مسنداحمد

Musnad Ahmad

خلافت و امارت کے مسائل

فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت لینے کی کیفیت کا بیان

۔ (۱۲۱۳۳)۔عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُبَایِعُ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ، ثُمَّ یَقُولُ: ((فِیمَا اسْتَطَعْتَ۔)) وَقَالَ مَرَّۃً: فَیُلَقِّنُ أَحَدَنَا فِیمَا اسْتَطَعْتَ۔ (مسند احمد: ۴۵۶۵)

سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس چیز کی بیعت لیا کرتے تھے کہ حاکم کا حکم سن کر اس کی اطاعت کی جائے،پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود ہی فرما دیتے: جتنی تم میں طاقت اور استطاعت ہو۔ ایک راوی نے کہا: پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں لقمہ دیتے اور یادہانی کرا دیتے کہ جتنی تم میں طاقت ہو گی (اس کے مطابق تم حاکم کی اطاعت کرو گے)۔

۔ (۱۲۱۳۴)۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَایَعْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ، فَقَالَ: ((فِیْمَا اسْتَطَعْتُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۲۲۲۷)

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی کہ ہم حکمران کی بات سنیں گے اور اس کی اطاعت کریں گے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لیکن تمہاری استطاعت کے مطابق۔

۔ (۱۲۱۳۴)۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَایَعْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ، فَقَالَ: ((فِیْمَا اسْتَطَعْتُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۲۲۲۷)

۔ (دوسری سند) سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے اس دائیں ہاتھ کے ساتھ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بات پر بیعت کی کہ میں حکمران کی بات سنوں گا اور اس کی اطاعت کروں گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لیکن جتنی طاقت، اس کے مطابق۔

۔ (۱۲۱۳۶)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الْوَلِیدِ بْنِ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ قَالَ: بَایَعْنَا رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ، فِی عُسْرِنَا وَیُسْرِنَا، وَمَنْشَطِنَا وَمَکْرَہِنَا، وَالْأَثَرَۃِ عَلَیْنَا، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَہْلَہُ، وَنَقُومَ بِالْحَقِّ حَیْثُ کَانَ، وَلَا نَخَافَ فِی اللّٰہِ لَوْمَۃَ لَائِمٍ))۔ (مسند احمد: ۲۳۱۰۴)

سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی کہ ہم مشکل میں اور آسانی میں، چستی میں اور سستی میں اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دئیے جانے کے باوجود حاکم کی بات مانیں گے اور اس کی اطاعت کریں گے اور حکومت کے معاملے میں حکومت کے افراد سے جھگڑا نہیں کریں گے اور ہم حق کے ساتھ کھڑے ہوں گے، وہ جہاں بھی ہو گا، اور ہم اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں کریں گے۔

۔ (۱۲۱۳۷)۔ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ، عَنْ یَحْیَی، عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الْوَلِیدِ بْنِ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ، سَمِعَہُ مِنْ جَدِّہِ، وَقَالَ سُفْیَانُ مَرَّۃً: عَنْ جَدِّہِ عُبَادَۃَ، قَالَ سُفْیَانُ: وَعُبَادَۃُ نَقِیبٌ، وَہُوَ مِنْ السَّبْعَۃِ، بَایَعْنَارَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ، فِی الْعُسْرِ وَالْیُسْرِ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَکْرَہِ، وَلَا نُنَازِعُ الْأَمْرَ أَہْلَہُ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَاِنْ رَاَیْتَ اِنَّ لَکَ)، نَقُوْلُ بِالْحَقِّ حَیْثُمَا کُنَّا، لَا نَخَافُ فِی اللّٰہِ لَوْمَۃَ لَائِمٍ، قَالَ سُفْیَانُ: زَادَ بَعْضُ النَّاسِ مَا لَمْ تَرَوْا کُفْرًا بَوَاحًا۔ (مسند احمد: ۲۳۰۵۵)

سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ سات نقباء میں سے ایک تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اس بات پر بیعت کی کہ ہم تنگی اور آسانی میں اور خوشی اور ناخوشی میں حکمران کی بات سنیں گے اور اس کی اطاعت کریں گے، حکومت کے بارے میں اہل حکومت سے جھگڑ انہیں کر یں گے اور ہم جہاں بھی ہوں گے، حق بات کہیں گے اور اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی پروا نہیں کریں گے۔ سفیان راوی نے کہا: بعض حضرات نے اس حدیث میں یہ الفاظ زائد روایت کیے ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (تم اس وقت تک حکمران کی اطاعت کرنا) جب تک واضح کفر نہ دیکھ لو۔

۔ (۱۲۱۳۸)۔ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّائُ، عَنْ أَبِی قِلَابَۃَ، قَالَ خَالِدٌ: أَحْسِبُہُ ذَکَرَہُ عَنْ أَبِی أَسْمَائَ، قَالَ عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ: أَخَذَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَمَا أَخَذَ عَلَی النِّسَائِ سِتًّا: ((أَنْ لَا تُشْرِکُوا بِاللّٰہِ شَیْئًا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَکُمْ، وَلَا یَعْضِدْ بَعْضُکُمْ بَعْضًا، وَلَا تَعْصُونِی فِی مَعْرُوفٍ، فَمَنْ أَصَابَ مِنْکُمْ مِنْہُنَّ حَدًّا، فَعُجِّلَ لَہُ عُقُوبَتُہُ، فَہُوَ کَفَّارَتُہُ، وَإِنْ أُخِّرَ عَنْہُ، فَأَمْرُہُ إِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی، إِنْ شَائَ عَذَّبَہُ وَإِنْ شَائَ رَحِمَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۰۴۴)

سیدناعبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جس طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خواتین سے چھ امور کی بیعت لی تھی، اسی طرح ہم سے بھی اتنے امور کی کی بیعت لی، یہ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤگے، چوری نہیں کروگے، زنا نہیں کر و گے، اپنی اولادوں کو قتل نہیں کر و گے، ایک دوسرے سے قطع تعلقی نہیں کرو گے، اور نیکی کے کسی کام میں میری نافرمانی نہیں کرو گے، تم میں سے جس کسی نے کوئی ایسا کام کیا جس پر شرعی حد واجب ہوتی ہو، تو اگر اس کو دنیا میں اس جرم کی سزا مل گئی تو وہ سزا اس کے لیے کفارہ ہوگی اور اگر سزا آخرت تک مؤخر ہوگئی تو اللہ تعالیٰ اس کو عذاب بھی دے سکتا ہے اور معاف بھی کر سکتا ہے، جیسے اس کی مرضی ہو گی۔

۔ (۱۲۱۳۹)۔ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ قَیْسٍ الْأَشْجَعِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ: ((أَلَا إِنَّمَا ہُنَّ أَرْبَعٌ، أَنْ لَا تُشْرِکُوا بِاللّٰہِ شَیْئًا، وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِی حَرَّمَ اللّٰہُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَسْرِقُوا۔)) قَالَ: فَمَا أَنَا بِأَشَحَّ عَلَیْہِنَّ مِنِّی إِذْ سَمِعْتُہُنَّ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۹۹)

سیدنا سلمہ بن قیس اشجمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: خبردار! یہ چار امور ہیں، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، اللہ نے جس جان کے قتل کرنے کو حرام ٹھہرایا ہے، اسے ناحق قتل نہ کرنا، زنانہ کرنا اور چوری نہ کرنا۔ سیدنا سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے جب سے یہ باتیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہیں، اس وقت سے مجھے ان کی کوئی رغبت اور حرص ہی نہیں ہے۔

۔ (۱۲۱۴۰)۔ عَنْ حَکِیمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ: بَایَعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی أَنْ لَا أَخِرَّ إِلَّا قَائِمًا۔ (مسند احمد: ۱۵۳۸۶)

سیدنا حکیم بن حزام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بات کی بیعت کی تھی کہ میں نہیں گروں گا، مگر کھڑے کھڑے ہی۔

۔ (۱۲۱۴۱)۔ عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی سَدُوسٍ، عَنْ قُطْبَۃَ بْنِ قَتَادَۃَ قَالَ: بَایَعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی ابْنَتِی الْحَوْصَلَۃِ، وَکَانَ یُکَنَّی بِأَبِی الْحَوْصَلَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۶۸۳۹)

سیدناقطبہ بن قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اپنی بیٹی حوصلہ کی طرف سے بیعت کی تھی۔ ان کی کنیت ابو حوصلہ تھی۔

۔ (۱۲۱۴۲)۔ حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَہِیعَۃَ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَیْرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ شَأْنِ ثَقِیفٍ إِذْ بَایَعَتْ فَقَالَ: اشْتَرَطَتْ عَلَی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا صَدَقَۃَ عَلَیْہَا وَلَا جِہَادَ، وَأَخْبَرَنِی جَابِرٌ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((سَیَصَّدَّقُونَ وَیُجَاہِدُونَ إِذَا أَسْلَمُوْا)) یَعْنِی ثَقِیفًا۔ (مسند احمد: ۱۴۷۲۹)

ابوزبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بنو ثقیف کے بارے میں پوچھا، جب انھوں نے بیعت کی تھی؟ انہوںنے کہا: بنو ثقیف نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ یہ شرط لگائی تھی کہ نہ ان پر صدقہ ہو گا اور نہ جہاد، پھر ابوزبیر نے کہا کہ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو یہ بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا تھا کہ جب وہ صحیح طور پر مسلمان ہوجائیں گے تو عنقریب صدقہ بھی دیں گے اور جہاد بھی کریں گے۔

۔ (۱۲۱۴۳)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: جَائَ عَبْدٌ فَبَایَعَ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی الْہِجْرَۃِ، وَلَمْ یَشْعُرْ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ عَبْدٌ، فَجَائَ سَیِّدُہُیُرِیدُہُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بِعْنِیہِ۔)) فَاشْتَرَاہُ بِعَبْدَیْنِ أَسْوَدَیْنِ، ثُمَّ لَمْ یُبَایِعْ أَحَدًا بَعْدُ حَتّٰییَسْأَلَہُ: ((أَعَبْدٌ ہُوَ؟)) (مسند احمد: ۱۴۸۳۱)

سیدناجابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک غلام نے آکر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ہجرت کرنے پر بعیت کر لی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پتہ نہ چل سکا کہ وہ غلام ہے، اتنے میں اس کا مالک اسے لینے کے لیے آگیا ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا۔ تم یہ غلام مجھے بیچ دو۔ چنانچہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو سیاہ فام غلاموں کے عوض اس کو خریدلیا، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب تک یہ نہ پوچھ لیتے کہ کیا یہ شخص غلام ہے؟ اس وقت تک کسی سے بیعت نہیں لیتے تھے۔