سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات نمازِ عشا کو مؤخر کر دیا، یہاں تک لوگ سو گئے، پھر بیدار ہوئے، پھر سو گئے، پھر بیدار ہوئے۔ بالآکر سیدنا عمر بن خطاب ؓآئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! نماز پڑھائیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے اور لوگوں کو نماز پڑھائی، راوی نے اس قسم کی کوئی بات ذکر نہیں کی کہ انھوں نے وضو کیا تھا۔
سیدنا انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ نماز عشاء کے لیے اقامت کہہ دی گئی یا ایک رات نمازِ عشا کو مؤخر کر دیا گیا، پس ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے آپ سے کوئی کام ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ساتھ سرگوشی کرنے لگے، یہاں تک کہ لوگ سونے لگ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی اور وضو کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ صحابۂ کرام سو جاتے تھے اور پھر نیا وضو نہیں کرتے تھے۔
Takhreej
(۷۷۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۳۷۶ (انظر: ۱۳۹۴۱)
Explanation
فوائد:… مسند بزار (۲ /۳۳۴) کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: اِنَّ اَصْحَابَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کَانُوْا یَضَعُوْنَ جُنُوْبَھُمْ، فَمِنْھُمْ مَنْ یَتَوَضَّأُ وَمِنْھُمْ مَنْ لَا یَتَوَضَّأُ۔ … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ اپنے پہلوؤں پر سوجاتے تھے، پھر (نماز ادا کرتے وقت) کوئی وضو کرتا تھا اور کوئی نہیں کرتا تھا۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ بیٹھ کر اور لیٹ کر سونے میں اس اعتبار سے فرق کرنا درست نہیں ہے کہ بیٹھنے والے کا وضو برقرار رہتا ہے اور لیٹ جانے والے کا ٹوٹ جاتا ہے۔
سیدنا علیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بہت زیادہ سونے والا آدمی تھا، اس لیے جب میں مغرب پڑھتا اور مجھ پر میرے کپڑے ہوتے تو میں سو جاتا، پھر ایک دفعہ یحییٰ بن سعید نے علیؓ کی بات نقل کرتے ہوئے یہ کہا: تو میں عشاء سے پہلے سو جاتا پس جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے رخصت دے دی۔
Takhreej
(۷۷۲) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابن ابی لیلی سییء الحفظ، وجدۃ ابن الاصبھانی لاتُعرف (انظر: ۸۹۲)
Explanation
فوائد:… ان روایات سے معلوم ہوا کہ صحابۂ کرام بیٹھ کر بھی سو جاتے تھے اور لیٹ کر بھی، لیکن اِس نیند کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔ لیکن درج ذیل دو احادیث میں نیند کو مطلق طور پر ناقضِ وضو قرار دیا گیا ہے:
(۱) سیدنا صفوانؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کَانَ یَأْمُرُنَا (یَعْنِی النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اِذَا کُنَّا سَفَرًا أَوْ مُسَافِرِیْنَ أَنْ لَّا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَـلَاثَۃَ أَیَّامٍ وَلَیَالِیَہُنَّ اِلَّا مِنْ جَنَابَۃٍ وَلٰـکِنْ مِن غَائِطٍ وَبَولٍ وَنَوْمٍ۔
…نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ جب ہم سفر کر رہے ہوں تو تین دنوں اور راتوں تک پائخانے، پیشاب اور نیند کی وجہ سے موزے نہ اتارا کریں، البتہ جنابت کی وجہ سے اتارنے ہوں گے۔ (ترمذی: ۳۵۳۵، نسائی: ۱/ ۹۸، ابن ماجہ: ۴۷۸، واللفظ لاحمد) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پیشاب اور پائخانہ کی طرح نیند بھی مطلق طور پر ناقضِ وضو ہے۔
(۲) سیدنا علیؓسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((وِکَائُ السَّہِ الْعَیْنَانِ فَمَنْ نَامَ فَلْیَتَوَضَّأْ۔)) … بیشک آنکھیں، دُبُر کے لیے تسمہ ہیں، اس لیے جو سو جائے، وہ وضو کرے۔ (ابوداود: ۲۰۳، ابن ماجہ: ۴۷۷) سیدنا معاویہ بن ابی سفیانؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ الْعَیْنَ وِکَائُ السَّہِ، فَاِذَا نَامَتِ الْعَیْنَانِ اسْتَطْلَقَ الْوِکَائُ۔)) … بیشک آنکھ، دُبُر کے لیے تسمہ ہے، اس لیے جب آنکھیں سو جاتی ہیں تو تسمہ کھل جاتا ہے۔ (مسند أحمد: ۱۶۸۷۹،دارمی: ۱/ ۱۸۴، بیھقی: ۱/ ۱۱۸، دارقطنی: ۱/ ۱۶۰) یہ احادیث بھی مطلق طور پر اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ نیند مطلق طور پر وضو کو توڑ دیتی ہے۔
