TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

عدد سے ابتداء ہونے والی سداسیات کا بیان

Chapter 11 of ترغیبات میں آداب، مواعظ، حکمتوں اور جوامع الکلم کی جامع کتاب، میں ثلاثیات سے ابتداء کی جائے گی، علی ہذا القیاس in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 11 of 16 · 3 Hadith
۔ (۹۶۲۹)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لِلْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ مِنَ الْمَعْرُوْفِ سِتٌّ، یُسَلِّمُ عَلَیْہِ اِذَا لَقِیَہُ، وَیُشَمِّتُہُ اِذَا عَطَسَ، وَیَعُوْدُہُ اِذَا مَرِضَ، وَیُجِیْبُہُ اِذَا دَعَاہُ، وَیَشْھَدُہُ اِذَا تُوُفِّیَ، وَیُحِبُّ لَہُ مَایُحِبُّ لِنَفْسِہِ، وَیَنْصَحُ لَہُ بِالْغَیْبِ۔)) (مسند احمد: ۶۷۳)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمان کے مسلمان پر نیکی کی صورت میں چھ حقوق ہیں، جب اس سے ملاقات ہو تو سلام کرے، جب وہ چھینکے تو یَرْحَمُکَ اللّٰہ کہے، جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرے، جب وہ اس کو دعوت دے تو قبول کرے، جب وہ فوت ہو جائے تو نماز جنازہ میں شرکت کرے، جو کچھ اپنے لیے پسند کرے، وہ اس کے لیے بھی پسند کرے اور اس کی عدم موجودگی میں اس کی خیرخواہی کرے۔
Takhreej
(۹۶۲۹) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۴۳۳، والترمذی: ۲۷۳۶ (انظر: ۶۷۳)
9629
Sahih
۔ (۹۶۳۰)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أِضْمَنُوْا لِیْ سِتًّا مِنْ أنْفُسِکُمْ اَضْمَنْ لَکُمُ الْجَنَّۃَ: اُصْدُقُوْا إذَا حَدَّثْتُمْ وَأَوْفُوْا إذَا وَعَدْتُّمْ وَأَدُّوْا إذَا ائْتُمِنْتُمْ وَاحْفَظُوْا فُرُوْجَکُمْ وَغُضُّوْا أبْصَارَکُمْ وَکُفُّوْا أیْدِیَکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۳۷)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم لوگ مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دے دو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں (۱)جب بات کرو تو سچ بولو (۲) جب وعدہ کرو تو پورا کرو (۳)جب تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو اداکرو (۴) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو (۵) اپنی آنکھوں کو نیچا رکھو (۶) اور اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو۔
Takhreej
(۹۶۳۰) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابن حبان: ۲۷۱، والحاکم: ۴/ ۳۵۸، والبیھقی: ۶/ ۲۸۸ (انظر: ۲۲۷۵۷)
9630
Sahih
۔ (۹۶۳۱)۔ عَنْ خُرَیْمِ بْنِ فَاتِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْاَعْمَالُ سِتَّۃٌ وَالنَّاسُ اَرَبعَۃٌ، فَمُوْجِبَتَانِ، وَمِثْلٌ بِمِثْلٍ، وَحَسَنَۃٌ بِعَشْرِ اَمْثَالِھَا، وَحَسَنَۃٌ بِسَبْعِمَائِۃٍ، فَاَمَّا الْمُوْجِبَتَانِ فَمَنْ مَاتَ لَا یُشْرِکُ بِاللّٰہِ شَیْئًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ، وَمَنْ مَاتَ یُشْرِکْ بِاللّٰہِ شَیئاً دَخَلَ النَّارَ، وَاَمَّا مِثْلٌ بِمِثْلٍ فَمَنْ ھَمَّ بِحَسَنَۃٍ حَتّٰییَشْعُرَھَا قَلْبُہُ وَیَعْلَمَھَا اللّٰہُ مِنْہُ کُتِبَتْ لَہْ حَسَنَۃً،وَمَنْ عَمِلَ سَیِّئَۃًکُتِبَتْ عَلَیْہِ سَیِّئَۃً، وَمَنْ عَمِلَ حَسَنَۃً فَبِعَشْرِ اَمْثَالِھَا، وَمَنْ اَنْفَقَ نَفَقَۃً فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَحَسَنَۃٌ بِسَبْعِمِائَۃٍ، وَاَمَّا النَّاسُ فَمُوَسَّعٌ عَلَیْہِ فِیْ الدُّنْیَا مَقْتُوْرٌ عَلَیْہِ فِیْ الآخِرَۃِ، وَمَقْتُوْرٌ عَلَیْہِ فِیْ الدُّنْیَا، مُوَسَّعٌ عَلَیْہِ فِیْ الْآخِرَۃِ، وَمَفْتُوْرٌ عَلَیْہِ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَمُوَسَّعٌ عَلَیْہِ فِیْ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۱۰۷)
۔ سیدنا خریم بن فاتک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اعمال چھ ہیں اور لوگ چار ہیں، دو واجب کرنے والے ہیں، دو ہم مثل ہیں، ایک نیکی دس گناہ ہے اور ایک نیکی سات سو گناہے، دو واجب کرنے والے یہ ہیں: جو اس حال میں مرا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو، جنت میں داخل ہو گیا اور جو اس حال میں مرا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہو، وہ جہنم میں داخل ہو گا۔ دو ہم مثل یہ ہیں: جس نے نیکی کرنے کا اتنا ارادہ کیا کہ اس کے دل کو سمجھ آگئی اور اللہ تعالیٰ نے اس کو جان لیا تو اس کی ایک نیکی لکھی جائے گی اور جو ایک برائی کرے گا، اس کی ایک برائی ہی لکھی جائے گی، جو ایک نیکی کرے گا، اس کو ثواب دس گنا ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرکے ایک نیکی کرے گا، اس کا اجر سات سو گنا ہو گا، رہا مسئلہ لوگوں کا ، تو جس پر دنیا میں وسعت کی جائے گی، آخرت میں اس پر تنگی کی جائے گی، جس پر دنیا میں تنگی کی جائے گی، آخرت میں اس پر وسعت پیدا کی جائے گی اور بعض ایسے ہیں کہ دنیا و آخرت میں ان پر وسعت اختیار کی جائے گی۔
Takhreej
(۹۶۳۱) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۴۱۵۱، والحاکم: ۲/ ۸۷، وأخرجہ مختصرا الترمذی: ۱۶۲۵(انظر: ۱۸۹۰۰)
Explanation
فوائد:… آخری جملے میں مذکورہ وسعت سے مرادوہ مال و دولت وغیرہ ہے، جس کے ساتھ شریعت کا حق ادا نہ کیا گیا ہو، اسی طرح جو آدمی دنیا میں تنگی میں مبتلا ہو تو اس کو چاہیے کہ اس آزمائش میں شریعت کے تقاضے پورے کرے۔ آخری جملے میں (اما الناس…) لوگوں کی چار قسمیں بیان ہوئی ہیں۔ ۱۔ مال دار ہیں لیکن اس کے حقوق ادا کرنے سے غافل رہے تو آخرت میں ان پر تنگی ہو گی۔ ۲۔ دنیا میں مالی لحاظ سے تنگی والے لیکن آخرت میں ان کے لیے فراخی ہو گی کیونکہ وہ مالی لحاظ سے تنگ دست ہونے کے با وصف اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار تھے۔ ۳۔ دنیا میں فقیر و محتاج اور اللہ کے نافرمان، اللہ کی نافرمانی کی وجہ سے آخرت میں تنگی والے۔ ۴۔ دنیا میں مالدار اور اللہ کے مطیع اور صحیح مسلم، ان کے لیے آخرت میں فراخی ہی فراخی ہے۔
9631
Sahih