مسنداحمد

Musnad Ahmad

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

اس امت کے فرعون ابوجہل ملعون کے قتل اور اس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خوشی کا بیان


۔ (۱۰۷۰۵)۔ عَنْ اَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ بَدْرٍ: ((مَنْ یَنْظُرُ مَا فَعَلَ اَبُوْ جَہْلٍ؟)) فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ فَوَجَدَ اِبْنَیْ عَفْرَائَ قَدْ ضَرَبَاہُ حَتّٰی بَرَدَ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: حَتّٰی بَرَکَ) فَاَخَذَ بِلِحْیَتِہِ فَقَالَ: اَنْتَ اَبُوْ جَہْلٍ! فَقَالَ: وَھَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوْہُ اَوْ قَتَلَہُ اَھْلُہُ۔ (مسند احمد: ۱۲۱۶۷)

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بدر کے دن فرمایا: کون ہے جو جا کر دیکھے کہ ابوجہل کیا کر رہا ہے؟ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ گئے، انہوں نے دیکھا کہ عفراء کے دو بیٹوں نے ابوجہل کو مار گرایا ہوا ہے تاآنکہ وہ ٹھنڈا ہونے یعنی مرنے کے قریب تھا، تو ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسے اس کی ڈاڑھی سے پکڑ کر کہا: تو ہی ابوجہل ہے؟ ابوجہل نے کہا: تم نے جن جن لوگوں کو قتل کیا، کیا مجھ سے بڑھ کر بھی ان میں سے کوئی ہے؟ یایوں کہا: کیا مجھ سے بڑھ کر بھی کوئی آدمی ایسا ہے، جسے اس کے خاندان والوں نے قتل کیا ہو؟

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۰۷۰۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۹۶۲، ومسلم: ۱۸۰۰ (انظر: ۱۲۱۴۳)