(۳) تیسری بات یہ ہے کہ بعض لوگوں کو اس طرح پایا گیا کہ بیٹھے بیٹھے ان کو نیند آ گئی اور نیند کے دوران آواز کے ساتھ ان کی ہوا خارج ہوئی، لیکن ان کو علم تک نہ ہو۔ پھر ان کو بتلایا گیا کہ اُن کا وضو ٹوٹ چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس باب کی احادیث اور ان کی شرح سے ثابت ہوتا ہے کہ نیند سے وضو نہیں ٹوٹتا، جبکہ درج بالا تین احادیث سے یہ پتہ چل رہا کہ نیند ناقض وضو ہے۔ راجح مذہب کے مطابق ان نصوص میں جمع و تطبیق کی صورت یہ ہے کہ درج بالا جن احادیث میں نیند کے ناقضِ وضو ہونے کا ذکر ہے، ان کو ناسخ سمجھ کر نیند کو مطلق طور پر وضو توڑ دینے والا امر قرار دیا جائے اور جن احادیث میں صحابہ کے سونے اور پھر وضو نہ کرنے کا ذکر ہے، ان کو منسوخ سمجھا جائے، اس صورت کی درج ذیل وجوہات ہیں:
(۱) اگر اباحت اور حظر میں تعارض پیدا ہو جائے تو حظر کو مقدم کیا جاتا ہے، ان روایات میں نیند کا ناقضِ وضو ہونا حظر ہے۔
(۲)اگر متعارض امور میں سے ایک کا تعلق براء تِ اصلیہ سے ہو تو اسے منسوخ سمجھا جائے گا، اس اعتبار سے نیند کو توڑ دینے والے حکم پر مشتمل احادیث ناسخ اور قابل عمل قرار پاتی ہیں۔
(۳) متعارض نصوص میں احوط یعنی زیادہ احتیاط والی نص پر عمل کیا جائے اور اِن احادیث میں زیادہ احتیاط اس میں ہے کہ نیند کو ناقضِ وضو سمجھ لیا جائے۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ صورتیں اس وقت اختیار کی جاتی ہیں جب واضح طور پر نسخ کا علم نہ ہو سکے۔ اونگھ اور اس کی طرح کی ہلکی نیند، جس میں شعور باقی رہتا ہے، ناقض و ضو نہیں ہے۔
صحابہ کے نیند سے وضو نہ کرنے کی صورت کو بھی ہلکی نیند پر محمول کر لیا جائے جس سے شعور باقی رہتا ہے تو اس طرح بھی متعارض نصوص کا تعارض ختم ہو سکتا ہے۔ علامہ عبیداللہ رحمانی رحمتہ اللہ علیہ نے (مرعاۃ المفاتیح، ص: ۳۹۶، رقم الحدیث: ۳۱۹) میں ابو علامہ محمد بن اسماعیل صنعانی نے سبل السلام کے آغاز میں اسی قول کو ترجیح دی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح سو گئے کہ آواز کے ساتھ سانس لینے لگے، پھر جب اٹھے تو نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
Takhreej
(۷۷۳) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین ، وأخرجہ البخاری: ۶۳۱۶، ومسلم: ۷۶۳ مطولا، لکن فیہما ذکر انہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نام ثم قام وصلی ولم یتوضأ (انظر: ۲۰۸۴)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہؓ کے گھر رات گزاری، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو بیدار ہوئے، ہلکا سا وضو کیا اور نماز شروع کر دی، سیدنا ابن عباسؓ نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح عمل کیا اور پھر آ کر (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب) کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو پھیر کر دائیں جانب کھڑا کر دیا، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہو کر لیٹ گئے، یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے، پھر مؤذن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا (اور نمازِ فجر کی اطلاع دی)، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے چلے گئے اور وضو نہیں کیا۔ دوسری روایت میں ہے: سیدنا ابن عباس ؓ نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فجر کی دو سنتیں پڑھ لیں تو لیٹ گئے اور خرّاٹے لینے لگے، پس ہم عمرو سے کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: میرے آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا۔
سیدنا ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح سو جاتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خرّاٹوں کی آواز آنے لگتی، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور وضو نہیں کرتے تھے۔ عکرمہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تو حفاظت کی گئی تھی۔
