TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

غسل میں سر دھونے کی کیفیت اور بالوں کو کھولنے کا بیان

Chapter 21 of نیند کی وجہ سے وضو کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 21 of 31 · 9 Hadith
۔ (۸۸۳)۔عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّؓ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَہُ عَنْ غَسْلِ الرَّأْسِ، فَقَالَ: یَکْفِیْکَ ثَـلَاثَ حَفَنَاتٍ أَوْ ثَلَاثَ أَکُفٍّ ثُمَّ جَمَعَ یَدَیْہِ ثُمَّ قَالَ: یَا أَبَا سَعِیْدٍ! اِنِّی رَجُلٌ کَثِیْرُ الشَّعْرِ، قَالَ: فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ أَکْثَرَ شَعْرًا مِنْکَ وَأَطْیَبَ۔ (مسند أحمد: ۱۱۷۱۷)
سیدنا ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ان سے سر دھونے کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: تین چلّو تم کو کافی ہیں، پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو جمَعَ کر کے اشارہ کیا، لیکن اس آدمی نے کہا: اے ابو سعید! میرے بال تو بہت زیادہ ہیں، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تیری بہ نسبت زیادہ بالوں والے اور زیادہ پاکیزگی والے تھے۔
Takhreej
(۸۸۳) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۵۷۶ (انظر: ۱۱۶۹۴)
883
Sahih
۔ (۸۸۴)۔عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ (بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ) قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَخُو عَائِشَۃَ مِنَ الرَّضَاعِ فَسَأَلَہَا أَخُوہَا عَنِ غُسْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَعَتْ بِاِنَائٍ نَحْوًا مِنْ صَاعٍ فَاغْتَسَلَتْ وَأَفْرَغَتْ عَلٰی رَأْسِہَا ثَلَاثًا وَبَیْنَنَا وَبَیْنَہَا الْحِجَابُ۔ (مسند أحمد: ۲۴۹۳۴)
ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: میں اور سیدہ عائشہؓکا رضاعی بھائی، سیدہ عائشہ ؓ کے پاس گئے، رضاعی بھائی نے ان سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے غسل کے بارے میں سوال کیا، پس انھوں نے صاع کے بقدر برتن منگوا کر غسل کیا اور اپنے سر پر تین چلو ڈالے، جبکہ ہمارے اور ان کے درمیان پردہ حائل تھا۔
Takhreej
(۸۸۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۵۱، ومسلم: ۳۲۰ (انظر: ۲۴۴۳۰)
Explanation
فوائد:… منکرین احادیث نے انکارِ حدیث کے لیے اس روایت کے ان الفاظ کا سہارا لیا ہے، جن میں پردے کا ذکر نہیں ہے اور انھوں نے طعن کرتے ہوئے کہا کہ یہ احادیث ہیں کہ جن میں ان دو مردوں کے سامنے سیدہ عائشہ ؓغسل کر رہی ہیں۔ جبکہ حقیقت ِ حال یہ ہے کہ سیدنا ابو سلمہ، سیدہ عائشہ ؓکے رضاعی بھانجے تھے، سیدہ ام کلثوم بنت ابو بکر ؓنے ابو سلمہ کو دودھ پلایا تھا اور دوسرا شخص سیدہ کا رضاعی بھائی تھا، اس کا نام عبد اللہ بن یزید تھا۔ یہ دو محرم رشتہ دار تھے اور اِن کے اور سیدہ کے وجود کے درمیان پردہ بھی حائل تھا۔
884
Sahih
