مسنداحمد

Musnad Ahmad

فضائل و مناقب کی کتاب

انصار اور مہاجرین کی فضیلت کا بیان

۔ (۱۱۵۵۶)۔ عَنْ جَرِیرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((الْمُہَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ أَوْلِیَائُ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ، وَالطُّلَقَائُ مِنْ قُرَیْشٍ، وَالْعُتَقَائُ مِنْ ثَقِیفٍ، بَعْضُہُمْ أَوْلِیَائُ بَعْضٍ فِیْ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، وَالْمُہَاجِرُوْنَ وَالْاَنْصَارُ بَعْضُہُمْ أَوْلِیَائُ بَعْضٍ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۴۲۸)

سیدنا جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مہاجرین اور انصار یہ سب ایک دوسرے کے مدد گار اور معاون ہیں، اسی طرح قریش کے وہ لوگ جنہیں فتح مکہ کے دن معاف کر دیا گیا اور بنو ثقیف کے آزاد کردہ لوگ دنیا اورآخرت میں ایک دوسرے کے مددگار اور معاون ہیں اور مہاجرین و انصار قیامت تک ایک دوسرے کے مدد گار اور معاون ہیں۔

۔ (۱۱۵۵۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((وَالطُّلَقَائُ مِنْ قُرَیْشٍ، وَالْعُتَقَائُ مِنْ ثَقِیفٍ، بَعْضُہُمْ أَوْلِیَائُ بَعْضٍ فِیْ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، وَالْمُہَاجِرُوْنَ وَالْاَنْصَارُ بَعْضُہُمْ أَوْلِیَائُ بَعْضٍ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۴۳۱)

۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قریش کے جن لوگوں کو فتح مکہ کے دن معاف کر دیا گیا، وہ اور بنو ثقیف کے وہ لوگ جنہیں آزاد کر دیا گیا،یہ سب دنیا و آخرت میں ایک دوسرے کے معاون اور مدد گار ہیں، اور مہاجرین و انصار بھی دنیا اور آخرت میں ایک دوسرے کے مدد گار اور معاون ہیں۔

۔ (۱۱۵۵۸)۔ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ، قَالَ: قَالَتِ الْأَنْصَارُ: نَحْنُ الَّذِینَ بَایَعُوا مُحَمَّدًا، عَلَی الْجِہَادِ مَا بَقِینَا أَبَدًا، فَأَجَابَہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اللَّہُمَّ إِنَّ الْخَیْرَ خَیْرُ الْآخِرَہْ، فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُہَاجِرَہ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((فَأَصْلِحِ الْاَنْصَارَ وَالْمُہَاجِرَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۷۶۲)

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انصار نے یوں کہا: نَحْنُ الَّذِینَ بَایَعُوا مُحَمَّدًا، عَلَی الْجِہَادِ مَا بَقِینَا أَبَدًا (ہم وہ لوگ ہیں جنہوںنے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ پر اس بات کی بیعت کی ہے کہ ہم جب تک زندہ رہیں گے، جہاد کرتے رہیں گے۔) تو ان کے اس قول کے جواب میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اصل کامیابی تو آخرت کی کامیابی ہے، پس انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔ ایک روایت میں ہے: پس تو انصار اور مہاجرین کی اصلاح فرما۔

۔ (۱۱۵۵۹)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ الْمُہَاجِرُونَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا رَأَیْنَا مِثْلَ قَوْمٍ قَدِمْنَا عَلَیْہِمْ أَحْسَنَ مُوَاسَاۃً فِی قَلِیلٍ وَلَا أَحْسَنَ بَذْلًا فِی کَثِیرٍ، لَقَدْ کَفَوْنَا الْمَئُونَۃَ، وَأَشْرَکُونَا فِی الْمَہْنَإِ حَتّٰی لَقَدْ حَسِبْنَا أَنْ یَذْہَبُوْا بِالْأَجْرِ کُلِّہِ، قَالَ: ((لَا مَا أَثْنَیْتُمْ عَلَیْہِمْ وَدَعَوْتُمُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَہُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۳۱۵۳)

