TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نیند کی وجہ سے وضو کا بیان - نیند کی وجہ سے وضو کا بیان - Book 17 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 17 of Musnad Ahmad, with 31 chapters and 161 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

161 Hadith · 31 Chapters
بیٹھنے والے کی نیند کے بارے میں
۔ (۷۶۹)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا یُونُسُ وَعَفَّانُ قَالَا: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ أَیُّوْبَ، قَالَ عَفَّانُ: قَالَ حَمَّادٌ: أَنَا أَیُّوبُ وَقَیْسٌ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِیْ رَبَاحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَخَّرَ الْعِشَائَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ حَتّٰی نَامَ الْقَوْمُ ثُمَّ اسْتَیْقَظُوْا ثُمَّ نَامُوْا ثُمَّ اسْتَیْقَظُوْا، قَالَ قَیْسٌ: فَجَائَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ: اَلصَّلَاۃَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: فَخَرَجَ فَصَلّٰی بِہِمْ وَلَمْ یَذْکُر أَنَّہُم تَوَضَّؤُوْا۔ (مسند أحمد: ۲۱۹۵)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایک رات نمازِ عشا کو مؤخر کر دیا، یہاں تک لوگ سو گئے، پھر بیدار ہوئے، پھر سو گئے، پھر بیدار ہوئے۔ بالآکر سیدنا عمر بن خطاب ؓآئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! نماز پڑھائیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تشریف لے آئے اور لوگوں کو نماز پڑھائی، راوی نے اس قسم کی کوئی بات ذکر نہیں کی کہ انھوں نے وضو کیا تھا۔
Takhreej
(۷۶۹) تخریج: أخرج نحوہ البخاری: ۷۲۳۹، ومسلم: ۶۴۲ (انظر: ۲۱۹۵)
769
Sahih
بیٹھنے والے کی نیند کے بارے میں
۔ (۷۷۰)۔عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: أُقِیْمَتْ صَلاۃُ الْعِشَائِ، قَالَ عَفَّانُ: أَوْ أُخِّرَتْ ذَاتَ لَیْلَۃٍ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ لِیْ اِلَیْکَ حَاجَۃً فَقَامَ مَعَہُ یُنَاجِیْہِ حَتّٰی نَعَسَ الْقَومُ، أَوْ قَالَ: بَعْضُ القَوْمِ، ثُمَّ صَلّٰی وَلَم یَذْکُرْ وُضُوئً ا۔ (مسند أحمد: ۱۳۸۶۸)
سیدنا انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ نماز عشاء کے لیے اقامت کہہ دی گئی یا ایک رات نمازِ عشا کو مؤخر کر دیا گیا، پس ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے آپ سے کوئی کام ہے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کے ساتھ سرگوشی کرنے لگے، یہاں تک کہ لوگ سونے لگ گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نماز پڑھائی اور وضو کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔
Takhreej
(۷۶۹) تخریج: أخرج نحوہ البخاری: ۷۲۳۹، ومسلم: ۶۴۲ (انظر: ۲۱۹۵)
770
Sahih
بیٹھنے والے کی نیند کے بارے میں
۔ (۷۷۱)۔ عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ: کَانَ أَصْحَابُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنَامُوْنَ وَلَا یَتَوَضَّؤُوْنَ۔ (مسند أحمد: ۱۳۹۸۳)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ صحابۂ کرام سو جاتے تھے اور پھر نیا وضو نہیں کرتے تھے۔
Takhreej
(۷۷۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۳۷۶ (انظر: ۱۳۹۴۱)
Explanation
