مسنداحمد

Musnad Ahmad

فضائل و مناقب کی کتاب

انصار کے فضائل و مناقب

۔ (۱۱۵۵۰)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، أَنَّ الْمُشْرِکِینَ لَمَّا رَہِقُوا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ فِی سَبْعَۃٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَ رَجُلَیْنِ مِنْ قُرَیْشٍ، قَالَ: ((مَنْ یَرُدُّہُمْ عَنَّا؟ وَہُوَ رَفِیقِی فِی الْجَنَّۃِ۔)) فَجَائَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَاتَلَ حَتّٰی قُتِلَ، فَلَمَّا أَرْہَقُوہُ أَیْضًا، قَالَ: ((مَنْ یَرُدُّہُمْ عَنِّی؟ وَہُوَ رَفِیقِی فِی الْجَنَّۃِ۔)) حَتّٰی قُتِلَ السَّبْعَۃُ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِصَاحِبِہِ: ((مَا أَنْصَفْنَا إِخْوَانَنَا۔)) (مسند احمد: ۱۴۱۰۲)

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب مشرکین نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اوپر چڑھ آئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سات انصاریوں اور دو قریشیوں کے ہمراہ تھے، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان مشرکین کو ہم سے کون ہٹائے گا، وہ اس عمل کے نتیجہ میں جنت میں میرا ساتھی ہوگا۔ جواباً ایک انصاری آگے بڑھا اور وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا دفاع کرتے ہوئے دشمن سے لڑتا رہا، یہاں تک کہ وہ شہید ہوگیا۔ جب مشرکین آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اوپر پھر چڑھ آئے تو آپ نے پھر فرمایا: کون ہے جو ان مشرکین کو ہم سے ہٹائے اور دور رکھے، اس عمل کے نتیجہ میں وہ جنت میں میرا ساتھی ہوگا۔ یہاں تک کہ ساتوں انصاری شہید ہو گئے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے دو قریشی ساتھیوں سے فرمایا: ہم نے اپنے ان بھائیوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔

۔ (۱۱۵۵۱)۔ عَنْ أَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُکْثِرُ زِیَارَۃَ الْأَنْصَارِ خَاصَّۃً وَعَامَّۃً، فَکَانَ إِذَا زَارَ خَاصَّۃً أَتَی الرَّجُلَ فِی مَنْزِلِہِ، وَإِذَا زَارَ عَامَّۃً أَتَی الْمَسْجِدَ۔ (مسند احمد: ۱۹۷۹۲)

سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاص و عام انصار کی زیارت و ملاقات کے لیے کثرت سے تشریف لے جایا کرتے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی خاص آدمی کی زیارت کے لیے تشریف لے جاتے تو اس کے گھر تشریف لے جاتے او ر جب عام لوگوں سے ملاقات کرنا ہوتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں تشریف رکھتے۔

۔ (۱۱۵۵۲)۔ عَنْ أَبِی عُقْبَۃَ، وَکَانَ مَوْلًی مِنْ أَہْلِ فَارِسَ، قَالَ: شَہِدْتُ مَعَ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ أُحُدٍ، فَضَرَبْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِکِینَ فَقُلْتُ: خُذْہَا مِنِّی وَأَنَا الْغُلَامُ الْفَارِسِیُّ، فَبَلَغَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((ہَلَّا قُلْتَ خُذْہَا مِنِّی وَأَنَا الْغُلَامُ الْأَنْصَارِیُّ۔)) (مسند احمد: ۲۲۸۸۲)

سیدنا ابو عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ ایک فارسی غلام تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں غزوۂ احد میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ تھا، میں نے ایک مشرک پر زبردست قسم کا وار کرتے ہوئے کہا: لے مزہ چکھ، میں ایک فارسی لڑکا ہوں۔ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے یوں کیوں نہ کہا کہ لے مزہ چکھ، میں ایک انصاری لڑکا ہوں۔

۔ (۱۱۵۵۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ، أَنَّہَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَا یَضُرُّ امْرَأَۃً نَزَلَتْ بَیْنَ بَیْتَیْنِ مِنْ الْأَنْصَارِ أَوْ نَزَلَتْ بَیْنَ أَبَوَیْہَا۔)) (مسند احمد: ۲۶۷۳۷)

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس عورت کو کوئی تکلیف نہیں جو انصاریوں کے گھروں میں اترے یا اپنے والدین کے گھر اترے۔