مسنداحمد

Musnad Ahmad

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دفن، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قبر اور بعداز وفات حالات کی تبدیلی کا بیان


۔ (۱۱۰۶۱)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا کَانَ الْیَوْمُ الَّذِی دَخَلَ فِیہِ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِینَۃَ أَضَائَ مِنَ الْمَدِینَۃِ کُلُّ شَیْئٍ، فَلَمَّا کَانَ الْیَوْمُ الَّذِی مَاتَ فِیہِ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَظْلَمَ مِنَ الْمَدِینَۃِ کُلُّ شَیْئٍ، وَمَا فَرَغْنَا مِنْ دَفْنِہِ حَتّٰی أَنْکَرْنَا قُلُوبَنَا۔ (مسند احمد: ۱۳۳۴۵)

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جس دن اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ میں تشریف لائے تھے، مدینہ منورہ کی ہر چیز روشن ہو گئی، لیکن جس روز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا انتقال ہو،ا اس دن مدینہ منورہ کی ہر چیز پر اندھیرا چھایا ہوا تھا اور ہم ابھی تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دفن سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ ہم نے اپنے دلوں میں تبدیلی محسوس کی۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۱۰۶۱) تخریج: حدیث صحیح أخرجہ ابن ماجہ: ۱۶۳۱، والترمذی: ۳۶۱۸ (انظر: ۱۳۳۱۲)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… عہد ِ نبوی اس جہاں کا سنہری دور تھا، وہ زمانہ للہیت، خیر و بھلائی، پاس و لحاظ، الفت و محبت، صفائے قلب اور اعمال صالحہ کی کثرت جیسی صفات سے متصف تھا، ہمارے لیے تو صحابۂ کرام کا زمانہ بھی انتہائی بابرکت ہے، لیکن عہد ِ نبوی کی بہ نسبت اس میں تغیر پیدا ہو گیا تھا، جس کو صحابۂ کرام نے محسوس بھی کیا، کہتے ہیں کہ بڑوں پہ بڑے بھاری ، زمانے کو جو برکت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے وجود سے ملی تھی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نہیں ہوں گے تو وہ کیسے برقرار رہے گی۔