مسنداحمد

Musnad Ahmad

فضائل و مناقب کی کتاب

انصار اور مہاجرین کی فضیلت کا بیان


۔ (۱۱۵۵۹)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ الْمُہَاجِرُونَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا رَأَیْنَا مِثْلَ قَوْمٍ قَدِمْنَا عَلَیْہِمْ أَحْسَنَ مُوَاسَاۃً فِی قَلِیلٍ وَلَا أَحْسَنَ بَذْلًا فِی کَثِیرٍ، لَقَدْ کَفَوْنَا الْمَئُونَۃَ، وَأَشْرَکُونَا فِی الْمَہْنَإِ حَتّٰی لَقَدْ حَسِبْنَا أَنْ یَذْہَبُوْا بِالْأَجْرِ کُلِّہِ، قَالَ: ((لَا مَا أَثْنَیْتُمْ عَلَیْہِمْ وَدَعَوْتُمُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَہُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۳۱۵۳)

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ مہاجرین نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم جن انصاری لوگوں کے پاس آئے ہیں، ہم نے ان جیسے لوگ نہیں دیکھے، ان کے پاس کھانے پینے کی اشیاء کم ہوں تو خوب ہمدردی کرتے ہیں اور اگر ان کے پاس کھانے پینے کو وافر ہو تو بھی خوب خرچ کرتے ہیں۔ انہوں نے ہمیں محنت مزدوری سے بچایا اور اپنی کمائی میں ہمیں اپنا شریک بنایا۔ ہمیں تو اندیشہ ہے کہ سارا اجرو ثواب یہ لوگ لے جائیں گے۔ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں،یہ بات نہیںہے ، تم لوگ جب تک ان کی تعریف کرو گے اور اللہ تعالیٰ سے ان کے حق میں دعائیں کرو گے توتمہیں بھی اجر و ثواب ملتا رہے گا۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۱۵۵۹) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، اخرجہ ابوداود: ۴۸۱۲، والترمذی: ۲۴۸۷ (انظر: ۱۳۱۲۲)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… معلوم ہوا کہ اگر بندے کے پاس احسان کا بدلہ چکانے کے لیے کچھ نہ ہو تو وہ زبان سے اچھے انداز میں شکریہ ادا کرے اور اس انداز میں تعریفی کلمات کہے کہ احسان کرنے والے کی حوصلہ افزائی ہو جائے، لیکن تعریف کرنے میں نہ غلوّ کیا جائے اور نہ احسان کرنے والاریاکاری میں مبتلا ہو۔