۔ (۸۸۵)۔ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: کَمْ یَکْفِیْ رَأْسِیْ فِی الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَۃِ؟ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصُبُّ بِیَدِہِ عَلٰی رَأْسِہِ ثَـلَاثًا، قَالَ: اِنَّ شَعْرِیْ کَثِیْرٌ، قَالَ: کَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَکْثَرَ وَأَطْیَبَ۔ (مسند أحمد: ۷۴۱۲)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے سوال کیا: غسلِ جنابت میں کتنا پانی میرے سر کے لیے کافِیْ ہو گا، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تو اپنے سر پر تین چلو ڈالتے تھے۔ اس نے کہا: میرے بال تو زیادہ ہیں، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے بال زیادہ بھی تھے اور پاکیزہ بھی تھے۔
Takhreej
(۸۸۵) تخریج: اسنادہ قوی۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۵۷۸ (انظر: ۷۴۱۸)
885
Sahih
۔ (۸۸۶)۔عَنْ جَمِیْعِ بْنِ عُمَیْرِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أُمِّیْ وَخَالَتِیْ عَلٰی عَائِشَۃَؓ فَسَأَلَتْہَا اِحْدَاہُمَا: کَیْفَ کُنْتُنَّ تَصْنَعْنَ عِنْدَ الْغُسْلِ؟ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَضَّأُ وُضُوْئَ ہُ لِلصَّلٰوۃِ ثُمَّ یُفِیْضُ عَلٰی رَأْسِہِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَنَحْنُ نُفِیْضُ عَلٰی رُؤُوْسِنَا خَمْسًا مِنْ أَجْلِ الضَّفْرِ۔ (مسند أحمد: ۲۶۰۶۸)
جمیع بن عمیر کہتے ہیں: میں اپنی ماں اور خالہ کے ساتھ سیدہ عائشہ ؓ کے پاس گیا، ان میں سے ایک نے ان سے یہ سوال کیا: تم غسل کے وقت کیا کرتی تھیں؟ سیدہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تو نماز والا وضو کر کے اپنے سر پر تین چلّو ڈالتے تھے، لیکن ہم مینڈھیوں کی وجہ سے پانچ چلّو ڈالتی تھیں۔
Takhreej
(۸۸۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف جُمَیع بن عمیر۔ أخرجہ ابوداود: ۲۴۱، والنسائی: ۱۱/ ۳۸۹، وابن ماجہ: ۵۷۴ (انظر: ۲۵۵۵۲)
886
Sahih
۔ (۸۸۷)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: أَجْمَرْتُ رَأْسِیْ اِجْمَارًا شَدِیْدًا فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا عَائِشَۃُ! أَمَا عَلِمْتِ أَنَّ عَلٰی کُلِّ شَعْرَۃٍ جَنَابَۃً!؟)) (مسند أحمد: ۲۵۳۰۸)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے اپنے سر کے بالوں کو بڑی مضبوطی سے باندھا ہوا تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: عائشہ! کیا تم جانتی نہیں ہو کہ ہر بال پر جنابت ہوتی ہے!؟
Takhreej
(۸۸۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لابھام الرجل الراوی عن عائشۃ ولضعف شریک النخعی، وخصیفُ بنْ عبد الرحمن الجزری مختلف فیہ، وھو الی الضعف اقرب (انظر: ۲۴۷۹۷)
887
Zaeef
۔ (۸۸۸)۔عَنْ عَلِیٍّؓ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ تَرَکَ مَوْضِعَ شَعْرَۃٍ مِنْ جَنَابَۃٍ لَمْ یُصِبْہَا مَائٌ فَعَلَ اللّٰہُ بِہٖ کَذَا وَکَذَا مِنَ النَّارِ۔)) قَالَ عَلِیٌّ ؓ: فَمِنْ ثَمَّ عَادَیْتُ شَعْرِیْ، زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: کَمَا تَرَوْنَ۔ (مسند أحمد: ۱۱۲۱)
سیدنا علیؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے غسل جنابت کے دوران ایک بال کے بقدر جگہ کو اس طرح چھوڑ دیا کہ اس تک پانی نہ پہنچا تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ جہنم کی آگ سے ایسے ایسے کرے گا۔ سیدنا علیؓ نے کہا:یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنے بالوں سے دشمنی کی ہے، جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو۔
