TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

سیدنا عبد اللہ بن رواحہ اور سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے اشعار کا بیان - سیدنا عبد اللہ بن رواحہ اور سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے اشعار کا بیان - زبان کی آفتوں کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 15 of زبان کی آفتوں کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 15 of 30 · 9 Hadith
۔ (۹۹۵۳)۔ حَدَّثَنَا وَکِیْعٌ، عَنْ شَرِیْکٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَیْحٍ، عَنْ اَبِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَ: قُلْتُ لَھَا: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَرْوِیْ شَیْئًا مِنَ الشِّعْرِ قَالَتْ: نَعَمْ، شِعْرُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ رَوَاحَۃَ، کَانَ یَرْوِیْ ھٰذَا الْبَیْتَ، وَیَاْتِیْکَ بِالْاَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ۔ (مسند احمد: ۲۵۵۸۵)
۔ شریح سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے کہا: کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی کسی کے شعر پڑھتے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، سیدنا عبد اللہ بن رواحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا یہ شعر پڑھتے تھے: وَیَاْتِیْکَ بِالْاَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ (وہ شخص تیرے پاس خبریں لائے گاکہ جس پر تو نے کچھ خرچ نہیں کیا)۔
Takhreej
(۹۹۵۳) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الترمذی: ۲۸۴۸ (انظر: ۲۵۰۷۱)
9953
Sahih
۔ (۹۹۵۴)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا اسْتَرَاثَ الْخَبْرُ تَمَثَّلَ فِیْہِ بِبَیْتِ طَرَفَۃَ: وَیَاْتِیْکَ باِلْاَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ۔ (مسند احمد: ۲۴۵۲۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہے کہ جب خبر آنے میں دیر ہوتی تو آپ طرفہ (بن عبد بکری) شاعر کا یہ مصرعہ پڑھتے: وَیَاْتِیْکَ باِلْاَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ (وہ شخص تیرے پاس خبریں لائے گاکہ جس پر تو نے کچھ خرچ نہیں کیا)۔
Takhreej
(۹۹۵۴) تخریج: حدیث حسن لغیرہ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۸/ ۷۱۲، والنسائی فی الکبری : ۱۰۸۳۴ (انظر: ۲۴۰۲۳)
Explanation
فوائد:… پورا شعر یوں ہے: سَتُبْدِیْ لَکَ الْاَیَّامُ مَا کُنْتَ جَاہِلًا وَیَأْتِیْکَ بِالْاَخْبَارِ مَنْ لَّمْ تُزَوِّدٖ امام مبارکپوری نے اس شعر کا یہ مفہوم بیان کیا ہے: سَتُظْھِرُ لَکَ الْاَیَّامُ مَا کُنْتَ غَافِلًا عَنْہُ وَیَنْقُلُ لَکَ الْاَخْبَارَ مَنْ لَمْ تُعْطِیْہِ الزَّادَ… (ایام ان چیزوں کو تیرے لیے ظاہر کر دیں گے، جن سے تو غافل ہے وہ لوگ تیرے پاس خبریں لائیں گے، جن کو تونے زادِ راہ نہیں دیا)۔
9954
Sahih
۔ (۹۹۵۵)۔ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ، اَنَّ حَسَّانَ قَالَ: فِیْ حَلْقَۃٍ فِیْھِمْ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اُنْشِدُکَ اللّٰہَ یَا اَبَاھُرَیْرَۃَ، ھَلْ سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَجِبْ عَنِّیْ، اَیَّدَکَ اللّٰہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ۔)) قَالَ: نَعَمْ۔ (مسند احمد: ۷۶۳۲)
۔ ابن مسیب ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌کہتے ہیں: سیدنا حسان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک مجلس میں کہا،جبکہ اس میں سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تشریف فرما تھے، اے ابوہریرہ! میں تجھے اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں، کیا تو نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: حسان! تو میری طرف سے جواب دے، اللہ تعالیٰ روح القدس کے ذریعے تیری مدد کرے۔ ؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
Takhreej
(۹۹۵۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۲۱۲، ومسلم: ۲۴۸۵ (انظر: ۷۶۴۴)
Explanation
فوائد:… جب کافروں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابۂ کرام کی ہجو کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا حسان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا کہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے دفاع کریں۔
