TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 11469 - ان خواتین کا تذکرہ جن سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نکاح کیا،یا جنہوں نے اپنے آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے ہبہ کر دیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے ساتھ خلوت اختیار نہیں کییا وہ خواتین کہ جن سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نکاح کا وعدہ کیا - سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 4 in this chapter
ان خواتین کا تذکرہ جن سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نکاح کیا،یا جنہوں نے اپنے آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے ہبہ کر دیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے ساتھ خلوت اختیار نہیں کییا وہ خواتین کہ جن سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نکاح کا وعدہ کیا
۔ (۱۱۴۶۹)۔ جَمِیلُ بْنُ زَیْدٍ قَالَ: صَحِبْتُ شَیْخًا مِنَ الْأَنْصَارِ، ذَکَرَ أَنَّہُ کَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌیُقَالُ لَہُ: کَعْبُ بْنُ زَیْدٍ أَوْ زَیْدُ بْنُ کَعْبٍ، فَحَدَّثَنِی أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَزَوَّجَ امْرَأَۃً مِنْ بَنِی غِفَارٍ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَیْہَا وَضَعَ ثَوْبَہُ وَقَعَدَ عَلَی الْفِرَاشِ أَبْصَرَ بِکَشْحِہَا بَیَاضًا فَانْحَازَ عَنِ الْفِرَاشِ، ثُمَّ قَالَ: ((خُذِی عَلَیْکِ ثِیَابَکِ۔)) وَلَمْ یَأْخُذْ مِمَّا أَتَاہَا شَیْئًا۔ (مسند احمد: ۱۶۱۲۸)
جمیل بن زید کہتے ہیں: مجھے ایک انصاری بزرگ کی صحبت میں بیٹھنے کا موقعہ ملا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ اسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہے۔ اس کا نام کعب بن زیدیا زید بن کعب تھا، اس نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قبیلہ بنو غفار کی ایک خاتون سے نکاح کیا، جب آپ اس کے ہاں داخل ہوئے تو اپنا کپڑا ایک طرف رکھا اور بستر پر بیٹھ گئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کی کو کھ پر برص کا سفید نشان نظر آیا توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بستر سے دور ہوگئے اور فرمایا: اپنے کپڑے پہن لو۔ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے جو کچھ عنایت کیا تھا، اس میں سے کوئی بھی چیز آپ نے واپس نہیں لی۔
11469
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Conclusion
تخریج
(۱۱۴۶۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف جمیل بن زید الطائی ، ثم ان فی اسناد حدیثہ ھذا اضطرابا، اخرجہ البیہقی: ۷/ ۲۵۶ (انظر: ۱۶۰۳۲)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… برص: ایک بیماری جس سے بدن پر سفید داغ پڑ جاتے ہیں۔

Related Chapters

290
1
یہ بنو اسد بن خزیمہ کے قبیلہ کی خاتون ہیں اور یہ ان خواتین میں سے ہیں، جنہوں نے سب سے پہلے ہجرت کی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا شرف حاصل کیا۔
Musnad Ahmad
2
مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان ان مقامات اور مساجد کا تذکرہ، جہاں جہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے سفر کے دوران قیام کیا اور نمازیں ادا کیں
Musnad Ahmad
3
لوگوں سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آخری خطبہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
4
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا موت کے سکرات سے واسطہ پڑنا، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دنیا اور آخرت میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیئے جانے اور آپ کے رفیق اعلیٰ کو منتخب کرنے کا بیان اور اس بات کا ذکر کہ یہ آخری الفاظ تھے جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زبان مبارک سے ادا ہوئے
Musnad Ahmad
5
کتاب اللہ اور سنتِ رسول پر عمل کی ترغیب اور تذکرۂ قیامت پر مشتمل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خطبۂ مبارکہ
Musnad Ahmad
6
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خصوصیات کا تذکرہ
Musnad Ahmad
7
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نیند اور بستر کا تذکرہ
Musnad Ahmad
8
دختر رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
Musnad Ahmad
9
دختران رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ رقیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اور سیدہ ام کلثوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
Musnad Ahmad
10
