۔ (۱۱۰۵۴)۔ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِی أَبِی: أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لَمْ یَدْرُوْا أَیْنَیَقْبُرُونَ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حَتّٰی قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُولُ: ((لَنْ یُقْبَرَ نَبِیٌّ إِلَّا حَیْثُیَمُوتُ۔)) فَأَخَّرُوْا فِرَاشَہُ وَحَفَرُوْا لَہُ تَحْتَ فِرَاشِہِ۔ (مسند احمد: ۲۷)
ابن جریح سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے میرے والد نے بتلایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہاں دفن کریں،یہاں تک کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے سنا تھا کہ نبی جہاں فوت ہوتا ہے، اسے وہیںدفن کیا جاتا ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بستر کو ہٹا کر اسی کے نیچے والی جگہ کو قبر کے لیے کھودا گیا۔
Takhreej
(۱۱۰۵۴) تخریج: حدیث قوی بطرقہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۶۲۸، والترمذی: ۱۰۱۸ (انظر: ۲۷)
Explanation
فوائد:… یہ وجہ تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں ہی بنائی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر کو دیکھ کر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں دفنا دیا گیا، بعد میں مسجد ِ نبوی کی توسیع کی گئی۔
11054
Sahih