فوائد:… مسند بزار (۲ /۳۳۴) کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: اِنَّ اَصْحَابَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کَانُوْا یَضَعُوْنَ جُنُوْبَھُمْ، فَمِنْھُمْ مَنْ یَتَوَضَّأُ وَمِنْھُمْ مَنْ لَا یَتَوَضَّأُ۔ … رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے صحابہ اپنے پہلوؤں پر سوجاتے تھے، پھر (نماز ادا کرتے وقت) کوئی وضو کرتا تھا اور کوئی نہیں کرتا تھا۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ بیٹھ کر اور لیٹ کر سونے میں اس اعتبار سے فرق کرنا درست نہیں ہے کہ بیٹھنے والے کا وضو برقرار رہتا ہے اور لیٹ جانے والے کا ٹوٹ جاتا ہے۔
771
Sahih
بیٹھنے والے کی نیند کے بارے میں
۔ (۷۷۲)۔عَنْ عَلِیٍّؓ قَالَ: کُنْتُ رَجُلًا نَؤُوْمًا وَکُنْتُ اِذَا صَلَّیْتُ الْمَغْرِبَ وَعَلَیَّ ثِیَابِیْ نِمْتُ، ثُمَّ قَالَ یَحْیٰی بْنُ سَعِیْدٍ: فَأَنَامُ قَبْلَ الْعِشَائِ، فَسَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ذَالِکَ فَرَخَّصَ لِیْ۔ (مسند أحمد: ۸۹۲)
سیدنا علیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بہت زیادہ سونے والا آدمی تھا، اس لیے جب میں مغرب پڑھتا اور مجھ پر میرے کپڑے ہوتے تو میں سو جاتا، پھر ایک دفعہ یحییٰ بن سعید نے علیؓ کی بات نقل کرتے ہوئے یہ کہا: تو میں عشاء سے پہلے سو جاتا پس جب میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس کے بارے میں سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے رخصت دے دی۔
Takhreej
(۷۷۲) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابن ابی لیلی سییء الحفظ، وجدۃ ابن الاصبھانی لاتُعرف (انظر: ۸۹۲)
Explanation
فوائد:… ان روایات سے معلوم ہوا کہ صحابۂ کرام بیٹھ کر بھی سو جاتے تھے اور لیٹ کر بھی، لیکن اِس نیند کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔ لیکن درج ذیل دو احادیث میں نیند کو مطلق طور پر ناقضِ وضو قرار دیا گیا ہے: (۱) سیدنا صفوانؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کَانَ یَأْمُرُنَا (یَعْنِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ) اِذَا کُنَّا سَفَرًا أَوْ مُسَافِرِیْنَ أَنْ لَّا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَـلَاثَۃَ أَیَّامٍ وَلَیَالِیَہُنَّ اِلَّا مِنْ جَنَابَۃٍ وَلٰـکِنْ مِن غَائِطٍ وَبَولٍ وَنَوْمٍ۔ …نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہمیں حکم دیتے تھے کہ جب ہم سفر کر رہے ہوں تو تین دنوں اور راتوں تک پائخانے، پیشاب اور نیند کی وجہ سے موزے نہ اتارا کریں، البتہ جنابت کی وجہ سے اتارنے ہوں گے۔ (ترمذی: ۳۵۳۵، نسائی: ۱/ ۹۸، ابن ماجہ: ۴۷۸، واللفظ لاحمد) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پیشاب اور پائخانہ کی طرح نیند بھی مطلق طور پر ناقضِ وضو ہے۔ (۲) سیدنا علیؓسے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ((وِکَائُ السَّہِ الْعَیْنَانِ فَمَنْ نَامَ فَلْیَتَوَضَّأْ۔)) … بیشک آنکھیں، دُبُر کے لیے تسمہ ہیں، اس لیے جو سو جائے، وہ وضو کرے۔ (ابوداود: ۲۰۳، ابن ماجہ: ۴۷۷) سیدنا معاویہ بن ابی سفیانؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ((اِنَّ الْعَیْنَ وِکَائُ السَّہِ، فَاِذَا نَامَتِ الْعَیْنَانِ اسْتَطْلَقَ الْوِکَائُ۔)) … بیشک آنکھ، دُبُر کے لیے تسمہ ہے، اس لیے جب آنکھیں سو جاتی ہیں تو تسمہ کھل جاتا ہے۔ (مسند أحمد: ۱۶۸۷۹،دارمی: ۱/ ۱۸۴، بیھقی: ۱/ ۱۱۸، دارقطنی: ۱/ ۱۶۰) یہ احادیث بھی مطلق طور پر اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ نیند مطلق طور پر وضو کو توڑ دیتی ہے۔ (۳) تیسری بات یہ ہے کہ بعض لوگوں کو اس طرح پایا گیا کہ بیٹھے بیٹھے ان کو نیند آ گئی اور نیند کے دوران آواز کے ساتھ ان کی ہوا خارج ہوئی، لیکن ان کو علم تک نہ ہو۔ پھر ان کو بتلایا گیا کہ اُن کا وضو ٹوٹ چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس باب کی احادیث اور ان کی شرح سے ثابت ہوتا ہے کہ نیند سے وضو نہیں ٹوٹتا، جبکہ درج بالا تین احادیث سے یہ پتہ چل رہا کہ نیند ناقض وضو ہے۔ راجح مذہب کے مطابق ان نصوص میں جمع و تطبیق کی صورت یہ ہے کہ درج بالا جن احادیث میں نیند کے ناقضِ وضو ہونے کا ذکر ہے، ان کو ناسخ سمجھ کر نیند کو مطلق طور پر وضو توڑ دینے والا امر قرار دیا جائے اور جن احادیث میں صحابہ کے سونے اور پھر وضو نہ کرنے کا ذکر ہے، ان کو منسوخ سمجھا جائے، اس صورت کی درج ذیل وجوہات ہیں: (۱) اگر اباحت اور حظر میں تعارض پیدا ہو جائے تو حظر کو مقدم کیا جاتا ہے، ان روایات میں نیند کا ناقضِ وضو ہونا حظر ہے۔ (۲)اگر متعارض امور میں سے ایک کا تعلق براء تِ اصلیہ سے ہو تو اسے منسوخ سمجھا جائے گا، اس اعتبار سے نیند کو توڑ دینے والے حکم پر مشتمل احادیث ناسخ اور قابل عمل قرار پاتی ہیں۔ (۳) متعارض نصوص میں احوط یعنی زیادہ احتیاط والی نص پر عمل کیا جائے اور اِن احادیث میں زیادہ احتیاط اس میں ہے کہ نیند کو ناقضِ وضو سمجھ لیا جائے۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ صورتیں اس وقت اختیار کی جاتی ہیں جب واضح طور پر نسخ کا علم نہ ہو سکے۔ اونگھ اور اس کی طرح کی ہلکی نیند، جس میں شعور باقی رہتا ہے، ناقض و ضو نہیں ہے۔ صحابہ کے نیند سے وضو نہ کرنے کی صورت کو بھی ہلکی نیند پر محمول کر لیا جائے جس سے شعور باقی رہتا ہے تو اس طرح بھی متعارض نصوص کا تعارض ختم ہو سکتا ہے۔ علامہ عبیداللہ رحمانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے (مرعاۃ المفاتیح، ص: ۳۹۶، رقم الحدیث: ۳۱۹) میں ابو علامہ محمد بن اسماعیل صنعانی نے سبل السلام کے آغاز میں اسی قول کو ترجیح دی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
772
Zaeef
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی نیند ناقضِ وضو نہیں تھی، اگرچہ وہ لیٹ کر ہوتی
۔ (۷۷۳)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَامَ حَتّٰی نَفَخَ ثُمَّ قَامَ فَصَلّٰی وَلَمْ یَتَوَضَّأْ۔ (مسند أحمد: ۲۰۸۴)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس طرح سو گئے کہ آواز کے ساتھ سانس لینے لگے، پھر جب اٹھے تو نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
Takhreej
(۷۷۳) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین ، وأخرجہ البخاری: ۶۳۱۶، ومسلم: ۷۶۳ مطولا، لکن فیہما ذکر انہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نام ثم قام وصلی ولم یتوضأ (انظر: ۲۰۸۴)
773
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی نیند ناقضِ وضو نہیں تھی، اگرچہ وہ لیٹ کر ہوتی
۔ (۷۷۴)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ عَنِ النَبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔
سیدہ عائشہؓ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اسی طرح کی ایک حدیث روایت کی ہے۔
774
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی نیند ناقضِ وضو نہیں تھی، اگرچہ وہ لیٹ کر ہوتی
