TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 9881 - غیبت اور بہتان سے ترہیب کا بیان - زبان کی آفتوں کے مسائل - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 8 of 8 in this chapter
غیبت اور بہتان سے ترہیب کا بیان
۔ (۹۸۸۱)۔ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسٰی قَالَ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ حَدَّثَنَا عُمَارَۃُ بْنُ غَزِیَّۃَ عَنْ یَحْیَی بْنِ رَاشِدٍ قَالَ خَرَجْنَا حُجَّاجًا عَشَرَۃً مِنْ أَہْلِ الشَّامِ حَتّٰی أَتَیْنَا مَکَّۃَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فَأَتَیْنَاہُ فَخَرَجَ إِلَیْنَایَعْنِی ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُہُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَدْ ضَادَّ اللّٰہَ فِی أَمْرِہِ وَمَنْ مَاتَ وَعَلَیْہِ دَیْنٌ فَلَیْسَ بِالدِّینَارِ وَلَا بِالدِّرْہَمِ وَلٰکِنَّہَا الْحَسَنَاتُ وَالسَّیِّئَاتُ وَمَنْ خَاصَمَ فِی بَاطِلٍ وَہُوَ یَعْلَمُہُ لَمْ یَزَلْ فِی سَخَطِ اللّٰہِ حَتّٰییَنْزِعَ وَمَنْ قَالَ فِی مُؤْمِنٍ مَا لَیْسَ فِیہِ أَسْکَنَہُ اللّٰہُ رَدْغَۃَ الْخَبَالِ حَتّٰییَخْرُجَ مِمَّا قَالَ۔)) (مسند احمد: ۵۳۸۵)
۔ حضرت عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کی سفارش، اللہ تعالیٰ کی کسی حد کے لیے رکاوٹ بن گئی ، اس نے اللہ کے حکم کی مخالفت کی، جو آدمی مقروض ہو کر مرا، تو (وہ یاد رکھے کہ) روزِ قیامت درہم و دینار کی ریل پیل نہیں ہو گی، وہاں تو نیکیوں اور برائیوں کا تبادلہ ہو گا۔ جس نے دیدۂ دانستہ باطل کے حق میں جھگڑا کیا وہ اس وقت تک اللہ تعالیٰ کے غیظ و غضب میں رہے گا جب تک باز نہیں آتا۔ جس نے مومن پر ایسے جرم کا الزام لگایا جو اس میں نہیں پایا جاتا اسے رَدْغَۃُ الْخَبَال (جہنمیوں کے پیپ) میں روک لیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ اس بات سے نکل آئے، جو اس نے کہی ہو گی۔
9881
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۹۸۸۱) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الحاکم: ۲/ ۲۷، والبیھقی: ۶/ ۸۲، وأخرجہ ابوداود: ۳۵۹۷ دون قولہ: ومن مات وعلیہ دین… (انظر: ۵۳۸۵)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… اگر غیبت کا معنی و مفہوم سمجھنا مقصود ہو تو درج ذیل مثالوں پر غور کریں: سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: أنَّھُمْ ذَکَرُوْا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلاً فَقَالُوْا: لَایَأکُلُ حَتّٰییُطْعَمَ، وَلَا یَرْْْحَلُ حَتّٰییُرْحَلَ لَہُ فَقَالَ النَّبِیُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اغْتَبْتُمُوْہُ۔)) فَقَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! إنَّمَا حَدَّثْنَا بِمَا فِیْہِ۔ قَالَ: ((حَسْبُکَ إذَا ذَکَرْتَ أخَاکَ بِمَا فِیْہِ۔)) … وہ کہتے ہیں کہ صحابہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک آدمی کا ذکرکرتے ہوئے کہا:وہ اس وقت تک نہیں کھاتا جب تک اسے کھلایا نہ جائے اور جب تک اُسے سوار نہ کیاجائے وہ سوار بھی نہیں ہوتا۔نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے اُس کی غیبت کی ہے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے وہی (عیب) بیان کیا ہے جو اس میں موجود ہے۔ آپ نے فرمایا: (کسی کی غیبت کے لیے) تجھے یہی کافی ہے کہ تو اپنے بھائی کے اس (عیب) کا ذکر کرے جو اس میں ہے۔ (شعب الایمان: ۲/ ۳۰۴) غور فرمائیں کہ صحابہ کرام نے ایک آدمی کی طبعی سستی اور کاہلی کا ذکر کیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے بھی غیبت قرار دیا، معلوم ہوا کہ ہمیں کسی کی عدم موجودگی میں اس کی کسی قسم کی عیب جوئی کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کَانَتِ الْعَرَبُ تَخْدِمُ بَعْضُھَا بَعْضًا فِی الأسْفَارِ، وَکَانَ مَعَ أبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ رَجُلٌ یَخْدِمُھُمَا، فَنَامَا، فَاسْتَیْقَظَا، وَلَمْ یُھَیِّئْ لَھُمَا طَعَامًا، فَقَالَ أحَدُھُمَا لِصَاحِبِہِ: إنَّ ھٰذا لَیُوَائِمُ نَوْمَ نَبِیِّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: لَیُوَائِمُ نَوْمَ بَیْتِکُمْ) فَأیْقَظَاہُ فَقَالَا: ائْتِ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْ لَہُ: إنَّ أبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ یُقْرِئَانِکَ السَّلَامُ، وَھُمَاَ یَسْتَأدِمَانِکَ، فَقَالَ: ((أقْرِئْھُمَا السَّلَامَ، وَأخْبِرْھُمَاأنَّھُمَا قَدِ ائْتَدَمَا)) فَفَزِعَا، فَجَائَ ا إلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! بَعَثْنَا إلْیکَ َنَسْتَأدِمُکَ، فَقُلْتَ: قَدِ ائْتَدَمَا۔ فَبِأیِّ شَیْئٍ ائْتَدَمْنَا؟ قَالَ: ((بِلَحْمِ أخِیْکُمَا، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ إنِّی لَأرٰی لَحْمَہُ بَیْنَ أنْیَابِکُمَا۔)) قَالَا: فَاسْتَغْفِرْلَنَا، قَالَ: ((ھُوَ فَلْیَسْتَغْفِرْلَکُمَا۔)) … عرب کے لوگ سفر میں ایک دوسرے کی خدمت کیا کرتے تھے۔ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ و سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ ایک آدمی تھا جو ان دونوں کی خدمت کیاکرتا تھا۔ (ایک دن) وہ دونوں سو کر بیدار ہوئے تو خادم نے اُن کے لیے کھانا تیار نہیں کیا تھا۔ اُن میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: یہ خادم تمہارے نبی کی نیند کی موافقت کرتاہے۔ اور ایک روایت میں ہے: تمہارے گھر کی نیند کی موافقت کرتا ہے۔ دونوں نے اُسے جگایا اور کہا: تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جا اور آپ کو کہہ کہ ابوبکر اور عمر آپ کو سلام کہتے ہیں اور وہ آپ سے سالن طلب کر رہے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری طرف سے اُن دونوں کو سلام کہنا اوران کو بتلانا کہ تم دونوں نے سالن کھا لیاہے۔ پس ابوبکر وعمریہ سن کر گھبرا گئے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچے اور کہا: اے اللہ کے رسول!ہم نے (فلاں آدمی کو) آپ کی طرف سالن لینے کے لیے بھیجا تھا اور آپ نے فرمایا کہ تم دونوں سالن کھا چکے ہو، (بھلا) ہم نے کس چیز کا سالن کھا لیا ہے ؟ آپ نے فرمایا: اپنے بھائی کے گوشت کا، قسم ہے مجھے اس ذات کی کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اُس کا گوشت تمہاری کچلیوں کے درمیان دیکھ رہا ہوں۔ سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا : ہمارے لیے بخشش طلب فرمائیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس خادم کو ہی تمہارے لیے بخشش طلب کرنا چاہئے۔ (مساویء الأخلاق للخرائطی: ۱۸۶،صحیحہ:۲۶۰۸) اس حدیث میں سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر فاروق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے خادم کے بارے میں ، جبکہ وہ سویا ہوا تھا، یہ کہا کہ یہ تو سفر میں بھی گھر والی نیند ہی سوتا ہے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ یہ پہلے بیدار ہوتا اور ہمارے لیے کھانا تیار کر کے رکھتا ۔ لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس تبصرے کو بھی غیبت شمار کیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو یہ فرمایا کہ مجھے تمھارے دانتوں میں تمھارے بھائی کا گوشت نظر آ رہا ہے۔ یہ درج ذیل آیت کے مفہوم کی طرف اشارہ کیا:{وَلَا یَغْتَبْ بَّعْضُکُمْ بَعْضًا اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنْ یَّأْکُلَ لَحْمَ أَخِیْہِ مَیْتًا فَکَرِھْتُمُوْہُ} (سورۂ حجرات: ۱۲) … اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے، کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتاہے، (بلکہ) تم کو تو اس سے گھن ہو گی۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس شخص کی غیبت کی گئی، وہی غیبت کرنے والوں کے لیے بخشش طلب کرے، تاکہ ان کا جرم بے اثر ہو جائے۔

Related Chapters

43
1
Chapter: What Has Been Related About The Severity Of Back Biting For The Fasting Person
باب: روزہ دار کے غیبت کرنے کی شناعت کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About Backbiting
باب: غیبت چغلی کا بیان
Jam e Tirmazi
3
بَابُ حِفْظِ اللِّسَانِ
حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان
Mishkat
4
روزے دار کو لغو، فحش کلامی اور غیبت سے متنبّہ کرنے اور ان امور کا روزے کے ثواب کو ضائع کر دینے کا بیان
Musnad Ahmad
5
ایسے امور کی ترہیب کا بیان جن کا تعلق بڑی نافرمانیوں سے ہے اور ان کو اکٹھا بیان کیا گیا ہے،نیز ان کے فاعل کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
6
والدین کی نافرمانی سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
7
قطع رحمی سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
8
ہمسائے کو تکلیف دینے سے ترہیب اور اس معاملے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
9
ریاکاری سے ترہیب کا بیان،یہی شرک ِ خفی ہے، ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں
Musnad Ahmad
10
تکبر اور بڑائی سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
11
نسب وغیرہ کے معاملے میں آباء پر مفاخرت کرنے سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
12
نفاق سے ترہیب اور منافقوں اور ان کی خصلتوں اور دو رخے آدمی کا بیان
Musnad Ahmad
13
دھوکے، عہد توڑنے اور اس کو پورا نہ کرنے سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
14
ظلم، باطل اور ان دونوں پر مدد کرنے سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
15
حسد، بغض اور دھوکے سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
16
مسلمان سے قطع تعلقی کرنے، اس کو گھبرانے اور نقصان پہنچانے سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
17
جاسوسی کرنے اور سوئے ظن رکھنے سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
18
صغیرہ گناہوں کو حقیر سمجھنے سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
19
خاوند اور اس کی بیوی اور خادم اور اس کے آقا کے درمیان جدائی ڈالنے سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
20
شبہے والے مواقع اور شک والے مقامات سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
21
نسب پر بھروسہ کرتے ہوئے عمل چھوڑ دینے سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
22
کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان
Musnad Ahmad
23
چغلخوری سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
24
جھوٹ سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
25
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھوٹ بولنے سے ترہیب اور اس بارے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
26
مذاق کا بیان، نیزاس میں جھوٹ بولنے سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
27
جھگڑا کرنے سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
28
باچھین ہلا کر تکلّف و تصنّع سے گفتگو کرنے سے ترہیب اور واضح باتوں کا بیان
Musnad Ahmad
29
بدگوئی اور جھوٹ پر مشتمل اور اللہ تعالیٰ سے دور کر دینے والے شعروں سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
30
لعنت کرنے سے ممانعت اور اس سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
31
مسلمان کو گالی دینے اور اس سے قتال کرنے سے ترہیب کا بیان اور یہ وضاحت کہ اس چیز کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہو گا، جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے
Musnad Ahmad
32
(88) CHAPTER. Punishment in the grave because of back-biting and soiling one's clothes with urine.
غیبت اور پیشاب کی آلودگی سے قبر کا عذاب ہونا
Sahih Bukhari
33
(45) CHAPTER. What is allowed of mentioning other people, for example, describing somebody as tall or short.
کسی آدمی کی نسبت یہ کہنا کہ لمبا یا چھوٹا ہے ، جائز ہے ( بشرطیکہ اس کی تحقیر کی نیت نہ ہو غیبت نہیں ہے )
Sahih Bukhari
34
(46) CHAPTER. Backbiting, and the Statement of Allah: ...And spy not, neither backbite one another... (V.49:12)
غیبت کا بیان
Sahih Bukhari
35
(48) CHAPTER. What is allowed as regards backbitings wicked and suspicious people.
