مسنداحمد

Musnad Ahmad

زبان کی آفتوں کے مسائل

تین تین امور کا بیان


۔ (۹۹۶۷)۔ عَنْ سَھْلٍ، عَنْ اَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اِنَّ لِلّٰہِ عِبَادًا لَا یُکَلِّمُھُمُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا یُزَکِّیْھِمْ وَلَا یَنْظُرُ اِلَیْھِمْ۔)) قِیْل لَہُ: مَنْ اُوْلٰئِکَ؟ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِِ! قَالَ: ((مُتَبَرٍّ مِنْ وَالِدَیْہِ رَاغِبٌ عَنْھُمَا، وَمُتَبَرٍّ مِنْ وَلِدِہِ ، ورَجُلٌ اَنْعَمَ عَلَیْہِ قَوْمٌ فَکَفَرَ نِعْمَتَھُمْ وَتَبَرَّاَ مِنْھُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۲۱)

۔ سہل اپنے باپ سیدنا معاذبن انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے ایسے بندے بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ ان سے کلام کرے گا، نہ ان کو پاک کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے والدین سے براء ت اور بے رغبتی کا اظہار کرنے والا، اپنی اولاد سے بری ہونے والا اور وہ آدمی کہ بعض لوگوں نے اس پر انعام کیا، لیکن اس نے ان کی نعمت کی ناشکری کی اور ان سے براء ت کا اظہار کیا۔

Status: Zaeef
حکمِ حدیث: ضعیف
Conclusion
تخریج
(۹۹۶۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، لضعف زبان بن فائد وسھل فی روایۃ زبان عنہ، ورشدین ایضا ضعیف، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۰/ ۴۳۷(انظر: ۱۵۶۳۶)