۔ (۷۷۵)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ کُرَیْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ، بِتُّ عِنْدَ خَالَتِیْ مَیْمُونَۃَ فَقَامَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ اللَّیْلِ، قَالَ: فَتَوَضَّأَ وُضُوئً ا خَفِیْفًا فَقَامَ فَصَنَعَ ابْنُ عَبَّاسٍ کَمَا صَنَعَ ثُمَّ جَائَ فَقَامَ فَصَلّٰی فَحَوَّلَہُ فَجَعَلَہُ عَنْ یَمِیْنِہِ ثُمَّ صَلّٰی مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتّٰی نَفَخَ، فَأَتَاہُ الْمُؤَذِّنُ ثُمَّ قَامَ اِلَی الصَّلٰوۃِ وَلَمْ یَتَوَضَّأْ۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو قَالَ: أَخْبَرَنِیْ کُرَیْبٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ: لَمَّا صَلّٰی رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ اضْطَجَعَ حَتّٰی نَفَخَ، فَکُنَّا نَقُولُ لِعَمْرٍو: اِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((تَنَامُ عَیْنَایَ وَلَا یَنَامُ قَلْبِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۱۲)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہؓ کے گھر رات گزاری، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ رات کو بیدار ہوئے، ہلکا سا وضو کیا اور نماز شروع کر دی، سیدنا ابن عباسؓ نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرح عمل کیا اور پھر آ کر (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بائیں جانب) کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو پھیر کر دائیں جانب کھڑا کر دیا، پھر وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نماز پڑھتے رہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ فارغ ہو کر لیٹ گئے، یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے، پھر مؤذن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا (اور نمازِ فجر کی اطلاع دی)، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نماز کے لیے چلے گئے اور وضو نہیں کیا۔ دوسری روایت میں ہے: سیدنا ابن عباس ؓ نے کہا: جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فجر کی دو سنتیں پڑھ لیں تو لیٹ گئے اور خرّاٹے لینے لگے، پس ہم عمرو سے کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا تھا: میرے آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا۔
Takhreej
(۷۷۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۳۸، ۷۲۶، ۸۵۹، ومسلم: ۷۶۳ (انظر: ۱۹۱۲)
775
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی نیند ناقضِ وضو نہیں تھی، اگرچہ وہ لیٹ کر ہوتی
۔ (۷۷۶)۔عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ حُمَیْدٍ وَأَیُّوبَ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَامَ حَتّٰی سُمِعَ لَہُ غَطِیْطٌ فَقَامَ فَصَلّٰی وَلَمْ یَتَوَضَّأْ، فَقَالَ عِکْرِمَۃُ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَحْفُوظًا۔ (مسند أحمد: ۲۱۹۴)
سیدنا ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس طرح سو جاتے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی خرّاٹوں کی آواز آنے لگتی، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور وضو نہیں کرتے تھے۔ عکرمہ نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی تو حفاظت کی گئی تھی۔
Takhreej
(۷۷۶) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ البیھقی: ۱/ ۱۲۱، وحدیث ابن عباس روی فی المسند بالفاظ مختلفۃ ومطولۃ ومختصرۃ و منھا ما رواہ الشیخان (انظر: ۲۱۹۴)
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی نیند آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے لیے ناقضِ وضو نہیں تھی، کیونکہ نیند کے دوران آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا دل بیدار رہتا تھا۔
776
Sahih
