی بات ہو گی کہ دوسرے لوگوں سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملاقات کر لے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جس نیکی کو سب سے آسان قرار دیا تھا، آج ہم نے اس کو سر انجام دینے کے لیے شخصیتوں کو خاص کر لیا ہے اور ہر مسلمان کو اپنی مسکراہٹوںکا حقدار نہیں سمجھا ہے۔ نیکی کا ہر کام مسلمان کا گم شدہ متاع ہے، وہ جہاں سے بھی ملے، وہی اس کا زیادہ مستحق ہو گا، آخرت کا تقاضا یہی ہے کہ چھوٹی اور بڑی نیکی میں فرق نہ کیا جائے۔
9549
Sahih
مفردات کا بیان
۔ (۹۵۵۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَالَ: اَعْدَدْتُّ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَا لَا عَیْنٌ رَاَتْ، وَ لَا اُذُنٌ سَمِعَتْ، وَ لَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ۔)) (مسند احمد: ۸۱۲۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے، جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں ایسا خیال آیا ہے۔
Takhreej
(۹۵۵۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۲۴۴، ۴۷۷۹، ومسلم: ۲۸۲۴ (انظر: ۸۱۴۳)
Explanation
فوائد:… یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نیکوکار بندوں کے لیے میزبانی کا سامان ہو گا۔
9550
Sahih
مفردات کا بیان
۔ (۹۵۵۱)۔ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنّمَا النَّاسُ کَاِبِلٍ مِائَۃٍ لَا یُوْجَدُ فِیْھَا رَاحِلَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۴۵۱۶)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگ بھی ان سو اونٹوں کی طرح ہیں، جن میں (بوجھ اٹھانے اورسواری کرنے کے) لائق کوئی اونٹ نہ ہو۔
Takhreej
(۹۵۵۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۴۹۸، ومسلم: ۲۵۴۷(انظر: ۴۵۱۶)
Explanation
فوائد:… جیسے اونٹوں کی بڑی تعداد میں ایسا عمدہ اور طاقتور اونٹ نہ پایا جاتا ہے، جو بوجھ اٹھانے اور سواری کرنے کے لائق ہو، اسی طرح لوگوں کی کثیر تعداد میں عمدہ اور منتخب قسم کے افراد کم ہوتے ہیں۔
9551
Sahih
مفردات کا بیان
۔ (۹۵۵۲)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((حُرِّمَ عَلَی النَّارِ کُلُّ ھَیِّنٍ لَیِّنٍ سَھْلٍ قَرِیْبٍ مِنَ النَّاسِ۔)) (مسند احمد: ۳۹۳۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آگ پر ہر اس شخص کو حرام قرار دیا گیا ہے، جو نرمی کرنے والا، آسانی کرنے والا اور لوگوں کے ہاں ہر دلعزیز ہو۔
Takhreej
(۹۵۵۲) تخریج: حسن بشواہدہ، أخرجہ الترمذی: ۲۴۸۸ (انظر: ۳۹۳۸)
9552
Sahih
مفردات کا بیان
۔ (۹۵۵۳)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اَلْمَرْئُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ۔)) (مسند احمد: ۱۹۸۶۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے محبوب کے ساتھ ہو گا۔
Takhreej
(۹۵۵۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۱۶۸، ومسلم: ۲۶۴۰ (انظر: ۱۹۶۲۹)
9553
Sahih
مفردات کا بیان
۔ (۹۵۵۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلنَّاسُ مَعَادِنُ، خِیَارُھُمْ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ خِیَارُھُمْ فِی الْاِسْلَامِ، اِذَا فَقُھُوْا فِی الدِّیْنِ۔)) (مسند احمد: ۹۰۶۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگ کانیں ہیں، ان میں سے زمانہ ٔ جاہلیت کے بہتر لوگ، اسلام میں بھی بہتر ہیں، بشرطیکہ انھیں دین کی سمجھ حاصل ہو جائے۔
Takhreej
(۹۵۵۴) تخریج:أخرجہ البخاری: ۳۴۹۶، ومسلم: ۲۵۲۶ (انظر: ۹۰۷۹)