مفسد اور شریر لوگوں کی یا جن پرگمان غالب برائی کا ہو ، ان کی غیبت درست ہونا
Sahih Bukhari
36
۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
Sahih Muslim
37
Chapter: The Prohibition Of Backbiting
غیبت کی حرمت
Sahih Muslim
38
CHAPTER: A Fasting Person Backbiting
باب: روزے میں غیبت کی برائی کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
39
CHAPTER: Regarding backbiting (al-ghibah).
باب: غیبت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
40
CHAPTER: Guarding the honor of one’s brother.
باب: جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کی طرف سے غیبت کا جواب دیا اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
41
CHAPTER: Cases where it is not backbiting.
باب: اس شخص کا بیان جس کی غیبت غیبت کے حکم میں نہیں ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
42
CHAPTER: Forgiving others for backbiting.
باب: اس شخص کا ذکر جس نے غیبت کرنے والے کو معاف کر دیا ۔
Sunnan Abu Dawood
43
غیبت اور فحش کلامی پر روزہ دار کے لیے وارد وعید کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
No related chapter matched that.

Related Hadith

10
Musnad Ahmad
641
۔ (۶۴۱)۔ عَنْ عَبْدِخَیْرٍ قَالَ: صَلَّیْنَا الْغَدَاۃَ فَأَتَیْنَاہُ (یَعْنِیْ عَلِیًّاؓ) فَجَلَسْنَا اِلَیْہِ فَدَعَا بِوَضُوئٍ فَأُتِیَ بِرَکْوَۃٍ فِیہَا مَائٌ وَطَسْتٍ، قَالَ: فَأَفْرَغَ الرَّکْوَۃَ عَلٰی یَدِہِ الْیُمْنٰی فَغَسَلَ یَدَیْہِ ثَلَاثًا وَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا بِکَفٍّ کَفٍّ (وَفِی رِوَایَۃٍ: فَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا مِنْ کَفٍّ وَاحِدٍ) ثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ ثَلَاثًا وَذِرَاعَیْہِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ وَضَعَ یَدَہُ فِی الرَّکْوَۃِ فَمَسَحَ بِہَا رَأْسَہُ بِکَفَّیْہِ جَمِیْعًا مَرَّۃً وَاحِدَۃً ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَیْہِ ثَلَا ثًا ثَلَا ثًا ثُمَّ قَالَ: ھٰذَا وُضُوئُ نَبِیِّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاعْلَمُوْہُ۔(مسندأحمد:۱۰۲۷)
عبد ِ خیر کہتے ہیں: ہم نمازِ فجر ادا کر کے سیدنا علی ؓ کے پاس آئے اور ان کے ہاں بیٹھ گئے، انھوں نے وضو کا پانی منگوایا، پس ایک برتن لایا گیا، جس میں پانی تھا اور چلمچی لائی گئی پس انھوں نے اپنے دائیں ہاتھ پر پانی بہایا اور دونوں ہاتھوں کو تین دفعہ دھویا، پھر ایک ایک چلّو کر کے تین تین کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا۔ ایک روایت میں ہے: ایک ہی چلّو سے تین دفعہ کلی کی اور تین دفعہ ناک میں پانی چڑھایا، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا اور بازوؤں کو تین تین دفعہ دھویا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں رکھا اور دونوں ہتھیلیوں کے ساتھ ایک دفعہ سرکا مسح کیا، پھر تین تین بار اپنے پاؤں کو دھویا اور پھر کہا: یہ تمہارے نبی کا وضو ہے، اس کو سیکھ لو۔
Musnad Ahmad
5012
۔ (۵۰۱۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: کُنْتُ فِی سَرِیَّۃٍ مِنْ سَرَایَا رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحَاصَ النَّاسُ حَیْصَۃً، وَکُنْتُ فِیمَنْ حَاصَ، فَقُلْنَا: کَیْفَ نَصْنَعُ وَقَدْ فَرَرْنَا مِنْ الزَّحْفِ وَبُؤْنَا بِالْغَضَبِ، ثُمَّ قُلْنَا: لَوْ دَخَلْنَا الْمَدِینَۃَ فَبِتْنَا ثُمَّ قُلْنَا: لَوْ عَرَضْنَا أَنْفُسَنَا عَلَی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَإِنْ کَانَتْ لَہُ تَوْبَۃٌ وَإِلَّا ذَہَبْنَا، فَأَتَیْنَاہُ قَبْلَ صَلَاۃِ الْغَدَاۃِ، فَخَرَجَ فَقَالَ: ((مَنِ الْقَوْمُ؟)) قَالَ: فَقُلْنَا نَحْنُ الْفَرَّارُونَ، قَالَ: ((لَا بَلْ أَنْتُمْ الْعَکَّارُونَ، أَنَا فِئَتُکُمْ، وَأَنَا فِئَۃُ الْمُسْلِمِینَ۔)) قَالَ: فَأَتَیْنَاہُ حَتّٰی قَبَّلْنَا یَدَہُ۔ (مسند أحمد: ۵۳۸۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بھیجے ہوئے سرایا میں سے ایک سریّہ کی بات ہے، میں خود بھی اس میں تھا، لوگوں نے بھاگنا شروع کر دیا اور میں بھی فرار اختیار کرنے والوں میں سے تھا، پھر ہم نے کہا: اب ہم کیا کریں، ہم تو لڑائی سے بھاگے ہیں اور غضب ِ الہی کے ساتھ لوٹے ہیں، پھر ہم نے کہا: اب ہم مدینہ میں داخل ہو جائیں اور اندر جا کر رات گزاریں، لیکن پھر ہمارے ذہن میں یہ بات آئی کہ ہم اپنے آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر پیش کرتے ہیں، اگر توبہ کا حق ہوا تو ٹھیک، وگرنہ ہم چلے جائیں گے، پس ہم نمازِ فجر سے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف لائے تو پوچھا: کون لوگ ہیں؟ ہم نے کہا: جی ہم ہیں، لڑائی سے بھاگ کر آ جانے والے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں نہیں، بلکہ تم تو قتال کی طرف پلٹ جانے والے ہو اور میں تمہارا مدد گار ہوں اور میں تمام مسلمانوں کی پناہ گاہ اور ان کا مددگار ہوں۔ پس ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب ہوئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ پر بوسہ لیا۔