لیٹ کر سو جانے والے کا وضو
۔ (۷۷۶)۔عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ حُمَیْدٍ وَأَیُّوبَ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَامَ حَتّٰی سُمِعَ لَہُ غَطِیْطٌ فَقَامَ فَصَلّٰی وَلَمْ یَتَوَضَّأْ، فَقَالَ عِکْرِمَۃُ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَحْفُوظًا۔ (مسند أحمد: ۲۱۹۴)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی سجدے کی حالت میں سو جائے، اس پر کوئی وضو نہیں ہے، وضو اس پر ہے جو لیٹ کر سو جاتا ہے ، کیونکہ جب بندہ لیٹ کر سوتا ہے تو اس کے جوڑ ڈھیلے اور سست پڑ جاتے ہیں۔
Takhreej
(۷۷۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، یزید بن عبد الرحمن مختلف فیہ۔ أخرجہ ابوداود: ۲۰۲، والترمذی: ۷۷ (انظر: ۲۳۱۵)
Explanation
فوائد:… یہ حدیث اور وہ تمام روایات، جن میں بیٹھنے اور لیٹ کر سونے میں فرق کیا گیا ہے، وہ ضعیف ہیں۔
777
Zaeef
لیٹ کر سو جانے والے کا وضو
۔ (۷۷۸)۔عَنْ عَلِیٍّ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الْعَیْنَ وِکَائُ السَّہِ فَمَنْ نَامَ فَلْیَتَوَضَّأْ۔)) (مسند أحمد: ۸۸۷)
سیدنا علیؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک آنکھ، دُبُر کے لیے تسمہ ہے، اس لیے جو سو جائے، وہ وضو کرے۔
Takhreej
(۷۷۸) تخریج: قال الالبانی: حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۲۰۳، وابن ماجہ: ۴۷۷ (انظر: ۸۸۷)
778
Sahih
لیٹ کر سو جانے والے کا وضو
۔ (۷۷۹)۔عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ أَبِیْ سُفْیَانَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّ الْعَیْنَ وِکَائُ السَّہِ، فَاِذَا نَامَتِ الْعَیْنَانِ اسْتَطْلَقَ الْوِکَائُ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۰۰۳)
سیدنا معاویہ بن ابی سفیانؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک آنکھ، دُبُر کے لیے تسمہ ہے، اس لیے جب آنکھیں سو جاتی ہیں تو تسمہ کھل جاتا ہے۔
Takhreej
(۷۷۹) تخریج: قال الالبانی: حسن لغیرہ (مشکوۃ المصابیح)۔ أخرجہ الدارمی: ۱/ ۱۸۴، وابویعلی: ۷۳۷۲، والطبرانی فی الکبیر : ۱۹/ ۸۷۵، والبیھقی: ۱/ ۱۱۸، والدارقطنی: ۱/ ۱۶۰ (انظر: ۱۶۸۷۹)
Explanation
فوائد:… حدیث نمبر (۷۷۲)کے فوائد میں ان احادیث کا ذکر کیا جا چکا ہے۔
779
Sahih
شرمگاہ کو چھونے سے وضو کرنے کا بیان
۔ (۷۸۰)۔عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَن مَسَّ فَرْجَہُ فَلْیَتَوَضَّأْ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۰۳۱)
سیدنا زیدبن خالد جہنیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی اپنی فَرْج کو چھوئے وہ وضو کرے۔
Takhreej
(۷۸۰) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۵۲۲۲، وابن ابی شیبۃ: ۱/ ۱۶۳، والبزار: ۳۷۶۲ (انظر: ۲۱۶۸۹)
Explanation
فوائد:… فَرْج کا اطلاق عورت اور مرد دونوں کی اگلی اور پچھلی شرمگاہوں پر ہوتا ہے۔
780
Sahih
شرمگاہ کو چھونے سے وضو کرنے کا بیان
۔ (۷۸۱)۔عَنْ عَمْرِوبْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَنْ مَسَّ ذَکَرَہُ فَلْیَتَوَضَّأْ، وَأَیُّمَا امْرَأَۃٍ مَسَّتْ فَرْجَہَا فَلْتَتَوَضَّأْ۔)) (مسند أحمد: ۷۰۷۶)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو (آدمی) اپنی اگلی شرمگاہ کو چھوئے، وہ وضو کرے، اسی طرح جو عورت اپنی شرمگاہ کو چھوئے وہ بھی وضو کرے۔
Takhreej
(۷۸۱) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ الدارقطنی: ۱/ ۱۴۷، والبیھقی: ۱/ ۱۳۲ (انظر: ۷۰۷۶)
781
Sahih