Takhreej
(۸۸۸) تخریج: اسنادہ مرفوعا ضعیف، عطاء بن السائب اختلط بأخرۃ وعامۃ من رفع عنہ ھذا الحدیث، فانما رواہ عنہ بعد اختلاطہ، روی حمادُبن زید ھذا الحدیث فوقفہ علی علی ؓوھو ممن اتفقوا علی انہ روی عن عطاء قبل اختلاطہ۔ أخرجہ ابوداود: ۲۴۹، وابن ماجہ: ۵۹۹ (انظر: ۱۱۲۱)
Explanation
فوائد:… حدیث کی مذکور تخریج و تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ سیدناعلی ؓکا قول ہے کہ جس نے غسل جنابت کے دوران ایک بال کے بقدر جگہ کو اس طرح چھوڑ دیا کہ اس تک پانی نہ پہنچا تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ جہنم کی آگ سے ایسے ایسے کرے گا۔ لیکن اس کو مرفوع کا حکم دیا جانا چاہیے، کیونکہ یہ بات رائے اور اجتہاد سے تو نہیں کہی جا سکتی، اس کے ساتھ درج ذیل دو مرفوع روایات بھی ہیں، اگرچہ ان میں ضعف ہے، جو کہ بیان کر دیا گیا ہے، لیکن اگر ان تمام کو ایک دوسرے کے ساتھ ملایا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ کی کوئی اصل ہے۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ((…فَاِنَّ تَحْتَ کُلِّ شَعْرَۃٍ جَنَابَۃً۔)) … پس بیشک ہر بال کے نیچے جنابت ہے۔ (ابن ماجہ: ۵۹۸، یہ منقطع ہے، طلحہ بن نافع نے سیدنا ابو ایوب ؓسے نہیں سنا)
888
Zaeef
۔ (۸۸۹)۔عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّی امْرَأَۃٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِیْ؟ قَالَ: ((یُجْزِیْکِ أَنْ تَصُبِّیْ عَلَیْہِ الْمَائَ ثَلَاثًا۔)) (مسند أحمد: ۲۷۰۱۰)
زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ایسی عورت ہوں کہ سر کی مینڈھیوں کو سختی سے گوندھتی ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو پھر تجھے یہ کافی ہے کہ تو سر پر تین دفعہ پانی بہا دے۔
Takhreej
(۸۸۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۳۳۰(انظر: ۲۶۴۷۷)
Explanation
فوائد:… صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدہ ام سلمہ ؓنے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں حیض اور جنابت کے غسل کے لیے (سر کی مینڈھیوں) کو کھولوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نہیں، تجھے تو یہ کافی ہے کہ تو اپنے سر پر پانی کے تین چلو ڈالے اور اپنے آپ پر پانی بہا دے اور اس طرح پاک ہو جائے۔
889
Sahih
۔ (۸۹۰)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: کُنَّا أَزْوَاجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْرُجْنَ مَعَہُ عَلَیْہِنَّ الضِمَادُ یَغْتَسِلْنَ فِیْہِ وَیَعْرَقْنَ لَا یَنْہَاہُنَّ عَنْہُ مُحِلَّاتٍ وَلَا مُحَرِمَاتٍ۔ (مسند أحمد: ۲۵۵۷۶)
سیدہ عائشہ ؓ کہتی ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیویاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ سفر پر نکلتی تھیں،ہم نے سروں پر لیپ کیا ہوتا تھا، اسی حالت میں ہم غسل کرتی تھیں اور پسینہ بھی آتا تھا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہم کو منع نہیں کرتے تھے، ہماری یہ کیفیت حالت ِ احرام میں بھی ہوتی تھی اور احرام کے بغیر بھی۔
Takhreej
(۸۹۰) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۱۸۳۰ (انظر: ۲۵۰۶۲)
