TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 12139 - فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت لینے کی کیفیت کا بیان - خلافت و امارت کے مسائل - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 7 of 11 in this chapter
فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت لینے کی کیفیت کا بیان
۔ (۱۲۱۳۹)۔ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ قَیْسٍ الْأَشْجَعِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ: ((أَلَا إِنَّمَا ہُنَّ أَرْبَعٌ، أَنْ لَا تُشْرِکُوا بِاللّٰہِ شَیْئًا، وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِی حَرَّمَ اللّٰہُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَسْرِقُوا۔)) قَالَ: فَمَا أَنَا بِأَشَحَّ عَلَیْہِنَّ مِنِّی إِذْ سَمِعْتُہُنَّ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۹۹)
سیدنا سلمہ بن قیس اشجمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: خبردار! یہ چار امور ہیں، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، اللہ نے جس جان کے قتل کرنے کو حرام ٹھہرایا ہے، اسے ناحق قتل نہ کرنا، زنانہ کرنا اور چوری نہ کرنا۔ سیدنا سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے جب سے یہ باتیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہیں، اس وقت سے مجھے ان کی کوئی رغبت اور حرص ہی نہیں ہے۔
12139
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۲۱۳۹) تخریج: اسنادہ صحیح (انظر: ۱۸۹۹۰)

Related Chapters

2,223
1
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حج کی کیفیت کا بیان
Musnad Ahmad
2
بیعت ِ عقبہ اولی کے ایک سال بعد انصاریوں کے ستر مردوں اور دو عورتوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آنا اور بیعت ِ عقبہ ثانیہ کرنا
Musnad Ahmad
3
مکہ مکرمہ کے مردوں اور عورتوں کے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیعت کرنے اور ان کے اپنی اولاد کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لانے کا بیان تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان پر اپنا ہاتھ مبارک پھیر دیں
Musnad Ahmad
4
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌پر ایمان لانے اور آپ کو دیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
5
روایت ِ حدیث میں محتاط رہنے اور الفاظ کو اسی طرح عمدگی کے ساتھ ادا کرنے کا بیان، جیسے وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے صادر ہوئے
Musnad Ahmad
6
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سنت کو تھامنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سیرت سے رہنمائی طلب کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
7
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے بعد کسی چیز میں تبدیلی کر دینے والے یا کسی چیز کو ایجاد کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
8
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی نیند ناقضِ وضو نہیں تھی، اگرچہ وہ لیٹ کر ہوتی
Musnad Ahmad
9
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بعض بیویوں سے اس موضوع سے متعلقہ بیان کی گئی مرویات کا بیان
Musnad Ahmad
10
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان میرے لیے زمین مسجد اور پاک کرنے والی بنائی گئی ہے کا بیان
Musnad Ahmad
11
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کے بعد تعوذ اور دعا کا بیان
Musnad Ahmad
12
سلام کے بعد امام کا لوگوں کی طرف رخ کرنااور صحابہ کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے برکت حاصل کرنا
Musnad Ahmad
13
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دن کے نفل اور فرضوں کی سنتوں کا جامع بیان
Musnad Ahmad
14
