مسنداحمد

Musnad Ahmad

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دفن، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قبر اور بعداز وفات حالات کی تبدیلی کا بیان

۔ (۱۱۰۵۴)۔ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِی أَبِی: أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یَدْرُوْا أَیْنَیَقْبُرُونَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَنْ یُقْبَرَ نَبِیٌّ إِلَّا حَیْثُیَمُوتُ۔)) فَأَخَّرُوْا فِرَاشَہُ وَحَفَرُوْا لَہُ تَحْتَ فِرَاشِہِ۔ (مسند احمد: ۲۷)

ابن جریح سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے میرے والد نے بتلایا ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کہاں دفن کریں،یہاں تک کہ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یوں فرماتے سنا تھا کہ نبی جہاں فوت ہوتا ہے، اسے وہیںدفن کیا جاتا ہے۔ چنانچہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بستر کو ہٹا کر اسی کے نیچے والی جگہ کو قبر کے لیے کھودا گیا۔

۔ (۱۱۰۵۵)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: لَمَّا تُوُفِّیَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: کَانَ رَجُلٌ یَلْحَدُ وَآخَرُ یَضْرَحُ فَقَالُوْا: نَسْتَخِیرُ رَبَّنَا، فَبَعَثَ إِلَیْہِمَا فَأَیُّہُمَا سُبِقَ تَرَکْنَاہُ، فَأَرْسَلَ إِلَیْہِمَا فَسَبَقَ صَاحِبُ اللَّحْدِ فَأَلْحَدُوا لَہُ۔ (مسند احمد: ۱۲۴۴۲)

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات ہوئی تو مدینہ منورہ میں ایک آدمی لحد والییعنی بغلی قبر بناتا تھا اور دوسرا صندوقییعنی شق والی قبر بناتا تھا، صحابۂ کرام نے مشورہ کیا کہ اس بارے میں ہم اللہ تعالیٰ سے استخارہ ( یعنی خیر طلب) کرتے ہیں اور ہم ان دونوں کی طرف پیغام بھیج کر انہیں بلواتے ہیں، جو پیچھے رہ گیا ہم اسے رہنے دیں گے، سو دونوں کی طرف پیغام بھیجا گیا اور لحد والی قبر بنانے والا پہلے آگیا، پس انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے لحد تیار کی۔

۔ (۱۱۰۵۷)۔ عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ المُؤْمِنِینَ قَالَتْ: مَا عَلِمْنَا بِدَفْنِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی سَمِعْنَا صَوْتَ الْمَسَاحِی مِنْ جَوْفِ اللَّیْلِ لَیْلَۃَ الْأَرْبِعَائ،ِ قَالَ مَحَمَّدٌ: وَقَدْ حَدَّثَتْنِی فَاطِمَۃُ: بِہٰذَا الْحَدِیثِ۔ (مسند احمد: ۲۶۸۸۱)

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دفن کئے جانے کا علم نہ ہو سکا تاآنکہ ہم نے بدھ کے دن رات کے وقت گینتیوں کی آوازیں سنیں۔ صاحب ِ مغازی محمد بن اسحاق نے بیان ہے کہ مجھ سے یہ حدیث عبداللہ بن ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی زوجہ فاطمہ بنت محمد نے بیان کی ۔

۔ (۱۱۰۵۸)۔ (وَعَنْہَا اَیْضًا) قَالَتْ: تُوُفِّیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الِاثْنَیْنِ، وَدُفِنَ لَیْلَۃَ الْأَرْبِعَائِ۔ (مسند احمد: ۲۵۳۰۰)

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات سوموار کے دن ہوئی تھی اور تدفین بدھ کی رات کو۔

۔ (۱۱۰۵۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جُعِلَ فِی قَبْرِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَطِیفَۃٌ حَمْرَائُ۔ (مسند احمد: ۳۳۴۱)

سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قبر کے اندر ایک سرخ رنگ کی چادر رکھی گئی تھی۔

۔ (۱۱۰۶۰)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا تَتَّخِذُوا قَبْرِی عِیدًا، وَلَا تَجْعَلُوا بُیُوتَکُمْ قُبُورًا، وَحَیْثُمَا کُنْتُمْ فَصَلُّوا عَلَیَّ فَإِنَّ صَلَاتَکُمْ تَبْلُغُنِیْ۔)) (مسند أحمد: ۸۷۹۰)

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ میری قبر کو عید بناؤ اور نہ اپنے گھروں کو قبرستان بناؤ اور تم جہاں کہیں بھی ہو، مجھ پر درود پڑھا کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھ تک پہنچ جاتا ہے۔

۔ (۱۱۰۶۱)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا کَانَ الْیَوْمُ الَّذِی دَخَلَ فِیہِ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِینَۃَ أَضَائَ مِنَ الْمَدِینَۃِ کُلُّ شَیْئٍ، فَلَمَّا کَانَ الْیَوْمُ الَّذِی مَاتَ فِیہِ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَظْلَمَ مِنَ الْمَدِینَۃِ کُلُّ شَیْئٍ، وَمَا فَرَغْنَا مِنْ دَفْنِہِ حَتّٰی أَنْکَرْنَا قُلُوبَنَا۔ (مسند احمد: ۱۳۳۴۵)

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جس دن اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ میں تشریف لائے تھے، مدینہ منورہ کی ہر چیز روشن ہو گئی، لیکن جس روز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا انتقال ہو،ا اس دن مدینہ منورہ کی ہر چیز پر اندھیرا چھایا ہوا تھا اور ہم ابھی تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دفن سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ ہم نے اپنے دلوں میں تبدیلی محسوس کی۔

۔ (۱۱۰۶۲)۔ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیَّ قَالَ أَنَسٌ: فَلَمَّا دَفَنَّا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرَجَعْنَا قَالَتْ فَاطِمَۃُ: یَا أَنَسُ! أَطَابَتْ أَنْفُسُکُمْ أَنْ دَفَنْتُمْ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی التُّرَابِ وَرَجَعْتُمْ۔ (مسند احمد: ۱۳۱۴۸)

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دفن کر کے واپس آئے تو سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: ارے انس! تمہارے دلوں نے اس بات کو کیسے گوارا کر لیا کہ تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مٹی میں دفن کر کے واپس چلے آئے۔ (۱۱۰۶۲)۔ اس جسد اطہر کو دفن کرنے کے لیے مٹی تو ڈالنی ہی تھی، بس سیدہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عظمت اور اپنے غم کا اظہار کر رہی تھی، سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بظاہر تو خاموش ہو گئے، لیکن وہ زبانِ حال سے یہ کہہ رہے تھے کہ یہ مٹی ڈالنا ہمیں بھی گوارا نہ تھا، لیکن کیا کرتے، آخر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حکم جو یہی تھا۔