سیدنا جابر بن سمرہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم بکری کے گوشت سے وضو کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو چاہے تو وضو کر لے اور چاہے تو وضو نہ کرے۔ اس نے کہا: تو کیا ہم اونٹ کے گوشت سے وضو کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کیا کر۔ اس نے کہا: کیا ہم اونٹوں کے باڑوں میں نماز پڑھ لیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا: کیا ہم بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھ لیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھ لیا کر۔
سیدنا براء بن عازبؓ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
سیدنا ذو الغرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک بدّو ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چل رہے تھے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب اونٹوں کے باڑوں میں ہی نماز کا وقت ہو جائے تو کیا ہم ان میں نماز پڑھ لیا کریں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا: کیا ہم ان کے گوشت سے وضو کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: کیا ہم بکریوںکے باڑوں میں نماز پڑھ لیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: کیا ہم ان کے گوشت سے وضو کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔
سیدنا اسید بن حضیرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اونٹوں کے دودھ سے (وضو کرنے کے) بارے میں سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کے دودھ سے وضو کیا کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بکریوں کے دودھ کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کے دودھ سے وضو نہ کیا کرو۔