TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

غیبت اور بہتان سے ترہیب کا بیان - غیبت اور بہتان سے ترہیب کا بیان - زبان کی آفتوں کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of زبان کی آفتوں کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 30 · 8 Hadith
۔ (۹۸۷۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ھَلْ تَدْرُوْنَ مَاالْغِیَابَۃُ۔)) قَالُوْا: اللّٰہُ وَرَسُولُہُ اَعْلَمُ، قَالَ: ((ذِکْرُکَ اَخَاکَ بِمَا لَیْسَ فِیْہَ۔))، قَالَ: اَرَاَیْتَ اِنْ کَانَ فِیْ اَخِیْ مَا اَقُوْلُ لَہُ؟ قَالَ: ((اِنْ کَانَ فِیْہِ مَا تَقُوْلُ: فقَدِ اغْتَبْتَہُ، وَاِنْ لَّمْ یَکُنْ فِیْہِ فَقَدْ بَھَتَّہُ۔)) (مسند احمد: ۷۱۴۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟ صحابہ نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرا اپنے بھائی کے وہ عیوب بیان کرنا، جو اس میں ہیں۔ ایک آدمی نے کہا: میں اپنے بھائی کے بارے میں جو کچھ کہوں، اگر وہ عیوب اس کے اندر پائے جاتے ہوں تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کچھ تو کہہ رہا ہے، اگر وہ چیزیں اس میں پائی جاتی ہیں تو تو نے اس کی غیبت کی ہے اور اگر وہ نقائص اس میں نہیں ہیں تو تو نے اس پر بہتان لگایا ہے۔
Takhreej
(۹۸۷۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۵۸۹(انظر: ۷۱۴۶)
Explanation
فوائد:… مطلب بن عبدالملک بن حنطب سے مرسلًا روایت ہے، وہ کہتے ہیں: أنَّ رَجُلاً سَألَ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَاالْغِیْبَۃُ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أنْ تَذْکُرَ مِنَ الْمَرْئِ مَایَکْرَہُ أنْ یَسْمَعَ۔)) قَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَإنْ کَانَ حَقًّا؟ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إذَا قُلْتَ بَاطِلاً فَذٰلِکَ الْبُھْتَانُ۔)) … ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا: غیبت کیا ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کی ایسی بات بیان کرنا ، جس کو وہ سننا نا پسند کرے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگرچہ وہ بات حق (اور درست) ہو؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو نے (کسی کے بارے میں) غیر حق بات کی تو وہ تو بہتان ہو گا (نہ کہ غیبت)۔ (موطا امام مالک: ۳/۱۵۰، صحیحہ: ۱۹۹۲) اس میں غیبت اور بہتان دونوں کے معنی و مفہوم اور شناعت و قباحت کو بیان کیا گیا ہے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہماری کامیابی اور کامرانی کے لیے ہمارے سامنے ایک معیار رکھ دیا ہے کہ ہم کسی پر تبصرہ کرنے لگیں تو پہلے غور کریں کہ آیا اُس آدمی کی موجودگی میں یہ گفتگو کی جا سکتی ہے، اگر نہیں کی جا سکتی ہے تو فوراً رک جانا چاہئے۔ اگر اس روایت کے طرق اور سیاق و سباق کو دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ لَیْسَ کے الفاظ اس حدیث کا حصہ نہیں ہیں،یہ کسی راوی سے کوئی سہو ہو گیا ہے، ترجمہ میں اس لَیْسَ کے لفظ کو مد نظر نہیں رکھا گیا۔
9874
Sahih
۔ (۹۸۷۵)۔ عَنْ اَبِیْ بَرْزَۃَ الْاَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: نَادٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی اَسْمَعَ الْعَوَاتِقَ فَقَالَ:) ((یَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِہِ وَلَمْ یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ قَلْبَہُ، لَا تَغْتَابُوْا الْمُسْلِمِیْنَ وَلَا تَتَّبِعُوْا عَوْرَاتِھِمْ، فَاِنَّہُ مَنْ یَتَّبِعْ عَوْرَاتِھِمْ یَتَّبِِعِ اللّٰہُ عَوْرَتَہُ، وَمَنْ یَتَّبِِعِ اللّٰہُ عَوْرَتَہُ یَفْضَحْہُ فِیْ بَیْتِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۱۴)