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے عقد نکاح کی تاریخ، رخصتی کا بیان، اس وقت ان کی عمر اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں حاضری کا تذکرہ
Musnad Ahmad
11
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ آپ کی بعض ازواج کا حیلہ کرنے کا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ان کی ایذائوں کو برداشت کرنے، ان سے درگزر کرنے اور گھر کے اندر انکساری کا رویہ اختیار کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
12
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خادم سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے نکاح کا واقعہ اور اس میں سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی منقبت کا بیان
Musnad Ahmad
13
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خادم ابو عبدالرحمن سفینہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
14
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیٹی سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی بیٹی سیدہ امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
Musnad Ahmad
15
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ آمد، اہل مدینہ کا باہر نکلنا اور خواتین و حضرات کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا استقبال کرنا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر میں اترنا
Musnad Ahmad
16
حجۃ الوداع میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعض خطبات کا تذکرہ
Musnad Ahmad
17
ایامِ تشریق کے دوران آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خطبہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
18
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معجزہ کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی برکت سے مریضوں کی شفایابی، اونٹ کے آپ کو شکایت کرنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام کرنے کے لیے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم کی بجا آوری کے لیے درخت کے اپنی جگہ سے ہٹ جانے کا تذکرہ
Musnad Ahmad
19
حج نبوی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا تذکرہ
Musnad Ahmad
20
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اولاد،اہل بیت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ازواج امہات المؤمنین کا تذکرہ سیدہ فاطمہ زہراء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
Musnad Ahmad
21
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ساتھ دل لگی اور ان کو خوش کرنے کا تذکرہ
Musnad Ahmad
22
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعض غلاموں کا تذکرہ
Musnad Ahmad
23
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کاتبین کا تذکرہ ان میں سے عثمان بن عفان کا تذکرہ
Musnad Ahmad
24
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا سیدنا عباس بن عبدالمطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
25
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی لونڈی اور مربیہ سیدہ ام ایمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
Musnad Ahmad
26
باب چہارم: سیدنا امام حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کاتذکرہ اور اس امر کابیان کے صادق وامین ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق ان کی وفات سے خلفائے راشدین کی مدت خلافت پوری ہوگئی
Musnad Ahmad
27
باب دوم: مدینہ اور اہل مدینہ کی خیرو برکت اور یہاں سے وباؤں کے ٹلنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعاؤں کا تذکرہ
Musnad Ahmad
28
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے والدین کا تذکرہ
Musnad Ahmad
29
(26) CHAPTER. (Allah's Statement):- “Those who answered (the Call of) Allah and the Messenger (Muhammad )... (V.3:172)
وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی آواز کو عملاً قبول کیا ( یعنی ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیل کے لیے فوراً تیار ہو گئے )
Sahih Bukhari
30
دوسری زوجۂ رسول ام المؤمنین سیدہ سودہ بنت زمعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
Musnad Ahmad
31
خادم رسول سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور دیگر خدام رسول کا تذکرہ
Musnad Ahmad
32
مؤذن رسول سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
Musnad Ahmad
33
(28) CHAPTER. (If) somebody prepared his shroud (before his death) (in the lifetime of the Prophet and the Prophet did not object to that).
