مسنداحمد

Musnad Ahmad

نیند کی وجہ سے وضو کا بیان

آگ پر پکی ہوئی چیز کو کھانے سے وضو نہ کرنے کا بیان

۔ (۸۲۹)۔عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الْأَشْہَلِیِّ عَنْ أُمِّ عَامِرٍؓ بِنْتِ یَزِیْدَ امْرَأَۃٍ مِنَ الْمُبَایِعَاتِ، أَنَّہَا أَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِعَرْقٍ فِی مَسْجِدِ فُـلَانٍ فَتَعَرَّقَہُ ثُمَّ قَامَ فَصَلّٰی وَلَمْ یَتَوَضَّأْ۔ (مسند أحمد: ۲۷۶۳۹)

سیدہ ام عامرؓ، جو کہ بیعت کرنے والی خواتین میں سے تھیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس مسجد میں ہڈی والا گوشت لائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کو نوچا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔

۔ (۸۳۰)۔عَنْ أُمِّ حَکِیْمٍ بِنْتِ الزُّبَیْرِ حَدَّثَتْہُ اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ عَلٰی ضُبَاعَۃَ بِنْتِ الزُّبَیْرِ فَنَھَسَ مِنْ کَتِفٍ عِنْدَھَا ثُمَّ صَلّٰی وَمَا تَوَضَّاَ مِنْ ذَالِکَ۔ (مسند أحمد: ۲۷۸۹۸)

سیدہ ام حکیم بنت زبیر بن عبد المطلبؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سیدہ ضباعہ بن زبیر کے پاس گئے اور ان کے ہاں کندھے سے نوچ کر گوشت کھایا اور پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔

۔ (۸۳۱)۔ عَنْ ضَبَاعَۃَ بِنْتِ الزُّبَیْرِبْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند أحمد: ۲۷۶۳۱)

سیدہ ضباعہ بنت زبیر بن عبد المطلبؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔

۔ (۸۳۲)۔ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَکَلَ کَتِفَ شَاۃٍ فَمَضْمَضَ وَغَسَلَ یَدَہُ وَصَلّٰی۔ (مسند أحمد: ۹۰۳۷)

سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے بکری کے کندھے کا گوشت کھایا، پھر کلی کی اور ہاتھ دھوئے اور پھر نماز پڑھی۔