۔ سیدنا ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس قدر بلند آواز دی کہ جوان عورتوں نے بھی سن لیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ان افراد کی جماعت جو زبان سے ایمان لائے ہو اور ابھی تک ایمان دل میں داخل نہیں ہوا، تم مسلمانوں کی غیبت نہ کیا کرو اور ان کے پردے والے امور کی ٹوہ میں نہ لگو، جو ان کے معائب کو تلاش کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے عیب کی تلاش میں پڑ جائے گا اور اللہ تعالیٰ جس کے عیب کی جستجو میں پڑ جاتا ہے، اس کو اس کے گھر میں رسوا کر دیتا ہے۔
Takhreej
(۹۸۷۵) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۴۸۸۰ (انظر: ۱۹۷۷۶)
9875
Sahih
۔ (۹۸۷۶)۔ عَنْ اَبِیْ حُذَیْفَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، حَکَتْ اِمْرَاَۃً عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَکَرَتْ قِصَرَھَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَدِ اغْتَبْتِھَا، مَا اُحِبُّ اَنَّیْ حَکَیْتُ اَحَدًا وَاَنَّ لِیْ کَذَا وَکَذَا۔)) (مسند احمد: ۲۶۲۲۷)
۔ سیدنا ابو حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک عورت کی نقل اتاری اور اس کے کوتاہ قد کا ذکر کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے اس کی غیبت کی ہے، میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میں کسی کی نقل اتاروں اور اس کے عوض میں مجھے اتنا کچھ عطا کر دیا جائے۔
Takhreej
(۹۸۷۶) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ ابوداود: ۴۸۷۵، والترمذی: ۲۵۰۲، ۲۵۰۳ (انظر: ۲۵۷۰۸)
9876
Sahih
۔ (۹۸۷۷)۔ (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) عَنْ اَبِیْ حُذَیْفَۃَ اَیْضًا، عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَتْ: حَکَیْتُ لِلنَّبِیِّ رَجُلًا ، فَقَالَ: ((مَایَسُرُّنِیْ اَنِّیْ حَکَیْتُ رَجُلًا وَاَنَّ لِیْ کَذَا وَکَذَا)) قَالَتْ: قُلْتُ: یارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ صَفِیِّۃَ امْرَاَۃٌ وَقَالَ: بِیَدِہِ (یَعْنِیْ الرَّاوِیَ) کَاَنَّہُ یَعْنِیْ قَصِیْرَۃً فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لقَدْ مَزَحْتِ (وَفِیْ لَفْظٍ: تَکَلَّمْتِ) بِکَلِمَۃٍ لَوْ مُزِجَ بِھَا مَائُ الْبَحْرِ مَزَجَتْ۔)) (مسند احمد: ۲۶۰۷۵)
۔ (دوسری سند) عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے ایک مرد کی نقل اتارنے لگی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں پسند نہیں کرتا کہ کسی کی نقالی کروں، اگرچہ اس کے عوض میں مجھے بہت کچھ دیا جائے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک صفیہ تو چھوٹے قد والی خاتون ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ سن کر فرمایا: تم نے ایسی بات کی ہے کہ اگر اس کو سمندر کے پانی کے ساتھ ملا دیا جائے تو وہ مل جائے گی (یعنی بات کی گندگی سمندر کے پانی پر غالب آکر اسے خراب کر دے گی)۔
Takhreej
(۹۸۷۷) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے حقارت آمیز انداز میں ایک عورت کی نقل اتارنا چاہی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے جواب کا مفہوم یہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس سے کوئی خوشی نہیں ہوتی کہ آپ کسی کے عیب کا تذکرہ کریںیا از راہِ تنقیص کسی کے فعل یا قول کی نقالی کریں۔ امام نووی نے کہا: اس حدیث میں غیبت سے سب سے زیادہ ڈانٹا گیا ہے، میرے علم میں کوئی ایسی حدیث نہیں ہے، جس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس قدر مذمت کی ہے۔