شرمگاہ کو چھونے سے وضو کرنے کا بیان
۔ (۷۸۲)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَفْضٰی بِیَدِہِ اِلٰی ذَکَرِہِ لَیْسَ دُوْنَہُ سِتْرٌ فَقَدْ وَجَبَ عَلَیْہِ الْوُضُوئُ۔)) (مسند أحمد: ۸۳۸۵)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی اپنا ہاتھ اپنی اگلی شرمگاہ کو لگائے، جبکہ اس کے سامنے کوئی پردہ بھی نہ ہو تو یقینا اس پر وضو واجب ہو گیا۔
Takhreej
(۷۸۲) تخریج: حدیث حسن۔ أخرجہ ابن حبان: ۱۱۱۸، والطبرانی فی الاوسط : ۱۸۷۱، والبیھقی: ۱/۱۳۳، والدارقطنی: ۱/ ۱۴۷، والحاکم: ۱/ ۱۳۸ (انظر: ۸۴۰۴)
782
Sahih
ذکر کو چھونے سے وضو کا ٹوٹ جانا، اس کے بارے میں سیدہ بسرہ بنت صفوانؓ کی حدیث کا بیان
۔ (۷۸۳)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا یَحْیٰی بْنُ سَعِیْدٍ عَنْ ہِشَامٍ قَالَ: حَدَّثَنِیْ أَبِیْ أَنَّ بُسْرَۃَ بِنْتَ صَفْوَانَؓ أَخْبَرَتْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَن مَسَّ ذَکَرَہُ فَلَا یُصَلِّ حَتّٰی یَتَوَضَّأَ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۸۳۸)
سیدہ بسرہ بن صفوانؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی اپنی شرمگاہ کو چھوئے، وہ اس وقت تک نماز نہ پڑھے، جب تک وضو نہ کر لے۔
Takhreej
(۷۸۳) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ الترمذی: ۸۲، والنسائی: ۱/۲۱۶ (انظر: ۲۷۲۹۵)
783
Sahih
ذکر کو چھونے سے وضو کا ٹوٹ جانا، اس کے بارے میں سیدہ بسرہ بنت صفوانؓ کی حدیث کا بیان
۔ (۷۸۴)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔قَالَ عَبْدُاللّٰہِ: وَجَدتُّ فِی کِتَابِ أَبِیْ بَخَطِّ یَدِہِ، ثَنَا أَبُوالْیَمَانِ قَالَ: أَنَا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ: أَخْبَرَنِیْ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ أَبِیْ بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ الْأَنْصَارِیُّ أَ نَّہُ سَمِعَ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ یَقُولُ:ذَکَرَ مَرْوَانُ فِی اِمَارَتِہِ عَلٰی الْمَدِیْنَۃِ أَنَّہُ یُتَوَضَّأُ مِنْ مَسِّ الذَّکَرِ اِذَا أَفْضَی الرَّجُلُ بِیَدِہِ، فَأَنْکَرْتُ ذَالِکَ عَلَیْہِ، فَقُلْتُ: لَا وُضُوئَ عَلٰی مَنْ مَسَّہُ، فَقَالَ مَرْوَانُ: أَخْبَرَتْنِیْ بُسْرَۃُ بِنْتُ صَفْوَانَ أَنَّہَا سَمِعَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَذْکُرُ مَا یُتَوَضَّأُ مِنْہُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((وَیُتَوَضَّأُ مِن مَسِّ الذَّکَرِ۔)) قَالَ عُرْوَۃُ: فَلَمْ أَزَلْ أُمَارِیْ مَرْوَانَ حَتّٰی دَعَا رَجُلًا مِنْ حَرَسِہِ فَأَرْسَلَہُ اِلٰی بُسْرَۃَ یَسْأَلُہَا عَمَّا حَدَّثَتْ مِنْ ذَالِکَ، فَأَرْسَلَتْ اِلَیْہِ بُسْرَۃُ بِمِثْلِ الَّذِیْ حَدَّثَنِیْ عَنْہَا مَرْوَانُ۔ (مسند أحمد: ۲۷۸۳۸م)
عروہ بن زبیر کہتے ہے: جب مروان مدینہ منورہ پر حکمران تھا، اس دوران اس نے ذکر کیا کہ جب کوئی آدمی اپنا ہاتھ شرمگاہ کو لگا دے گا تو وہ وضو کرے گا، لیکن میں نے اس کی اس بات کا انکار کیا اور کہا کہ شرمگاہ کوچھونے والے پر کوئی وضو نہیں ہے۔ مروان نے کہا: سیدہ بسرہ ؓ نے مجھے بیان کیا ہے کہ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو نواقضِ وضو ذکر کرتے ہوئے سنا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے یہ بھی فرمایا تھا: شرمگاہ کو چھونے سے وضو کیا جائے گا۔ لیکن مروان سے میرا مجادلَہُ جاری رہا، یہاں تک کہ اس نے اپنے محافظوں میں سے ایک آدمی کو بلا کر اسے سیدہ بسرہؓکی طرف بھیجا تاکہ وہ اس سے اس حدیث کے بارے میں پوچھ کر آئیں، جو اس نے اس (مروان) کو بیان کی تھی، سیدہ بسرہ ؓ نے جواباً وہی حدیث ذکر کی،جو مروان نے مجھے ان کے واسطے سے بیان کی تھی۔
