سیدنا ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ان سے سر دھونے کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: تین چلّو تم کو کافی ہیں، پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو جمَعَ کر کے اشارہ کیا، لیکن اس آدمی نے کہا: اے ابو سعید! میرے بال تو بہت زیادہ ہیں، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیری بہ نسبت زیادہ بالوں والے اور زیادہ پاکیزگی والے تھے۔
ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: میں اور سیدہ عائشہؓکا رضاعی بھائی، سیدہ عائشہ ؓ کے پاس گئے، رضاعی بھائی نے ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غسل کے بارے میں سوال کیا، پس انھوں نے صاع کے بقدر برتن منگوا کر غسل کیا اور اپنے سر پر تین چلو ڈالے، جبکہ ہمارے اور ان کے درمیان پردہ حائل تھا۔
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے سوال کیا: غسلِ جنابت میں کتنا پانی میرے سر کے لیے کافِیْ ہو گا، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اپنے سر پر تین چلو ڈالتے تھے۔ اس نے کہا: میرے بال تو زیادہ ہیں، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال زیادہ بھی تھے اور پاکیزہ بھی تھے۔
جمیع بن عمیر کہتے ہیں: میں اپنی ماں اور خالہ کے ساتھ سیدہ عائشہ ؓ کے پاس گیا، ان میں سے ایک نے ان سے یہ سوال کیا: تم غسل کے وقت کیا کرتی تھیں؟ سیدہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو نماز والا وضو کر کے اپنے سر پر تین چلّو ڈالتے تھے، لیکن ہم مینڈھیوں کی وجہ سے پانچ چلّو ڈالتی تھیں۔
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے اپنے سر کے بالوں کو بڑی مضبوطی سے باندھا ہوا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! کیا تم جانتی نہیں ہو کہ ہر بال پر جنابت ہوتی ہے!؟
سیدنا علیؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے غسل جنابت کے دوران ایک بال کے بقدر جگہ کو اس طرح چھوڑ دیا کہ اس تک پانی نہ پہنچا تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ جہنم کی آگ سے ایسے ایسے کرے گا۔ سیدنا علیؓ نے کہا:یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنے بالوں سے دشمنی کی ہے، جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو۔
زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ایسی عورت ہوں کہ سر کی مینڈھیوں کو سختی سے گوندھتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تجھے یہ کافی ہے کہ تو سر پر تین دفعہ پانی بہا دے۔
سیدہ عائشہ ؓ کہتی ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر پر نکلتی تھیں،ہم نے سروں پر لیپ کیا ہوتا تھا، اسی حالت میں ہم غسل کرتی تھیں اور پسینہ بھی آتا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو منع نہیں کرتے تھے، ہماری یہ کیفیت حالت ِ احرام میں بھی ہوتی تھی اور احرام کے بغیر بھی۔
عبیدہ بن عمیر کہتے ہیں: جب سیدہ عائشہ ؓ کو یہ بات پہنچی کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ؓعورتوں کو یہ حکم دیتے ہیں کہ وہ غسل کے وقت اپنے بال کھول دیا کریں، تو انھوں نے کہا: ابن عمرو پر بڑا تعجب ہے، وہ عورتوں کو غسل کے وقت بال کھول دینے کا حکم دیتا ہے، وہ یہ حکم کیوں نہیں دیتا کہ خواتین اپنے سر ہی منڈوا دیں، مسئلہ تو یوں ہے کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک برتن میں اکٹھا غسل کرتے تھے، میں اپنے سر پر صرف تین بار پانی ڈالتی تھی۔