TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

تین تین امور کا بیان - تین تین امور کا بیان - زبان کی آفتوں کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 18 of زبان کی آفتوں کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 18 of 30 · 9 Hadith
۔ (۹۹۶۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَسْتَقْبِلُوْا، وَلَا تُحَفِّلُوْا، وَلَا یَنْعِقْ بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۳)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قضائے حاجت کے وقت قبلہ رخ نہ ہوا کرو، (دھوکہ دینے کے لیے جانوروں کا) دودھ نہ روکا کرو اور بکریوں کے چرواہوں کی طرح ایک دوسرے کو آواز نہ دیا کرو۔
Takhreej
(۹۹۶۶) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الترمذی: ۱۲۶۸ (انظر: ۲۳۱۳)
Explanation
فوائد:… آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ سنجیدگی اور وقار کے ساتھ بولنا چاہیے، چیخنے اور اونچی اونچی آوازیں دینے سے بچنا چاہیے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَاقْصِدْ فِیْ مَشْیِکَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِکَ اِنَّ اَنْکَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۔} … اور اپنی چال میں میانہ روی رکھ اور اپنی آواز کچھ نیچی رکھ، بے شک سب آوازوں سے برییقینا گدھوں کی آواز ہے۔ (سورۂ لقمان: ۱۹)
9966
Sahih
۔ (۹۹۶۷)۔ عَنْ سَھْلٍ، عَنْ اَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اِنَّ لِلّٰہِ عِبَادًا لَا یُکَلِّمُھُمُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا یُزَکِّیْھِمْ وَلَا یَنْظُرُ اِلَیْھِمْ۔)) قِیْل لَہُ: مَنْ اُوْلٰئِکَ؟ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِِ! قَالَ: ((مُتَبَرٍّ مِنْ وَالِدَیْہِ رَاغِبٌ عَنْھُمَا، وَمُتَبَرٍّ مِنْ وَلِدِہِ ، ورَجُلٌ اَنْعَمَ عَلَیْہِ قَوْمٌ فَکَفَرَ نِعْمَتَھُمْ وَتَبَرَّاَ مِنْھُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۲۱)
۔ سہل اپنے باپ سیدنا معاذبن انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے ایسے بندے بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ ان سے کلام کرے گا، نہ ان کو پاک کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے والدین سے براء ت اور بے رغبتی کا اظہار کرنے والا، اپنی اولاد سے بری ہونے والا اور وہ آدمی کہ بعض لوگوں نے اس پر انعام کیا، لیکن اس نے ان کی نعمت کی ناشکری کی اور ان سے براء ت کا اظہار کیا۔
Takhreej
(۹۹۶۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، لضعف زبان بن فائد وسھل فی روایۃ زبان عنہ، ورشدین ایضا ضعیف، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۰/ ۴۳۷(انظر: ۱۵۶۳۶)
9967
Zaeef
۔ (۹۹۶۸)۔ عَنْ اَبِیْ شُرَیْحٍ الْخُزَاعِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ مِنْ اَعْتَی النَّاسِ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مَنْ قَتَلَ غَیْرَ قَاتِلِہِ، اَوْ طَلَبَ بِدَمِ الْجَاھِلیَّۃِ مِنْ اَھْلِ الْاِسْلَامِ، اَوْ بَصَّرَعَیْنَیْہِ فِیْ النُّوْمِ مَالَمْ تُبْصِرْ۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۹۱)
۔ سیدنا ابو شریح خزاعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر سب سے بڑا سرکش وہ ہے، جو غیر قاتل کو قتل کر دے، یا اہل اسلام سے جاہلیت والے خون کا مطالبہ کرے، یا اپنے آنکھوں کو نیند میں وہ کچھ دکھائے، جو انھوں نے دیکھا نہ ہو (یعنی جھوٹے خواب بیان کرے)۔
Takhreej
(۹۹۶۸) تخریج: اسنادہ ضعیف، عبد الرحمن بن اسحاق المدنی فیہ کلام من جھۃ حفظہ، وقال البخاری: لیس ممن یعتمد علی حفظہ اذا خالف من لیس بدونہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : (انظر: ۱۶۳۷۸)
9968
Zaeef
۔ (۹۹۶۹)۔ عَنْ رُوَیْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَارُوَیْفِعُ! لَعَلَّ الْحَیَاۃَ سَتَطُوْلُ بِکَ فَاَخْبِرِ النَّاسَ اَنَّہُ مَنْ عَقَدْ لِحْیَتَہُ، اَوْ تَقَلَّدَ وَتَرًا، اَوِ اسْتَنْجٰی بِرَجِیْعِ دَابَۃٍ، اَوْ عَظْمٍ، فَاِنَّ مُحَمَّدًا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْہُ بِرِیْئٌ (وَفِیْ لَفْظٍ: فَقَدْ بَرِیئَ مِمَّا اَنْزَلَ عَلیٰ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم )) (مسند احمد: ۱۷۱۲۰)