9877
Sahih
۔ (۹۸۷۸)۔ عَنْ عُبَیْدٍ مَوْلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، اَنَّ امْرَاَتَیْنِ صَامَتَا، وَاِنَّ رَجُلًا ، قَالَ: یارَسُوْلَ اللّٰہ! اِنَّ ھَاھُنَا امْرَاَتَیْنِ قَدْ صَامَتَا، وَاَنَّھُمْا قَدْ کَادَتَا اَنْ تَمُوْتَا مِنَ الْعَطْشِ، فَاَعْرَضَ عَنْہُ، اَوْ سَکَتَ، ثُمَّ عَادَ، (قَالَ الرَّاوِیُّ) وَاُرَاہُ قَالَ: بِالْھَاجِرَۃِ، قَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ، اِنَّھُمْا وَاللّٰہِ قَدْ مَاتَتَا، اَوْ کَادَتَا اَنْ تَمُوْتَا، قَالَ: ((ادْعُھُمَا۔)) قَالَ: فَجَائَ تَا، قَالَ: فَجِیْئَ بِقَدَحٍ، اَوْ عُسٍّ، فَقَالَ: لِاِحْدَاھُمَا: ((قِیْئِیْ۔)) فَقَائَتْ قَیْحًا اَوْ دَمًا وَصَدِیْدًا وَلَحْمًا، حَتّٰی قَائَتْ نِصْفَ الْقَدَحِ۔ ثُمَّ قَالَ لِلْاُخْرٰی: ((قِیْئِیْ۔)) فَقَائَتْ مِنْ قَیْحٍ، وَدَمٍ، وَصَدِیْدٍ، وَلَحْمٍ عَبِیْطٍ، وَغَیْرِہِ، حَتّٰی مَلَاَتِ الْقَدَحَ۔ ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّ ھَاتَیْنِ صَامَتَا عَمَّا اَحَلَّ اللّٰہُ، وَاَفْطَرَتَا عَلٰی مَا حَرَّمَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْھِمَا، جَلَسَتْ اِحْدَاھُمَا اِلَی الْاُخْرٰی، فَجَعَلَتَا یَاْکْلَانِ لُحُوْمَ النَّاسِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۰۵۳)
۔ مولائے رسول سیدنا عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ دو عورتوں نے روزہ رکھا ہوا تھا، ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہاں دو عورتیں ہیں، انھوں نے روزہ رکھا ہوا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ وہ پیاس کی وجہ سے مرنے لگی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے اعراض کیایا خاموش رہے، اس نے پھر اپنی بات کو دوہرایا اور دوپہر کے وقت کا ذکر بھی کیا اور کہا: اللہ کی قسم! وہ تو مرنے لگی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان دونوں کو بلا۔ پس جب وہ دونوں آئیں تو ایک بڑا پیالہ بھی لایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان میں سے ایک خاتون سے فرمایا: تو قے کر۔ پس اس نے پیپیا خون، خون ملی پیپ اور گوشت پر مشتمل نصف پیالے کے بقدر قے کی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسری خاتون سے فرمایا: اب تو قے کر۔ اس نے پیپ، خون، خون ملی پیپ اور کچے تازہ گوشت پرمشتمل اتنی قے کی کہ پیالہ بھر گیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان دو عورتوں نے اس کھانے پینے سے تو روزہ رکھا ہوا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے اور اس چیز پر روزہ افطار کر رہی ہیں، جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے، یہ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر لوگوں کا گوشت کھا رہی تھیں۔
Takhreej
(۹۸۷۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ الراوی عن عبید، أخرجہ ابویعلی فی مسندہ : ۱۵۷۶، والبیھقی فی الدلائل : ۶/۱۸۶(انظر: ۲۳۶۵۳)
9878
Zaeef
۔ (۹۸۷۹)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَارْتَفَعَتْ رِیْحُ جِیْفَۃٍ مُنْتِنَۃٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَتَدْرُوْنَ مَا ھٰذِہِ الرِّیْحُ؟ ھٰذِہِ رِیْحُ الَّذِیْنََیَغْتَابُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۴۴)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے کہ بد بو دار مرداروں کی بو اٹھنے لگی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ بد بو کیسی ہے؟ یہ ان لوگوں کی بد بو ہے، جو مؤمنوں کی غیبت کرتے ہیں۔
