مسنداحمد

Musnad Ahmad

نیند کی وجہ سے وضو کا بیان

غسل کے وقت پردہ کرنا

۔ (۸۶۱)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ أَمَرَ عَلِیًّا فَوَضَعَ لَہُ غُسْلًا ثُمَّ أَعْطَاہُ ثَوْبًا فَقَالَ: ((اُسْتُرْنِیْ وَوَلِّنِیْ ظَہْرَکَ۔)) (مسند أحمد: ۲۹۱۱)

سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سیدنا علی ؓ کو حکم دیا، پس انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے غسل کا پانی رکھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو ایک کپڑا دے کر فرمایا: اس کے ساتھ مجھ پر پردہ کرو اور اپنی پیٹھ میری طرف کر لو۔

۔ (۸۶۲)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّ مُوسَی ابْنَ عِمْرَانَ کَانَ اِذَا أَرَادَ أَنْ یَدْخُلَ الْمَائَ لَمْ یُلْقِ ثَوْبَہُ حَتّٰی یُوَارِیَ عَوْرَتَہُ بِالْمَائِ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۸۰۰)

سیدنا انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک حضرت موسی بن عمرانؑجب پانی میں داخل ہونے کا ارادہ فرماتے تو اس وقت تک کپڑا نہیں اتارتے تھے، جب تک پردے کے مقامات کو پانی نہ چھپا لیتے تھے۔

۔ (۸۶۳)۔عَنْ یَعْلَی بْنِ أُمَیَّۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ حَیِِیُّ سِتِّیْرٌ، فَاِذَا أَرَادَ أَحَدُکُم أَنْ یَغْتَسِلَ فَلْیَتَوَارَ بِشَیْئٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۱۳۳)

سیدنا یعلی بن امیہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ بہت زیادہ حیادار اور پردے والا ہے، اس لیے جب کوئی آدمی غسل کرنے لگے تو وہ کسی چیز کے ساتھ چھپ جایا کرے۔

۔ (۸۶۴)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُحِبُّ الْحَیَائَ وَالسِّتْرَ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۱۳۱)

سیدنا یعلی بن امیہؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ حیا اور پردے کو پسند کرتا ہے۔

۔ (۸۶۵)۔عَنْ أَبِیْ مُرَّۃَ مَوْلٰی عَقِیلِ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍ عَنْ أُمِّ ہَانِیئٍ (بِنْتِ أَبِیْ طَالِبٍ)ؓ أَنَّہَا ذَہَبَتْ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْفَتْحِ قَالَتْ: فَوَجَدتُّہُ یَغْتَسِلُ وَفَاطِمَۃُ تَسْتُرُہُ بِثَوْبٍ، (الحدیث) سَیَأْتِی بِتَمِامِہِ فِی غَزْوَۃِ فَتْحِ مَکَّۃَ اِنْ شَائَ اللّٰہُ تَعَالٰی۔ (مسند أحمد: ۲۷۹۲۳)

سیدہ ام ہانیؓ سے مروی ہے کہ وہ فتح مکہ والے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف گئیں، وہ کہتی ہیں: میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اس حالت میں پایا کہ آپ غسل فرما رہے تھے اور سیدہ فاطمہ ؓ ایک کپڑے کے ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا پردہ کر رہی تھیں، …۔ (یہ پوری حدیث غَزْوَۃُ فَتْحِ مَکَّۃَ میں آئے گی۔)

۔ (۸۶۶)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((بَیْنَمَا أَیُّوْبُ یَغْتَسِلُ عُرْیَانًا خَرَّ عَلَیْہِ جَرَادٌ مِنْ ذَہَبٍ، فَجَعَلَ أَیُّوْبُ یَحْثِیْ فِی ثَوْبِہِ، فَنَادَاہُ رَبُّہُ یَا أَیُّوْبُ! أَلَمْ أَکُنْ أَغْنَیْتُکَ عَمَّا تَرٰی؟ قَالَ: بَلٰی یَا رَبِّ، وَلٰکِنْ لَا غِنًی بِیْ عَنْ بَرَکَتِکَ۔)) (مسند أحمد: ۸۱۴۴)

سیدنا ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: حضرت ایوب ؑ برہنہ حالت میں غسل کر رہے تھے کہ ان پر سونے کی ٹڈیاں گرنے لگیں، حضرت ایوبؑ ان کو اپنے کپڑے میں اکٹھا کرنے لگ گئے، اس کے ربّ نے اس کو یوں آواز دی: اے ایوب! کیا میں نے تجھے اس چیز سے غنی نہیں کیا، جو تجھے نظر آ رہی ہے؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں، اے میرے رب! لیکن تیری برکت سے کوئی بے پرواہی نہیں ہے۔