Explanation
فوائد:… جس طرح کانیں ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں، کوئی عمدہ اشیاء پر مشتمل ہوتی ہے تو کوئی ردّی چیزوں پر، اسی طرح لوگ بھی اخلاق و اعمال کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں،یعنی کوئی اچھا ہوتا ہے تو کوئی برا۔ علاوہ ازیں شرف و فضل اور اخلاق و کردار کے اعتبار سے جو لوگ زمانہ ٔ جاہلیت میں ممتاز ہوں، اگر وہ دین میں فہم و فراست حاصل کر لیں تو مسلم معاشرے میں بھی ان کا سابقہ مقام ومرتبہ بحال رہے گا۔ اس حدیث ِ مبارکہ میں بڑا اہم نقطہ بیان کیا گیا ہے کہ اسلام کا شرف اس وقت مکمل ہوتا ہے، جب اسلام میں سمجھ بوجھ حاصل ہو جائے۔ اس وقت مسلمانوں میں عظمت، بڑائی اور خودپسندی کے عجیب عجیب معیار قائم ہو چکے ہیں، کہیں مال و دولت کو باعث ِ عزت سمجھ لیا گیا، کہیں ذات پات کو ترجیح دی گئی، کہیں دنیوی تعلیم کو کسوٹی بنا لیا گیا، کہیں سیاسی فتح اور سیاسی پارٹی کو حق و باطل کا معیار بنا لیا گیا، کہیں مسکراہٹوں کے تبادلے کو بڑی انسانیت کی علامت سمجھ لیا گیا۔ اگر اس اسلامی معاشرے میں وقعت و اہمیت اور عزت و عظمت نہیں ہے تو وہ فقاہت فی الاسلام، دینی تعلیم اور تقوی کی نہیں ہے، اگر کوئی انسان ان اوصاف سے متصف ہے تو ہمارے معاشرے کا تقاضا یہ ہے کہ وہ شخص کسی مسجد یا مدرسہ کو سنبھال لے اور حکومتی اور معاشرتی مسائل میں دخل نہ دے۔ یہ دراصل ہمارا معیار ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابۂ کرام کی کسوٹی کا تقاضا یہ نہیں ہے، وہ جہانگیر بھی تھے، جہانباں بھی، وہ جہاندار بھی تھے اور جہاندیدہ بھی ۔
9554
Sahih
مفردات کا بیان
۔ (۹۵۵۵)۔ وعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا سَمِعْتَ الرَّجُلَ یَقُوْلُ: ھَلَکَ النَّاسُ فَھُوَ اَھْلَکُھُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۰۷۰۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو کسی آدمی کو اس طرح کہتے سنے کہ لوگ ہلاک ہو گئے ہیں، تو وہ خود سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہو گا۔
Takhreej
(۹۵۵۵) تخریج:أخرجہ مسلم: ۲۶۲۳(انظر: ۱۰۶۹۷)
Explanation
فوائد:… امام نووی نے کہا: یہ کہنا کہ لوگ تباہ ہو گئے ہیں، اس شخص کے لیے منع ہے، جو اپنے آپ کو اچھا سمجھے، لوگوں کو حقیر گردانے اور ان پر اپنے آپ کو برتر خیال کرے۔ لیکن جو شخص یہ دیکھتا ہے کہ لوگوں میں دینداری کم ہو گئی ہے اور اس پر اظہار افسوس کرتے ہوئے دینی غیرت و حمیت کی وجہ سے یہ الفاظ اس کی زبان پر آجائیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ امام مالک بن انس، امام حمیدی اور امام خطابی جیسے علماء نے اس حدیث کییہی تفصیل بیان کی ہے۔ (ریاض الصالحین) ہمارے معاشرے میں اکثر لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے آپ کو اچھا سمجھتے ہیں اور دوسروں کو نہ صرف حقیر گردانتے ہیں، بلکہ ان کے عیوب تلاش کرنے اور ان کی نیکیوں کو کوئی دوسرا رخ دینے میں لگے رہتے ہیں۔ ایک دن میں ایک بے دین سے آدمی کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ایک اچھے خاصے دین دار شخص کا تذکرہ ہونے لگا، میں نے اس کی شرعی صفات کی وجہ سے اس کی تعریف کرنا چاہیے، لیکن جناب نے صرف اس بنا پر اس کو انتہائی برا کہا کہ اس نے اسے وعدے کے مطابق قرضہ واپس نہیں کیا تھا، جبکہ وہ بزعم خود اپنے آپ کو دین دار ٹھہرا رہا تھا، حالانکہ پرلے درجے کا بدعمل شخص تھا، آج کل اکثریت کا یہی رویہ ہے۔
9555
Sahih
ثنائیات کا بیان
