مسنداحمد

Musnad Ahmad

زبان کی آفتوں کے مسائل

تین تین امور کا بیان

۔ (۹۹۶۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَسْتَقْبِلُوْا، وَلَا تُحَفِّلُوْا، وَلَا یَنْعِقْ بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۳)

۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قضائے حاجت کے وقت قبلہ رخ نہ ہوا کرو، (دھوکہ دینے کے لیے جانوروں کا) دودھ نہ روکا کرو اور بکریوں کے چرواہوں کی طرح ایک دوسرے کو آواز نہ دیا کرو۔

۔ (۹۹۶۷)۔ عَنْ سَھْلٍ، عَنْ اَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اِنَّ لِلّٰہِ عِبَادًا لَا یُکَلِّمُھُمُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا یُزَکِّیْھِمْ وَلَا یَنْظُرُ اِلَیْھِمْ۔)) قِیْل لَہُ: مَنْ اُوْلٰئِکَ؟ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِِ! قَالَ: ((مُتَبَرٍّ مِنْ وَالِدَیْہِ رَاغِبٌ عَنْھُمَا، وَمُتَبَرٍّ مِنْ وَلِدِہِ ، ورَجُلٌ اَنْعَمَ عَلَیْہِ قَوْمٌ فَکَفَرَ نِعْمَتَھُمْ وَتَبَرَّاَ مِنْھُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۲۱)

۔ سہل اپنے باپ سیدنا معاذبن انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے ایسے بندے بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ ان سے کلام کرے گا، نہ ان کو پاک کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے والدین سے براء ت اور بے رغبتی کا اظہار کرنے والا، اپنی اولاد سے بری ہونے والا اور وہ آدمی کہ بعض لوگوں نے اس پر انعام کیا، لیکن اس نے ان کی نعمت کی ناشکری کی اور ان سے براء ت کا اظہار کیا۔

۔ (۹۹۶۸)۔ عَنْ اَبِیْ شُرَیْحٍ الْخُزَاعِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ مِنْ اَعْتَی النَّاسِ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مَنْ قَتَلَ غَیْرَ قَاتِلِہِ، اَوْ طَلَبَ بِدَمِ الْجَاھِلیَّۃِ مِنْ اَھْلِ الْاِسْلَامِ، اَوْ بَصَّرَعَیْنَیْہِ فِیْ النُّوْمِ مَالَمْ تُبْصِرْ۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۹۱)

۔ سیدنا ابو شریح خزاعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر سب سے بڑا سرکش وہ ہے، جو غیر قاتل کو قتل کر دے، یا اہل اسلام سے جاہلیت والے خون کا مطالبہ کرے، یا اپنے آنکھوں کو نیند میں وہ کچھ دکھائے، جو انھوں نے دیکھا نہ ہو (یعنی جھوٹے خواب بیان کرے)۔

۔ (۹۹۶۹)۔ عَنْ رُوَیْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَارُوَیْفِعُ! لَعَلَّ الْحَیَاۃَ سَتَطُوْلُ بِکَ فَاَخْبِرِ النَّاسَ اَنَّہُ مَنْ عَقَدْ لِحْیَتَہُ، اَوْ تَقَلَّدَ وَتَرًا، اَوِ اسْتَنْجٰی بِرَجِیْعِ دَابَۃٍ، اَوْ عَظْمٍ، فَاِنَّ مُحَمَّدًا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْہُ بِرِیْئٌ (وَفِیْ لَفْظٍ: فَقَدْ بَرِیئَ مِمَّا اَنْزَلَ عَلیٰ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم )) (مسند احمد: ۱۷۱۲۰)

۔ سیدنا رویفع بن ثابت انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے رویفع! ممکن ہے کہ تیری زندگی لمبی ہو جائے، پس لوگوں کو بتلانا کہ جس نے اپنی داڑھی کو گرہ لگائی،یا تانت کا قلادہ ڈالا ، یا جانور کی لیدیا ہڈی سے استنجاء کیا تو محمد( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) اس سے بری ہو جا ئے گا۔ ایک روایت میں ہے: ایسا شخص اس چیز سے بری ہو جائے گا، جو محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نازل ہوئی۔