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی وہ حدیث، جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کی کیفیت بیان کی گئی
Musnad Ahmad
15
وصال سے منع کرنے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے اس کا بطور خصوصیت جائزہونے کا بیان
Musnad Ahmad
16
صحابہ کے وصال سے باز آنے سے انکار کرنے پر ان کو عبرت سکھانے کے لیےیا ان کے فعل پر انکار کرنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ان کے ساتھ دو دنوں اور دو راتوں تک وصال کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
17
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ماہِ شعبان میں بکثرت روزے رکھنے اور اس مہینے میں روزوں کی فضیلت
Musnad Ahmad
18
اس چیز کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتنے حج اور کتنے عمرے کیے؟
Musnad Ahmad
19
صحابہ کرام کا اس بارے میں اختلاف کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کس جگہ سے تلبیہ پڑھا تھا
Musnad Ahmad
20
عرفہ سے مزدلفہ کو جاتے وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا لوگوں کو سکون سے چلنے کا حکم دینے کا بیان
Musnad Ahmad
21
وہ افراد جن کے نام نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکھے اور وہ افراد کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی مصلحت کی وجہ سے جن کے نام تبدیل کیے
Musnad Ahmad
22
لقب اور ان افراد کا بیان جن کی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کنیتیں رکھیں
Musnad Ahmad
23
اس بات کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شہید کی وفات پائی
Musnad Ahmad
24
اس امر کا بیان کہ غنیمت کا حلال ہونانبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کی امت کے خصائص میں سے ہے اور تقسیم سے قبل غنیمت سے متعلقہ احکام کاذکر
Musnad Ahmad
25
سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قید اور فدیے اور اس معاملے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ایک معجزے کا بیان
Musnad Ahmad
26
ان دعاؤں کا بیان، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پڑھا کرتے تھے
Musnad Ahmad
27
اس نابینا آدمی کی دعا، جس نے اپنی بینائی حاصل کرنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا وسیلہ دیا تھا
Musnad Ahmad
28
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کے وجوب کا بیان
Musnad Ahmad
29
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود چھوڑ دینے والے شخص کی مذمت کا بیان
Musnad Ahmad
30
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کی فضیلت اور یہ عمل کرنے والے کے اجر کا کئی گناہ تک بڑھنا
Musnad Ahmad
31
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پسندیدہ کھانوں کا ذکر
Musnad Ahmad
32
نبیذ کی جائز اور حرام اقسام کا بیان نبیذ کی جائز اقسام کا بیان، نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے نبیذ کیسے اور کس چیز سے نبیذ بنائی جاتی تھی
Musnad Ahmad
33
مشکیزے کی نبیذ اور اس سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پینے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اس کو اچھا سمجھنے کا بیان
Musnad Ahmad
34
اس چیز کا بیان جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرق نساء بیماری کے لیے تجویز کی
Musnad Ahmad
35
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خوابوں کا بیان
Musnad Ahmad
36
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خواب میں اللہ تعالی کو دیکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
37
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کا بیان کہ جس نے مجھے نیند میں دیکھا، اس نے مجھے ہی دیکھا
Musnad Ahmad
38
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی انگوٹھی اور اس کا چاندی کے ہونے کا بیان آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نقش کے بارے میں تنبیہ
