مسنداحمد

Musnad Ahmad

نیند کی وجہ سے وضو کا بیان

شرمگاہ کو چھونے سے وضو کا نہ ٹوٹنا، اس رائے کا بیان

۔ (۷۸۷)۔عَنْ قَیْسِ بْنِ طَلْقٍ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَیَتَوَضَّأُ أَحَدُنَا اِذَا مَسَّ ذَکَرَہُ، قَالَ: ((اِنَّمَا ہُوَ بَضْعَۃٌ مِنْکَ أَوْ جَسَدِکَ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۳۹۵)

سیدنا طلقؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ سوال کیا کہ جب کوئی آدمی اپنی شرمگاہ کو چھو لے، تو کیا وہ اس سے وضو کرے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ تمہارے جسم کے گوشت کا ایک ٹکڑا ہی ہے۔

۔ (۷۸۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَأَلَہُ رَجُلٌ فَقَالَ: مَسَسْتُ ذَکَرِیْ، أَوِ الرَّجُلُ یَمُسُّ ذَکَرَہُ فِی الصَّلٰوۃِ، عَلَیْہِ الْوُضُوئُ؟ قَالَ: ((لَا، اِنَّمَا ہُوَ مِنْکَ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۴۰۱)

۔ (دوسری سند)سیدنا طلقؓ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ایک آدمی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کیا: میں نے اپنی شرمگاہ کو چھوا ہے یا ایک آدمی نماز میں اپنی شرمگاہ کو چھوتا ہے، کیا وہ دوبارہ وضو کرے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نہیں، یہ تمہارے وجود کا حصہ ہی ہے۔

۔ (۷۸۹)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَالِثٍ)۔عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَیَتَوَضَّأُ أَحَدُنَا اِذَا مَسَّ ذَکَرَہُ فِی الصَّلَاۃِ؟ قَالَ: ((ہَلْ ہُوَ اِلَّا مِنْکَ، أَوْ بَضْعَۃٌ مِنْکَ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۴۰۴)

۔ (تیسری سند) سیدنا طلقؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر ہم میں سے کوئی آدمی نماز میں اپنی شرمگاہ کو چھو لیتا ہے تو کیا وہ وضو کرے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ تمہارے جسم کا ایک ٹکڑا ہی ہے، (اس سے وضو کرنے کی کیا ضرورت ہے)۔