مسنداحمد

Musnad Ahmad

نیند کی وجہ سے وضو کا بیان

غسل میں سر دھونے کی کیفیت اور بالوں کو کھولنے کا بیان

۔ (۸۸۳)۔عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّؓ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَہُ عَنْ غَسْلِ الرَّأْسِ، فَقَالَ: یَکْفِیْکَ ثَـلَاثَ حَفَنَاتٍ أَوْ ثَلَاثَ أَکُفٍّ ثُمَّ جَمَعَ یَدَیْہِ ثُمَّ قَالَ: یَا أَبَا سَعِیْدٍ! اِنِّی رَجُلٌ کَثِیْرُ الشَّعْرِ، قَالَ: فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ أَکْثَرَ شَعْرًا مِنْکَ وَأَطْیَبَ۔ (مسند أحمد: ۱۱۷۱۷)

سیدنا ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ان سے سر دھونے کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: تین چلّو تم کو کافی ہیں، پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو جمَعَ کر کے اشارہ کیا، لیکن اس آدمی نے کہا: اے ابو سعید! میرے بال تو بہت زیادہ ہیں، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تیری بہ نسبت زیادہ بالوں والے اور زیادہ پاکیزگی والے تھے۔

۔ (۸۸۴)۔عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ (بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ) قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَخُو عَائِشَۃَ مِنَ الرَّضَاعِ فَسَأَلَہَا أَخُوہَا عَنِ غُسْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَعَتْ بِاِنَائٍ نَحْوًا مِنْ صَاعٍ فَاغْتَسَلَتْ وَأَفْرَغَتْ عَلٰی رَأْسِہَا ثَلَاثًا وَبَیْنَنَا وَبَیْنَہَا الْحِجَابُ۔ (مسند أحمد: ۲۴۹۳۴)

ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: میں اور سیدہ عائشہؓکا رضاعی بھائی، سیدہ عائشہ ؓ کے پاس گئے، رضاعی بھائی نے ان سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے غسل کے بارے میں سوال کیا، پس انھوں نے صاع کے بقدر برتن منگوا کر غسل کیا اور اپنے سر پر تین چلو ڈالے، جبکہ ہمارے اور ان کے درمیان پردہ حائل تھا۔

۔ (۸۸۵)۔ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: کَمْ یَکْفِیْ رَأْسِیْ فِی الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَۃِ؟ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصُبُّ بِیَدِہِ عَلٰی رَأْسِہِ ثَـلَاثًا، قَالَ: اِنَّ شَعْرِیْ کَثِیْرٌ، قَالَ: کَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَکْثَرَ وَأَطْیَبَ۔ (مسند أحمد: ۷۴۱۲)

سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے سوال کیا: غسلِ جنابت میں کتنا پانی میرے سر کے لیے کافِیْ ہو گا، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تو اپنے سر پر تین چلو ڈالتے تھے۔ اس نے کہا: میرے بال تو زیادہ ہیں، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے بال زیادہ بھی تھے اور پاکیزہ بھی تھے۔

۔ (۸۸۷)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: أَجْمَرْتُ رَأْسِیْ اِجْمَارًا شَدِیْدًا فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا عَائِشَۃُ! أَمَا عَلِمْتِ أَنَّ عَلٰی کُلِّ شَعْرَۃٍ جَنَابَۃً!؟)) (مسند أحمد: ۲۵۳۰۸)

سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے اپنے سر کے بالوں کو بڑی مضبوطی سے باندھا ہوا تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: عائشہ! کیا تم جانتی نہیں ہو کہ ہر بال پر جنابت ہوتی ہے!؟

۔ (۸۸۸)۔عَنْ عَلِیٍّؓ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ تَرَکَ مَوْضِعَ شَعْرَۃٍ مِنْ جَنَابَۃٍ لَمْ یُصِبْہَا مَائٌ فَعَلَ اللّٰہُ بِہٖ کَذَا وَکَذَا مِنَ النَّارِ۔)) قَالَ عَلِیٌّ ؓ: فَمِنْ ثَمَّ عَادَیْتُ شَعْرِیْ، زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: کَمَا تَرَوْنَ۔ (مسند أحمد: ۱۱۲۱)

سیدنا علیؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے غسل جنابت کے دوران ایک بال کے بقدر جگہ کو اس طرح چھوڑ دیا کہ اس تک پانی نہ پہنچا تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ جہنم کی آگ سے ایسے ایسے کرے گا۔ سیدنا علیؓ نے کہا:یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنے بالوں سے دشمنی کی ہے، جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو۔

۔ (۸۸۹)۔عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّی امْرَأَۃٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِیْ؟ قَالَ: ((یُجْزِیْکِ أَنْ تَصُبِّیْ عَلَیْہِ الْمَائَ ثَلَاثًا۔)) (مسند أحمد: ۲۷۰۱۰)

زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ایسی عورت ہوں کہ سر کی مینڈھیوں کو سختی سے گوندھتی ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو پھر تجھے یہ کافی ہے کہ تو سر پر تین دفعہ پانی بہا دے۔

۔ (۸۹۰)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: کُنَّا أَزْوَاجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْرُجْنَ مَعَہُ عَلَیْہِنَّ الضِمَادُ یَغْتَسِلْنَ فِیْہِ وَیَعْرَقْنَ لَا یَنْہَاہُنَّ عَنْہُ مُحِلَّاتٍ وَلَا مُحَرِمَاتٍ۔ (مسند أحمد: ۲۵۵۷۶)

سیدہ عائشہ ؓ کہتی ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیویاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ سفر پر نکلتی تھیں،ہم نے سروں پر لیپ کیا ہوتا تھا، اسی حالت میں ہم غسل کرتی تھیں اور پسینہ بھی آتا تھا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہم کو منع نہیں کرتے تھے، ہماری یہ کیفیت حالت ِ احرام میں بھی ہوتی تھی اور احرام کے بغیر بھی۔

۔ (۸۹۱)۔ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ قَالَ: بَلَغَ عَائِشَۃَ أَنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو یَأْمُرُ النِّسَائَ اِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ یَنْقُضْنَ رُؤُوْسَہُنَّ، فَقَالَتْ: یَا عَجَبًا لِابْنِ عَمْرٍو، ہُوَ یَأْمُرُ النِّسَائَ اِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ یَنْقُضْنَ رُؤُوْسَہُنَّ، اَع فَـلَا یَأْمُرُہُنَّ أَنْ یَحْلِقْنَ، لَقَدْ کُنْتُ أَنَا وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَغْتَسِلُ مِنْ اِنَائٍ وَاحِدٍ فَمَا أَزِیْدُ عَلٰی أَنْ أُفْرِغَ عَلٰی رَأْسِی ثَلَاثَ اِفْرَاغَاتٍ۔ (مسند أحمد: ۲۴۶۶۱)

عبیدہ بن عمیر کہتے ہیں: جب سیدہ عائشہ ؓ کو یہ بات پہنچی کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ؓعورتوں کو یہ حکم دیتے ہیں کہ وہ غسل کے وقت اپنے بال کھول دیا کریں، تو انھوں نے کہا: ابن عمرو پر بڑا تعجب ہے، وہ عورتوں کو غسل کے وقت بال کھول دینے کا حکم دیتا ہے، وہ یہ حکم کیوں نہیں دیتا کہ خواتین اپنے سر ہی منڈوا دیں، مسئلہ تو یوں ہے کہ میں اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک برتن میں اکٹھا غسل کرتے تھے، میں اپنے سر پر صرف تین بار پانی ڈالتی تھی۔