Musnad Ahmad
39
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا جبریل کا قرآن مجید کا دور کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
40
سورۃ النصر اس چیز کا بیان کہ سورۂ نصر، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے اعلان کے لیے نازل ہوئی
Musnad Ahmad
41
اس چیز کی ترغیب کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کے پاس دنیا کی بقدر ضرورت قلیل مقدار تھی
Musnad Ahmad
42
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بھوک کا واقعہ اور اس معاملے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عظیم معجزے کا بیان
Musnad Ahmad
43
اس شخص کا بیان کہ جس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لعنت کریں،یا اس کو برا بھلا کہیں،یا اس پر بد دعا کریں، جبکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی
Musnad Ahmad
44
جنوں کے ایک گروہ کے اسلام لانے، ان کے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے قرآن سننے کا بیان
Musnad Ahmad
45
غزوۂ تبوک والے سال نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حجر وادی سے گزرنا، جس کا تعلق ثمود کی زمین سے ہے
Musnad Ahmad
46
نبی کریم کے بعض فضائل اور اس چیز کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاتم النّبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں
Musnad Ahmad
47
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ولادت باسعادت کا بیان
Musnad Ahmad
48
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رضاعت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دودھ پلانے والیوں اور دائیوںکا ذکر
Musnad Ahmad
49
نبی کریم کا حلیمہ سعدیہ کا دودھ پینے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نبوت کی نشانیاں ظاہر ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
50
نبی کریم کا بچپنے میںبکریاں چرانا، اللہ تعالیٰ کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حفاظت کرنا اور آپ کو جاہلیت کی گندگیوں سے بچانا
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

4
Musnad Ahmad
4958
۔ (۴۹۵۸)۔ عن حَشْرَجَ بْنِ زِیَادٍ الْأَشْجَعِیِّ، عَنْ جَدَّتِہِ أُمِّ أَبِیہِ، أَنَّہَا قَالَتْ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی غَزَاۃِ خَیْبَرَ، وَأَنَا سَادِسَۃُ سِتِّ نِسْوَۃٍ، فَبَلَغَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ مَعَہُ نِسَائً، فَأَرْسَلَ إِلَیْنَا (وَفِیْ لَفْظٍ: فَدَعَانَا قَالَتْ: فَرَاَیْنَا فِیْ وَجْھِہِ الْغَضَبَ) فَقَالَ: ((مَا أَخْرَجَکُنَّ وَبِأَمْرِ مَنْ خَرَجْتُنَّ؟)) فَقُلْنَا: خَرَجْنَا نُنَاوِلُ السِّہَامَ، وَنَسْقِی النَّاسَ السَّوِیقَ، وَمَعَنَا مَا نُدَاوِی بِہِ الْجَرْحٰی، وَنَغْزِلُ الشَّعْرَ، وَنُعِینُ بِہِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، قَالَ: قُمْنَ فَانْصَرِفْنَ، فَلَمَّا فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْہِ خَیْبَرَ، أَخْرَجَ لَنَا سِہَامًا کَسِہَامِ الرَّجُلِ (وَفِیْ لَفْظٍ: کَسِھَامِ الرِّجَالِ) قُلْتُ: یَا جَدَّۃُ! مَا أَخْرَجَ لَکُنَّ قَالَتْ: تَمْرًا۔ (مسند أحمد: ۲۲۶۸۸)
۔ حشرج بن زیاد اشجعی اپنے دادی جان سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: میں غزوۂ خیبر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نکلی، جبکہ میں چھ خواتین میں سے چھٹی تھی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پتہ چلا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ عورتیں بھی جا رہی ہیں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں بلایا، ہمیں محسوس ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے پر غضب کے آثار ہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کس نے تم کو نکالا ہے اور کس کے حکم سے تم نکلی ہو؟ ہم نے کہا: جی ہم خود نکلی ہیں، تاکہ مجاہدوں کو تیر پکڑا سکیں، لوگوں کو ستو پلا سکیں، ہم میں بعض خواتین زخمیوں کا علاج بھی کر سکتی ہیں اور بالوں کو بٹ کر اللہ کی راہ میں مدد کریں گی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اٹھو اور پیچھے ہٹ جاؤ۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر خیبر کو فتح کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں بھی مردوں کی طرح کا حصہ دیا، میں حشرج نے کہا: اے دادی جان! تمہیں حصے میں کیا دیا تھا؟ انھوں نے کہا: کھجور۔
Musnad Ahmad
4986
۔ (۴۹۸۶)۔ عن نُعَیْمِ بْنِ مَسْعُودٍ الْأَشْجَعِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ حِینَ قَرَأَ کِتَابَ مُسَیْلِمَۃَ الْکَذَّابِ، قَالَ لِلرَّسُولَیْنِ: ((فَمَا تَقُولَانِ أَنْتُمَا؟۔)) قَالَا: نَقُولُ کَمَا قَالَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَاللّٰہِ لَوْلَا أَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَکُمَا۔)) (مسند أحمد: ۱۶۰۸۵)
۔ سیدنا نعیم بن مسعود اشجعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسیلمہ کذاب کا خط پڑھا تو اس کے دو قاصدوں سے فرمایا: تم خود کیا کہتے ہو؟ انھوں نے کہا: ہم وہی کہتے ہیں، جو مسیلمہ کہتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر قاصدوں کو قتل نہ کیا جاتا ہوتا، تو میں تم دونوں کی گردنیں اڑا دیتا۔
Musnad Ahmad
5049
۔ (۵۰۴۹)۔ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ، عَنْ أَبِیہِ جُبَیْرٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الْأَشْجَعِیِّ، قَالَ: غَزَوْنَا غَزْوَۃً إِلٰی طَرَفِ الشَّامِ، فَأُمِّرَ عَلَیْنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ، قَالَ: فَانْضَمَّ إِلَیْنَا رَجُلٌ مِنْ أَمْدَادِ حِمْیَرَ، فَأَوٰی إِلٰی رَحْلِنَا، لَیْسَ مَعَہُ شَیْئٌ إِلَّا سَیْفٌ، لَیْسَ مَعَہُ سِلَاحٌ غَیْرُہُ، فَنَحَرَ رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِینَ جَزُورًا، فَلَمْ یَزَلْ یَحْتَلْ حَتَّی أَخَذَ مِنْ جِلْدِہِ کَہَیْئَۃِ الْمِجَنِّ حَتّٰی بَسَطَہُ عَلَی الْأَرْضِ ثُمَّ وَقَدَ عَلَیْہِ حَتّٰی جَفَّ، فَجَعَلَ لَہُ مُمْسِکًا کَہَیْئَۃِ التُّرْسِ، فَقُضِیَ أَنْ لَقِینَا عَدُوَّنَا فِیہِمْ أَخْلَاطٌ مِنْ الرُّومِ وَالْعَرَبِ مِنْ قُضَاعَۃَ فَقَاتَلُونَا قِتَالًا شَدِیدًا، وَفِی الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنَ الرُّومِ عَلٰی فَرَسٍ لَہُ أَشْقَرَ وَسَرْجٍ مُذَہَّبٍ وَمِنْطَقَۃٍ مُلَطَّخَۃٍ ذَہَبًا وَسَیْفٌ مِثْلُ ذٰلِکَ، فَجَعَلَ یَحْمِلُ عَلَی الْقَوْمِ، وَیُغْرِی بِہِمْ، فَلَمْ یَزَلْ ذٰلِکَ الْمَدَدِیُّ یَحْتَالُ لِذٰلِکَ الرُّومِیِّ حَتّٰی مَرَّ بِہِ فَاسْتَقْفَاہُ فَضَرَبَ عُرْقُوبَ فَرَسِہِ بِالسَّیْفِ فَوَقَعَ، ثُمَّ أَتْبَعَہُ ضَرْبًا بِالسَّیْفِ حَتّٰی قَتَلَہُ، فَلَمَّا فَتَحَ اللّٰہُ الْفَتْحَ أَقْبَلَ یَسْأَلُ لِلسَّلَبِ، وَقَدْ شَہِدَ لَہُ النَّاسُ بِأَنَّہُ قَاتِلُہُ، فَأَعْطَاہُ خَالِدٌ بَعْضَ سَلَبِہِ وَأَمْسَکَ سَائِرَہُ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَی رَحْلِ عَوْفٍ ذَکَرَہُ، فَقَالَ لَہُ عَوْفٌ: ارْجِعْ إِلَیْہِ فَلْیُعْطِکَ مَا بَقِیَ، فَرَجَعَ إِلَیْہِ فَأَبٰی عَلَیْہِ، فَمَشٰی عَوْفٌ حَتّٰی أَتٰی خَالِدًا، فَقَالَ: أَمَا تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی بِالسَّلَبِ لِلْقَاتِلِ؟ قَالَ: بَلٰی، قَالَ: فَمَا یَمْنَعُکَ أَنْ تَدْفَعَ إِلَیْہِ سَلَبَ قَتِیلِہِ؟ قَالَ خَالِدٌ: اسْتَکْثَرْتُہُ لَہُ، قَالَ عَوْفٌ: لَئِنْ رَأَیْتُ وَجْہَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَأَذْکُرَنَّ ذٰلِکَ لَہُ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِینَۃَ بَعَثَہُ عَوْفٌ فَاسْتَعْدٰی إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَعَا خَالِدًا وَعَوْفٌ قَاعِدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا یَمْنَعُکَ یَا خَالِدُ أَنْ تَدْفَعَ إِلٰی ہٰذَا سَلَبَ قَتِیلِہِ؟)) قَالَ: اسْتَکْثَرْتُہُ لَہُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ، فَقَالَ: ((ادْفَعْہُ إِلَیْہِ۔)) قَالَ: فَمَرَّ بِعَوْفٍ فَجَرَّ عَوْفٌ بِرِدَائِہِ، فَقَالَ: اَنْجَزْتُ لَکَ مَا ذَکَرْتُ لَکَ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَسَمِعَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاسْتُغْضِبَ فَقَالَ: ((لَا تُعْطِہِ یَا خَالِدُ! ہَلْ أَنْتُمْ تَارِکِی أُمَرَائِی، إِنَّمَا مَثَلُکُمْ وَمَثَلُہُمْ کَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتُرْعِیَ إِبِلًا أَوْ غَنَمًا، فَرَعَاہَا ثُمَّ تَخَیَّرَ سَقْیَہَا، فَأَوْرَدَہَا حَوْضًا، فَشَرَعَتْ فِیہِ فَشَرِبَتْ صَفْوَۃَ الْمَائِ، وَتَرَکَتْ کَدَرَہُ، فَصَفْوُہُ لَکُمْ وَکَدَرُہُ عَلَیْہِمْ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۴۸۷)
۔ سیدنا عوف بن مالک اشجعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے شام کی طرف ایک غزوہ کیا، (یہ ۸ ؁ھ میں لڑا جانے والا غزوۂ موتہ تھا)، سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمارے امیر تھے، حمیر قبیلے کے اعوان و انصار میں سے ایک آدمی بھی ہمارے ساتھ مل گیا، وہ ہماری رہائش گاہ میں آگیا اور اس کے پاس صرف ایک تلوار تھی، اس کے علاوہ کوئی اور اسلحہ نہیں تھا، ایک مسلمان نے اونٹ نحر کیے، وہ آدمی حیلے بہانے کرتا رہا، یہاں تک کہ اس نے ان اونٹوں کے چمڑے سے ڈھال کی طرح کی ایک چیز بنائی، پھر اس کو زمین پر بچھایا اور اس پر آگ جلائی، یہاں تک کہ وہ خشک ہو گئی، پھر اس نے ڈھال کی طرح کا اس کو دستہ لگا دیا، پھر اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے مطابق ہمارا دشمنوں سے مقابلہ شروع ہو گیا، ہمارا دشمن رومیوں اور عرب کے بنو قضاعہ قبیلے کے افراد پر مشتمل تھا، انھوں نے ہم سے بڑی سخت لڑائی لڑی، رومیوں میں ایک جنگجو ایسا تھا کہ وہ سرخ رنگ کے گھوڑے پر سنہری زین رکھ کر اس پر سوار تھا، اس گھوڑے کا تنگ بھی سونے سے لت پت تھا اور اس کی تلوار بھی ایسے ہی سنہری تھی، اس نے مسلمانوں پر حملہ کرنا اور لڑائی کی آگ بھڑکانا شروع کی، حمیر قبیلے کا یہ آدمی اس رومی کے لیے حیلے بہانے کرنے لگا، یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس سے گزرا تو یہ اس کے پیچھے چل پڑا، یہاں تک کہ اس کے گھوڑے کی پچھلی ٹانگ کا گھٹنا کاٹ دیا، پس وہ گھوڑا گر پڑا اور وہ شخص اس رومی پر تلوار کے ساتھ چڑھ دوڑا اور اس کوقتل کر دیا، جب اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو فتح عطا کر دی تو وہ شخص سلب کا سوال کرنے لگا، جبکہ لوگ اس کے حق میں یہ گواہی دے رہے تھے کہ واقعی اس نے اس کو قتل کیا ہے، لیکن سیدنا خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کو کچھ سامان دے دیا اور باقی روک لیا، پھر جب وہ سیدنا عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رہائش گاہ کی طرف لوٹا اور ان کو یہ بات بتلائی تو انھوں نے کہا: تو سیدنا خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف لوٹا جا، ان کو چاہیے کہ باقی حصہ بھی تجھے دے دیں، پس وہ لوٹ کر تو گیا، لیکن انھوں نے اس کو باقی حصہ دینے سے انکار کر دیا، پس سیدنا عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خود چل کر سیدنا خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے اور کہا: کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سلب کا فیصلہ قاتل کے حق میں کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی،کیوں نہیں، مجھے پتہ ہے، انھوں نے کہا: تو پھر تجھے اس کو اس کے مقتول کا سلب دینے سے کون سی چیز مانع ہے؟ سیدنا خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: دراصل میں نے اس حصے کو بہت زیادہ سمجھا ہے (اور سارے کا سارا اس کو نہیں دیا)، سیدنا عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ دیکھا تو میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ضرور ضرور بتلاؤں گا، پھر جب وہ مدینہ منورہ پہنچے تو سیدنا عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس شخص کو بھیجا اور اس نے جا کر سیدنا خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شکایت کی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مدد طلب کی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلایا، جبکہ سیدنا عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیٹھے ہوئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خالد! کس چیز نے تجھے اس شخص کو اس کا سلب دینے سے روکا؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس سلب کو زیادہ سمجھا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اس کو دے دے۔ جب سیدنا خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے گزرے تو انھوں نے سیدنا خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی چادر گھسیٹی اور کہا: میں نے جو بات تم کو کہی تھی، اب میں نے اس کو تیرے لیے پورا کر دیا ہے، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (سیدنا عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) کا یہ طعن سنا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو غصے آ گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خالد! تو اس کو نہ دے، کیا تم میرے امراء کو میرے لیے چھوڑنے والے ہو، میری اور میرے امراء کی مثال اس شخص کی سی ہے، جس کو اونٹ یا بکریاں چرانے کا کہا گیا، پس اس نے ان کو چرایا، پھر اس نے ان کو پانی پلانے کا وقت مقرر کیا اور ان کو حوض پر لے آیا، پس انھوں نے پانی پینا شروع کیا اور سارا صاف پانی پی گئے اور گدلا پانی رہ گیا، (ایسے سمجھو کہ) میرے امراء کا صاف پن تمہارے لیے ہے اور گدلا پن ان پر ہے۔
Musnad Ahmad
5063
۔ (۵۰۶۳)۔ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الْأَشْجَعِیِّ، قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا جَائَ فَیْئٌ قَسَمَہُ مِنْ یَوْمِہِ، فَأَعْطَی الْآہِلَ حَظَّیْنِ، وَأَعْطَی الْعَزَبَ حَظًّا وَاحِدًا، فَدُعِینَا وَکُنْتُ أُدْعٰی قَبْلَ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ، فَدُعِیتُ فَأَعْطَانِی حَظَّیْنِ، وَکَانَ لِی أَہْلٌ، ثُمَّ دَعَا بِعَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ فَأُعْطِیَ حَظًّا وَاحِدًا، فَبَقِیَتْ قِطْعَۃُ سِلْسِلَۃٍ مِنْ ذَہَبٍ، فَجَعَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَرْفَعُہَا بِطَرَفِ عَصَاہُ ثُمَّ رَفَعَہَا وَہُوَ یَقُولُ: ((کَیْفَ أَنْتُمْ یَوْمَ یَکْثُرُ لَکُمْ مِنْ ہٰذَا۔)) (مسند أحمد: ۲۴۴۸۶)
۔ سیدنا عوف بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس مالِ فئے آتا تھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو اسی دن اس طرح تقسیم کر دیا کرتے تھے کہ شادی شدہ کو دو حصے اور کنوارے کو ایک حصہ دیتے تھے، ، پس ایک دن ہمیں بلایا گیا اور مجھے سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پہلے بلایا جاتا تھا، پس مجھے بلایا گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے دو حصے دیئے، کیونکہ میں اہل و عیال والا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلایا اور ان کو ایک حصہ دیا، سونے کی چین کا ایک ٹکرا بچ گیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو اپنی لاٹھی کے سرے سے اٹھاتے، لیکن وہ گر جاتا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اٹھایا، جبکہ اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ فرما رہے تھے: اس وقت تمہارا کیا بنے گا، جس دن تمہارے لیے یہ سونا بہت زیادہ ہو جائے گا۔