مسنداحمد

Musnad Ahmad

نیند کی وجہ سے وضو کا بیان

غسلِ جنابت اور اس سے پہلے والے وضو کی کیفیت کا بیان

۔ (۸۷۳)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا أَرَادَ أَنْ یَغْتَسِلَ مِنْ جَنَابَۃٍ یَغْسِلُ یَدَیْہِ ثَلَاثًا (وَفِی رِوَایَۃٍ: فَیُوضَعُ الْاِنَائُ فِیْہِ الْمَائُ فَیُفْرِغُ عَلٰی یَدَیْہِ فَیَغْسِلُہُمَا قَبْلَ أَنْ یُدْخِلَہُمَا فِی الْمَائِ) ثُمَّ یَأْخُذُ بِیَمِیْنِہِ لِیَصُبَّ عَلٰی شِمَالِہِ فَیَغْسِلُ فَرْجَہُ حَتّٰی یُنْقِیَہُ، ثُمَّ یَغْسِلُ یَدَہُ غَسْلًا حَسَنًا، ثُمَّ یُمَضْمِضُ ثَلَاثًا وَیَسْتَنْشِقُ ثَلَاثًا وَیَغْسِلُ وَجْہَہُ ثَلَاثًا وَذِرَاعَیْہِ ثَلَاثًا ثُمَّ یَصُبُّ عَلٰی رَأْسِہِ الْمَائَ ثَلَاثًا ثُمَّ یَغْتَسِلُ (وَفِی رِوَایَۃٍ: یَغْسِلُ سَائِرَ جَسَدِہِ) فَاِذَا خَرَجَ غَسَلَ قَدَمَیْہِ۔ (مسند أحمد: ۲۵۱۵۵)

سیدہ عائشہؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب غسلِ جنابت کا ارادہ کرتے تو تین دفعہ ہاتھ دھوتے، ایک روایت میں ہے: پانی والا برتن رکھا جاتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اپنے ہاتھوں کو برتن میں داخل کرنے سے پہلے ان پر پانی بہا کر ان کو دھوتے تھے، پھر دائیں ہاتھ کے ذریعے پانی کر لیتے اور اس کو بائیں ہاتھ پر بہا کر شرمگاہ کو دھوتے، یہاں تک کہ وہ صاف ہو جاتی، پھر اپنے ہاتھ کو اچھی طرح دھوتے، پھر تین تین بار کلی کرتے اور ناک میں پانی چڑھاتے، تین دفعہ چہرہ دھوتے، تین مرتبہ بازوؤں کو دھوتے، پھر اپنے سر پر تین بار پانی بہاتے، پھر غسل کرتے،ایک روایت میں ہے: پھر بقیہ جسم کو دھوتے، جب باہر تشریف لے آتے تو پاؤں کو دھوتے تھے۔

۔ (۸۷۴)۔ (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَۃِ بَدَأَ فَتَوَضَّأَ وُضُوْئَ ہُ لِلصَّلَاۃِ وَغَسَلَ فَرْجَہُ وَقَدَمَیْہِ وَمَسَحَ یَدَہُ بِالْحَائِطِ ثُمَّ أَفَاضَ عَلَیْہِ الْمَائَ فَکَأَنِّیْ أَرٰی أَثَرَ یَدِہِ فِی الْحَائِطِ۔ (مسند أحمد: ۲۶۵۲۳)

۔ (دوسری سند) سیدہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب غسلِ جنابت کرتے تو نماز والا وضو کرتے، اپنی شرمگاہ کو اور پاؤں کو دھوتے اور اپنے ہاتھ کو دیوار کے ساتھ رگڑتے تھے، پھر اپنے آپ پر پانی بہا دیتے تھے، گویا میں دیوار میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ہاتھ کا نشان دیکھ رہی ہوں۔