۔ سیدنا رویفع بن ثابت انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے رویفع! ممکن ہے کہ تیری زندگی لمبی ہو جائے، پس لوگوں کو بتلانا کہ جس نے اپنی داڑھی کو گرہ لگائی،یا تانت کا قلادہ ڈالا ، یا جانور کی لیدیا ہڈی سے استنجاء کیا تو محمد( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) اس سے بری ہو جا ئے گا۔ ایک روایت میں ہے: ایسا شخص اس چیز سے بری ہو جائے گا، جو محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نازل ہوئی۔
Takhreej
(۹۹۶۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، أخرجہ النسائی: ۸/ ۱۳۵ (انظر: ۱۶۹۹۵)
9969
Zaeef
۔ (۹۹۷۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ تَقَوَّلَ عَلَیَّ مَالَمْ اَقُلْ، فَلْیَتَبَوَّاْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ، وَمَنِ اسْتَشَارَہُ اَخُوْہُ الْمُسْلِمُ فَاَشَارَ عَلَیْہِ بِغَیْرِ رُشْدٍ فَقَدْ خَانَہُ، وَمَنْ اَفْتٰی بِفُتْیَا غَیْرِ ثَبْتٍ، فَاِنّمَا اِثْمُہُ عَلیٰ مَنْ اَفْتَاہُ۔)) (مسند احمد: ۸۲۴۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے میری طرف وہ بات منسوب کی، جو میں نے نہیں کہی، وہ آگ سے اپنا ٹھکانہ تیار کر لے، جس سے اس کے مسلمان بھائی نے مشورہ طلب کیا، لیکن اس نے عقل اور راست روی کے بغیر اس کو مشورہ دے دیا، پس اس نے اس سے خیانت کی اور جس نے تحقیق کے بغیر فتوی دیا، پس اس کا گناہ فتوی دینے والے پر ہو گا۔
Takhreej
(۹۹۷۰) تخریج: حسن، قالہ الالبانی، أخرجہ ابوداود: ۳۶۵۷، وابن ماجہ: ۵۳ (انظر: ۸۲۶۶)
Explanation
فوائد:… مشورہ اور فتوی دینے والے افراد کو متنبہ رہنا چاہیے، صرف وہ مشورہ دیا جائے، جس میں مسلمان کے لیے خیر و بھلائی ہو اور مکمل تحقیق، محنت اور یقینیا ظن غالب کے بعد شریعت سے متعلقہ امور کا فتوی دیا جائے۔
9970
Sahih
۔ (۹۹۷۱)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَھٰی اَنْ یَشْرَبَ الرَّجُـلُ قَائِمًا، وَعَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِیْ السِّقَائِ، وَاَنْ یَمْنَعَ الرَّجُـلُ جَارَہُ اَنْ یَضَعَ خَشَبَۃً فِیْ حَائِطِہِ۔)) (مسند احمد: ۸۳۱۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ آدمی کھڑے ہو کر پانی پئے، مشکیزے کے منہ سے پانی پئے اور اس سے کہ آدمی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار پر لکڑی رکھنے سے منع کرے۔
Takhreej
(۹۹۷۱) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الصحیح، أخرجہ البیھقی: ۶/ ۶۸ (انظر: ۸۳۱۷)
9971
Sahih
۔ (۹۹۷۲)۔ عَنْ وَاثِلَۃَ بْنِ الْاَسْقَعِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ النَّبیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مِنْ اَعْظَمِ الْفِـرٰی اَنْیُدْعَی الرَّجُلُ اِلٰی غَیْرِ اَبِیْہِ اَوْ یُرِیَ عَیْنَیْہِ فِیْ الْمَنَامِ مَالَمْ تَرَیَا، اَوْ یَقُوْلَ عَلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَالَمْ یَقُلْ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۰۵)
۔ سیدنا واثلہ بن اسقع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ آدمی غیر باپ کی طرف منسوب ہو یا اپنی آنکھوں کو وہ کچھ دکھائے، جو انھوں نے نہ دیکھا ہو(یعنی جھوٹے خواب بیان کرے)، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف ایسی بات منسوب کرے، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہ فرمائی ہو۔
Takhreej
(۹۹۷۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۵۰۹ (انظر: ۱۶۹۸۰)
9972
Sahih
۔ (۹۹۷۳)۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا شُعْبَۃُ، عَنِ اَبِیْ التَّیَّاحِ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ بَنِیْ لَیْثٍ، قَالَ: اَشْھَدُ عَلَی عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ، قَالَ شُعْبَۃُ: اَوْ قَالَ عِمْرَانُ: اَشْھَدُ عَلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ نَھٰی عَنِ الْحَنَاتِمِ۔ اَوْ قَالَ: الْحَنْتَمِ۔ (وَفِیْ لَفْظٍ: عَنِ الشُّرْبِ فِیْ الْحَنَاتِمِ وَخَاتَمِ الذَّھَبِ وَالْحَرِیْرِ۔))) (مسند احمد: ۲۰۰۷۷)
۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر گواہی دیتا ہوں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہرے رنگ کے گھڑوں میں پینے سے، سونے کی انگوٹھی سے اور ریشم سے منع فرمایا ہے۔
Takhreej
(۹۹۷۳) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ مقطعا الترمذی: ۱۷۳۸، والنسائی: ۸/ ۱۷۰ (انظر: ۱۹۸۳۸)
Explanation
فوائد:… حرمت ِ شراب کے وقت ہرے رنگ کے گھڑوں اور دیگر برتنوں کو استعمال کرنے سے عارضی طور پر منع کیا گیا تھا، بعد میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس قسم کے برتنوں کے استعمال کی اجازت دے دی تھی۔
9973
Sahih
۔ (۹۹۷۴)۔ عَنْ ثَوْبَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((لَا یَحِلُّ لِاِمْرِیئٍ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ اَنْ یَنْظُرَ فِیْ جَوْفِ بَیْتِ امْرِیئٍ حَتّٰییَسْتَاْذِنَ، فَاِنْ نَظَرَ فَقَدْ دَخَلَ، وَلَا یَؤُمُّ قَوْمًا فَیَخْتَصَّ نَفْسَہَ بِدُعَائٍ دُوْنَھُمْ، فَاِنْ فَعَلَ فَقَدْ خَانَھُمْ، وَلَا یُصَلِّیْ وَھُوَ حَقِنٌ حَتّٰییَتَخَفَّفَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۷۹)
۔ سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اجازت لیے بغیر کسی آدمی کے گھرکے اندر دیکھے، اگر وہ وہ دیکھتا ہے تو اس کا معنییہ ہو گا کہ وہ داخل ہو گیا ہے، نیز کوئی آدمی لوگوں کو اس طرح امامت نہ کروائے کہ دعا صرف اپنے نفس کے لیے کرتا رہے، پس اگر وہ اس طرح کرے گا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اس نے ان سے خیانت کی ہے اور کوئی آدمی اس حال میں نماز نہ پڑھے کہ وہ پیشاب پائخانہ کو روک رہا ہو، اسے چاہیے کہ پہلے قضائے حاجت سے فارغ ہو جائے۔
Takhreej
(۹۹۷۴) تخریج: صحیح لغیرہ دون قصۃ دعاء الامام لنفسہ، فانہ تفرد بھا یزید بن شریح الحضرمی، وھو یعتبر بہ فی المتابعات والشواھد، أخرجہ ابوداود: ۹۰، والترمذی: ۳۵۷(انظر: ۲۲۴۱۵)
Explanation
فوائد: … نظر کی وجہ سے ہی بلا اجازت کسی کے گھر میں داخل ہونے سے منع کیا گیا ہے، اس لیے دوسرے کے گھروں میں جھانکنا اور سوراخوں سے دیکھنا منع ہے۔
9974
Sahih

Chapters

30
01
کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان
13 Hadith
02
خاموشی کا بیان
3 Hadith
03
غیبت اور بہتان سے ترہیب کا بیان
8 Hadith
04
چغلخوری سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
05
جھوٹ سے ترہیب کا بیان
7 Hadith
06
ان لوگوں کا بیان، جن کو جھوٹا قرار دیا گیا ہے
2 Hadith
07
ان امور کا بیان، جن میں جھوٹ بولنا جائز ہوتا ہے
2 Hadith
08
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھوٹ بولنے سے ترہیب اور اس بارے میں سختی کا بیان
11 Hadith
09
مذاق کا بیان، نیزاس میں جھوٹ بولنے سے ترہیب کا بیان
13 Hadith
10
جھگڑا کرنے سے ترہیب کا بیان
4 Hadith
11
باچھین ہلا کر تکلّف و تصنّع سے گفتگو کرنے سے ترہیب اور واضح باتوں کا بیان
9 Hadith
12
بدگوئی اور جھوٹ پر مشتمل اور اللہ تعالیٰ سے دور کر دینے والے شعروں سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
13
شرعی مصلحت کی خاطر شعروں کے جواز کا بیان
6 Hadith
14
لبید اور امیہ بن ابی صلت کے اشعار کا بیان
5 Hadith
15
سیدنا عبد اللہ بن رواحہ اور سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے اشعار کا بیان
9 Hadith
16
دو دو امور کا بیان
2 Hadith
17
دو کے عدد سے شروع ہونے والے دو دو امور کا بیان
2 Hadith
18
تین تین امور کا بیان
9 Hadith
19
تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان
15 Hadith
20
چار چار امور کا بیان
5 Hadith
21
چار کے عدد سے شروع ہونے والے چار چار امور کا بیان
6 Hadith
22
پانچ پانچ امور کا بیان
5 Hadith
23
عدد سے شروع ہونے والے پانچ پانچ امور کا بیان
3 Hadith
24
چھ چھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
6 Hadith
25
سات سات امور کا بیان
2 Hadith
26
سات کے عدد سے شروع ہونے والے سات سات امور والی احادیث کا بیان
2 Hadith
27
آٹھ آٹھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
2 Hadith
28
آٹھ کے عدد سے شروع ہونے والی آٹھ آٹھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
1 Hadith
29
دس دس امور پر مشتمل احادیث کا بیان
2 Hadith
30
دس کے عدد سے شروع ہونے والے دس دس امور کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.