TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 9961 - سیدنا عبد اللہ بن رواحہ اور سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے اشعار کا بیان - زبان کی آفتوں کے مسائل - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 9 of 9 in this chapter
سیدنا عبد اللہ بن رواحہ اور سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے اشعار کا بیان
۔ (۹۹۶۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَقُلْ اَحَدُکُمُ لِلْعِنَبِ الْکَرْمُ، اِنّمَا الْکَرْمُ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ۔)) (مسند احمد: ۸۱۷۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی انگور کو کَرْم نہ کہے، کیونکہ کَرْم تو مسلمان آدمی ہوتا ہے۔
9961
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۹۹۶۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۲۴۷ (انظر: ۸۱۹۰)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… عرب لوگ انگور کو اس وجہ سے کَرْم کہتے تھے، کیونکہ اس سے بنایا جانے والا شراب کَرَم یعنی سخاوت اور فیاضی پر ابھارتا تھا، جب شریعت نے شراب کو حرام کیا تو مدح والے اس نام سے بھی منع کر دیا، تاکہ نفسوں کا میلان اُدھر نہ ہو سکے اور اس خوبصورت نام کو مسلمان کے ساتھ خاص کر دیا۔ اس حدیث ِ مبارکہ کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مقصود یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو اپنی جگہ پر برقرار رکھا جائے {اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ} … بیشک تم میں سب سے زیادہ کرم اور عزت والا وہ ہے، جو زیادہ پرہیزگار ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے مسلمان کی جو صفت بیان کی ہے، وہ اس لائق ہے کہ اس میں کسی اور چیز کی مشارکت نہ ہو۔

Related Chapters

329
1
اس کے الفاظ کے بارے میں ثابت ہونے والے مواد کا بیان فَصْلٌ فِیْمَا رُوِیَ فِیْ ذٰلِکِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ فصل: سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی تشہد
Musnad Ahmad
2
ارضِ فلسطین میں موتہ کے مقام پر سریہ زید بن حارثہ کا بیان، اسی غزوہ کو غزوۂ موتہ بھی کہتے ہیں، نیز سیدنا زید، سیدنا جعفر بن ابی طالب اور سیدنا عبداللہ بن رواحہ کی شہادت کا بیان
Musnad Ahmad
3
سیدنا عبد اللہ بن مسعود اور ان کی ماں ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بھی خدام رسول میں سے تھے
Musnad Ahmad
4
سیدنا زید بن حارثہ، سیدنا جعفر بن ابی طالب، سیدنا عبداللہ بن رواحہ اور سیدنا خالد بن ولید کے مشترکہ مناقب کا تذکرہ
Musnad Ahmad
5
سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
6
سیدنا عبداللہ بن رواحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
7
ٔٔباب دوم: پیچھے مناقب اہل بیت میں بیان کیے جانے والے فضائل کے علاوہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ایک مفصل وجامع حدیث
Musnad Ahmad
8
یزید بن معاویہ کی خلافت اور ان کے عہد خلافت میں ہونے والے واقعات سے متعلقہ ابواب باب اول: یزید کی بیعت اور بعض لوگوںکی اس کی بیعت سے بے زاری اور سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا بیان
Musnad Ahmad
9
فصل سوم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت کے دن سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا خواب
Musnad Ahmad
10
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا ابن صیاد کا سامنا کرنے اور اسے مارنے اور اس وقت ابن صیاد کی طرف سے خلافِ عادت امور کے ظاہر ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
11
باب: عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
12
باب: عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
13
باب: عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
14
باب: جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
15
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اور سیّدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کی قراء ت کا نماز میں حجت ہونے کا بیان جن کی قراء ت پر تعریف کی گئی ہے
Musnad Ahmad
16
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی وہ حدیث، جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کی کیفیت بیان کی گئی
Musnad Ahmad
17
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث
Musnad Ahmad
18
حج کے بعض اعمال کے اسباب کا بیان حج کے بعض اعمال کے اسباب سے متعلقہ روایت، جو سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے ابو طفیل نے روایت کی
Musnad Ahmad
19
سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قراء ت کی فضیلت کا بیان مکمل قرآن مجید حفظ کر لینے والے صحابۂ کرام کا بیان
Musnad Ahmad
20
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رائے کا بیان کہ معوذ تین کتاب اللہ میںسے نہیںہیں، نیز اس رائے کے غیر مقبول ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
21
اس موضوع سے متعلقہ سیدنا انس بن مالک اور سیدنا مالک بن صعصعۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی روایات کا بیان
Musnad Ahmad
22
سیدنا عبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قبولِ اسلام کا بیان
Musnad Ahmad
23
سریہ عاصم بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا خبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت کا بیان
Musnad Ahmad
24
کدید کے مقام پر بنو لموح کے ساتھ سیدنا غالب بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سریہ کا بیان
Musnad Ahmad
25
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی خالہ اُمّ المؤمنین سیّدہ میمونہ بنت حارث سے شادی کا بیان
Musnad Ahmad
26
سیدنا عمرو بن عاص اور سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے قبول اسلام کا بیان
Musnad Ahmad
27
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی مدینہ منورہ آمد، ان کی بیعت اور قبولِ اسلام کا واقعہ
Musnad Ahmad
28
ذوالخلصہ نامی بت خانہ کو منہدم کرنے کے لیے سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی مہم کا بیان
Musnad Ahmad
29
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یمن کی طرف روانہ کئے جانے کا تذکرہ
Musnad Ahmad
30
کاتبین میں سے ایک سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے
Musnad Ahmad
31
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
32
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
33
دگنی گواہی والے سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
34
سیدنا زید بن ثابت انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
35
سیدنا سائب بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ، ان کو سائب بن ابو سائب بھی کہتے ہیں
Musnad Ahmad
36
سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
37
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی ٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
38
سیدنا عبداللہ بن انیس جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
39
سیدنا عبداللہ بن بسر مازنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
40
سیدنا عبداللہ بن خباب بن ارت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
41
ذوالبجادین سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
42
سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
43
سیدنا عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
44
سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
45
سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے فتاوی کی فصل
Musnad Ahmad
46
سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
47
سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے فتاوی کا تذکرہ
Musnad Ahmad
48
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
49
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے والد سیدنا عبداللہ بن حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
50
سیدنا عبداللہ بن مسعود المعروف ابن ام عبد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