۔ (۸۷۵)۔(وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)۔ وَسُئِلَتْ عَنْ غُسْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: کَانَ یَبْدَأُ بِیَدَیْہِ فَیَغْسِلُہُمَا (وَفِی رِوَایَۃٍ: یَغْسِلُ کَفَّیْہِ ثَلَاثًا) ثُمَّ یَتَوَضَّأُ وُضُوئَ ہُ لِلصَّلَاۃِ ثُمَّ یُخَلِّلُ أُصُولَ شَعْرِ رَأْسِہِ حَتّٰی اِذَا ظَنَّ أَنَّہُ قَدِ اسْتَبْرَأَ الْبَشَرَۃَ، اِغْتَرَفَ ثَلَاثَ غَرفَاتٍ (وَفِی رِوَایَۃٍ: غَرَفَ بِیَدَیْہِ مِلْئَ کَفَّیْہِ ثَلَاثًا) فَصَبَّہُنَّ عَلٰی رَأْسِہِ ثُمَّ أَفَاضَ عَلٰی سَائِرِ جَسَدِہِ۔(مسند أحمد:۲۴۷۶۱)

۔ (تیسری سند) سیدہ عائشہؓ سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے غسل کے بارے میں سوال کیا گیا، انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہاتھوں سے شروع کرتے، ان کو دھوتے، ایک روایت میں ہے: تین دفعہ اپنی ہتھیلیوں کو دھوتے تھے، پھر نماز والا وضو کرتے تھے، پھر اپنے سر کے بالوں کی جڑوں کے بیچ میں انگلیاں ڈالتے، جب ظنِّ غالب ہو جاتا کہ چمڑہ تر ہو گیا ہے تو دو ہاتھوں کے بھرے ہوئے تین چلو اپنے سر پر ڈالتے، پھر باقی جسم پر پانی بہا دیتے۔

۔ (۸۷۶)۔عَنْ مَیْمُونَۃَؓزَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: وَضَعْتُ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غُسْلًا فَاغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَۃِ وَأَکْفَأَ الْاِنَائَ بِشِمَالِہِ عَلٰی یَمِیْنِہِ فَغَسَلَ کَفَّیْہِ ثَلَاثًا ثُمَّ أَدْخَلَ یَدَہُ فِی الْاِنَائِ فَأَفَاضَ عَلٰی فَرْجِہِ ثَلَاثًا ثُمَّ دَلَکَ یَدَہُ بِالْحَائِطِ أَوْ بِالْأَرْضِ ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَ غَسَلَ وَجْھَہٗ ثَلَاثًا وَذِرَاعَیْہِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ أَفَاضَ عَلٰی رَأْسِہِ ثَلَاثًا ثُمَّ أَفَاضَ عَلٰی سَائِرِ جَسَدِہِ الْمَائَ ثُمَّ تَنَحّٰی فَغَسَلَ رِجْلَیْہِ۔ (مسند أحمد: ۲۷۳۸۰)

زوجۂ رسول سیدہ میمونہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے لیے غسل کا پانی رکھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس طرح غسلِ جنابت کیا، بائیں ہاتھ سے دائیں ہاتھ پر برتن انڈیلا اور اپنی ہتھیلیوں کو تین بار دھویا، پھر اپنے ہاتھ کو برتن میں داخل کیا اور تین دفعہ اپنی شرمگاہ پر پانی بہایا، پھر اپنے ہاتھ کو دیوار یا زمین پر رگڑا، پھر تین تین بار کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، پھر تین دفعہ چہرہ اور تین تین بار بازو دھوئے، پھر تین دفعہ اپنے سر پر پانی بہایا اور پھربقیہ جسم پر پانی ڈالَا، پھر اس جگہ سے ہٹ کر پاؤں کو دھویا۔