Explanation
فوائد:… جب امام اسحاق نے یہ روایت بیان کی تو انھوں نے اس کے آخر میں یہ زیادتی کی: وَالضَّمَادُ ھُوَ السُّکُّ۔…… ضماد سے مراد ایک قسم کی مشک ملی ہوئی خوشبو ہے۔ مسند احمد (۲۴۵۰۲) میں اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدہ عائشہ ؓکہتی ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نکلتی تھیں، جبکہ ہم احرام سے پہلے اپنے سروں کو لیپ کر لیتی تھیں، پھر اِس سمیت غسل کرتی رہتی تھیں اور ہم کو پسینہ آتا رہتا تھا اور پھر ہم غسل کرتی تھیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہم کو منع نہیں کرتے تھے۔ معلوم ہوا کہ اس حدیث کا تعلق غسل جنابت سے نہیں ہے۔ حدیث نمبر ۸۹۰ میں تو صاف آ رہا ہے کہ احرام اور غیر احرام حالت میں وہ غسل کرتی تھیں اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ان کو منع نہیں کرتے تھے۔ فوائد میں مذکور حدیث میں احرام کی حالت کا ذکر ہے اور متن میں مذکور حدیث میں احرام کے علاوہ حالت کا ذکر بھی ہے۔ اس لیے ازواج مطہرات کے غسل کرنے کو عموم پر محمول کرنا چاہیے۔ نتیجہ یہ ہے کہ سر کو لیپ کیا ہوا ہو تو غسل کیا جا سکتا ہے۔ خواہ وہ غسل جنابت ہو یا عام غسل۔ غسل جنابت کے لیے بالوں کو کھولنا یا لیپ کو اتارنا ضروری نہیں۔ (عبداللہ رفیق)
890
Sahih
۔ (۸۹۱)۔ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ قَالَ: بَلَغَ عَائِشَۃَ أَنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو یَأْمُرُ النِّسَائَ اِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ یَنْقُضْنَ رُؤُوْسَہُنَّ، فَقَالَتْ: یَا عَجَبًا لِابْنِ عَمْرٍو، ہُوَ یَأْمُرُ النِّسَائَ اِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ یَنْقُضْنَ رُؤُوْسَہُنَّ، اَع فَـلَا یَأْمُرُہُنَّ أَنْ یَحْلِقْنَ، لَقَدْ کُنْتُ أَنَا وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَغْتَسِلُ مِنْ اِنَائٍ وَاحِدٍ فَمَا أَزِیْدُ عَلٰی أَنْ أُفْرِغَ عَلٰی رَأْسِی ثَلَاثَ اِفْرَاغَاتٍ۔ (مسند أحمد: ۲۴۶۶۱)
عبیدہ بن عمیر کہتے ہیں: جب سیدہ عائشہ ؓ کو یہ بات پہنچی کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ؓعورتوں کو یہ حکم دیتے ہیں کہ وہ غسل کے وقت اپنے بال کھول دیا کریں، تو انھوں نے کہا: ابن عمرو پر بڑا تعجب ہے، وہ عورتوں کو غسل کے وقت بال کھول دینے کا حکم دیتا ہے، وہ یہ حکم کیوں نہیں دیتا کہ خواتین اپنے سر ہی منڈوا دیں، مسئلہ تو یوں ہے کہ میں اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک برتن میں اکٹھا غسل کرتے تھے، میں اپنے سر پر صرف تین بار پانی ڈالتی تھی۔
Takhreej
(۸۹۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۳۱ (انظر: ۲۴۱۶۰)
Explanation
فوائد:… ان روایات سے معلوم ہوا کہ حیض اور جنابت کے غسل کے لیے عورتوں کے لیے ضروری نہیں کہ وہ سارے بال کھول کر ان کو تر کریں، بلکہ ان کو یہ عمل کفایت کرے گا کہ بال کھولے بغیر سر پر تین چلو ڈال دیں، لیکن بالوں کی جڑوں اور سر کے چمڑے تک پانی پہنچنا چاہیے، جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق سیدہ اسماء ؓ کے حیض کے غسل سے متعلقہ سوال کے جواب میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا تھا: ((ثُمَّ تَصُبُّ عَلٰی رَاْسِھَا فَتَدْلُکُہٗ دَلْکًا شَدِیْدًا حَتّٰی تَبْلُغَ شُؤُوْنَ رَاْسِھَا ثُمَّ تَصُبُّ عَلَیْھَا الْمَائَ،…۔)) … پھر وہ اپنے سر پر پانی ڈالے اور اس کو سختی سے ملے، یہاں تک کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، پھر اپنے آپ پر پانی بہا دے۔