۔ (۹۵۵۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَجُلًا شَکٰی اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَسْوَۃَ قَلْبِہٖفَقَالَلَہُ: ((اِنْاَرَدْتَتَلْیِِیْنَ قَلْبِکَ، فَاَطْعِمِ الْمِسْکِیْنَ، وَامْسَحْ رَاْسَ الْیَتِیْمِ۔)) (مسند احمد: ۷۵۶۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اپنے دل کی سختی کا شکوہ کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: اگر تو اپنے دل کو نرم کرنا چاہتا ہے تو مسکین کو کھانا کھلایا کر اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا کر۔
Takhreej
(۹۵۵۶) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی (انظر: ۷۵۷۶)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کا ہم سے یہ مطالبہ ہے کہ ہم دوسروں کے حق میں نرم دل ،رحمدل اور خیر خواہ بن جائیں، لیکن ممکن ہے کہ ایک آدمی طبعی طور پر ہی سخت دل ہو۔ اس حدیث ِ مبارکہ میں سنگ دلی کو دور کرنے کا ایک نسخہ بیان کیا گیا ہے کہ دنیوی وسائل سے محروم لوگوں کے لیےخورد و نوش کا اہتمام کیا جائے اور دنیوی سہاروں سے محروم افراد کی دلجوئی کی جائے۔
9556
Sahih
ثنائیات کا بیان
۔ (۹۵۵۷)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اَکْثَرَ مَایُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ اَلْاَجْوَفَانِ۔))، قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَا الْاَجْوَفَانِ؟ قَالَ: ((الْفَرْج وَ الْفَمُ۔)) قَالَ: ((اَتَدْرُوْنَ اَکْثَرَ مَا یُدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّۃَ تَقْوٰی اللّٰہِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ۔)) (مسند احمد: ۹۶۹۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک لوگوں کو سب سے زیادہ جہنم میں داخل کرنے والی چیز اَجْوَفَانِ ہے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اَجْوَفَانِ سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شرمگاہ اور منہ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ لوگوں کو سب سے زیادہ جنت میں داخل کرنے والی چیز کون سی ہو گی؟ اللہ تعالیٰ کا ڈر اور حسن اخلاق۔
Takhreej
(۹۵۵۷) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۲۴۶، والترمذی: ۲۴۰۹ (انظر: ۹۶۹۶)
9557
Sahih
ثنائیات کا بیان
۔ (۹۵۵۸)۔ عَنْ اَبِیْ سَعَیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَسُئِلَ اَیُّ النَّاسِ خَیْرٌ؟ فَقَالَ: ((مُؤُمِنٌ مُجَاھِدٌ بِمَالِہِ وَنَفْسِہِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔)) قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ((مُؤُمِنٌ فِیْ شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ یَتَّقِی اللّٰہَ وَیَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّہِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۴۲)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ کون سے لوگ سب سے بہتر ہیں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ مؤمن جو اپنے نفس اور مال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والا ہو۔ اس نے کہا: پھر کون سا آدمی افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر وہ آدمی ہے، جو کسی گھاٹی میں الگ تھلگ ہو کر اپنے ربّ کی عبادت کرے اور لوگوں کو اپنے شرّ سے محفوظ رکھے۔
Takhreej
(۹۵۵۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۸۸۸(انظر: ۱۱۱۲۵)
9558
Sahih
ثنائیات کا بیان
