مسنداحمد

Musnad Ahmad

نیند کی وجہ سے وضو کا بیان

لیٹ کر سو جانے والے کا وضو

۔ (۷۷۶)۔عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ حُمَیْدٍ وَأَیُّوبَ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَامَ حَتّٰی سُمِعَ لَہُ غَطِیْطٌ فَقَامَ فَصَلّٰی وَلَمْ یَتَوَضَّأْ، فَقَالَ عِکْرِمَۃُ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَحْفُوظًا۔ (مسند أحمد: ۲۱۹۴)

سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی سجدے کی حالت میں سو جائے، اس پر کوئی وضو نہیں ہے، وضو اس پر ہے جو لیٹ کر سو جاتا ہے ، کیونکہ جب بندہ لیٹ کر سوتا ہے تو اس کے جوڑ ڈھیلے اور سست پڑ جاتے ہیں۔

۔ (۷۷۸)۔عَنْ عَلِیٍّ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الْعَیْنَ وِکَائُ السَّہِ فَمَنْ نَامَ فَلْیَتَوَضَّأْ۔)) (مسند أحمد: ۸۸۷)

سیدنا علیؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک آنکھ، دُبُر کے لیے تسمہ ہے، اس لیے جو سو جائے، وہ وضو کرے۔

۔ (۷۷۹)۔عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ أَبِیْ سُفْیَانَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّ الْعَیْنَ وِکَائُ السَّہِ، فَاِذَا نَامَتِ الْعَیْنَانِ اسْتَطْلَقَ الْوِکَائُ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۰۰۳)

سیدنا معاویہ بن ابی سفیانؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک آنکھ، دُبُر کے لیے تسمہ ہے، اس لیے جب آنکھیں سو جاتی ہیں تو تسمہ کھل جاتا ہے۔