مسنداحمد

Musnad Ahmad

نیند کی وجہ سے وضو کا بیان

عورت کو چھونے اور اس کا بوسہ لینے سے وضو کرنے کا بیان

۔ (۷۹۰)۔عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ زُبَیْرٍ عَنْ عَائِشَۃَؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَبَّلَ بَعْضَ نِسَائِہِ ثُمَّ خَرَجَ اِلَی الصَّلٰوۃِ وَلَمْ یَتَوَضَّأْ، قَالَ عُرْوَۃُ: قُلْتُ لَہَا: مَنْ ہِیَ اِلَّا أَنْتِ؟ فَضَحِکَتْ۔ (مسند أحمد: ۲۶۲۸۵)

سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایک بیوی کابوسہ لیا اور پھر وضو کیے بغیر نماز کے لیے تشریف لے گئے۔ میں (عروہ) نے کہا: یہ بیوی آپ ہی ہوں گی؟ یہ سن کر سیدہ مسکرا پڑیں۔

۔ (۷۹۱)۔عَنْ عَائِشَۃَ أَیْضًاؓ قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَضَّأُ ثُمَّ یُصَلِّیْ ثُمَّ یُقَبِّلُ وَیُصَلِّیْ وَلَا یَتَوَضَّأُ۔ (مسند أحمد: ۲۴۸۳۳)

سیدہ عائشہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ وضو کر کے نماز پڑھتے، پھر اپنی بیوی کا بوسہ لیتے اور پھر وضو کیے بغیر مزید نماز پڑھتے۔

۔ (۷۹۲)۔عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَۃَؓزَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہَا قَالَتْ: کُنْتُ أَنَامُ بَیْنَ یَدَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرِجْلَیَّ فِی قِبْلَتِہِ، فَاِذَا سَجَدَ غَمَزَنِیْ فَقَبَضْتُ رِجْلَیَّ وَاِذَا قَامَ بَسَطتُّہُمَا وَالْبُیُوتُ لَیْسَ یَوْمَئِذٍ فِیْہَا مَصَابِیْحُ۔ (مسند أحمد: ۲۵۶۶۳)

زوجۂ رسول سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میںرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے سامنے سویا کرتی تھی اور میری ٹانگیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے قبلہ کی سمت میں ہوتی تھیں، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سجدہ کرتے تو آپ مجھے دباتے اور میں اپنی ٹانگوں کو سمیٹ لیتی تھی، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کھڑے ہو جاتے تو میں ان کو بچھا دیتی، ان دنوں میں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