ان کے بیان میں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنا کفن خود ہی تیار رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کسی طرح کا اعتراض نہیں فرمایا
Sahih Bukhari
34
(14) CHAPTER. (Narrations) about Talha bin Ubaidullah.
حضرت طلحہ بنعبیداللہ کا تذکرہ اور حضرت عمر رضیاللہعنہ نے ان کے متعلق کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات تک ان سے راضی تھے ۔
Sahih Bukhari
35
فتح مکہ کے دن بنی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی سورہ فتح کی قراءت کا تذکرہ
Sahih Muslim
36
Chapter: Ila', Keeping away from one's wives and giving them the choice, And the saying of Allah, The Most High: But if you help one another against him
ایلاء اور عورتوںسے علیحدگی اختیار کرنا اور انھیں اختیار دینا ‘نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان :’’اور اگر تم دونوں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کروگی ‘‘
Sahih Muslim
37
باب: آیت کریمہ: ”اور فرمانبرداری کو رسول (صلی للہ علیہ وسلم) کی اور تم میں سے اختیار والوں کی“ کی تفسیر۔
Sunnan Nisai
38
دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دینے والے کا بیان اور اس میں سیدنا ذوالیدین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کے قصے کا تذکرہ
Musnad Ahmad
39
شہداء کا جامع تذکرہ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے علاوہ شہداء کی اقسام کا بیان
Musnad Ahmad
40
حاملہ خاتون کی عدت وضع حمل ہے، خواہ وہ طلاق یافتہ ہو یا بیوہ، کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا: اور حاملہ خواتین کی عدت کی مدت یہ ہے کہ وہ حمل وضع کر دیں
Musnad Ahmad
41
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یمن کی طرف روانہ کئے جانے کا تذکرہ
Musnad Ahmad
42
آپ کے جسد اطہر، اعضاء کے تناسب و درستی اور آپ کے دیگر کمالات کا تذکرہ جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نوازا
Musnad Ahmad
43
سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی بیماری اور وفات کا تذکرہ
Musnad Ahmad
44
ان فضائل و مناقب کا تذکرہ جو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں مشترک ہیں
Musnad Ahmad
45
سیدنا زید بن حارثہ، سیدنا جعفر بن ابی طالب، سیدنا عبداللہ بن رواحہ اور سیدنا خالد بن ولید کے مشترکہ مناقب کا تذکرہ
Musnad Ahmad
46
سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
47
اصیرم بن عبدالاشھل یعنی عمرو بن ثابت بن وقش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
Musnad Ahmad
48
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
Musnad Ahmad
49
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے چچا سیدنا انس بن نضر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
50
سیدنا براء بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

41
Musnad Ahmad
7011
۔ (۷۰۱۱)۔ عَنْ جَمِیْلِ بْنِ زَیْدٍ قَالَ: صَحِبْتُ شَیْخًا مِنَ الْأَنْصَارِ ذَکَرَ أَنَّہ کَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌیُقَالُ لَہُ: کَعْبُ بْنُ زَیْدٍ أَوْ زَیْدُ بْنُ کَعْبٍ فَحَدَّثَنِیْ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ a تَزَوَّجَ امْرَأَۃً مِنْ بَنِیْ غِفَارٍ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَیْہَا وَضَعَ ثَوْبَہ، وَقَعَدَ عَلَی الْفِرَاشِ أَبْصَرَ بِکَشْحِہَا بَیَاضًا فَانْحَازَ عَنِ الْفِرَاشِ ثُمَّ قَالَ: ((خُذِیْ عَلَیْکِ ثِیَابَکِ۔)) وَلَمْ یَأْخُذْ مِمَّا آتَاھَا شَیْئًا۔ (مسند احمد: ۱۶۱۲۸)
۔ سیدنا کعب بن زیدیا زید بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جن کو صحبت کا شرف بھی حاصل تھا، سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بنی غفار کی ایک عورت سے نکاح کیا، جب اس کے پاس گئے،لباس اتارا اور بستر پر بیٹھے، تو اس کے پہلو میں سفیدی دیکھی، پس آپ بستر سے الگ ہو گئے اور اس سے فرمایا: تو اپنا لباس پہن لے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو جو کچھ دیا تھا، وہ اس سے واپس نہیں لیا۔
Musnad Ahmad
7028