۔ (۹۹۷۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ تَقَوَّلَ عَلَیَّ مَالَمْ اَقُلْ، فَلْیَتَبَوَّاْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ، وَمَنِ اسْتَشَارَہُ اَخُوْہُ الْمُسْلِمُ فَاَشَارَ عَلَیْہِ بِغَیْرِ رُشْدٍ فَقَدْ خَانَہُ، وَمَنْ اَفْتٰی بِفُتْیَا غَیْرِ ثَبْتٍ، فَاِنّمَا اِثْمُہُ عَلیٰ مَنْ اَفْتَاہُ۔)) (مسند احمد: ۸۲۴۹)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے میری طرف وہ بات منسوب کی، جو میں نے نہیں کہی، وہ آگ سے اپنا ٹھکانہ تیار کر لے، جس سے اس کے مسلمان بھائی نے مشورہ طلب کیا، لیکن اس نے عقل اور راست روی کے بغیر اس کو مشورہ دے دیا، پس اس نے اس سے خیانت کی اور جس نے تحقیق کے بغیر فتوی دیا، پس اس کا گناہ فتوی دینے والے پر ہو گا۔

۔ (۹۹۷۱)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَھٰی اَنْ یَشْرَبَ الرَّجُـلُ قَائِمًا، وَعَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِیْ السِّقَائِ، وَاَنْ یَمْنَعَ الرَّجُـلُ جَارَہُ اَنْ یَضَعَ خَشَبَۃً فِیْ حَائِطِہِ۔)) (مسند احمد: ۸۳۱۷)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ آدمی کھڑے ہو کر پانی پئے، مشکیزے کے منہ سے پانی پئے اور اس سے کہ آدمی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار پر لکڑی رکھنے سے منع کرے۔

۔ (۹۹۷۲)۔ عَنْ وَاثِلَۃَ بْنِ الْاَسْقَعِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ النَّبیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مِنْ اَعْظَمِ الْفِـرٰی اَنْیُدْعَی الرَّجُلُ اِلٰی غَیْرِ اَبِیْہِ اَوْ یُرِیَ عَیْنَیْہِ فِیْ الْمَنَامِ مَالَمْ تَرَیَا، اَوْ یَقُوْلَ عَلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَالَمْ یَقُلْ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۰۵)

۔ سیدنا واثلہ بن اسقع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ آدمی غیر باپ کی طرف منسوب ہو یا اپنی آنکھوں کو وہ کچھ دکھائے، جو انھوں نے نہ دیکھا ہو(یعنی جھوٹے خواب بیان کرے)، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف ایسی بات منسوب کرے، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہ فرمائی ہو۔

۔ (۹۹۷۴)۔ عَنْ ثَوْبَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((لَا یَحِلُّ لِاِمْرِیئٍ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ اَنْ یَنْظُرَ فِیْ جَوْفِ بَیْتِ امْرِیئٍ حَتّٰییَسْتَاْذِنَ، فَاِنْ نَظَرَ فَقَدْ دَخَلَ، وَلَا یَؤُمُّ قَوْمًا فَیَخْتَصَّ نَفْسَہَ بِدُعَائٍ دُوْنَھُمْ، فَاِنْ فَعَلَ فَقَدْ خَانَھُمْ، وَلَا یُصَلِّیْ وَھُوَ حَقِنٌ حَتّٰییَتَخَفَّفَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۷۹)

۔ سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اجازت لیے بغیر کسی آدمی کے گھرکے اندر دیکھے، اگر وہ وہ دیکھتا ہے تو اس کا معنییہ ہو گا کہ وہ داخل ہو گیا ہے، نیز کوئی آدمی لوگوں کو اس طرح امامت نہ کروائے کہ دعا صرف اپنے نفس کے لیے کرتا رہے، پس اگر وہ اس طرح کرے گا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اس نے ان سے خیانت کی ہے اور کوئی آدمی اس حال میں نماز نہ پڑھے کہ وہ پیشاب پائخانہ کو روک رہا ہو، اسے چاہیے کہ پہلے قضائے حاجت سے فارغ ہو جائے۔