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ مہاجرین نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم جن انصاری لوگوں کے پاس آئے ہیں، ہم نے ان جیسے لوگ نہیں دیکھے، ان کے پاس کھانے پینے کی اشیاء کم ہوں تو خوب ہمدردی کرتے ہیں اور اگر ان کے پاس کھانے پینے کو وافر ہو تو بھی خوب خرچ کرتے ہیں۔ انہوں نے ہمیں محنت مزدوری سے بچایا اور اپنی کمائی میں ہمیں اپنا شریک بنایا۔ ہمیں تو اندیشہ ہے کہ سارا اجرو ثواب یہ لوگ لے جائیں گے۔ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں،یہ بات نہیںہے ، تم لوگ جب تک ان کی تعریف کرو گے اور اللہ تعالیٰ سے ان کے حق میں دعائیں کرو گے توتمہیں بھی اجر و ثواب ملتا رہے گا۔

۔ (۱۱۵۶۰)۔ عَنْ أَنْسٍ قَالَ: حَالَفَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ الْمُہَاجِرِینَ وَالْأَنْصَارِ فِی دَارِنَا، قَالَ سُفْیَانُ: کَأَنَّہُ یَقُولُ: آخٰی۔ (مسند احمد: ۱۲۱۱۳)

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارے گھر میں مہاجرین اور انصار کے ما بین ایک معاہدہ کرایا۔اس حدیث کا ایک راوی سفیان کہتے ہیں:سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی معاہدہ سے مراد مواخات اور بھائی چارہ ہے۔

۔ (۱۱۵۶۱)۔ عَنْ أَبِی مُوسٰی أَنَّ أَسْمَائَ لَمَّا قَدِمَتْ لَقِیَہَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فِی بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِینَۃِ، فَقَالَ: آلْحَبَشِیَّۃُ ہِیَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَقَالَ: نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ، لَوْلَا أَنَّکُمْ سُبِقْتُمْ بِالْہِجْرَۃِ، فَقَالَتْ ہِیَ لِعُمَرَ: کُنْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَحْمِلُ رَاجِلَکُمْ وَیُعَلِّمُ جَاہِلَکُمْ وَفَرَرْنَا بِدِینِنَا، أَمَا إِنِّی لَا أَرْجِعُ حَتّٰی أَذْکُرَ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَجَعَتْ إِلَیْہِ فَقَالَتْ لَہُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((بَلْ لَکُمُ الْہِجْرَۃُ مَرَّتَیْنِ، ہِجْرَتُکُمْ إِلَی الْمَدِینَۃِ، وَہِجْرَتُکُمْ إِلَی الْحَبَشَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۵۳)

سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ اسماء بنت عمیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا جب حبشہ سے واپس آئیں تو سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ان سے ملاقات ہوئی، تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کے بارے میںکہا: کیایہ وہی ہے جو حبشہ سے آئی ہے؟ انہوںنے کہا: جی ہاں۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر لوگ ہجرت کرنے میں تم پر سبقت نہ لے چکے ہوتے تو تم بہترین لوگ ہوتے، یہ سن کر انھوں نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: آپ لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رہے، تم میں سے جو سواری سے محروم ہوتا یعنی پیدل ہوتا، اللہ کے رسول اسے سواری دیتے اور تم میں سے جو کوئی دین کے مسائل سے واقف نہ ہوتا، اللہ کے رسول اسے تعلیم دیتے اور ہم تو اپنا دین بچانے کے لیےیہاں سے فرار ہو گئے تھے، اب میں جب تک اس بات کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر نہ کر لوں واپس نہیں آئوں گی۔ پس وہ آپ کی خدمت میں گئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات بتلائی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جواباً فرمایا: بلکہ تمہاری تو دوہجرتیں ہو گئیں، ایک مدینہ کی طرف اور ایک حبشہ کی طرف۔