۔ (۷۰۲۸)۔ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَقِیَ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ وَبِہِ وَضَرٌ مِنْ خَلُوْقٍ، فَقَالَ لَہُ: ((مَہْیَمْیَا عَبْدَ الرَّحْمٰنِ؟)) قَالَ: تَزَوَّجَتُ امْرَأَۃً مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: ((کَمْ أَصْدَقْتَہَا؟)) قَالَ: وَزْنَ نَوَاۃٍ مِنْ ذَھَبٍ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاۃٍ))، قَالَ أَنَسٌ: لَقَدْ رَأَیْتُہُ، قَسَمَ لِکُلِّ امْرَأَۃٍ مِنْ نِسَائِہِ بَعْدَ مَوْتِہِ مِائَۃَ أَلْفِ دِیْنَارٍ، زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: ((بَارَکَ اللّٰہُ لَکَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۲۷۱۵)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان پر خلوق خوشبو کا نشان دیکھا تو پوچھا: اے عبد الرحمن! کیا معاملہ ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے انصار کی ایک عورت کے ساتھ شادی کی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کتنا حق مہر دیاہے ؟ انھوں نے کہا: نواۃ کے وزن کے برابر سونا دیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ولیمہ کرو، اگر چہ وہ ایک بکری کی صورت میں ہو۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ ان کی وفات کے بعد ان کی ہر ایک بیوی کوایک ایک لاکھ دینار ملے تھے، ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی شادی کا سن کر ان سے فرمایا تھا : اللہ تعالی تیرے لیے برکت کرے، ولیمہ کر، اگرچہ ایک بکری کی صورت میں ہو۔
Musnad Ahmad
10655
۔ (۱۰۶۵۵)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ الْمَدِینَۃَ، آخَی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَہُ وَبَیْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِیعِ، فَقَالَ: أُقَاسِمُکَ مَالِی نِصْفَیْنِ، وَلِی امْرَأَتَانِ فَأُطَلِّقُ إِحْدَاہُمَا، فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُہَا فَتَزَوَّجْہَا، فَقَالَ: بَارَکَ اللّٰہُ لَکَ فِی أَہْلِکَ وَمَالِکَ، دُلُّونِی عَلَی السُّوقِ،فَدَلُّوہُ، فَانْطَلَقَ فَمَا رَجَعَ إِلَّا وَمَعَہُ شَیْئٌ مِنْ أَقِطٍ وَسَمْنٍ قَدِ اسْتَفْضَلَہُ، فَرَآہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَ ذٰلِکَ وَعَلَیْہِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَۃٍ، فَقَالَ: ((مَہْیَمْ؟)) قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَۃً مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: ((مَا أَصْدَقْتَہَا؟)) قَالَ: نَوَاۃً مِنْ ذَہَبٍ، قَالَ حُمَیْدٌ: أَوْ وَزْنَ نَوَاۃٍ مِنْ ذَہَبٍ، فَقَالَ: ((أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاۃٍ۔))۔ (مسند احمد: ۱۳۰۰۶)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مدینہ منورہ تشریف لائے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے اور سیدنا سعد بن ربیع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مابین مواخات اور بھائی چارہ قائم کر دیا،سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں اپنا سارا مال نصف نصف کرتا ہوں، میری دو بیویاں ہیں، میں ایک کو طلاق دے دیتا ہوں، اس کی عدت پوری ہونے کے بعد آپ اس سے نکاح کر لیں، سیدنا عبدالرحمان بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ تمہارے اہل وعیال اور مال میں برکت فرمائے، لیکن مجھے ان چیزوں کی ضرورت نہیں، مجھے بازاراور منڈی کا راستہ بتلا دو۔ لوگوں نے ان کو منڈی کا راستہ بتلادیا، وہ اس میں چلے گئے اور جب واپس آئے تو ان کے پاس کچھ پنیر اور کچھ گھی تھا، جو وہ بطورِ منافع کما کر لائے تھے، اس کے بعد ایک موقعہ پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں دیکھا تو ان کے کپڑوں پر زرد رنگ لگاہواتھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: یہ کیا؟ جواب دیا کہ میں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کر لی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: تم نے اسے مہر کے طور پر کیا ادا کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نواۃ کے برابر سونا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ولیمہ کرو خواہ وہ ایک بکری ہی کیوں نہ ہو۔
Musnad Ahmad
10742
۔ (۱۰۷۴۲)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِیَعْنِی ابْنَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرٍو الضَّمْرِیِّ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَدِیِّ بْنِ الْخِیَارِ إِلَی الشَّامِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا حِمْصَ، قَالَ لِی عُبَیْدُ اللّٰہِ: ہَلْ لَکَ فِی وَحْشِیٍّ، نَسْأَلُہُ عَنْ قَتْلِ حَمْزَۃَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، وَکَانَ وَحْشِیٌّیَسْکُنُ حِمْصَ، قَالَ: فَسَأَلْنَا عَنْہُ، فَقِیلَ لَنَا: ہُوَ ذَاکَ فِی ظِلِّ قَصْرِہِ کَأَنَّہُ حَمِیتٌ، قَالَ: فَجِئْنَا حَتّٰی وَقَفْنَا عَلَیْہِ فَسَلَّمْنَا فَرَدَّ عَلَیْنَا السَّلَامَ، قَالَ: وَعُبَیْدُ اللّٰہِ مُعْتَجِرٌ بِعِمَامَتِہِ مَا یَرٰی وَحْشِیٌّ إِلَّا عَیْنَیْہِ وَرِجْلَیْہِ، فَقَالَ عُبَیْدُ اللّٰہِ: یَا وَحْشِیُّ! أَتَعْرِفُنِی؟ قَالَ: فَنَظَرَ إِلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: لَا وَاللّٰہِ! إِلَّا أَنِّی أَعْلَمُ أَنَّ عَدِیَّ بْنَ الْخِیَارِ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً،یُقَالُ لَہَا: أُمُّ قِتَالٍ، ابْنَۃُ أَبِی الْعِیصِ، فَوَلَدَتْ لَہُ غُلَامًا بِمَکَّۃَ فَاسْتَرْضَعَہُ، فَحَمَلْتُ ذٰلِکَ الْغُلَامَ مَعَ أُمِّہِ فَنَاوَلْتُہَا إِیَّاہُ، فَلَکَأَنِّی نَظَرْتُ إِلٰی قَدَمَیْکَ، قَالَ: فَکَشَفَ عُبَیْدُ اللّٰہِ وَجْہَہُ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا تُخْبِرُنَا بِقَتْلِ حَمْزَۃَ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنَّ حَمْزَۃَ قَتَلَ طُعَیْمَۃَ بْنَ عَدِیٍّ بِبَدْرٍ، فَقَالَ لِی مَوْلَایَ جُبَیْرُ بْنُ مُطْعِمٍ: إِنْ قَتَلْتَ حَمْزَۃَ بِعَمِّی فَأَنْتَ حُرٌّ، فَلَمَّا خَرَجَ النَّاسُ یَوْمَ عَینِینَ، قَالَ: وَعَینِینُ جُبَیْلٌ تَحْتَ أُحُدٍ وَبَیْنَہُ وَادٍ، خَرَجْتُ مَعَ النَّاسِ إِلَی الْقِتَالِ، فَلَمَّا أَنِ اصْطَفُّوا لِلْقِتَالِ، قَالَ: خَرَجَ سِبَاعٌ: مَنْ مُبَارِزٌ؟ قَالَ: فَخَرَجَ إِلَیْہِ حَمْزَۃُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ: سِبَاعُ بْنُ أُمِّ أَنْمَارٍ؟ یَا ابْنَ مُقَطِّعَۃِ الْبُظُورِ! أَتُحَادُّ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ؟ ثُمَّ شَدَّ عَلَیْہِ فَکَانَ کَأَمْسِ الذَّاہِبِ، وَأَکْمَنْتُ لِحَمْزَۃَ تَحْتَ صَخْرَۃٍ حَتّٰی إِذَا مَرَّ عَلَیَّ، فَلَمَّا أَنْ دَنَا مِنِّی رَمَیْتُہُ بِحَرْبَتِی فَأَضَعُہَا فِی ثُنَّتِہِ حَتّٰی خَرَجَتْ مِنْ بَیْنِ وَرِکَیْہِ، قَالَ: فَکَانَ ذٰلِکَ الْعَہْدُ بِہِ، قَالَ: فَلَمَّا رَجَعَ النَّاسُ رَجَعْتُ مَعَہُمْ، قَالَ: فَأَقَمْتُ بِمَکَّۃَ حَتّٰی فَشَا فِیہَا الْإِسْلَامُ، قَالَ: ثُمَّ خَرَجْتُ إِلَی الطَّائِفِ، قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَیَّ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: وَقِیلَ لَہُ: إِنَّہُ لَایَہِیجُ لِلرُّسُلِ، قَالَ: فَخَرَجْتُ مَعَہُمْ حَتّٰی قَدِمْتُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَلَمَّا رَآنِی، قَالَ: ((أَنْتَ وَحْشِیٌّ؟)) قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((أَنْتَ قَتَلْتَ حَمْزَۃَ؟)) قَالَ: قُلْتُ: قَدْ کَانَ مِنَ الْأَمْرِ مَا بَلَغَکَیَا رَسُولَ اللّٰہِ إِذْ قَالَ: ((مَا تَسْتَطِیعُ أَنْ تُغَیِّبَ عَنِّی وَجْہَکَ؟)) قَالَ: فَرَجَعْتُ، فَلَمَّا تُوُفِّیَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَخَرَجَ مُسَیْلِمَۃُ الْکَذَّابُ، قَالَ: قُلْتُ: لَأَخْرُجَنَّ إِلٰی مُسَیْلِمَۃَ لَعَلِّی أَقْتُلُہُ فَأُکَافِئَ بِہِ حَمْزَۃَ، قَالَ: فَخَرَجْتُ مَعَ النَّاسِ فَکَانَ مِنْ أَمْرِہِمْ مَا کَانَ، قَالَ: فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ فِی ثَلْمَۃِ جِدَارٍ کَأَنَّہُ جَمَلٌ أَوْرَقُ ثَائِرٌ رَأْسُہُ، قَالَ: فَأَرْمِیہِ بِحَرْبَتِی فَأَضَعُہَا بَیْنَ ثَدْیَیْہِ حَتّٰی خَرَجَتْ مِنْ بَیْنِ کَتِفَیْہِ، قَالَ: وَوَثَبَ إِلَیْہِ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: فَضَرَبَہُ بِالسَّیْفِ عَلٰی ہَامَتِہِ، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْفَضْلِ: فَأَخْبَرَنِی سُلَیْمَانُ بْنُ یَسَارٍ أَنَّہُ سَمِعَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ فَقَالَتْ جَارِیَۃٌ عَلٰی ظَہْرِ بَیْتٍ، وَأَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ قَتَلَہُ الْعَبْدُ الْأَسْوَدُ۔ (مسند احمد: ۱۶۱۷۴)
جعفر بن عمرو ضمری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں عبید اللہ بن عدی بن خیار کی معیت میں شام کی طرف گیا، جب ہم حمص میں پہنچے تو عبید اللہ نے مجھ سے کہا: کیا تم سیّدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قاتل وحشی بن حرب کو دیکھنا چاہتے ہو؟ ہم اس سے سیّد نا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قتل کے متعلق دریافت کریں گے۔ میں نے کہا: جی ہاں ان دنوں وحشی حمص میں مقیم تھا۔ ہم نے اس کے متعلق لوگوں سے دریافت کیا تو ہمیں بتایا گیا کہ وہ سامنے اپنے محل کے سایہ میں ہے، اس کا جسم ایک مشک کی طرح (موٹا) تھا، جعفر کہتے ہیں: ہم اس کے قریب جا کر رک گئے اور ہم نے اسے سلام کہا، اس نے ہمیں سلام کا جواب دیا۔اس وقت عبید اللہ اپنے عمامہ کو اچھی طرح لپیٹا ہوا تھا، وحشی کو ان کی آنکھیں اور پاؤں ہی نظر آئے تھے۔ عبیداللہ نے کہا: وحشی! کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟ اس نے اس کی طرف دیکھ کر کہا: اللہ کی قسم! نہیں، البتہ میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ عدی بن الخیار نے ابو العیص کی دختر ام قتال سے شادی کی تھی، اس کے بطن سے مکہ میں اس کا ایک بیٹا پیدا ہوا تھا، میں اس بچے کے لیے کسی عورت کی تلاش میں تھا، جو اسے دودھ پلائے، میں نے اس بچے کو اس کی ماں کے ہمراہ اٹھایا تھا اور اسے پکڑ کر اس عورت کو تھمایا تھا، مجھے تمہارے قدم اس بچے کے سے لگتے ہیں، اس کے بعد عبیداللہ نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور کہا: کیا آپ ہمیں سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قتل کا واقعہ سنائیں گے؟ اس نے کہا: ہاں، حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بدر میں طیمہ بن عدی کو قتل کیا تھا، میرے آقا جبیر بن مطعم نے مجھ سے کہا کہ اگر تم میرے چچا کے بدلے میں سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کر دو تو تم آزاد ہو گے۔ جب لوگ عینین کے دن جنگ کے لیے روانہ ہوئے، احد کے قریب ہی ایک چھوٹا سا پہاڑ ہے، جس کا نام عینین ہے۔ ان دونوں کے درمیان صرف ایک وادی ہے،لوگ قتال کے لیے نکلے اور قتال کے لیے صف آراء ہو گئے تو سباع بن عبدالعزی خزاعی سامنے نکلا اور اس نے للکارا کہ ہے کوئی میرے مدمقابل؟ سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کے مقابلے میں نکلے اور کہا کیا تو سباع بن ام انمار ہے؟ اے اس عورت کے بیٹے جو بچیوں کے فرج کے ساتھ بڑھے ہوئے چمڑے کا ٹا کرتی تھی! کیا تو اللہ اور اس کے رسول کے مقابلے میں آیا ہے؟ اور یہ کہتے ہی اس پر حملہ کر دیا۔ میں سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کرنے کے ارادے سے ایک چٹان کے پیچھے گھات میں تھا، تاکہ جب وہ میرے پاس سے گزریں تو حملہ کر سکوں۔ جب وہ میرے قریب پہنچے تو میں نے ان کے مثانے پر وار کیا، جوان کے جسم سے پار ہو گیا۔ یہی وار ان کی موت کا سبب بنا، لوگ جب جنگ سے واپس ہوئے تو میں بھی واپس گیا اور میں مکہ میں مقیم رہا تاآ نکہ وہاں بھی اسلام پھیل گیا، میں وہاں سے طائف کو نکل گیا، اہل طائف نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں اپنا ایک قاصد بھیجا، کہا گیا کہ آپ کسی کے قاصد کو کچھ نہیں کہتے، میں بھی لوگوں کے ہمراہ آپ کی خدمت میں جا پہنچا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: تم ہی وحشی ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ہی نے حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کیا تھا؟ میں نے کہا:اے اللہ کے رسول! وہی ہوا تھا جس کی اطلاع آپ تک پہنچ چکی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم اپنے آپ کو مجھ سے دور نہیں رکھ سکتے؟ چنانچہ میں وہاں سے چلا آیا، جب اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا انتقال ہوا اور مسیلمہ کذاب مدعی نبوت بن کر ظاہر ہوا تو میں نے سوچا کہ میں مسیلمہ کی طرف جا کر دیکھوں شاید میں اسے قتل کرنے میں کامیاب ہو جاؤں اور اس طرح حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قتل کی تلافی کر سکوں، چنانچہ میں لوگوں کے ہمراہ مسیلمہ کے مقابلے کو نکلا، پس جو ہونا تھا وہی ہوا، میں نے دیکھا کہ ایک آدمی ایک دیوار کے شگاف میں کھڑا تھا یوں لگتا تھا، جیسے وہ خاکستری رنگ کا اونٹ ہو، اس کے سر کے بال پراگندہ تھے، میں نے اپنا نیزہ اس پر پھینکا، جو اس کے پستانوں کے درمیان جا کر لگا، اور کندھوں کے درمیان سے پار ہو گیا، پھر ایک انصاری اس کی طرف لپکا اور اس کے سر پر تلوار چلائی۔ عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ ایک گھر کی چھت پر سے ایک لڑکی نے کہا کہ ایک سیاہ فام غلام نے امیر المؤمنین مسیلمہ کو قتل کر دیا۔
Musnad Ahmad
965
۔ (۹۶۵)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔عَنْ اِبْرَاہِیْمَ الْمُہَاجِرِ قَالَ: سَمِعْتُ صَفِیَّۃَ بِنْتَ شَیْبَۃَ تُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ أَسْمَائَ سَأَلَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ غُسْلِ الْمَحِیْضِ، قَالَ: تَأْخُذُ اِحْدَاکُنَّ مَائَ ہَا وَسِدْرَتَہَا فَتَطَہَّرُ فَتُحْسِنُ الطُّہُوْرَ ثُمَّ تَصُبُّ عَلَی رَأْسِہَا فَتَدْلُکُہٗ دَلْکًا شَدِیْدًا حَتّٰی یَبْلُغَ شُؤُوْنَ رَأْسِہَا، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَیْہَا الْمَائَ ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَۃً مُمَسَّکَۃً فَتَطَہَّرُ بِہَا۔)) قَالَتْ أَسْمَائُ: وَکَیْفَ تَطَہَّرُ بِہَا؟ قَالَ: ((سُبْحَان اللّٰہِ! تَطَہَّرِیْ بِہَا۔)) فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: کَأَنَّہَا تُخْفِیْ ذٰلِکَ: تَتَبَّعِیْ أَثَرَ الدَّمِ، وَسَأَلْتُہُ عَنْ غُسْلِ الْجَنَابَۃِ، قَالَ: ((تَأْخُذِیْ مَائَ کِ فَتَطَہَّرِیْنَ فَتُحْسِنِیْنَ الطُّہُوْرَ أَوْ أَبْلِغِی الطُّہُوْرَ ثُمَّ تَصُبُّ عَلٰی رَأْسِہَا فَتَدْلُکُہٗ حَتّٰی یَبْلُغَ شُؤُوْنَ رَأْسِہَا ثُمَّ تُفِیْضُ عَلَیْہَا الْمَائَ۔)) فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: نِعْمَ النِّسَائُ نِسَائُ الْأَنْصَارِ، لَمْ یَکُنْ یَمْنَعُہُنَّ الْحَیَائُ أَنْ یَتَفَقَّہْنَ فِی الدِّیْنِ۔ (مسند أحمد: ۲۵۶۶۰)