۔ (۹۵۵۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الصِّحَۃَ وَالْفَرَاغَ نِعْمَتَانِ مِنْ نِعَمِ اللّٰہِ مَغْبُوْنٌ فِیْھِمَا کَثِیْرٌ مِنَ النَّاسِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک صحت اور فراغت اللہ تعالیٰ کی ایسی دو نعمتیں ہیں کہ بہت سے لوگ ان کی وجہ سے گھاٹے میں مبتلا ہیں۔
Takhreej
(۹۵۵۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۴۱۲ (انظر: ۲۳۴۰)
Explanation
فوائد:… بہت سے لوگ صحت اور فراغت سے فائدہ حاصل نہیں کرتے، بلکہ جب وہ ان دو نعمتوں کو ان کے غیر محل میںصرف کرتے ہیں، تو یہی دو بڑی نعمتیں ان کے حق میں وبال جان بن جاتی ہیں، جبکہ اگر وہ ان کا صحیح استعمال کرتے تو یہ ان کے لیے دنیا و آخرت کی خیر و بھلائی کا سبب بنتیں، گویا کہ انھوں نے خیر کے عوض وبال حاصل کیا ہے ۔
9559
Sahih
ثنائیات کا بیان
۔ (۹۵۶۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِبَعْضِ جَسَدِیْ، فَقَالَ: ((اعْبُدِ اللّٰہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ، وَکُنْ فِیْ الدُّنْیَا کَاَنَّکَ غَرِیْبٌ اَوْ عَابِرُ سَبِیْلٍ۔)) (مسند احمد: ۶۱۵۶)
۔ حضرت عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے جسم کا ایک حصہ پکڑا اور فرمایا: اللہ کی عبادت اس طرح کروکہ گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو اور دنیا میں اس طرح ہو جاؤ کہ گویا کہ تم اجنبییامسافر ہو۔
Takhreej
(۹۵۶۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین (انظر: ۶۱۵۶)
Explanation
فوائد:… جیسے آدمی سفر کے دوران یا اجنبی لوگوں کے درمیان نہ دل لگاتا ہے اور نہ اپنے وجود کا خاص خیال رکھتاہے، اسی طرح کامعاملہ دنیا کا ہے، یہ دل لگانے کی جگہ نہیں ہے اور یہاں کسی کی پروا نہیں ہونی چاہیے، سوائے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے۔ اللہ کی عبادت اس طرح کروکہ گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو حدیث ِ جبریل میں عابد کی اس کیفیت کو احسان کہا گیا ہے۔ حافظ ابن حجرl نے کہا: عبادت کے اس انداز یا احسان کا معنی و مفہوم یہ ہوتا ہے کہ عبادت کو پرخلوص بنایا جائے، اس میں خشوع و خضوع کا خوب اہتمام کیا جائے، عبادت کے دوران اسی کی طرف مکمل توجہ کی جائے اور دل میں معبودِ برحق کا خوف رکھا جائے۔ سیدنا ابو دردائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حدیث میں دو کیفیتوں کو بیان کیا گیا ہے، سب سے اعلی کیفیت اور حالت یہ ہے کہ عبادت کرنے والے پر یہ تصور غالب آجائے کہ وہ دل سے اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا تھا اور یہ تصور اتنا مضبوط ہو کہ بالآخر اسے یوں محسوس ہو کہ وہ اپنی آنکھوں سے حق تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے کأنک تراہ کا یہی معنی ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کم از کم وہ یہ حقیقت تو ذہن نشین کر لے اللہ تعالیٰ اس کے ہر عمل سے آگاہ ہے، فانہ یراک کا یہ مفہوم ہے۔ ان دونوں حالتوں کا نتیجہیہ نکلے گا کہ اللہ تعالیٰ سے معرفت ہو گی اور دل میں اس کی خشیت پیدا ہو گی۔ امام نووی نے کہا: اس کا معنییہ ہے کہ جب تم اور اللہ تعالیٰ ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہو گے تو تم تمام آداب کا لحاظ کرو گے، بہرحال تم نہیں دیکھ رہے ہوتے، جبکہ وہ ہر وقت تم کو دیکھ رہا ہوتا ہے، اس لیے تم کو چاہیے کہ عبادت میں حسن پیدا کرو۔ اس حدیث کا تقدیری معنییہ ہو گا: اگر تم اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ رہے تو پھر بھی اچھے انداز میں عبادت کو جاری رکھو، کیونکہ وہ تو تجھے دیکھ رہا ہوتا ہے، حدیث ِجبریل کا یہ حصہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو، گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو، اگر تم نہیں دیکھ رہے تو وہ تو تمہیں دیکھ رہا ہے۔ اصولِ دین میں سے ایک عظیم اصل اور قواعد المسلمین میں سے ایک اہم قاعدہ ہے۔ یہ صدیقوں کا سہارا ہے، سالکین کا مقصد ہے، عارفین کا خزانہ ہے اور صالحین کی عادت ہے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جو جوامع الکلم عطا کیے گئے، یہ جملہ ان میں سے ایک ہے۔ غور فرمائیے کہ اہل تحقیق نے صالح لوگوں کی مجالس میں بیٹھنے کو مستحب قرار دیا ہے، تاکہ ان کے احترام میں اور ان سے شرم محسوس کرتے ہوئے معائب و نقائص سے بچا جا سکے، تو پھر اس آدمی کے بارے میں کیا خیال ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ جس کے ظاہری ومخفی حالات سے آگاہ رہتا ہے۔ (فتح الباری: ۱/ ۱۶۰) امام نووی نے کہا: اس کا معنییہ ہے کہ جب تم اور اللہ تعالیٰ ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہو گے تو تم تمام آداب کا لحاظ کرو گے، بہرحال تم نہیں دیکھ رہے ہوتے، جبکہ وہ ہر وقت تم کو دیکھ رہا ہوتا ہے، اس لیے تم کو چاہیے کہ عبادت میں حسن پیدا کرو۔ اس حدیث کا تقدیری معنییہ ہو گا: اگر تم اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ رہے تو پھر بھی اچھے انداز میں عبادت کو جاری رکھو، کیونکہ وہ تو تجھے دیکھ رہا ہوتا ہے، حدیث ِجبریل کا یہ حصہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو، گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو، اگر تم نہیں دیکھ رہے تو وہ تو تمہیں دیکھ رہا ہے۔ اصولِ دین میں سے ایک عظیم اصل اور قواعد المسلمین میں سے ایک اہم قاعدہ ہے۔ یہ صدیقوں کا سہارا ہے، سالکین کا مقصد ہے، عارفین کا خزانہ ہے اور صالحین کی عادت ہے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جو جوامع الکلم عطا کیے گئے، یہ جملہ ان میں سے ایک ہے۔ غور فرمائیے کہ اہل تحقیق نے صالح لوگوں کی مجالس میں بیٹھنے کو مستحب قرار دیا ہے، تاکہ ان کے احترام میں اور ان سے شرم محسوس کرتے ہوئے معائب و نقائص سے بچا جا سکے، تو پھر اس آدمی کے بارے میں کیا خیال ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ جس کے ظاہری ومخفی حالات سے آگاہ رہتا ہے۔ (فتح الباری: ۱/ ۱۶۰)
9560
Sahih
ثنائیات کا بیان
۔ (۹۵۶۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَفَ عَلٰی نَاسٍ جُلُوْسٍ فَقَالَ: ((اَلاَ اُخْبِرُکُمْ بِخَیْرِکُمْ مِنْ شَرِّکُمْ؟)) فَسَکَتَ الْقَوْمُ، فَاَعَادَھَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: بَلٰییَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((خَیْرُکُمْ مَنْ یُرْجٰی خَیْرُہُ، وَشَرُّکُمْ مَنْ لَا یُرْجٰی خَیْرُہُ، وَلَا یُؤْمَنُ شَرُّہُ۔)) (مسند احمد: ۸۷۹۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھے ہوئے کچھ لوگوں کے پاس آ کر کھڑے ہوئے اور کہا: کیا میں تمہیںیہ نہ بتلاؤں کہ تمہارے بد ترین لوگوں میں سے بہترین لوگ کون سے ہیں؟ لوگ خاموش رہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین دفعہ یہی جملہ دوہرایا، بالآخر ایک بندے نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہترین وہ ہے، جس کی خیر کی امید رکھی جاتی ہو اور تم میں بدترین وہ ہے، جس کی خیر کی امید نہ رکھی جاتی ہو اور جس کے شرّ سے امن بھی نہ ہو۔
Takhreej
(۹۵۶۱) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الترمذی: ۲۲۶۳(انظر: ۸۸۱۲)