۔ (۸۷۷)۔عَنْ شُعْبَۃَ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ؓ کَانَ اِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَۃِ أَفْرَغَ بِیَدِہِ الْیُمْنٰی عَلٰی الْیُسْرٰی فَغَسَلَہَا سَبْعًا قَبْلَ أَنْ یُدْخِلَہَا فِی الْاِنَائِ فَنَسِیَ مَرَّۃً کَمْ أَفْرَغَ عَلٰی یَدِہِ فَسَأَلَنِیْ کَمْ أَفْرَغْتُ؟ فَقُلْتُ: لَا أَدْرِیْ، فَقَالَ: لَا أُمَّ لَکَ وَلِمَ لَا تَدْرِیْ؟ ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوئَہُ لِلصَّلٰوۃِ ثُمَّ یُفِیْضُ الْمَائَ عَلٰی رَأْسِہِ وَجَسَدِہِ وَقَالَ: ہٰکَذَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَطَہَّرُ یَعْنِیْ یَغْتَسِلُ۔ (مسند أحمد: ۲۸۰۰)

مولائے ابن عباس امام شعبہ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓجب غسلِ جنابت کرتے تو دائیں ہاتھ کے ذریعے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور اس کو برتن میں داخل کرنے سے پہلے سات بار دھوتے، ایک دفعہ وہ یہ بھول گئے کہ انھوں نے اپنے ہاتھ پر کتنی دفعہ پانی ڈالا تھا، اس لیے انھوں نے مجھ سے سوال کیا: میں نے کتنی دفعہ پانی ڈالا ہے؟ میں نے کہا: میں تو نہیں جانتا، انھوں نے کہا: تیری ماں نہ ہو، تو کیوں نہیں جانتا؟ پھر انھوں نے نماز والا وضو کیا اور پھر سر اور جسم پر پانی بہا دیا اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اسی طرح غسل کیا کرتے تھے۔

۔ (۸۷۸)۔عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ مِقْسَمٍ قَالَ: سَأَلَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ جَابِرَ بْنَ عَبْدِاللّٰہِؓ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَۃِ، فَقَالَ: تَبُلُّ الشَّعْرَ وَتَغْتَسِلُ الْبَشَرَۃَ، قَالَ: فَکَیْفَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَغْتَسِلُ؟ قَالَ: کَانَ یَصُبُّ عَلٰی رَأْسِہِ ثَـلَاثًا (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ثُمَّ یُفِیْضُ الْمَائَ عَلٰی جِلْدِہِ) قَالَ: اِنَّ رَأْسِیْ کَثِیْرُ الشَّعْرِ، قَالَ: کَانَ رَأْسُ رَسُوْلِ اللّٰہِ أَکْثَرَ مِنْ رَأْسِکَ وَأَطْیَبَ۔ (مسند أحمد: ۱۴۱۵۹)

عبید اللہ بن مقسم کہتے ہیں: حسن بن محمد نے سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے غسلِ جنابت کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: تم اپنے بالوں کو تر کرو اور چمڑے کو دھوؤ، اس نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کیسے غسل کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: سر پر تین دفعہ پانی ڈالتے تھے اور پھر اپنے چمڑے پر پانی بہاتے تھے۔ اس نے کہا: میرے سر کے بال تو بہت زیادہ ہیں، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے سر کے بال تیرے سر کے بالوں کی بہ نسبت زیادہ بھی تھے اور پاکیزہ بھی تھے۔

۔ (۸۷۹)۔عَنْ شُعْبَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ عَمْرٍو الْبَجَلِیَّ یُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ سَأَلُوْا عُمَرَبْنَ الْخَطَّابِ فَقَالُوْا لَہُ: اِنَّمَا أَتَیْنَاکَ نَسْأَلُکَ عَنْ ثَـلَاثٍ، عَنْ صَلَاۃِ الرَّجُلِ فِی بَیْتِہِ تَطَوُّعًا وَعَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَۃِ وَعَنِ الرَّجُلِ مَا یَصْلُحُ لَہُ مِنْ امْرَأَتِہِ اِذَا کَانَتْ حَائِضًا، فَقَالَ: أَسُحَّارٌ أَنْتُمْ؟ لَقَدْ سَأَلْتُمُوْنِیْ عَنْ شَیْئٍ مَا سَأَلَنِیْ عَنْہُ أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ عَنْہُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَقَالَ: ((صَلَاۃُ الرَّجُلِ فِی بَیْتِہِ تَطَوُّعًا نُورٌ، فَمَنْ شَائَ نَوَّرَ بَیْتَہُ۔)) وَقَالَ فِی الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَۃِ: ((یَغْسِلُ فَرْجَہُ ثُمَّ یَتَوَضَّأُ ثُمَّ یُفِیْضُ عَلٰی رَأْسِہِ ثَـلَاثًا)) وَقَالَ فِی الْحَائِضِ: ((لَہُ مَا فَوْقَ الْاِزَارِ)) (مسند أحمد: ۸۶)