3
Musnad Ahmad
10136
۔ (۱۰۱۳۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَسُبُّ اَحَدُکُمُ الدَّھْرَ فَاِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الدَّھْرُ، وَلَا یَقُوْلَنَّ اَحَدُکُمْ لِلْعِنَبِ الْکَرْمَ، فَاِنَّ الْکَرْمَ ھُوَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ۔)) (مسند احمد: ۷۶۶۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی زمانے کو گالی نہ دے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی زمانہ ہے اور کوئی آدمی انگوروں کو کَرَم نہ کہے تو کیونکہ کَرَم تو مسلمان آدمی ہوتا ہے۔
Musnad Ahmad
159
۔ (۱۵۹)۔وَ أَیْضًا عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَقُلْ أَحَدُکُمْ لِلْعِنَبِ الْکَرْمَ، اِنَّمَا الْکَرْمُ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ۔)) (مسند أحمد: ۸۱۷۵)
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کوئی آدمی انگوروں کو کَرْم نہ کہا کرے، بیشک کرم تو مسلمان آدمی ہوتا ہے۔
Musnad Ahmad
12387
۔ (۱۲۳۸۷)۔ وَعَنْ زَیْدِ بْنِ وَھْبٍ قَالَ: قَدِمَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَلٰی قَوْمٍ مِنْ أَہْلِ الْبَصْرَۃِ مِنَ الْخَوَارِجِ، فِیہِمْ رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ: الْجَعْدُ بْنُ بَعْجَۃَ، فَقَالَ لَہُ: اتَّقِ اللّٰہَ یَا عَلِیُّ، فَإِنَّکَ مَیِّتٌ، فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: بَلْ مَقْتُولٌ ضَرْبَۃٌ عَلٰی ہٰذَا تَخْضِبُ ہٰذِہِ یَعْنِی لِحْیَتَہُ مِنْ رَأْسِہِ، عَہْدٌ مَعْہُودٌ وَقَضَائٌ مَقْضِیٌّ، وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰی، وَعَاتَبَہُ فِی لِبَاسِہِ، فَقَالَ: مَا لَکُمْ وَلِلِبَاسِیْ؟ ہُوَ أَبْعَدُ مِنْ الْکِبْرِ، وَأَجْدَرُ أَنْ یَقْتَدِیَ بِیَ الْمُسْلِمُ۔ (مسند احمد: ۷۰۳)
زید بن وہب سے روایت ہے کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اہل بصرہ کے خوارج میں سے ایک قو م کے پاس تشریف لے گئے، ان میں سے ایک آدمی کا نام جعد بن بعجہ تھا، اس نے کہا: علی! اللہ سے ڈرو، تم نے بالآخر مرنا ہی ہے، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہا: میں نے مرنا نہیں، بلکہ قتل ہونا ہے، میرے سر پر وار لگے گا، جس سے یہ میری داڑھی رنگین ہوجائے گی، یہ پختہ خبر ہے اور اللہ کی طرف سے فیصلہ ہوچکا ہے اور جس نے جھوٹ باندھا اس نے نقصان اٹھایا، پھر جب اس آدمی نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لباس پر اعتراض کیا تو انھوں نے کہا: تمہیں میرے اس لباس سے کیا؟ یہ تکبر سے بالکل بر ی ہے اور اس لائق ہے کہ اہل اسلام اس سلسلہ میں میری اقتداء کریں گے۔