Musnad Ahmad
5163
۔ (۵۱۶۳)۔ عَنْ اَبِیْ لَبِیْدٍ لِمَازَۃَ بْنِ زَبَّارٍ قَالَ: أُرْسِلَتِ الْخَیْلُ زَمَنَ الْحَجَّاجِ، فَقُلْنَا: لَوْ أَتَیْنَا الرِّہَانَ، قَالَ: فَأَتَیْنَاہُ ثُمَّ قُلْنَا: لَوْ أَتَیْنَا إِلٰی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فَسَأَلْنَاہُ ہَلْ کُنْتُمْ تُرَاہِنُونَ عَلٰی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: فَأَتَیْنَاہُ فَسَأَلْنَاہُ، فَقَالَ: نَعَمْ، لَقَدْ رَاہَنَ عَلٰی فَرَسٍ لَہُ یُقَالُ لَہُ: سَبْحَۃُ فَسَبَقَ النَّاسَ فَہَشَّ لِذٰلِکَ وَأَعْجَبَہُ۔ (مسند أحمد: ۱۲۶۵۴)
۔ ابو لبید لمازہ بن زبار کہتے ہیں: حجاج کے زمانے میں گھوڑوںمیں مقابلہ کیا گیا، ہم نے کہا: اگر ہم مقابلے والی جگہ پر پہنچ جائیں تو بہتر ہو گا، جب ہم اس مقام پر پہنچے تو ہم نے سوچا کہ اگر سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس چلے جائیں اور یہ سوال کر لیں کہ کیا وہ لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں انعام دینے کی شرط لگاتے تھے، پس ہم ان کے پاس گئے اور ان سے یہ سوال کیا، انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے خود سَبْحَہ نامی گھوڑے پر مقابلہ کیا تھا اور جب میں لوگوں سے سبقت لے گیا تو میں خوش ہوا اور اس چیز نے مجھے تعجب میں ڈالا۔
Musnad Ahmad
6069
۔ (۶۰۶۹)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: تُوُفِّیَ رَجُلٌ فَغَسَّلْنَاہُ وَحَنَّطْنَاہُ ثُمَّ أَتَیْنَا بِہٖرَسُوْلَاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ عَلَیْہِ، فَقُلْنَا: تُصَلِّیْ عَلَیْہِ، فَخَطَا خُطًی ثُمَّ قَالَ: ((أَعَلَیْہِ دَیْنٌ؟)) قُلْنَا: دِیْنَارَانِ، فَانْصَرَفَ فَتَحَمَّلَہَا اَبُوْ قَتَادَۃَ فَأَتَیْنَاہُ فَقَالَ اَبُوْ قَتَادَۃَ: الدِّیْنَارَانِ عَلَیَّ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَحَقَّ الْغَرِیْمِ، وَبَرِیئَ مِنْھُمَا الْمَیِّتُ؟)) قَالَ: نَعَمْ، فَصَلّٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذٰلِکَ بِیَوْمٍ: ((مَا فَعَلَ الدِّیْنَارَانِ؟)) فَقَالَ: إِنَّمَا مَاتَ أَمْسِ، قَالَ: فَعَادَ إِلَیْہِ مِنَ الْغَدِ، فَقَالَ: قَدْ قَضَیْتُہُمَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْآنَ بَرَدَتْ عَلَیْہِ جِلْدُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۹۰)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی فوت ہوا، پس ہم نے اسے غسل دیا اور خوشبو لگائی، پھر ہم اسے لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی نمازجنازہ ادا فرمائیں۔ ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا کہ آپ اس کی نمازِ جنازہ پڑھائیں، آپ چند قدم چل کررک گئے اور فرمایا: کیا اس پر قرض ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں، دودینار ہیں،یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو واپس چل پڑے،پھر سیدنا ابوقتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کی ادائیگی کی ذمہ داری اٹھائی اور ہم دوبارہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ سیدنا ابوقتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دودیناروں کی ذمہ داری لے لی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا اب قر ض خواہ تجھ سے یہ حق طلب کرے گا اور میت اس سے بری ہو گئی ہے؟ سیدنا ابوقتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی ہاں، تب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی نمازجنازہ ادا کی۔ ایک دن کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: وہ دیناروں کا کیا بنا؟ سیدناابوقتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ابھی کل تو وہ فوت ہوا ہے، پھر وہ لوٹے اور اگلے دن ان کی ادائیگی کر کے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے ان کو ادا کر دیا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب اس کی جلد ٹھنڈی ہوئی ہے۔
Musnad Ahmad
10848
۔ (۱۰۸۴۸)۔ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَمَّرَ عَلَیْنَا أَبَا عُبَیْدَۃَ نَتَلَقّٰی عِیرًا لِقُرَیْشٍ، وَزَوَّدَنَا جِرَابًا مِنْ تَمْرٍ لَمْ یَجِدْ لَنَا غَیْرَہُ، قَالَ: فَکَانَ أَبُو عُبَیْدَۃَیُعْطِینَا تَمْرَۃً تَمْرَۃً، قَالَ: قُلْتُ: کَیْفَ کُنْتُمْ تَصْنَعُونَ بِہَا؟ قَالَ: نَمَصُّہَا کَمَا یَمَصُّ الصَّبِیُّ ثُمَّ نَشْرَبُ عَلَیْہَا مِنَ الْمَائِ فَیَکْفِینَایَوْمَنَا إِلَی اللَّیْلِ، قَالَ: وَکُنَّا نَضْرِبُ بِعِصِیِّنَا الْخَبَطَ ثُمَّ نَبُلُّہُ بِالْمَائِ فَنَأْکُلُہُ، قَالَ: وَانْطَلَقْنَا عَلٰی سَاحِلِ الْبَحْرِ فَرُفِعَ لَنَا عَلٰی سَاحِلِ الْبَحْرِ کَہَیْئَۃِ الْکَثِیبِ الضَّخْمِ فَأَتَیْنَاہُ فَإِذَا ہُوَ دَابَّۃٌیُدْعَی الْعَنْبَرُ، قَالَ أَبُو عُبَیْدَۃَ، مَیْتَۃٌ، قَالَ حَسَنُ بْنُ مُوسٰی: ثُمَّ قَالَ: لَا بَلْ نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ ہَاشِمٌ فِی حَدِیثِہِ: قَالَ: لَا بَلْ نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَفِی سَبِیلِ اللّٰہِ، وَقَدْ اضْطُرِرْتُمْ فَکُلُوا، وَأَقَمْنَا عَلَیْہِ شَہْرًا، وَنَحْنُ ثَلَاثُ مِائَۃٍ حَتّٰی سَمِنَّا، وَلَقَدْ رَأَیْتُنَا نَغْتَرِفُ مِنْ وَقْبِ عَیْنَیْہِ بِالْقِلَالِ الدُّہْنَ، وَنَقْتَطِعُ مِنْہُ الْفِدَرَ کَالثَّوْرِ أَوْ کَقَدْرِ الثَّوْرِ، قَالَ: وَلَقَدْ أَخَذَ مِنَّا أَبُو عُبَیْدَۃَ ثَلَاثَۃَ عَشَرَ رَجُلًا فَأَقْعَدَہُمْ فِی وَقْبِ عَیْنِہِ وَأَخَذَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِہِ فَأَقَامَہَا ثُمَّ رَحَلَ أَعْظَمَ بَعِیرٍ مَعَنَا، قَالَ حَسَنٌ: ثُمَّ رَحَلَ أَعْظَمَ بَعِیرٍ کَانَ مَعَنَا فَمَرَّ مِنْ تَحْتِہَا، وَتَزَوَّدْنَا مِنْ لَحْمِہِ وَشَائِقَ،فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِینَۃَ أَتَیْنَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرْنَا ذَلِکَ لَہُ، فَقَالَ: ((ہُوَ رِزْقٌ أَخْرَجَہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لَکُمْ، فَہَلْ مَعَکُمْ مِنْ لَحْمِہِ شَیْئٌ؟ فَتُطْعِمُونَا۔)) قَالَ: فَأَرْسَلْنَا إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْہُ فَأَکَلَہُ۔ (مسند احمد: ۱۴۳۹۰)
جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں تین سو آدمیوں کے ایک دستہ کی صورت میں روانہ کیا اور ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ہمارے اوپر مقرر فرمایا۔ تاکہ ہم قریش کے ایک قافلہ کا مقابلہ کریں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں کھجوروں کی ایک تھیلی عنایت فرمائی۔ آپ کے پاس ہمیں دینے کے لیے اس علاوہ کے او رکچھ نہ تھا۔ سیدنا ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمیں روزانہ ایک ایک کھجور دیا کرتے تھے۔ ابوالزبیر کہتے ہیں میں نے پوچھا آپ اس کا کیا کرتے تھے؟ فرمایا ہم اسے چوستے رہتے تھے جیسے بچے کسی چیز کو چوستے رہتے ہیں۔ اور اس کے بعد ہم پانی نوش کر لیتے۔ سارا دن ہمارییہی خوراک ہوتی۔ اور ہم لاٹھیوں سے درختوں کے پتے جھاڑ تے اور انہیں پانی میں بھگو بھگو کر کھاتے۔ ہم ساحلِ سمندر پر چلے، ہمیں سمندر کے ساحل پر ایک بہت بڑا ٹیلہ سا دکھائی دیا۔ ہم وہاں پہنچے تو وہ عنبر نامی ایک جانور تھا۔ ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ یہ تو مردہ ہے۔ ( یعنی مردہ ہونے کی وجہ سے ہمارے لیے اس کو کھانا حلال نہیں) امام احمد کے شیخ حسن بن موسیٰ کہتے ہیں۔ ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پھر کہا، یہ حرام نہیں بلکہ ہم تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نمائندے ہیں۔ امام احمد کے دوسرے شیخ ھاشم نے اپنی حدیث میںیوں بیان کیا کہ بلکہ ہم تو اللہ کے نمائندے ہیں اور اللہ کی راہ میں نکلے ہوئے ہیں۔ اور تم اس وقت اضطرار کی کیفیت میں ہو پس اسے کھالو۔ ہم تین سو آدمی تھے۔ ہم نے وہاں ایک ماہ قیام کیا۔ ہم نے وہ اس قدر کھایا کہ ہم خوب موٹے تازے ہو گئے۔ ہم اس کی آنکھ کے گڑھے سے مٹکوں کے ذریعے چربی نکالتے تھے۔ اور اونٹو ں کے برابر برابر اس سے گوشت کے ٹکڑے کاٹتے تھے۔ ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہم میں سے تیرہ آدمیوں کو لے کر اس کی آنکھ کے گڑھے میں بٹھا دیا۔ اور اس کی ایک پسلی کو سیّدھا کھڑا کیا۔ پھر لشکر میں سے سب سے بڑے اونٹ پر پالان کسا تو اس کے نیچے سے گزر گئے۔ اور ہم اس کے گوشت کے ٹکرے نیم پختہ کر کے ساتھ لے گئے۔ مدینہ منورہ پہنچ کر ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ خصوصی رزق تھا جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے بھیجا تھا۔ تمہارے پاس اس کے گوشت میں سے کچھ بچا ہوا موجود ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ گے؟ چنانچہ ہم نے اس میں سے کچھ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں بھجوادیا۔
Musnad Ahmad
11205
۔ (۱۱۲۰۵)۔ حَدَّثَنِی سِنَانُ بْنُ أَبِی سِنَانٍ الدُّؤَلِیُّ وَأَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ الْأَنْصَارِیَّ، وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَخْبَرَ أَنَّہُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غَزْوَۃً قِبَلَ نَجْدٍ، فَلَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَفَلَ مَعَہُمْ، فَأَدْرَکَتْہُمْ الْقَائِلَۃُیَوْمًا فِی وَادٍ کَثِیرِ الْعِضَاہِ، فَنَزَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِی الْعِضَاہِ یَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ، وَنَزَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْتَظِلُّ تَحْتَ شَجَرَۃٍ، فَعَلَّقَ بِہَا سَیْفَہُ قَالَ جَابِرٌ: فَنِمْنَا بِہَا نَوْمَۃً، ثُمَّ إِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدْعُونَا فَأَتَیْنَاہُ فَإِذَا عِنْدَہُ أَعْرَابِیٌّ جَالِسٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنَّ ہٰذَا اخْتَرَطَ سَیْفَہُ وَأَنَا نَائِمٌ فَاسْتَیْقَظْتُ وَہُوَ فِییَدِہِ صَلْتًا، فَقَالَ: مَنْ یَمْنَعُکَ مِنِّی؟ فَقُلْتُ: اللَّہُ، فَقَالَ: مَنْ یَمْنَعُکَ مِنِّی؟ فَقُلْتُ: اللّٰہُ۔)) فَشَامَ السَّیْفَ وَجَلَسَ فَلَمْ یُعَاقِبْہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ فَعَلَ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۴۳۸۷)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں نجد کی جانب ایک غزوہ کیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غزوہ سے واپس ہوئے تو سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی لوگوں کے ساتھ واپس آئے، واپسی پر دوران سفر قافلہ ایک ایسی وادی میں ٹھہرا جہاں خاردار درخت بکثرت تھے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک جگہ نزول فرما ہوئے اور لوگ خاردار درختوں کے نیچے سائے کی تلاش میں ادھر ادھر بکھر گئے، اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی ایک درخت کے نیچے سائے میں ٹھہرے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی تلوار درخت کے ساتھ لٹکا دی۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم اپنی اپنی جگہ جا کر سو گئے، اتنے میں ہم نے سنا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں پکار رہے تھے، ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریبآئے تو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک بدو بیٹھا ہوا ہے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا، اس نے آکر میری تلوار سونت لی، میں بیدارہوا تو تلوار اس کے ہاتھ میں لہرا رہی تھی،یہ کہنے لگا کہ تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟ تو میں نے کہا، مجھے تیرے شرسے اللہ بچائے گا، اس نے پھر کہا کہ تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟ میں نے کہاکہ اللہ تعالی۔ اس نے تلوار کو واپس نیام میں رکھ دیا اور بیٹھ گیا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے کچھ نہ کہا حالانکہ وہ اتنا بڑا کام کر چکا تھا۔
Musnad Ahmad
11322
۔ (۲۰/۱۱۳۲۲)۔ حَدَّثَنَا یُونُسُ، قَال: حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ، قَال: حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَقَالَ غَیْرُیُونُسَ ابْنُ رَزِینٍ أَنَّہُ نَزَلَ الرَّبَذَۃَ ہُوَ وَأَصْحَابٌ لَہُ یُرِیدُونَ الْحَجَّ، قِیلَ لَہُمْ: ہَاہُنَا سَلَمَۃُ بْنُ الْأَکْوَعِ صَاحِبُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَأَتَیْنَاہُ فَسَلَّمْنَا عَلَیْہِ، ثُمَّ سَأَلْنَاہُِ فَقَال: بَایَعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِی ہَذِہِ ، وَأَخْرَجَ لَنَا کَفَّہُ کَفًّا ضَخْمَۃً، قَال: فَقُمْنَا إِلَیْہِ فَقَبَّلْنَا کَفَّیْہِ جَمِیعًا۔(مسند احمد: ۱۶۶۶۶)
جناب عطاف کہتے ہیں: عبد الرحمن بن رزین اپنے ساتھیوں سمیت ربذہ مقام پر اترے، وہ حج کرنے کے لیے جا رہے تھے، ان سے کسی نے کہا کہ اللہ کے رسول کے صحابی سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہاں موجود ہیں، وہ کہتے ہیں: پس ہم ان کے پاس آئے، ان کو سلام کہا اور پھر ہم نے ان سے سوالات کیے، انھوں نے کہا: میں نے اس ہاتھ سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی تھی، پھر انھوں نے اپنا ہاتھ نکالا، ان کی ہتھیلی بڑی تھی، پس ہم نے اٹھ کر ان کی طرف گئے اور ان کی دونوں ہتھیلیوں کا بوسہ لیا۔
Musnad Ahmad
11459
۔ (۱۱۴۵۹)۔ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: کُنْتُ رَدِیفَ أَبِی طَلْحَۃَیَوْمَ خَیْبَرَ، وَقَدَمِی تَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَأَتَیْنَاہُمْ حِینَ بَزَغَتِ الشَّمْسُ وَقَدْ أَخْرَجُوا مَوَاشِیَہُمْ وَخَرَجُوا بِفُؤُوسِہِمْ وَمَکَاتِلِہِمْ وَمُرُونِہِمْ، فَقَالُوْا: مُحَمَّدٌ وَالْخَمِیسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اللّٰہُ أَکْبَرُ خَرِبَتْ خَیْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَۃِ قَوْمٍ فَسَائَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِینَ۔)) قَالَ: فَہَزَمَہُمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ، قَالَ: وَوَقَعَتْ فِی سَہْمِ دِحْیَۃَ جَارِیَۃٌ جَمِیلَۃٌ فَاشْتَرَاہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِسَبْعَۃِ أَرْؤُسٍ، ثُمَّ دَفَعَہَا إِلَی أُمِّ سُلَیْمٍ تُصْلِحُہَا وَتُہَیِّئُہَا وَہِیَ صَفِیَّۃُ ابْنَۃُ حُیَیٍّ، قَالَ: فَجَعَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلِیمَتَہَا التَّمْرَ وَالْأَقِطَ وَالسَّمْنَ، قَالَ: فُحِصَتِ الْأَرْضُ أَفَاحِیصَ، قَالَ: وَجِیئَ بِالْأَنْطَاعِ فَوُضِعَتْ فِیہَا، ثُمَّ جِیئََ بِالْأَقِطِ وَالتَّمْرِ وَالسَّمْنِ فَشَبِعَ النَّاسُ، قَالَ: وَقَالَ النَّاسُ: مَا نَدْرِی أَتَزَوَّجَہَا أَمْ اتَّخَذَہَا أُمَّ وَلَدٍ، فَقَالُوْا: إِنْ یَحْجُبْہَا فَہِیَ امْرَأَتُہُ وَإِنْ لَمْ یَحْجُبْہَا فَہِیَ أُمُّ وَلَدٍ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ یَرْکَبَ حَجَبَہَا حَتّٰی قَعَدَتْ عَلٰی عَجُزِ الْبَعِیرِ فَعَرَفُوا أَنَّہُ قَدْ تَزَوَّجَہَا، فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِینَۃِ دَفَعَ وَدَفَعْنَا، قَالَ: فَعَثَرَتِ النَّاقَۃُ الْعَضْبَائُ، قَالَ: فَنَدَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَدَرَتْ، قَالَ: فَقَامَ فَسَتَرَہَا، قَالَ: وَقَدْ أَشْرَفَتِ النِّسَائُ فَقُلْنَ: أَبْعَدَ اللّٰہُ الْیَہُودِیَّۃَ، فَقُلْتُ: یَا أَبَا حَمْزَۃَ! أَوَقَعَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: إِی وَاللّٰہِ لَقَدْ وَقَعَ، وَشَہِدْتُ وَلِیمَۃَ زَیْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَأَشْبَعَ النَّاسَ خُبْزًا وَلَحْمًا، وَکَانَ یَبْعَثُنِی فَأَدْعُو النَّاسَ، فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ وَتَبِعْتُہُ وَتَخَلَّفَ رَجُلَانِ اسْتَأْنَسَ بِہِمَا الْحَدِیثُ لَمْ یَخْرُجَا، فَجَعَلَ یَمُرُّ بِنِسَائِہِ وَیُسَلِّمُ عَلٰی کُلِّ وَاحِدَۃٍ: ((سَلَامٌ عَلَیْکُمْیَا أَہْلَ الْبَیْتِ کَیْفَ أَصْبَحْتُمْ؟)) فَیَقُولُونَ: بِخَیْرٍیَا رَسُولَ اللّٰہِ کَیْفَ وَجَدْتَ أَہْلَکَ فَیَقُولُ: ((بِخَیْرٍ)) فَلَمَّا رَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَہُ، فَلَمَّا بَلَغَ الْبَابَ إِذَا ہُوَ بِالرَّجُلَیْنِ قَدِ اسْتَأْنَسَ بِہِمَا الْحَدِیثُ، فَلَمَّا رَأَیَاہُ قَدْ رَجَعَ قَامَا فَخَرَجَا، قَالَ: فَوَاللّٰہِ مَا أَدْرِی أَنَا أَخْبَرْتُہُ أَوْ نَزَلَ عَلَیْہِ الْوَحْیُ بِأَنَّہُمَا قَدْ خَرَجَا فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَہُ، فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَہُ فِی أُسْکُفَّۃِ الْبَابِ أَرْخَی الْحِجَابَ بَیْنِی وَبَیْنَہُ، وَأَنْزَلَ اللّٰہُ الْحِجَابَ ہٰذِہِ الْآیَاتِ: {لَا تَدْخُلُوا بُیُوتَ النَّبِیِّ إِلَّا أَنْ یُؤْذَنَ لَکُمْ إِلٰی طَعَامٍ غَیْرَ نَاظِرِینَ إِنَاہُ} حَتّٰی فَرَغَ مِنْہَا۔ (مسند احمد: ۱۳۶۱۰)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ خیبر کے دن میں سواری پر ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پیچھے بیٹھا تھا اور میر اقدم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قدم کو لگ رہا تھا، ہم وہاں پہنچے تو آفتاب طلوع ہو چکا تھا، وہ لوگ اپنے جانوروں کو ہانک کر باہر نکلے اور اپنی کلہاڑیاں، ٹوکریاں اور رسیاںلے کر روانہ ہوئے یعنی وہ لوگ بالکل بے خبر تھے اور عام معمول کے مطابق اپنے اپنے کام کو روانہ ہوئے۔ اچانک ہی وہ حیران ہو کر کہنے لگے یہ تو محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ان کا لشکر ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ اکبر، اب خیبر کی خیر نہیں، ہم جب کسی قوم کے علاقے میں جا اتریں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:اللہ تعالیٰ نے ان یہود کو شکست سے دو چار کیا اور ایک خوبصورت لونڈی دحیہ کلبی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حصہ میں آئی۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سات غلام دے کر ان سے اسے خرید لیا اور اسے ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے سپرد کیا تاکہ وہ اس کو تیار کرے۔ یہ حیی کی دختر صفیہ تھی۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے ولیمہ میں کھجور، پنیر اور گھی پیش کیا۔ زمین میں چھوٹے چھوٹے گڑھے بنا کر ان پر دستر خوان بچھا دیئے گئے پھر پنیر کھجور اور گھی ان پر ڈال دیا گیا۔ لوگوں نے سیر ہو کر کھایا۔ لوگوں میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں کہ آپ نے اس سے نکاح کیا ہے یا ام ولد (لونڈی) کی حیثیت دی ہے؟ پھر لوگوں نے کہا : اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو پردہ کرایا تو وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیوی ہیں اور اگر پردہ نہ کرایا تو وہ لونڈی ہیں، جب آپ نے سوار ہونے کا یعنی روانگی کا ارادہ کیا تو ان کو پردہ کرایایہاں تک کہ وہ اونٹ کی پشت پر سوار ہوگئیں۔ لوگ جان گئے کہ آپ نے ان سے نکاح کرکے ان کو بیوی کی حیثیت دی ہے۔ جب لوگ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیز چلے اور ہم بھی تیز تیز چلنے لگے۔ تیز چلنے کی وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عضباء اونٹنی کا پائوں الجھ گیا اور وہ گر گئی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ام المؤمنین سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بھی گر گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اٹھ کر ان پر پردہ کر دیا، سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:عورتوں نے آکر کہا: اللہ اس یہودی عورت کو ہلاک کرے۔ (کہ اس کی وجہ سے آپ گر گئے ہیں) میں نے یعنی ثابت نے سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا: اے ابو حمزہ! کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گر گئے تھے؟ انہوں نے کہاں: ہاں ہاں، اللہ کی قسم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گر گئے تھے اور میں ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ولیمہ میں شریک ہوا تھا، آپ نے لوگوںکو گوشت روٹی کھلا کر خوب سیر کیاتھا، آپ مجھے بھیجتے تھے اور میں لوگوں کو بلا کر لاتا تھا،آپ جب کھانا کھلانے سے فارغ ہوئے تو اٹھ کر چل دیئے، میں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے پیچھے چل دیا۔ دو آدمی باتیں کرتے کرتے بیٹھے رہے اور وہ پیچھے رہ گئے اور وہ اٹھ کر نہ گئے۔ آپ اپنی ازواج کے ہاں چکر لگانے لگے اور ہر ایک کو ان الفاظ کے ساتھ سلام کہتے: سَلَامٌ عَلَیْکُمْیَا أَہْلَ الْبَیْتِ اے اہل بیت! تم پر سلامتی ہو۔ تمہار کیا حال ہے؟ وہ کہتیں: اے اللہ کے رسول! ہم ٹھیک ہیں اور آپ نے اپنے اہل کو کیسا پایا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی فرماتے تھے: خیر کے ساتھ پایا۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس آئے تو میں بھی آپ کے ساتھ واپس آگیا۔ آپ ابھی تک دروازے پر پہنچے تو آپ نے ان دونوں آدمیوں کو دیکھا، وہ ابھی تک سلسلہ کلام جاری رکھے ہوئے تھے، انہوںنے جب دیکھا کہ آپ جا کر واپس آگئے ہیں تو وہ اٹھ کر چلے گئے۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! مجھے یاد نہیں کہ آپ کو میں نے بتلایایا آپ پر وحی نازل ہوئی کہ وہ دونوں جا چکے ہیں۔ آپ واپس آئے۔اور میں بھی آپ کے ساتھ واپس آگیا۔ آپ نے جب اپنا پائوں د روازے کی چوکھت پر رکھا تو اپنے اور میرے درمیان آپ نے پردہ لٹکا دیا۔ اور اللہ نے حجاب کے متعلق یہ آیات نازل کر دیں: {لَا تَدْخُلُوا بُیُوتَ النَّبِیِّ إِلَّا أَنْ یُؤْذَنَ لَکُمْ إِلٰی طَعَامٍ غَیْرَ نَاظِرِینَ إِنَاہُ} … تم نبی کے گھروں میں بلا اجازت مت جائو، الایہ کہ تمہیں کھانے کے لیے بلایا جائے تو ایسے وقت جائو کہ تمہیں کھانے کے پکنے کا انتظار نہ کرنا پڑے۔ (سورۂ احزاب: ۵۳)
Musnad Ahmad
12126
۔ (۱۲۱۲۶)۔ حَدَّثَنَا یَزِیدُ وَمُحَمَّدُ بْنُ یَزِیدَ قَالَا: حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ، قَالَ مُحَمَّدٌ: عَنِ الْقَاسِمِ، وَقَالَیَزِیدُ فِی حَدِیثِہِ: حَدَّثَنِی الْقَاسِمُ بْنُ عَوْفٍ الشَّیْبَانِیُّ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ: کُنَّا قَدْ حَمَلْنَا لِأَبِی ذَرٍّ شَیْئًا نُرِیدُ أَنْ نُعْطِیَہُ إِیَّاہُ، فَأَتَیْنَا الرَّبَذَۃَ، فَسَأَلْنَا عَنْہُ، فَلَمْ نَجِدْہُ، قِیلَ: اسْتَأْذَنَ فِی الْحَجِّ، فَأُذِنَ لَہُ، فَأَتَیْنَاہُ بِالْبَلْدَۃِ وَہِیَ مِنًی، فَبَیْنَا نَحْنُ عِنْدَہُ إِذْ قِیلَ لَہُ: إِنَّ عُثْمَانَ صَلّٰی أَرْبَعًا، فَاشْتَدَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَبِی ذَرٍّ، وَقَالَ قَوْلًا شَدِیدًا، وَقَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ، وَصَلَّیْتُ مَعَ أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ، ثُمَّ قَامَ أَبُو ذَرٍّ فَصَلّٰی أَرْبَعًا، فَقِیلَ لَہُ: عِبْتَ عَلَی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ شَیْئًا، ثُمَّ صَنَعْتَ، قَالَ: الْخِلَافُ أَشَدُّ، إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا فَقَالَ: ((إِنَّہُ کَائِنٌ بَعْدِی سُلْطَانٌ، فَلَا تُذِلُّوہُ، فَمَنْ أَرَادَ أَنْ یُذِلَّہُ، فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَۃَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِہِ، وَلَیْسَ بِمَقْبُولٍ مِنْہُ تَوْبَۃٌ حَتّٰییَسُدَّ ثُلْمَتَہُ الَّتِی ثَلَمَ، وَلَیْسَ بِفَاعِلٍ۔)) ثُمَّ یَعُودُ فَیَکُونُ فِیمَنْیُعِزُّہُ، أَمَرَنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا یَغْلِبُونَا عَلٰی ثَلَاثٍ، أَنْ نَأْمُرَ بِالْمَعْرُوفِ، وَنَنْہٰی عَنِ الْمُنْکَرِ، وَنُعَلِّمَ النَّاسَ السُّنَنَ۔ (مسند احمد: ۲۱۷۹۲)
قاسم بن عوف شیبانی، ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں، اس نے کہا:ہم ابوذر کو کوئی چیز بطور ہدیہ دینا چاہتے تھے، ہم وہ اٹھا کر لے گئے اور ربذہ مقام میں پہنچے، جب ہم نے ان کے متعلق دریافت کیا تو بتلایا گیا کہ انہوں نے حج کے لیے جانے کی اجازت مانگی تھی اور انہیںمل گئی تھی، پھر ہم منیٰ میں ان سے ملے، ہم ان کے ساتھ بیٹھے تھے کہ ان کو بتایا گیا کہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مِنی میں چاررکعت پڑھی ہے، یہ بات ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر بہت گراں گزری اور انہوں نے سخت باتیں کہہ دیں اور پھر کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ یہاں نماز پڑھی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو رکعتیں پڑھی تھیں، میں نے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہمراہ یہاں مِنی میں نماز پڑھی ہے (انھوں نے بھی دو رکعتیں پڑھائی ہیں)، اس کے بعد سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اٹھ کر چار رکعات پڑھیں۔ کسی نے ان سے کہا کہ تم نے جس با ت کو امیر المومنین کے لیے معیوب سمجھا ہے، اس پر خود عمل کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا: اختلاف کرنا بہت برا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ میرے بعد ایک بادشاہ آئے گا، تم اسے رسوانہ کرنا، جس نے اسے رسواکرنے کا ارادہ کیا، اس نے اسلام کی رسی کو اپنی گردن سے اتار پھینکا، اور اس کی توبہ اس وقت تک قبول نہ ہوگی، جب تک اس کی ڈالی ہوئی دراڑ ختم نہ ہو گی، مگر وہ ایسا نہ کرسکے گا۔ یعنی اپنی ڈالی ہوئی دراڈ کو پر نہ کر سکے گا۔ اس کے بعد وہ اس بادشاہ کی عزت کرے گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ یہ حکمران تین باتوں میں ہم پر غالب نہ آجائیں یعنی وہ ہمیں ان تین کاموں سے روک نہ سکیں، بلکہ ہم یہ کام برابر کرتے رہیں۔ امر بالمعروف، نہی عن المنکر او رلوگوں کو سنتوں کی تعلیم دینا۔