سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انصار کے حق میں فرمایا: عام لوگوں کے میرے ساتھ تعلق کی مثال ایسے ہے جیسے اوپر اوڑھا ہوا کپڑا ہو اور انصار کا میرے ساتھ یوں تعلق ہے جیسے کوئی کپڑا جسم کے ساتھ متصل ہو (یعنی انصاری آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاص لوگ ہیں)۔ اگر عام لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری پہاڑی گھاٹی میں تو میں انصار والی گھاٹی میں چلنا پسند کروں گا اور اگر ہجرت والی فضیلت نہ ہوتی تو میں بھی انصار کا ایک فرد ہوتا۔ کسی کو انصار پر امارت و حکومت حاصل ہو تو وہ ان کے نیکوکاروں کے ساتھ حسن سلوک کا برتائو کرے، اور اگر ان میں سے کوئی کوتاہی ہو جائے تو وہ اس سے در گزر کرے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی طرف اشارہ کرکے فرمایا: جس کسی نے ان کو خوف زدہ کیا تو گویا اس نے مجھے خوف زدہ کیا ۔
علی بن زید سے مروی ہے کہ سیدنا مصعب بن زبیر تک انصار کے ایک نمائندے کی کوئی شکایت پہنچی تو انہوںنے اس کے متعلق (برا بھلا یا سزا دینے کا) ارادہ کیا، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے سیدنا مصعب کے ہاں جا کر ان سے کہا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ میں تمہیں انصار کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں، ان میں سے جو آدمی نیکوکار ہو تم اس کی بات کو قبول کرو اور جس سے کوئی کوتاہی سرزد ہو جائے تم اس سے در گزر کرو۔ یہ سن کر سیدنا مصعب نے اپنے آپ کو چارپائی سے نیچے گرا دیا اور اپنا رخسار چٹائی پر رکھ کر کہا:اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم سر آنکھوں پر، پھر اس انصاری کو چھوڑ دیا اور کچھ نہ کہا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مرض الموت کے دنوں میں) سر اور منہ پر کپڑا لپیٹے باہر تشریف لائے اور فرمایا: لوگو! عام لوگ تعداد میںبڑھتے جا رہے ہیں اور انصار کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے، پس تم میں سے جو آدمی امور خلافت پر متمکن ہو اور کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ انصار کے نیکوکاروں کی بات کو قبول کر لے اور ان میں سے کسی سے کوئی کوتاہی ہو تو اس سے در گزر کرے۔
سیدنا حارث بن زیاد ساعدی انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ خندق کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں سے ہجرت کرنے کی بیعت لے رہے تھے، حارث رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی سے بھی بیعت لے لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: یہ کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ میرا چچا زاد حوط بن یزیدیایزید بن حوط ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم سے بیعت نہیں لیتا، لوگ تمہاری طرف ہجرت کرکے آئیں گے، تم ان کی طرف ہجرت کرکے نہیں جائو گے ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! جو آدمی انصار سے محبت کرتا رہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس آدمی سے محبت کرتا ہوگا، لیکن جو آدمی انصار سے بغض رکھے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس آدمی سے بغض رکھتا ہو گا۔
عبید اللہ بن ابی بکر اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا انس رضی اللہ عنہ ) سے بیان کرتے ہیں کہ انصار نے اکٹھے ہو کر شکوہ کیا کہ ہم کب تک ان کنوؤں سے پانی کھینچتے رہیں گے۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جا کر گزارش کریں اور آپ اللہ سے دعا کریں تاکہ وہ ان پہاڑوں سے ہمارے لیے چشمے جاری کر دے۔ پس وہ سب اکٹھے ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گئے، آپ نے ان کو دیکھا تو خوش آمدید کہا اور فرمایا: تمہیں کوئی خاص ضرورت ہی ہماری طرف لائی ہے۔ انہوںنے کہا: اے اللہ کے رسول! واقعی بات ایسے ہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج تم جو بھی مانگو گے، وہ تمہیں دے دیا جائے گا اور میں بھی اللہ سے جو کچھ مانگوں گا وہ مجھے عنایت کر دے گا۔ یہ سن کر وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے اور بولے: کیا تم دنیا طلب کرنے آئے ہو؟آخرت کی کامیابی مانگ لو۔ ان سب نے بیک زبان عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے دعا فرمائیں کہ وہ ہماری مغفرت فرما دے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ! انصار کی، ان کے بیٹوں کی اور ان کے پوتوں کی مغفرت فرما دے۔ انصار نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اور غیر انصار سے ہونے والی ہماری اولاد کے حق میں بھی دعا فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انصار کی سب اولاد کو بخش دے۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! انصار کے غلاموں اور لونڈیوں کے حق میں بھی دعا فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ! انصار کے غلاموں اور لونڈیوں کی بھی مغفرت فرما دے۔ عبید اللہ بن ابی بکر کا بیان ہے کہ مجھ سے میری والدہ نے ام حکم بنت نعما ن بن صہباء کی روایت سے بیان کیا انہوں نے کہا کہ میںنے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو سنا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح بیان کرتے تھے، البتہ اس میں یہ بھی ہے کہ انصار نے مزید درخواست کی کہ اللہ کے رسول ہمارے بیٹوں کی بیویوں اور ہمارے بھائیوں کی بیویوں کے حق میں بھی دعائے مغفرت کر دیں۔
۔ (دوسری سند) جب انصار کے لیے اونٹوں پر پانی لاد لاد کر لانا اور کھیتوں کو سیرات کرنا شاق گزرنے لگا تو وہ اکٹھے ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میںگئے، تاکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کریں کہ آپ انہیں ایک بہتی نہر کھودنے کی اجازت فرمائیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: انصار کو خوش آمدید، اللہ کی قسم! آج تم مجھ سے جو بھی طلب کرو گے، میں تمہیں عنایت کردوں گا اور میں بھی اللہ سے تمہارے لیے جو کچھ مانگوں گا، وہ مجھے دے دے گا۔ انہوںنے ایک دوسرے سے کہا: اس وقت کو غنیمت سمجھو اور مغفرت کی درخواست کرو۔ ان سب نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ سے ہمارے حق میں مغفرت کی دعا فرمائیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں دعا کی: یا اللہ! انصار کی، ان کی اولادوں کی اور ان کی اولادوں کی اولادوں کی مغفرت فرما دے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک انصار میرے انتہائی خاص، راز دان اور امین لوگ ہیں، ان کی طرف آکر میں نے پناہ لی، پس تم ان کے نیکو کاروں کی بات کو قبول کرو اور ان میں سے کسی سے کوتاہی ہو تو اس سے درگزر کرو، انہوںنے اپنے عہد و پیمان کو تو پورا کر دیا ہے، لیکن ان کے حقوق کی ادائیگی باقی ہے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شادی سے انصار کے بچوں اور عورتوں کو آتے ہوئی دیکھاتو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے: اللہ گواہ ہے کہ تم لوگوں میں سے میرے نزدیک محبوب ترین ہو۔ اللہ گواہ ہے کہ مجھے سب سے زیادہ محبوب لوگوں میں سے ہو۔ اللہ جانتا ہے کہ تم انصار مجھے سب سے زیادہ محبوب لوگوں میں سے ہو۔ ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو۔
نضر بن انس سے روایت ہے کہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو واقعۂ حرہ کے دنوں میں ان کی اولاد اور ان کی قوم کے افراد کے قتل کی تعزیت کے سلسلہ میں لکھا اور کہا: میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو ایک خوش خبری سنانا چاہتا ہوں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا: یا اللہ! انصارکو، ان کے بیٹوں کو اور ان کے پوتوں کو بخش دے، انصار کی خواتین کو، انصار کے بیٹوں کی بیویوں کو اور انصار کے پوتوں کی خواتین کو بخش دے۔
عمر و بن مرہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ابو حمزہ طلحہ بن یزید سے سنا، انھوں نے کہا کہ انصار نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہر نبی کے کچھ پیروکار ہوتے ہیں، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کی ہے۔ اب آپ دعا فرمائیںکہ اللہ تعالیٰ ہمارے پیروکار ہم میں سے بنائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے حق میں دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ان کے پیرو انہی میں سے بنائے۔ میں نے اس حدیث کا ابن ابی لیلی سے ذکر کیا، تو انہوںنے کہا کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بھی ایسے ہی کیا ہے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انصار سے محبت کرنا ایمان کی اور ان سے بغض رکھنا نفاق کی علامت ہے۔
