مسنداحمد

Musnad Ahmad

زبان کی آفتوں کے مسائل

تین تین امور کا بیان


۔ (۹۹۶۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَسْتَقْبِلُوْا، وَلَا تُحَفِّلُوْا، وَلَا یَنْعِقْ بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۳)

۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قضائے حاجت کے وقت قبلہ رخ نہ ہوا کرو، (دھوکہ دینے کے لیے جانوروں کا) دودھ نہ روکا کرو اور بکریوں کے چرواہوں کی طرح ایک دوسرے کو آواز نہ دیا کرو۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۹۹۶۶) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الترمذی: ۱۲۶۸ (انظر: ۲۳۱۳)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ سنجیدگی اور وقار کے ساتھ بولنا چاہیے، چیخنے اور اونچی اونچی آوازیں دینے سے بچنا چاہیے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَاقْصِدْ فِیْ مَشْیِکَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِکَ اِنَّ اَنْکَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۔} … اور اپنی چال میں میانہ روی رکھ اور اپنی آواز کچھ نیچی رکھ، بے شک سب آوازوں سے برییقینا گدھوں کی آواز ہے۔ (سورۂ لقمان: ۱۹)