9955
Sahih
۔ (۹۹۵۶)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَضَعَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، مِنْبَرًا فِیْ الْمَسْجِدِ، یُنَافِحُ عَنْہُ بِالشِّعْرِ، ثُمَّ یَقُوْلُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَیُؤَیِّدُ حَسَّانَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ یُنَافِحُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۴۱)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لیے مسجد میں منبر رکھوایا، وہ اس پر بیٹھ کر شعری کلام کے ذریعے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا دفاع کرتے تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ روح القدس کے ذریعے حسان کی تائید کرتا ہے، جب تک وہ اس کے رسول کا دفاع کرتا رہتا ہے۔
Takhreej
(۹۹۵۶) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ دون قولہ: وضع لحسان منبرا فی المسجد وھذا اسناد ضعیف لضعف ابن ابی الزناد، أخرجہ ابوداود: ۵۰۱۵، والترمذی عقب الروایۃ: ۲۸۴۶(انظر: ۲۴۴۳۷)
9956
Sahih
۔ (۹۹۵۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ لَمْ یُحَرِّمْ حُرْمَۃً، اِلَّا وَقَدْ عَلِمَ اَنَّہُ سَیَطَّلِعُھَا مِنْکُمْ مُطَّلِعٌ، اَلَا وَاِنِّیْ آخِذٌ بِحُجَزِکُمْ، اَنْ تَھَافَتُوْا فِیْ النَّارِ، کَتَھَافُتِ الْفَرَاشِ اَوِ الذُّبَابِ۔)) (مسند احمد: ۴۰۲۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو بھی حرام کیا، اس کے بارے میں وہ جانتا تھا کہ تم میں سے لوگ اس پر جھانکے گے، خبردار! میں تمہاری کمروں سے پکڑ کر تم کو روکتا ہوں تاکہ تم اس طرح آگ میں نہ گرو، جیسے پتنگے اور مکھیاں آگ میں گرتے ہیں۔
Takhreej
(۹۹۵۷) تخریج: أخرجہ الطیالسی: ۴۰۲، وابویعلی: ۵۲۸۸ (انظر: ۴۰۲۷)
Explanation
فوائد:… ایسے لگتا ہے جیسے بزور آگ میں گھسنا چاہتے ہیں، لیکن رحمۃ للعالمین ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو بچانا چاہتے ہیں۔
9957
Sahih
۔ (۹۹۵۸)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ یَعْمَلْ سُوْئً ا یُجْزَ بِہٖفِیْ الدُّنْیَا۔)) (مسند احمد: ۲۳)
۔ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے برا کام کیا، اس کو دنیا میں اس کا بدلہ دیا جائے گا۔
Takhreej
(۹۹۵۸) تخریج: حدیث صحیح بطرقہ وشواھدہ، أخرجہ الترمذی: ۳۰۳۹ (انظر: ۲۳)
Explanation
فوائد:… درج ذیل حدیث سے اس حدیث کا مفہوم واضح ہو گا: سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہے: لَمَّا نَزَلَ {مَنْ یَعْمَلْ سُوء ًا یُجْزَ بِہِ} شَقَّ ذٰلِکَ عَلَی الْمُسْلِمِینَ، فَشَکَوْا ذٰلِکَ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((قَارِبُوا وَسَدِّدُوا وَفِی کُلِّ مَا یُصِیبُ الْمُؤْمِنَ کَفَّارَۃٌ حَتَّی الشَّوْکَۃَیُشَاکُہَا أَوِ النَّکْبَۃَیُنْکَبُہَا۔)) … جب یہ آیت نازل ہوئی {مَنْ یَعْمَلْ سُوء ًا یُجْزَ بِہِ} (جو کوئی برا کام کرے گا، اس کی سزا دیجائے گی۔) تو مسلمانوں پر شاق گزرا اورانہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کا شکوہ کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمام امور میں میانہ روی اختیار کرو اور راہِ صواب پر ڈٹے رہو، مومن کی ہر آزمائش میں اس کے گناہوں کا کفارہ ہے، یہاں تک کہ اگر اسے کوئی کانٹا چبھ جائے یا کوئی مشکل پیش آجائے۔ (جامع ترمذی: ۲۹۶۴)
9958
Sahih
۔ (۹۹۵۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَقُوْلَنَّ اَحَدُکُمْ خَبُثَتْ نَفْسِیْ، وَلٰکِنْ لِیَقُلْ لَقِسَتْ۔)) (مسند احمد: ۲۴۷۴۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی اس طرح نہ کہے کہ خَبُثَتْ نَفْسِیْ، بلکہ اس مفہوم کو ادا کرنے کے لیے لَقِسَتْ نَفْسِیْ کہے۔
Takhreej
(۹۹۵۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۱۷۹، ومسلم: ۲۲۵۰ (انظر: ۲۴۲۴۴)
Explanation
فوائد:… خَبُثَتْْ اور لَقِسَتْ دونوں کے لغوی معانی ایک ہی ہیں، بظاہر انسان کے لیے اچھی بات نہیں ہے کہ وہ اپنے لیے خَبُثَتْْ کا لفظ استعمال کرے اور یہ آداب کا ایک طریقہ ہے کہ اچھے الفاظ استعمال کیے جائیں۔ ان دونوں الفاظ کے معانییہ ہیں: جی متلانا، جی بھاری ہونا، طبیعت سست ہونا،ردی اور خراب ہونا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بندے کو مہذب الفاظ بیان کرنے چاہئیں، تاکہ مقصد بھی پورا ہو جائے اور تہذیب بھی برقرار رہے۔