Explanation
فوائد:… مسلمان کے وجود میں خیر بھی ہو اور وہ ایسا خیر رساں بھی ہو کہ کسی کو اس سے کوئی خطرہ نہ ہو، ہر کوئی اس اپنی جان و مال او رعزت و عظمت کا محافظ سمجھے۔
9561
Sahih
ثنائیات کا بیان
۔ (۹۵۶۲)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا حَلِیْمَ اِلَّا ذُوْ عَثْرَۃٍ، وَلَا حَکِیْمَ اِلَّا ذُوْتَجْرِبَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۶۸۴)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بردبار کوئی نہیں ہوتا، مگر لغزشوں والا اور دانا کوئی نہیں ہوتا، مگر تجربے والا۔
Takhreej
(۹۵۶۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف دراج فی روایتہ عن ابی الھیثم، أخرجہ الترمذی: ۲۰۳۳(انظر: ۱۶۶۱)
Explanation
فوائد:… بہرحال لغزشوں اور تجربوں کے بعد ہی بردباری اور دانائی نصیب ہوتی ہے، اسی لیے اچھے معاشرے میں بزرگوں کے پند و نصائح کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
9562
Zaeef
ثنائیات کا بیان
۔ (۹۵۶۳)۔ عَنْ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( اَلْحَسْبُ: اَلْمَالُ، وَالْکَرَمُ: التَّقْوٰی۔)) (مسند احمد: ۲۰۳۶۲)
۔ سیدنا سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حسب مال ہے اور کرم تقوی ہے۔
Takhreej
(۹۵۶۳) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۲۱۹، والترمذی: ۳۲۷۱ (انظر: ۲۰۱۰۲)
Explanation
فوائد:… لوگوں کے ہاں جس چیز کی وجہ سے آدمی کی قدر و منزلت میں اضافہ ہوتا ہے، وہ مال ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں جس چیز کی وجہ سے عظمت ملتی ہے، وہ تقوی ہے۔
9563
Sahih
ثنائیات کا بیان
۔ (۹۵۶۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ لَا بَنُوْ اِسْرَائِیْلَ لَمْ یُخْنَزِ اللَّحْمُ، وَلَوْ لَا حَوَائُ لَمْ تَخُنْ اُنْثٰی زَوْجَھَا۔)) (مسند احمد: ۸۰۱۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر بنو اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت کو خزانہ نہ کیا جاتا اور اگر سیدہ حوائ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نہ ہوتیں تو کوئی بیوی اپنے خاوند سے خیانت نہ کرتی۔
Takhreej
(۹۵۶۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۷۰(انظر: ۸۰۳۲)
Explanation
فوائد:… بنواسرائیل پر من و سلوی نازل ہوتا تھا، امام قتادہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے کہا: بنو اسرائیل نے سلوی کا گوشت ذخیرہ کیا، جبکہ ان کو ایسا کرنے سے روکا گیا تھا، سو ان کو اس چیز کا بدلہ دیا گیا۔ جب ابلیس نے آدم علیہ السلام کے لیے بات کو مزین کیا تو سیدہ حواء علیہا السلام نے اس کو قبول کیا اور وہ اچھی شکل میں پیش کی گئی اس بدی کی طرف مائل ہو گئیں،یہاں تک کہ آدم علیہ السلام اور سیدہ حواء علیہا السلام دونوں نے جنت کے ممنوعہ درخت کا پھل کھا لیا، جس کی وجہ سے ان کو جنت سے زمین کی طرف نکال دیا گیا۔
9564
Sahih
عدد سے شروع ہونے والی ثنائیات کا بیان
۔ (۹۵۶۵)۔ عَنْ عَقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ الْجُھَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((غَیْرَتَانِ اِحْدَاھُمَا یُحِبُّھَا اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَالْاُخْرٰییُبْغِضُھَا اللّٰہُ، وَمَخِیْلَتَانِ اِحْدَاھُمَا یُحِبُّھَا اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَالْاُخْرٰییُبْغِضُھَا اللّٰہُ، الْغَیْرَۃُ فِیْ الرِّیْبَۃِیُحِبُّھَا اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ، وَالْغَیْرَۃُ فِیْ غَیْرِہِیُبْغِضُھَا اللّٰہُ، وَالْمَخِیْلَۃُ اِذَا تَصَدَّقَ الرَّجُلُ یُحِبُّھَا اللّٰہُ، وَالْمَخِیْلَۃُ فِی الْکِبْرِ یُبْغِضُھَا اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۳۳)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو غیرتیں ہیں، اللہ تعالیٰ ایک کو پسند کرتا ہے اور دوسری کو ناپسند، اسی طرح دو بڑائیاں ہیں، اللہ تعالیٰ ایک بڑائی کو پسند کرتا ہے اور دوسری کو ناپسند، شک اور تہمت کی بنا پر کی جانے والی غیرت کو اللہ تعالیٰ پسند کرتاہے، اس کے علاوہ غیرت کی دوسری صورتیں اس کو ناپسند ہیں، صدقہ کرتے وقت کی بڑائی اللہ تعالیٰ کو پسند ہے اور تکبر والی بڑائی اللہ تعالیٰ کو ناپسندیدہ ہے۔
Takhreej
(۹۵۶۵) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۱۷۳۹۸)
Explanation
فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۴۹۷۳)
9565
Sahih
ثلاثیات کا بیان
۔ (۹۵۶۶)۔ حَدَّثَنَا حَسَنٌ، ثَنَا زُھَیْرٌ، قَالَ: ثَنَا قَابُوْسُ بْنُ اَبِیْ ظَبْیَانِ، اَنَّ اَبَاہُ حَدَّثَہُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ زُھَیْرٌ: لَاشَکَّ فِیْہِ قَالَ: ((اِنَّ الْھَدْیَ الصَّالِحَ، وَالسَّمْتَ الصَّالِحَ، وَالْاِقْتَصَادَجُزْئٌ مِنْ خَمْسَۃٍ وََعِشْرِیْنَ جُزْئً ا مِنَ النُّبُوَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۶۹۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک نیک سیرت اور مناسب وقار و تمکنت اور میانہ روی نبوت کا پچیسواں حصہ ہے۔
Takhreej
(۹۵۶۶) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الطبرانی: ۱۲۶۰۸، والبیھقی فی الشعب : ۶۵۵۵ (انظر: ۲۶۹۸)
Explanation
فوائد:… نہ نبوت کے اجزاء بنائے جا سکتے ہیں اور نہ اس حدیث کا یہ مطلب ہے کہ ان صفات سے متصف آدمی پچیسویں درجے کا نبی ہوتا ہے یا اس کے اندر کا پچیسواں حصہ پایا جاتا ہے۔ اس حدیث مبارکہ کی درج ذیل توجیہات کی جا سکتی ہیں: ۱۔ یہ صفات انبیائے کرام کے فضائل کا پچیسواں حصہ ہیں۔ ۲۔ انبیائے کرام جو شریعت لائے اور جس کی طرف لوگوں کو دعوت دی،یہ صفات اس کا پچیسواں حصہ ہیں۔ ۳۔ ان صفات سے متصف آدمی اس چیز کا حقدار ہے کہ اس کی تعظیم کی جائے اور اللہ تعالیٰ اس کو اس مقدار کے مطابق تقوی کا لباس پہنا دے۔ بہرحالیہ صفات اللہ تعالیٰ کو اتنی پسند ہیں کہ اس نے انبیائے کرام کو ان سے متصف کیے رکھا، اس لیے ہمیں بھی خصالِ حمیدہ سے متصف ہونے کی کوشش کرنی چاہیے۔
9566
Sahih
ثلاثیات کا بیان
۔ (۹۵۶۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَجْتَمِعَانِ فِی النَّارِ اِجْتِمَاعًا یَضُرُّ اَحَدَھُمَا، مُسْلِمٌ قَتَلَ کَافِرًا ثُمَّ سَدَّدَ الْمُسْلِمُ اَوْ قَارَبَ، وَلَا یَجْتَمِعَانِ فِیْ جَوْفِ عَبْدٍ، غُبَارٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَدُخَانُ جَھَنَّمَ، وَلَا یَجْتَمِعَانِ فِیْ قَلْبِ عَبْدٍ، الْاِیْمَانُ وَالشُّحُّ۔)) (مسند احمد: ۸۴۶۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو آدمی آگ میں اس طرح جمع نہیںہو سکتے کہ ان میں سے کسی ایک کو نقصان ہو، وہ مسلمان جو کافر کو قتل کرے اور پھر راہِ صواب پر چلتا رہے اور میانہ روی اختیار کرے، دو چیزیں بندے کے پیٹ میں جمع نہیں ہو سکتیں، اللہ تعالیٰ کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں، کسی آدمی کے دل میں دو چزیں جمع نہیں ہو سکتیں، ایمان اور لالچ۔
Takhreej
(۹۵۶۷) تخریج: صحیح، أخرجہ النسائی: ۶/ ۱۲ (انظر: ۸۴۷۹)
9567
Sahih