۔ (۱۲۱۳۳)۔عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُبَایِعُ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ، ثُمَّ یَقُولُ: ((فِیمَا اسْتَطَعْتَ۔)) وَقَالَ مَرَّۃً: فَیُلَقِّنُ أَحَدَنَا فِیمَا اسْتَطَعْتَ۔ (مسند احمد: ۴۵۶۵)
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس چیز کی بیعت لیا کرتے تھے کہ حاکم کا حکم سن کر اس کی اطاعت کی جائے،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود ہی فرما دیتے: جتنی تم میں طاقت اور استطاعت ہو۔ ایک راوی نے کہا: پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں لقمہ دیتے اور یادہانی کرا دیتے کہ جتنی تم میں طاقت ہو گی (اس کے مطابق تم حاکم کی اطاعت کرو گے)۔
Takhreej
(۱۲۱۳۳) تخریج: اخرجہ البخاری: ۷۲۰۲، ومسلم: ۱۸۶۷ (انظر: ۴۵۶۵)
Explanation
فوائد:… یعنی حاکم کے حکم کی اطاعت اسی وقت تک ہے جب تک آدمی اسے پورا سکتا اور بجا لاسکتا ہو، حاکم کا جو حکم خارج از استطاعت ہو، اس کی اطاعت نہ کی جائے۔
یہ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحم دلی ہوتی تھی کہ بیعت میں طاقت اور استطاعت کی شرط لگوا دیتے تھے، تاکہ اگر کسی مجبوری اور شرعی عذر کی وجہ سے کسی شق کو توڑنا پڑ جائے تو بیعت کا معاہدہ برقرار رہے۔
12133
Sahih