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ اسماء ؓ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے حیض کے غسل کے بارے میں سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: خاتون پانی اور بیری کے پتے لے لے اور وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر سر پر پانی بہائے اور اس کو اچھی طرح مَلے، یہاں تک کہ پانی سر یعنی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، پھر اپنے وجود پر پانی بہا دے، پھر کپڑے وغیرہ کا ایسا ٹکڑا لے، جس پر کستوری لگی ہوئی ہو اور اس کے ذریعے طہارت حاصل کر لے۔ سیدہ اسماءؓ نے کہا: وہ اس کے ساتھ کیسے طہارت حاصل کرے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: سبحان اللہ! تو اس سے پاکیزگی حاصل کر۔ سیدہ عائشہؓ نے کہا: گویا کہ یہ بات اس کے لیے خفا والی تھی کہ وہ اس کو خون کے نشانات پر لگا دے۔ اور میں نے غسل جنابت کے بارے میں سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم پانی لو، وضو کرو اور اچھی طرح وضو کرو، پھر اپنے سر پر پانی بہاؤ اور اس کو خوب ملو، یہاں تک کہ پانی سر یعنی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، پھر اپنے جسم پر پانی بہادے۔ سیدہ عائشہؓ نے کہا: انصار کی عورتیں بہترین عورتیں ہیں، ان کے لیے دین کی فقاہت حاصل کرنے کے لیے حیا مانع نہیں ہوتا۔
Musnad Ahmad
1449
۔ (۱۴۴۹) عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ أَوَّلَ مَاقَدِمَ الْمَدِیْنَۃَ نَزَلَ عَلَی أَجْدَادِہِ أَوْ أَخْوَالِہِ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَأَ نَّہُ صَلَّی قِبَلَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّـۃَ عَشَرَ أَوْسَبْعَۃَ عَشَرَ شَہْرًا، وَکَانَ یُعْجِبُہُ أَنْ تَکُوْنَ قِبْلَتُہُ قِبَلَ الْبَیْتِ وَأَ نَّہُ صَلّٰی أَوَّلَ صَلَاۃٍ صَلَّاھَا صَلَاۃَ الْعَصْرِ وَصَلّٰی مَعَہُ قَوْمٌ فَخَرَجَ رَجُلٌ مِمَّنْ صَلّٰی مَعَہُ فَمَرَّ عَلٰی أَھْلِ مَسْجِدٍ وَھُمْ رَاکِعُوْنَ فَقَالَ: أَشْہَدُ بِاللّٰہِ لَقَدْ صَلَّیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قِبَلَ مَکَّۃَ۔ قَالَ: فَدَارُوْا کَمَا ھُمْ قِبَلَ الْبَیْتِ وَکَانَ یُعْجِبُہُ أَنْ یُحَوَّلَ قِبَلَ الْبِیْتِ، وَکَانَ الْیَہُوْدُ قَدْ أَعْجَبَھُمْ اِذْ کَانَ یُصَلِّیْ قِبَلَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ وَأَھْلُ الْکِتَابِ فَلَمَّا وَلّٰی وَجْہَہُ قِبَلَ الْبَیْتِ أَنْکَرُوْا ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۸۶۹۰)
سیّدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب مدینہ منورہ پہنچے تو سب سے پہلے اپنے اجداد یا ماموؤں کے پاس ٹھہرے، جن کا تعلق انصار سے تھا،آ پ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سولہ یا سترہ مہینوں تک بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے رہے، جبکہ آپ کو پسند یہ تھا کہ آپ کا قبلہ بیت اللہ کی طرف ہو۔ (بالآخر ایسے ہی ہوا اور) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سب سے پہلی نماز جو اس کی طرف پڑھی ، وہ عصر تھی،کچھ لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی تھی۔ان میں سے ایک آدمی ایک مسجد والوں کے پاس سے گزرا، جبکہ وہ رکوع کی حالت میں تھے، اس نے ان سے کہا: میں اللہ کو گواہ بناکر کہتاہوں کہ (قبلہ تبدیل ہو چکا ہے اور) میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف نماز پڑھی ہے ۔ وہ (یہ اعلان سن کر رکوع کی)حالت میں بیت اللہ کی طرف پھر گئے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات پسند تھی کہ آپ کو بیت اللہ کی طرف پھیر دیا جائے، لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے تو یہودیوں اور اہل کتاب کویہ اچھا لگتا تھا (کیونکہ اس کو وہ اپنی اقتدا سمجھتے تھے)، اس لیے جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا رخ بیت اللہ کی طرف پھیر لیا تو انہوں نے اسے برا جانا۔
Musnad Ahmad
1756