9959
Sahih
۔ (۹۹۶۰)۔ وَعَنْھَا اَیْضًا، قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلشُّؤْمُ سُوْئُ الْخُلُقِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۰۵۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نحوست، بری عادات ہیں۔
Takhreej
(۹۹۶۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، فیہ انقطاع وضعف، حبیب بن عبید الرحبی لم یسمع من عائشۃ، وابوبکر بن عبد اللہ ضعیف(انظر: ۲۴۵۴۷)
Explanation
فوائد:… یعنی بداخلاقی اور بری عادات کے اندر نحوست پائی جاتی ہے۔
9960
Zaeef
۔ (۹۹۶۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَقُلْ اَحَدُکُمُ لِلْعِنَبِ الْکَرْمُ، اِنّمَا الْکَرْمُ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ۔)) (مسند احمد: ۸۱۷۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی انگور کو کَرْم نہ کہے، کیونکہ کَرْم تو مسلمان آدمی ہوتا ہے۔
Takhreej
(۹۹۶۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۲۴۷ (انظر: ۸۱۹۰)
Explanation
فوائد:… عرب لوگ انگور کو اس وجہ سے کَرْم کہتے تھے، کیونکہ اس سے بنایا جانے والا شراب کَرَم یعنی سخاوت اور فیاضی پر ابھارتا تھا، جب شریعت نے شراب کو حرام کیا تو مدح والے اس نام سے بھی منع کر دیا، تاکہ نفسوں کا میلان اُدھر نہ ہو سکے اور اس خوبصورت نام کو مسلمان کے ساتھ خاص کر دیا۔ اس حدیث ِ مبارکہ کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مقصود یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو اپنی جگہ پر برقرار رکھا جائے {اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ} … بیشک تم میں سب سے زیادہ کرم اور عزت والا وہ ہے، جو زیادہ پرہیزگار ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے مسلمان کی جو صفت بیان کی ہے، وہ اس لائق ہے کہ اس میں کسی اور چیز کی مشارکت نہ ہو۔
9961
Sahih

Chapters

30
01
کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان
13 Hadith
02
خاموشی کا بیان
3 Hadith
03
غیبت اور بہتان سے ترہیب کا بیان
8 Hadith
04
چغلخوری سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
05
جھوٹ سے ترہیب کا بیان
7 Hadith
06
ان لوگوں کا بیان، جن کو جھوٹا قرار دیا گیا ہے
2 Hadith
07
ان امور کا بیان، جن میں جھوٹ بولنا جائز ہوتا ہے
2 Hadith
08
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھوٹ بولنے سے ترہیب اور اس بارے میں سختی کا بیان
11 Hadith
09
مذاق کا بیان، نیزاس میں جھوٹ بولنے سے ترہیب کا بیان
13 Hadith
10
جھگڑا کرنے سے ترہیب کا بیان
4 Hadith
11
باچھین ہلا کر تکلّف و تصنّع سے گفتگو کرنے سے ترہیب اور واضح باتوں کا بیان
9 Hadith
12
بدگوئی اور جھوٹ پر مشتمل اور اللہ تعالیٰ سے دور کر دینے والے شعروں سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
13
شرعی مصلحت کی خاطر شعروں کے جواز کا بیان
6 Hadith
14
لبید اور امیہ بن ابی صلت کے اشعار کا بیان
5 Hadith
15
سیدنا عبد اللہ بن رواحہ اور سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے اشعار کا بیان
9 Hadith
16
دو دو امور کا بیان
2 Hadith
17
دو کے عدد سے شروع ہونے والے دو دو امور کا بیان
2 Hadith
18
تین تین امور کا بیان
9 Hadith
19
تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان
15 Hadith
20
چار چار امور کا بیان
5 Hadith
21
چار کے عدد سے شروع ہونے والے چار چار امور کا بیان
6 Hadith
22
پانچ پانچ امور کا بیان
5 Hadith
23
عدد سے شروع ہونے والے پانچ پانچ امور کا بیان
3 Hadith
24
چھ چھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
6 Hadith
25
سات سات امور کا بیان
2 Hadith
26
سات کے عدد سے شروع ہونے والے سات سات امور والی احادیث کا بیان
2 Hadith
27
آٹھ آٹھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
2 Hadith
28
آٹھ کے عدد سے شروع ہونے والی آٹھ آٹھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
1 Hadith
29
دس دس امور پر مشتمل احادیث کا بیان
2 Hadith
30
دس کے عدد سے شروع ہونے والے دس دس امور کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.