891
Sahih

Chapters

31
01
بیٹھنے والے کی نیند کے بارے میں
4 Hadith
02
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی نیند ناقضِ وضو نہیں تھی، اگرچہ وہ لیٹ کر ہوتی
4 Hadith
03
لیٹ کر سو جانے والے کا وضو
3 Hadith
04
شرمگاہ کو چھونے سے وضو کرنے کا بیان
3 Hadith
05
ذکر کو چھونے سے وضو کا ٹوٹ جانا، اس کے بارے میں سیدہ بسرہ بنت صفوانؓ کی حدیث کا بیان
4 Hadith
06
شرمگاہ کو چھونے سے وضو کا نہ ٹوٹنا، اس رائے کا بیان
3 Hadith
07
عورت کو چھونے اور اس کا بوسہ لینے سے وضو کرنے کا بیان
3 Hadith
08
قے، ڈکار اور نکسیر سے وضو کرنے کا بیان
2 Hadith
09
اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کرنے کا بیان
4 Hadith
10
آگ سے پکی ہوئی چیز سے وضو کرنے کا بیان
5 Hadith
11
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بعض بیویوں سے اس موضوع سے متعلقہ بیان کی گئی مرویات کا بیان
5 Hadith
12
آگ پر پکی ہوئی چیز کو کھانے سے وضو نہ کرنے کا بیان
24 Hadith
13
غسلِ جنابت اور اس کو واجب کرنے والے امور کے ابواب صرف منی کے خروج سے غسل کے واجب ہو جانے کے قائلین کا بیان
5 Hadith
14
یہ رخصت تھی، پھر منسوخ ہو گئی
3 Hadith
15
ختنے والی دو جگہوں کے مل جانے سے غسل کے واجب ہو جانے کا بیان، اگرچہ انزال نہ ہوا ہو
6 Hadith
16
احتلام ہو جانے کی بنا پر غسل کے واجب ہونے کا بیان، بشرطیکہ انزال ہوا ہو
10 Hadith
17
ان لوگون کا بیان جو یہ کہتے ہیں کہ جنابت والا قرآن مجید کی تلاوت نہ کرے
4 Hadith
18
غسل کے وقت پردہ کرنا
6 Hadith
19
غسل اور وضو کے پانی کی مقدار کا بیان
6 Hadith
20
غسلِ جنابت اور اس سے پہلے والے وضو کی کیفیت کا بیان
10 Hadith
21
غسل میں سر دھونے کی کیفیت اور بالوں کو کھولنے کا بیان
9 Hadith
22
غسل خانے سے باہر آ کر پاؤں کو دھونے، تولیہ وغیرہ سے پانی خشک کرنے کے حکم اور نماز کا ارادہ رکھنے والے کا وضو کی بجائے غسل پر اکتفا کرنے کا بیان
5 Hadith
23
غسلِ جنابت کے بعد خشک رہ جانے والی جگہ کو پالینے والے کا بیان
1 Hadith
24
ایک غسل میں یا متعدد غسلوں میں ایک سے زائد بیویوں کے پاس جانے والے کا بیان
2 Hadith
25
جب جنبی آدمی سونے، کھانے اور دوبارہ حق زوجیت ادا کرنے کا ارادہ کرے تووہ کیا کرے سونے کا ارادہ رکھنے والے جنبی کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
6 Hadith
26
جب جنبی آدمی کھانے کا یا دوبارہ مجامعت کرنے کا ارادہ کرے تو اس کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
3 Hadith
27
رات کے پچھلے حصے تک غسلِ جنابت کو مؤخر کرنا
4 Hadith
28
مسنون غسل کی اقسام ایک سے زائد غسل کی وہ اقسام، جن کا احادیث میں اکٹھا ذکر کیا گیا
2 Hadith
29
میت کو غسل دینے سے غسل کرنے اور اس کو اٹھانے سے وضو کرنے کا بیان
4 Hadith
30
مسلمان ہونے والے کافر سے غسل کرنے کا مطالبہ کرنے کا بیان
3 Hadith
31
حمام میں داخل ہونے کا حکم
8 Hadith
No chapter matched that.