Takhreej
(۷۸۴) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ النسائی: ۱/۱۰۰ (انظر: ۲۷۲۹۶)
784
Sahih
ذکر کو چھونے سے وضو کا ٹوٹ جانا، اس کے بارے میں سیدہ بسرہ بنت صفوانؓ کی حدیث کا بیان
۔ (۷۸۵)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا اِسْمَعِیْلُ بْنُ عُلَیَّۃَ ثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ أَبِیْ بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ بِمِثْلِہِ وَفِیْہِ: فَذَکَرَ الرَّسُوْلُ أَ نَّہَا تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَن مَسَّ ذَکَرَہُ فَلْیَتَوَضَّأْ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۸۳۶)
۔ (تیسری سند) اس میں ہے: قاصد نے بتلایا کہ سیدہ بسرہؓیہ بیان کر رہی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایاتھا: جو آدمی اپنی شرمگاہ کو چھوئے، وہ وضو کرے۔
Takhreej
(۷۸۵) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۱۸۱(انظر: ۲۷۲۹۳)
785
Sahih
ذکر کو چھونے سے وضو کا ٹوٹ جانا، اس کے بارے میں سیدہ بسرہ بنت صفوانؓ کی حدیث کا بیان
۔ (۷۸۶)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ رَابِـعٍ)۔ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَ نَّہُ سَمِعَہُ مِنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ وَہُوَ مَعَ أَبِیْہِ یُحَدِّثُ أَنَّ مَرْوَانَ أَخْبَرَہُ عَنْ بُسْرَۃَ بِنْتِ صَفْوَانَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ مَسَّ فَرْجَہُ فَلْیَتَوَضَّأْ۔)) قَالَ: فَأَرْسَلَ اِلَیْہَا رَسُوْلًا وَأَ نَا حَاضِرٌ، فَقَالَتْ: نَعَمْ، فَجَائَ مِنْ عِنْدِہَا بِذَاکَ۔ (مسند أحمد: ۲۷۸۳۷)
۔ (چوتھی سند)عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں، جبکہ وہ اپنے باپ کے ساتھ تھے، کہ مروان نے اس کو سیدہ بسرہ بنت صفوان ؓکی وساطت سے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی اپنی شرمگاہ کو چھوئے، وہ وضو کرے۔ پھر مروان نے اس کی طرف قاصد بھیجا، جبکہ میں موجود تھا، سیدہ ؓ نے جواباً کہا: جی ہاں، (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایسے ہی فرمایا تھا)، پس قاصد ان کے پاس سے وہی بات لے کر آیا۔
Takhreej
(۷۸۶) تخریج: حدیث صحیح، وھو مکرر ما قبلہ۔ أخرجہ النسائی: ۱/ ۲۱۶ (انظر: ۲۷۲۹۴)
786
Sahih
شرمگاہ کو چھونے سے وضو کا نہ ٹوٹنا، اس رائے کا بیان
۔ (۷۸۷)۔عَنْ قَیْسِ بْنِ طَلْقٍ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَیَتَوَضَّأُ أَحَدُنَا اِذَا مَسَّ ذَکَرَہُ، قَالَ: ((اِنَّمَا ہُوَ بَضْعَۃٌ مِنْکَ أَوْ جَسَدِکَ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۳۹۵)
سیدنا طلقؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ سوال کیا کہ جب کوئی آدمی اپنی شرمگاہ کو چھو لے، تو کیا وہ اس سے وضو کرے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ تمہارے جسم کے گوشت کا ایک ٹکڑا ہی ہے۔
Takhreej
(۷۸۷) تخریج: حدیث حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۱۸۲، والترمذی: ۸۵،والنسائی: ۱/ ۱۰۳، وابن ماجہ: ۴۸۳ (انظر: ۱۶۲۸۶)
787
Sahih
شرمگاہ کو چھونے سے وضو کا نہ ٹوٹنا، اس رائے کا بیان
۔ (۷۸۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَأَلَہُ رَجُلٌ فَقَالَ: مَسَسْتُ ذَکَرِیْ، أَوِ الرَّجُلُ یَمُسُّ ذَکَرَہُ فِی الصَّلٰوۃِ، عَلَیْہِ الْوُضُوئُ؟ قَالَ: ((لَا، اِنَّمَا ہُوَ مِنْکَ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۴۰۱)
