مسنداحمد

Musnad Ahmad

نیند کی وجہ سے وضو کا بیان

اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کرنے کا بیان

۔ (۷۹۵)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَؓ قَالَ: کُنْتُ قَاعِدًا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُوْمِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: ((اِنْ شِِئْتَ تَوَضَّأْ مِنْہُ وَاِنْ شِئْتَ لَا تَوَضَّأْ مِنْہُ۔)) قَالَ: أَفَأَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُوْمِ الْاِبِلِ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، فَتَوَضَّأْ مِنْ لُحُوْمِ الْاِبِلِ۔)) قَالَ: فَنُصَلِّیْ فِیْ مَبَارِکِ الْاِبِلِ؟ قَالَ: ((لَا۔)) قَالَ: أَنُصَلِّیْ فِیْ مَرَابِضِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، صَلِّ فِی مَرَابِضِ الْغَنَمِ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۳۲۸)

سیدنا جابر بن سمرہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، ایک آدمی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم بکری کے گوشت سے وضو کیا کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر تو چاہے تو وضو کر لے اور چاہے تو وضو نہ کرے۔ اس نے کہا: تو کیا ہم اونٹ کے گوشت سے وضو کیا کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کیا کر۔ اس نے کہا: کیا ہم اونٹوں کے باڑوں میں نماز پڑھ لیا کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا: کیا ہم بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھ لیا کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھ لیا کر۔

۔ (۷۹۶)۔عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند أحمد: ۱۸۷۳۷)

سیدنا براء بن عازبؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔

۔ (۷۹۷)۔عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِی لَیْلٰی عَنْ ذِی الْغُرَّۃِ ؓ قَالَ: عَرَضَ أَعْرَابِیٌّ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسِیْرُ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! تُدْرِکُنَا الصَّلَاۃُ وَنَحْنُ فِی أَعْطَانِ الاِبِلِ أَفَنُصَلِّیْ فِیْہَا؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا۔)) قَالَ: أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِہَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالَ: أَفَنُصَلِّیْ فِیْ مَرَابِضِ الْغَنَمِ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((نَعَمْ۔)) قَالَ: أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُوْمِہَا؟ قَالَ: ((لَا۔)) (مسند أحمد: ۱۶۷۴۶)

سیدنا ذو الغرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک بدّو ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے سامنے آیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ چل رہے تھے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب اونٹوں کے باڑوں میں ہی نماز کا وقت ہو جائے تو کیا ہم ان میں نماز پڑھ لیا کریں؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا: کیا ہم ان کے گوشت سے وضو کیا کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: کیا ہم بکریوںکے باڑوں میں نماز پڑھ لیا کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: کیا ہم ان کے گوشت سے وضو کیا کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی نہیں۔

۔ (۷۹۸)۔عَنْ أُسَیْدِ بْنِ حُضَیْرٍؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ أَلْبَانِ الْاِبِلِ، قَالَ: (تَوَضَّئُوْا مِنْ أَلْبَانِہَا۔)) وَسُئِلَ عَنْ أَلْبَانِ الْغَنَمِ، فَقَالَ: ((لَا تَوَضَّئُوْا مِنْ أَلْبَانِہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۹۳۰۷)

سیدنا اسید بن حضیرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اونٹوں کے دودھ سے (وضو کرنے کے) بارے میں سوال کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ان کے دودھ سے وضو کیا کرو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے بکریوں کے دودھ کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ان کے دودھ سے وضو نہ کیا کرو۔