Takhreej
(۷۷۶) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ البیھقی: ۱/ ۱۲۱، وحدیث ابن عباس روی فی المسند بالفاظ مختلفۃ ومطولۃ ومختصرۃ و منھا ما رواہ الشیخان (انظر: ۲۱۹۴)
Explanation
فوائد:… نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نیند آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ناقضِ وضو نہیں تھی، کیونکہ نیند کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دل بیدار رہتا تھا۔
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی سجدے کی حالت میں سو جائے، اس پر کوئی وضو نہیں ہے، وضو اس پر ہے جو لیٹ کر سو جاتا ہے ، کیونکہ جب بندہ لیٹ کر سوتا ہے تو اس کے جوڑ ڈھیلے اور سست پڑ جاتے ہیں۔
Takhreej
(۷۷۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، یزید بن عبد الرحمن مختلف فیہ۔ أخرجہ ابوداود: ۲۰۲، والترمذی: ۷۷ (انظر: ۲۳۱۵)
Explanation
فوائد:… یہ حدیث اور وہ تمام روایات، جن میں بیٹھنے اور لیٹ کر سونے میں فرق کیا گیا ہے، وہ ضعیف ہیں۔
سیدنا معاویہ بن ابی سفیانؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک آنکھ، دُبُر کے لیے تسمہ ہے، اس لیے جب آنکھیں سو جاتی ہیں تو تسمہ کھل جاتا ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو (آدمی) اپنی اگلی شرمگاہ کو چھوئے، وہ وضو کرے، اسی طرح جو عورت اپنی شرمگاہ کو چھوئے وہ بھی وضو کرے۔
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنا ہاتھ اپنی اگلی شرمگاہ کو لگائے، جبکہ اس کے سامنے کوئی پردہ بھی نہ ہو تو یقینا اس پر وضو واجب ہو گیا۔
سیدہ بسرہ بن صفوانؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنی شرمگاہ کو چھوئے، وہ اس وقت تک نماز نہ پڑھے، جب تک وضو نہ کر لے۔
عروہ بن زبیر کہتے ہے: جب مروان مدینہ منورہ پر حکمران تھا، اس دوران اس نے ذکر کیا کہ جب کوئی آدمی اپنا ہاتھ شرمگاہ کو لگا دے گا تو وہ وضو کرے گا، لیکن میں نے اس کی اس بات کا انکار کیا اور کہا کہ شرمگاہ کوچھونے والے پر کوئی وضو نہیں ہے۔ مروان نے کہا: سیدہ بسرہ ؓ نے مجھے بیان کیا ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نواقضِ وضو ذکر کرتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا: شرمگاہ کو چھونے سے وضو کیا جائے گا۔ لیکن مروان سے میرا مجادلَہُ جاری رہا، یہاں تک کہ اس نے اپنے محافظوں میں سے ایک آدمی کو بلا کر اسے سیدہ بسرہؓکی طرف بھیجا تاکہ وہ اس سے اس حدیث کے بارے میں پوچھ کر آئیں، جو اس نے اس (مروان) کو بیان کی تھی، سیدہ بسرہ ؓ نے جواباً وہی حدیث ذکر کی،جو مروان نے مجھے ان کے واسطے سے بیان کی تھی۔
۔ (تیسری سند) اس میں ہے: قاصد نے بتلایا کہ سیدہ بسرہؓیہ بیان کر رہی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاتھا: جو آدمی اپنی شرمگاہ کو چھوئے، وہ وضو کرے۔
۔ (چوتھی سند)عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں، جبکہ وہ اپنے باپ کے ساتھ تھے، کہ مروان نے اس کو سیدہ بسرہ بنت صفوان ؓکی وساطت سے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنی شرمگاہ کو چھوئے، وہ وضو کرے۔ پھر مروان نے اس کی طرف قاصد بھیجا، جبکہ میں موجود تھا، سیدہ ؓ نے جواباً کہا: جی ہاں، (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے ہی فرمایا تھا)، پس قاصد ان کے پاس سے وہی بات لے کر آیا۔
سیدنا طلقؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا کہ جب کوئی آدمی اپنی شرمگاہ کو چھو لے، تو کیا وہ اس سے وضو کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے جسم کے گوشت کا ایک ٹکڑا ہی ہے۔
۔ (دوسری سند)سیدنا طلقؓ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: میں نے اپنی شرمگاہ کو چھوا ہے یا ایک آدمی نماز میں اپنی شرمگاہ کو چھوتا ہے، کیا وہ دوبارہ وضو کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ تمہارے وجود کا حصہ ہی ہے۔