۔ (دوسری سند)سیدنا طلقؓ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ایک آدمی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کیا: میں نے اپنی شرمگاہ کو چھوا ہے یا ایک آدمی نماز میں اپنی شرمگاہ کو چھوتا ہے، کیا وہ دوبارہ وضو کرے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نہیں، یہ تمہارے وجود کا حصہ ہی ہے۔
Takhreej
(۷۸۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
788
Sahih

Chapters

31
01
بیٹھنے والے کی نیند کے بارے میں
4 Hadith
02
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی نیند ناقضِ وضو نہیں تھی، اگرچہ وہ لیٹ کر ہوتی
4 Hadith
03
لیٹ کر سو جانے والے کا وضو
3 Hadith
04
شرمگاہ کو چھونے سے وضو کرنے کا بیان
3 Hadith
05
ذکر کو چھونے سے وضو کا ٹوٹ جانا، اس کے بارے میں سیدہ بسرہ بنت صفوانؓ کی حدیث کا بیان
4 Hadith
06
شرمگاہ کو چھونے سے وضو کا نہ ٹوٹنا، اس رائے کا بیان
3 Hadith
07
عورت کو چھونے اور اس کا بوسہ لینے سے وضو کرنے کا بیان
3 Hadith
08
قے، ڈکار اور نکسیر سے وضو کرنے کا بیان
2 Hadith
09
اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کرنے کا بیان
4 Hadith
10
آگ سے پکی ہوئی چیز سے وضو کرنے کا بیان
5 Hadith
11
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بعض بیویوں سے اس موضوع سے متعلقہ بیان کی گئی مرویات کا بیان
5 Hadith
12
آگ پر پکی ہوئی چیز کو کھانے سے وضو نہ کرنے کا بیان
24 Hadith
13
غسلِ جنابت اور اس کو واجب کرنے والے امور کے ابواب صرف منی کے خروج سے غسل کے واجب ہو جانے کے قائلین کا بیان
5 Hadith
14
یہ رخصت تھی، پھر منسوخ ہو گئی
3 Hadith
15
ختنے والی دو جگہوں کے مل جانے سے غسل کے واجب ہو جانے کا بیان، اگرچہ انزال نہ ہوا ہو
6 Hadith
16
احتلام ہو جانے کی بنا پر غسل کے واجب ہونے کا بیان، بشرطیکہ انزال ہوا ہو
10 Hadith
17
ان لوگون کا بیان جو یہ کہتے ہیں کہ جنابت والا قرآن مجید کی تلاوت نہ کرے
4 Hadith
18
غسل کے وقت پردہ کرنا
6 Hadith
19
غسل اور وضو کے پانی کی مقدار کا بیان
6 Hadith
20
غسلِ جنابت اور اس سے پہلے والے وضو کی کیفیت کا بیان
10 Hadith
21
غسل میں سر دھونے کی کیفیت اور بالوں کو کھولنے کا بیان
9 Hadith
22
غسل خانے سے باہر آ کر پاؤں کو دھونے، تولیہ وغیرہ سے پانی خشک کرنے کے حکم اور نماز کا ارادہ رکھنے والے کا وضو کی بجائے غسل پر اکتفا کرنے کا بیان
5 Hadith
23
غسلِ جنابت کے بعد خشک رہ جانے والی جگہ کو پالینے والے کا بیان
1 Hadith
24
ایک غسل میں یا متعدد غسلوں میں ایک سے زائد بیویوں کے پاس جانے والے کا بیان
2 Hadith
25
جب جنبی آدمی سونے، کھانے اور دوبارہ حق زوجیت ادا کرنے کا ارادہ کرے تووہ کیا کرے سونے کا ارادہ رکھنے والے جنبی کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
6 Hadith
26
جب جنبی آدمی کھانے کا یا دوبارہ مجامعت کرنے کا ارادہ کرے تو اس کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
3 Hadith
27
رات کے پچھلے حصے تک غسلِ جنابت کو مؤخر کرنا
4 Hadith
28
مسنون غسل کی اقسام ایک سے زائد غسل کی وہ اقسام، جن کا احادیث میں اکٹھا ذکر کیا گیا
2 Hadith
29
میت کو غسل دینے سے غسل کرنے اور اس کو اٹھانے سے وضو کرنے کا بیان
4 Hadith
30
مسلمان ہونے والے کافر سے غسل کرنے کا مطالبہ کرنے کا بیان
3 Hadith
31
حمام میں داخل ہونے کا حکم
8 Hadith
No chapter matched that.