عاصم بن عمرو بَجَلی، اس آدمی سے بیان کرتے ہیں، جو ان لوگوں میں سے تھا، جنھوں نے سیدنا عمر بن خطاب ؓ سے سوال کیا تھا: ہم آپ کے پاس تین چیزوں کے بارے میں سوال کرنے کے لیے آئے ہیں: بندے کا اپنے گھر میں نفلِیْ نماز پڑھنا کیسا ہے، غسل جنابت کا کیا طریقہ ہے اور خاوند کے لے حائضہ بیوی سے کیا کچھ جائز ہے۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا: کیا تم لوگ جادو گر ہو؟ تم نے مجھ سے وہ سوالات کیے ہیں کہ جب سے میں نے ان کے بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے پوچھا تھا، اس وقت سے کسی نے یہ سوالات نہیں کیے، بہرحال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بندے کا گھر میں نفلی نماز ادا کرنا، یہ نور ہے، جو چاہے اپنے گھر کو منوّر کرتا رہے۔ غسلِ جنابت کے بارے میں فرمایا: جنبی آدمی اپنی شرمگاہ دھوئے، پھر وضو کرے اور سر پر تین دفعہ پانی بہائے۔ اور حائضہ کے بارے میں فرمایا: اس کے ازار سے اوپر والا حصہ خاوند کے لیے جائز ہے۔

۔ (۸۸۰)۔عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الْغُسْلِ، قَالَ جَابِرٌ: أَتَتْ ثَقِیْفٌ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: اِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَۃٌ فَکَیْفَ تَأْمُرُنَا بِالْغُسْلِ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَمَّا أَنَا فَأَصُبُّ عَلٰی رَأْسِیْ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ)) وَلَمْ یَقُلْ غَیْرَ ذَالِکَ۔ (مسند أحمد: ۱۴۸۱۱)

ابو زبیرکہتے ہیں: میں نے سیدنا جابرؓ سے غسل کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے جواباً کہا: بنوثقیف کے لوگ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئے اور کہا: بیشک ہمارے علاقے میں سردی پڑتی ہے، تو پھر آپ ہمیں غسل کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں تو اپنے سر پر تین دفعہ پانی ڈالتا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کے علاوہ کچھ نہ کہا۔

۔ (۸۸۱)۔عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ؓ قَالَ: تَذَاکَرْنَا غُسْلَ الْجَنَابَۃِ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((أَمَّا أَنَا فَآخُذُ مِلْئَ کَفَّیَّ ثَلَاثًا فَأَصُبُّ عَلٰی رَأْسِیْ ثُمَّ أُفِیْضُہُ بَعْدُ عَلٰی سَائِرِ جَسَدِیْ)) (مسند أحمد: ۱۶۸۷۰)

سیدناجبیربن مطعمؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس غسل جنابت کا ذکر کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میری صورتحال تو یہ ہے کہ تین دفعہ دو ہتھیلیوں کا بھرا ہوا چلّو لے کر اس کو اپنے سر پر ڈالتا ہوں اور پھر بقیہ جسم پر پانی بہا دیتا ہوں۔

۔ (۸۸۲)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَۃِ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ۔ (مسند أحمد: ۲۵۳۵۲)

سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب غسلِ جنابت کرتے تو کلی کرتے اور ناک میں پانی چڑھاتے۔