۔ (۱۷۵۶) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا اِبْنُ أَبِیْ عَدِیٍّ عَنْ سَعِیْدٍ وَابْنِ جَعْفَرٍ ثَنَا سَعِیْدٌ الْمَعْنٰی عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ نَّبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتَاہُ رِعْلٌ وَذَکْوَانُ وَعُصَیَّۃُ وَبَنُو لِحْیَانَ فَزَعَمُوْا أَنَّہُمْ قَدْأَسْلَمُوْا فَاسْتَمَدُّوْہُ عَلٰی قَوْمِہِمْ فَأَمَدَّھُمْ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَئِذٍ بِسَبْعِیْنَ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ أَنَسٌ کُنَّا نُسَمِّیْہِمْ فِیْ زَمَانِہِمُ الْقُرَّائَ، کَانَوا یَحْتَطِبُوْنَ بِالنَّھَارِ وَیُصَلُّوْنَ بِاللَّیْلِ، فَانْطَلَقُوْا بِہِمْ حَتّٰی إِذَا أَتَوْا بِئْرَ مَعُوْنَۃَ غَدَرُوْا بِہِمْ فَقَتَلُوْھُمْ، فَقَنَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَہْرًا فِیْ صَلاَۃِ الصُّبْحِ یَدْعُوْا عَلٰی ھٰذِہِ الْأَحْیَائِ رِعْلٍ وَ ذَکْوَانَ وَعُصَیَّۃَ وَبَنِیْ لِحْیَانَ قَالَ قَتَادَۃَ وَحَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّہُمْ قَرَأُوْا بِہِ قُرْآنًا وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِیْ حَدِیْثِہِ إِنَّا قَرَأْنَا بِہِمْ قُرْآنًا: بَلِّغُوْا عَنَّا قَوْمَنَا أَنَّا قَدْ لَقِیْنَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَرْضَانَا۔ ثُمَّ رُفِعَ ذٰلِکَ بَعْدُ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ ثُمَّ نُسِخَ ذٰلِکَ أَوْ رُفِعَ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۸۷)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرے ہیں کہ رعل، ذکوان، عصیہ اوربنو لحیان قبیلے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور یہ باور کرایا کہ وہ مسلمان ہوگئے ہیں، پھر انہوں نے اپنی قوم کے خلاف آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مدد مانگی،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انصار کے ستر آدمیوں کے ساتھ ان کی مدد کی، ہم اس زمانہ میں ان کو قراء کا نام دیتے تھے، کیونکہیہ د ن کو لکڑیاں جمع کرتے اور رات کو نماز پڑھتے تھے، وہ قبیلوں والے ان کو لے کر چلے گئے، جب وہ جب بئرِ معونہ کے پاس پہنچے تو انھوں نے دھوکہ کیا اور ان (ستر صحابہ) کو قتل کردیا، اس لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صبج کی نماز میں ایک مہینہ قنوت کی، جس میں آپ ان قبائل رعل، ذکوان، عصیہ، اور بنولحیان پر بد دعا کرتے تھے۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ لوگوں نے اس واقعہ کے بارے میں قرآن پڑھا، ابن جعفر کی روایت کے مطابق وہ یہ آیت تھی: {بَلِّغُوْا عَنَّا قَوْمَنَا أَنَّا قَدْ لَقِیْنَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَرْضَانَا } یعنی: ہماری طرف سے ہماری قوم کو یہ بات پہنچا دو کہ ہم اپنے ربّ کو جا ملے ہیں، پس وہ خود بھی ہم سے راضی ہو گیا ہے اور ہم کو بھی راضی کر دیا ہے پھر یہ آیت منسوخ ہو گئی تھی۔
Musnad Ahmad
3078
۔ (۳۰۷۸) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عِیْسٰی عَنْ جَبْرِ بْنِ عَتِیْکٍ عَنْ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی مَیِّتٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَأَہْلُہٗ یَبْکُوْنَ، فَقُلْتُ: أَتَبْکُوْنَ وَہٰذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ: ((دَعْہُنَّ یَبْکِیْنَ مَا دَامَ عِنْدَہُنَّ، فَإِذَا وَجَبَتْ فَـلَا یَبْکِیْنَ)) فَقَالَ جَابِرٌ: فَحَدَّثْتُ بِہِ عُمَرَ بْنَ حُمَیْدٍ الْقُرَشِیَّ فَقَالَ: مَاذَا وَجَبَتْ؟ قَالَ: إِذَا أُدْخِلَ قَبْرَہُ۔ (مسند احمد: ۲۴۱۵۲)
سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات پر روئیں اور کہا: اے ابا جان! آپ اپنے ربّ کے کتنے قریب ہو گئے ہیں، اے ابا جان! میں جبریل کو آپ کی وفات کی خبر دیتی ہوں۔ اے با جان! جنت الفردوس آپ کا ٹھکانہ ہے۔
Musnad Ahmad
3255
۔ (۳۲۵۵) عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی جَنَازَۃِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَأنَا غَلَامٌ مَعَ أَبِی فجَلَسَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی حَفِیْرَۃِ الْقَبْرِ فَجَعَلَ یُوْصِی الْحَافِرَ وَیَقُوْلُ: ((أَوْسِعْ مِنْ قِبْلِ الرَّأْسِ وَ أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ الرِّجْلَیْنِ لَرُبَّ عِذْقٍ لَہُ فِی الْجَنَّۃِ)) (مسند احمد: ۲۳۸۵۹)
ایک انصاری صحابی بیان کرتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک انصاری کے جنازہ میں نکلے، میں چھوٹا لڑکا تھا اور اپنے والد کے ہمراہ گیا تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قبر کے گڑھے کے قریب بیٹھ گئے اور قبر بنانے والے سے فرمانے لگے: سر کی طرف سے قبر کو کھلا کرو، پائوں کی طرف وسیع کرو، جنت میں اس میت کے لیے کھجور کے بہت سے خوشے ہیں۔