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انصار کا یہ قبیلہ لوگوں کے امتحان کا ذریعہ ہے، ان سے محبت رکھنا ایمان ہے اور ان سے بغض رکھنا نفاق ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان ہو وہ انصار سے بغض نہیں رکھتا۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں فرمایا کہ جو آدمی انصار سے بغض رکھتا ہو، اللہ اور اس کا رسول اس سے بغض رکھتے ہیں۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جھنڈا سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس ہوتا اور انصار کا جھنڈا سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ہوتا، جب شدیدجنگ چھڑتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انصار کے جھنڈے کے نیچے چلے جاتے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار کا ایک فرد ہوتا اور اگر لوگ ایک گھاٹییا وادی میں چلیں اور انصار دوسری گھاٹی میں ہوں تو میں انصار والی گھاٹی میں چلوں گا۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ انصار کے کچھ لوگوں نے جمع ہو کر آپس میں کچھ ایسی باتیں کیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسروں کوہمارے اوپر ترجیح دی ہے، جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کو جمع کرکے ان سے خطاب فرماتے ہوئے فرمایا: اے انصار کی جماعت! کیایہ حقیقت نہیں کہ تم لوگ ذلیل اور رسورا تھے اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں عزت سے نوازا؟ انھوں نے کہا؛ اللہ اور اس کے رسول کی بات درست ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیایہ بھی حقیقت نہیں ہے کہ تم لوگ گمراہ تھے اور اللہ نے تمہیںہدایت سے نوازا؟ انھوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کی بات بالکل ٹھیک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیایہ بات بھی صحیح نہیں کہ تم لوگ غریب تھے اور اللہ نے تمہیں غنی اور خوشحال کیا؟ انھوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کی بات صحیح ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مجھے جوابا ً یوں کیوں نہیں کہتے کہ اے رسول! آپ کے شہر والوں نے آپ کو شہر بدر کر دیا تو ہم نے آپ کو پناہ دی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوف زدہ ہو کر ہمار ے پاس پہنچے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو امن دیا؟اے انصار! کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ بکریاں اور گائیں لے کر جائیں اور تم اللہ کے رسول کو اپنے ہمراہ لے کر جائو اور تم اس رسول کو اپنے گھروں میں داخل کرو، حقیقتیہ ہے کہ اگر لوگ کسی ایک وادییا گھاٹی میں چلیں تو میں اس گھاٹییا وادی میں چلوں گا، جس میں تم چلو گے، اگر ہجرت والی سعادت نہ ہوتی تو میں انصاری فرد ہوتا، تم عنقریب میرے بعد اس سے بھی بڑھ کر ترجیح و تفریق ملاحظہ کر و گے، مگر تم ایسی صورت میں بھی صبر کرنا یہاں تک کہ تم مجھ سے حوض کوثر پر آ ملو۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، پھر گزشتہ حدیث کی مانند روایت بیان کی، البتہ اس میں ہے:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم میرے بعد بڑی ترجیح و تفریق ملاحظہ کرو گے، لیکن تم ایسی صورت حال میں صبر سے کام لینا،یہاں تک کہ تم اللہ اور اس کے رسول سے جا ملو، میں حوض کوثر پر تمہارا پیش رو ہوں گا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: لیکن ہم نے صبر نہیں کیا۔
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کے بارے میں فرمایا: اہل ایمان ان سے محبت رکھتے ہیں اور منافق ان سے بغض رکھتے ہیں، جو کوئی ان سے محبت کرے گا، اللہ اس سے محبت کرے گا اور جو کوئی ان سے بغض رکھے گا،اللہ تعالیٰ اس سے بغض رکھے گا۔ حدیث کے راوی شعبہ نے اپنے شیخ سے کہا: کیا آپ نے خود یہ حدیث سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ انہوںنے کہا:جی سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے ہی مجھے بیان کی ہے۔
رباح بن عبد الرحمن سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری دادی نے مجھے اپنے باپ (سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ ) سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کا وضو نہیں اس کی کوئی نماز نہیں اور جس آدمی نے اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کیا، (یعنی بسم اللہ نہیں پڑھی) اس کا کوئیوضو نہیں اور جو شخص میں (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پر ایمان نہیں لایا، وہ اللہ تعالیٰ پرایمان نہیں لا سکے گا اور جس بندے نے انصار سے محبت نہ کی، وہ مجھ پر ایمان نہیں لا سکے گا۔
عبداللہ بن کعب بن مالک انصاری،یہ کعب ان تین میں سے ایک ہیں جن کی توبہ قبول ہوئی تھی، سے مروی ہے کہ اس کو کسی صحابی نے بیان کیا کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے سر پر کپڑا باندھے باہر تشریف لائے اور اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا: اما بعد! اے مہاجرین کی جماعت! تمہاری تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور انصار آج اپنی پہلی سی تعداد میںنہیں ہیں،یہ انصار میرے خاص اور راز دان لوگ ہیں، جن کی طرف آکر میں نے پناہ لی، پس تم ان کے معزز شخص کا اکرام کرتے رہنا اور ان میں سے کوتاہی کرنے والے سے درگزر کرنا۔