Takhreej
(۹۸۷۹) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ البخاری فی الادب المفرد : ۷۳۲ (انظر: ۱۴۷۸۴)
9879
Sahih
۔ (۹۸۸۰)۔ عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ یَزِیْدَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ ذَبَّ عَنْ لَحْمِ اَخِیْہِ فِیْ الْغِیْبَۃِ، کَانَ حَقًّا عَلَی اللّٰہِ اَنْ یُعْتِقَہُ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۲۸۱۶۲)
۔ سیدہ اسماء بنت یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی کی عدم موجودگی میں اس کا دفاع کیا، تو اللہ تعالیٰ پر حق ہو گا کہ وہ اس کو آگ سے آزاد کر دے۔
Takhreej
(۹۸۸۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عبید اللہ بن زیاد، أخرجہ الطیالسی: ۱۶۳۲، والطبرانی فی الکبیر : ۲۴/ ۴۴۳(انظر: ۲۷۶۱۰)
9880
Zaeef
۔ (۹۸۸۱)۔ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسٰی قَالَ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ حَدَّثَنَا عُمَارَۃُ بْنُ غَزِیَّۃَ عَنْ یَحْیَی بْنِ رَاشِدٍ قَالَ خَرَجْنَا حُجَّاجًا عَشَرَۃً مِنْ أَہْلِ الشَّامِ حَتّٰی أَتَیْنَا مَکَّۃَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فَأَتَیْنَاہُ فَخَرَجَ إِلَیْنَایَعْنِی ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُہُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَدْ ضَادَّ اللّٰہَ فِی أَمْرِہِ وَمَنْ مَاتَ وَعَلَیْہِ دَیْنٌ فَلَیْسَ بِالدِّینَارِ وَلَا بِالدِّرْہَمِ وَلٰکِنَّہَا الْحَسَنَاتُ وَالسَّیِّئَاتُ وَمَنْ خَاصَمَ فِی بَاطِلٍ وَہُوَ یَعْلَمُہُ لَمْ یَزَلْ فِی سَخَطِ اللّٰہِ حَتّٰییَنْزِعَ وَمَنْ قَالَ فِی مُؤْمِنٍ مَا لَیْسَ فِیہِ أَسْکَنَہُ اللّٰہُ رَدْغَۃَ الْخَبَالِ حَتّٰییَخْرُجَ مِمَّا قَالَ۔)) (مسند احمد: ۵۳۸۵)
۔ حضرت عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کی سفارش، اللہ تعالیٰ کی کسی حد کے لیے رکاوٹ بن گئی ، اس نے اللہ کے حکم کی مخالفت کی، جو آدمی مقروض ہو کر مرا، تو (وہ یاد رکھے کہ) روزِ قیامت درہم و دینار کی ریل پیل نہیں ہو گی، وہاں تو نیکیوں اور برائیوں کا تبادلہ ہو گا۔ جس نے دیدۂ دانستہ باطل کے حق میں جھگڑا کیا وہ اس وقت تک اللہ تعالیٰ کے غیظ و غضب میں رہے گا جب تک باز نہیں آتا۔ جس نے مومن پر ایسے جرم کا الزام لگایا جو اس میں نہیں پایا جاتا اسے رَدْغَۃُ الْخَبَال (جہنمیوں کے پیپ) میں روک لیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ اس بات سے نکل آئے، جو اس نے کہی ہو گی۔
Takhreej
(۹۸۸۱) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الحاکم: ۲/ ۲۷، والبیھقی: ۶/ ۸۲، وأخرجہ ابوداود: ۳۵۹۷ دون قولہ: ومن مات وعلیہ دین… (انظر: ۵۳۸۵)
Explanation
فوائد:… اگر غیبت کا معنی و مفہوم سمجھنا مقصود ہو تو درج ذیل مثالوں پر غور کریں: سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: أنَّھُمْ ذَکَرُوْا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلاً فَقَالُوْا: لَایَأکُلُ حَتّٰییُطْعَمَ، وَلَا یَرْْْحَلُ حَتّٰییُرْحَلَ لَہُ فَقَالَ النَّبِیُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اغْتَبْتُمُوْہُ۔)) فَقَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! إنَّمَا حَدَّثْنَا بِمَا فِیْہِ۔ قَالَ: ((حَسْبُکَ إذَا ذَکَرْتَ أخَاکَ بِمَا فِیْہِ۔)) … وہ کہتے ہیں کہ صحابہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک آدمی کا ذکرکرتے ہوئے کہا:وہ اس وقت تک نہیں کھاتا جب تک اسے کھلایا نہ جائے اور جب تک اُسے سوار نہ کیاجائے وہ سوار بھی نہیں ہوتا۔نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے اُس کی غیبت کی ہے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے وہی (عیب) بیان کیا ہے جو اس میں موجود ہے۔ آپ نے فرمایا: (کسی کی غیبت کے لیے) تجھے یہی کافی ہے کہ تو اپنے بھائی کے اس (عیب) کا ذکر کرے جو اس میں ہے۔ (شعب الایمان: ۲/ ۳۰۴) غور فرمائیں کہ صحابہ کرام نے ایک آدمی کی طبعی سستی اور کاہلی کا ذکر کیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے بھی غیبت قرار دیا، معلوم ہوا کہ ہمیں کسی کی عدم موجودگی میں اس کی کسی قسم کی عیب جوئی کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کَانَتِ الْعَرَبُ تَخْدِمُ بَعْضُھَا بَعْضًا فِی الأسْفَارِ، وَکَانَ مَعَ أبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ رَجُلٌ یَخْدِمُھُمَا، فَنَامَا، فَاسْتَیْقَظَا، وَلَمْ یُھَیِّئْ لَھُمَا طَعَامًا، فَقَالَ أحَدُھُمَا لِصَاحِبِہِ: إنَّ ھٰذا لَیُوَائِمُ نَوْمَ نَبِیِّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: لَیُوَائِمُ نَوْمَ بَیْتِکُمْ) فَأیْقَظَاہُ فَقَالَا: ائْتِ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْ لَہُ: إنَّ أبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ یُقْرِئَانِکَ السَّلَامُ، وَھُمَاَ یَسْتَأدِمَانِکَ، فَقَالَ: ((أقْرِئْھُمَا السَّلَامَ، وَأخْبِرْھُمَاأنَّھُمَا قَدِ ائْتَدَمَا)) فَفَزِعَا، فَجَائَ ا إلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! بَعَثْنَا إلْیکَ َنَسْتَأدِمُکَ، فَقُلْتَ: قَدِ ائْتَدَمَا۔ فَبِأیِّ شَیْئٍ ائْتَدَمْنَا؟ قَالَ: ((بِلَحْمِ أخِیْکُمَا، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ إنِّی لَأرٰی لَحْمَہُ بَیْنَ أنْیَابِکُمَا۔)) قَالَا: فَاسْتَغْفِرْلَنَا، قَالَ: ((ھُوَ فَلْیَسْتَغْفِرْلَکُمَا۔)) … عرب کے لوگ سفر میں ایک دوسرے کی خدمت کیا کرتے تھے۔ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ و سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ ایک آدمی تھا جو ان دونوں کی خدمت کیاکرتا تھا۔ (ایک دن) وہ دونوں سو کر بیدار ہوئے تو خادم نے اُن کے لیے کھانا تیار نہیں کیا تھا۔ اُن میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: یہ خادم تمہارے نبی کی نیند کی موافقت کرتاہے۔ اور ایک روایت میں ہے: تمہارے گھر کی نیند کی موافقت کرتا ہے۔ دونوں نے اُسے جگایا اور کہا: تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جا اور آپ کو کہہ کہ ابوبکر اور عمر آپ کو سلام کہتے ہیں اور وہ آپ سے سالن طلب کر رہے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری طرف سے اُن دونوں کو سلام کہنا اوران کو بتلانا کہ تم دونوں نے سالن کھا لیاہے۔ پس ابوبکر وعمریہ سن کر گھبرا گئے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچے اور کہا: اے اللہ کے رسول!ہم نے (فلاں آدمی کو) آپ کی طرف سالن لینے کے لیے بھیجا تھا اور آپ نے فرمایا کہ تم دونوں سالن کھا چکے ہو، (بھلا) ہم نے کس چیز کا سالن کھا لیا ہے ؟ آپ نے فرمایا: اپنے بھائی کے گوشت کا، قسم ہے مجھے اس ذات کی کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اُس کا گوشت تمہاری کچلیوں کے درمیان دیکھ رہا ہوں۔ سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا : ہمارے لیے بخشش طلب فرمائیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس خادم کو ہی تمہارے لیے بخشش طلب کرنا چاہئے۔ (مساویء الأخلاق للخرائطی: ۱۸۶،صحیحہ:۲۶۰۸) اس حدیث میں سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر فاروق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے خادم کے بارے میں ، جبکہ وہ سویا ہوا تھا، یہ کہا کہ یہ تو سفر میں بھی گھر والی نیند ہی سوتا ہے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ یہ پہلے بیدار ہوتا اور ہمارے لیے کھانا تیار کر کے رکھتا ۔ لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس تبصرے کو بھی غیبت شمار کیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو یہ فرمایا کہ مجھے تمھارے دانتوں میں تمھارے بھائی کا گوشت نظر آ رہا ہے۔ یہ درج ذیل آیت کے مفہوم کی طرف اشارہ کیا:{وَلَا یَغْتَبْ بَّعْضُکُمْ بَعْضًا اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنْ یَّأْکُلَ لَحْمَ أَخِیْہِ مَیْتًا فَکَرِھْتُمُوْہُ} (سورۂ حجرات: ۱۲) … اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے، کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتاہے، (بلکہ) تم کو تو اس سے گھن ہو گی۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس شخص کی غیبت کی گئی، وہی غیبت کرنے والوں کے لیے بخشش طلب کرے، تاکہ ان کا جرم بے اثر ہو جائے۔
9881
Sahih

Chapters

30
01
کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان
13 Hadith
02
خاموشی کا بیان
3 Hadith
03
غیبت اور بہتان سے ترہیب کا بیان
8 Hadith
04
چغلخوری سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
05
جھوٹ سے ترہیب کا بیان
7 Hadith
06
ان لوگوں کا بیان، جن کو جھوٹا قرار دیا گیا ہے
2 Hadith
07
ان امور کا بیان، جن میں جھوٹ بولنا جائز ہوتا ہے
2 Hadith
08
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھوٹ بولنے سے ترہیب اور اس بارے میں سختی کا بیان
11 Hadith
09
مذاق کا بیان، نیزاس میں جھوٹ بولنے سے ترہیب کا بیان
13 Hadith
10
جھگڑا کرنے سے ترہیب کا بیان
4 Hadith
11
باچھین ہلا کر تکلّف و تصنّع سے گفتگو کرنے سے ترہیب اور واضح باتوں کا بیان
9 Hadith
12
بدگوئی اور جھوٹ پر مشتمل اور اللہ تعالیٰ سے دور کر دینے والے شعروں سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
13
شرعی مصلحت کی خاطر شعروں کے جواز کا بیان
6 Hadith
14
لبید اور امیہ بن ابی صلت کے اشعار کا بیان
5 Hadith
15
سیدنا عبد اللہ بن رواحہ اور سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے اشعار کا بیان
9 Hadith
16
دو دو امور کا بیان
2 Hadith
17
دو کے عدد سے شروع ہونے والے دو دو امور کا بیان
2 Hadith
18
تین تین امور کا بیان
9 Hadith
19
تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان
15 Hadith
20
چار چار امور کا بیان
5 Hadith
21
چار کے عدد سے شروع ہونے والے چار چار امور کا بیان
6 Hadith
22
پانچ پانچ امور کا بیان
5 Hadith
23
عدد سے شروع ہونے والے پانچ پانچ امور کا بیان
3 Hadith
24
چھ چھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
6 Hadith
25
سات سات امور کا بیان
2 Hadith
26
سات کے عدد سے شروع ہونے والے سات سات امور والی احادیث کا بیان
2 Hadith
27
آٹھ آٹھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
2 Hadith
28
آٹھ کے عدد سے شروع ہونے والی آٹھ آٹھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
1 Hadith
29
دس دس امور پر مشتمل احادیث کا بیان
2 Hadith
30
دس کے عدد سے شروع ہونے والے دس دس امور کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.