سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ان کی چارپائی پر رکھا گیا تو ان کو اٹھائے جانے سے قبل لوگوں نے ان کی چارپائی کو گھیر لیا اور ان کے حق میں دعائیں اور رحمت کی التجائیں کرنے لگے، میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا، اچانک ایک آدمی نے پیچھے سے میرے ! سالم مولیٰ ابی حذیفہ، ابوبکر کی خلافت میں جنگ یمامہ میں شہید ہوگئے تھے اور ابو عبیدہ بن جراح عہد فاروقی میں ۱۸ ھ میں فوت ہو گئے تھے۔ عمر بن خطاب نے اپنے اس فرمان میں ان دو شخصیات کی عظمت و جلالت کا اعتراف کیا ہے۔ (عبداللہ رفیق) کندھوں کو پکڑا، جب میں اُدھر متوجہ ہوا تو کیا دیکھا کہ وہ سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حق میں دعائے رحمت کی اور کہا: آپ نے اپنے بعد کوئی ایسا آدمی نہیں چھوڑا کہ جس کے بارے میں میں یہ تمنا کرسکوں کہ جب اللہ تعالیٰ سے ملوں تو میرے اعمال اس کے اعمال جیسے ہوں، اللہ کی قسم!مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ ضرور ملائے گا، اس لیے کہ میں کثرت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کرتا تھا کہ ’‘میں، ابوبکر اور عمر گئے۔ میں، ابو بکر اور عمر داخل ہوئے۔ میں، ابو بکر اور عمر باہر گئے۔ مجھے یقین تھا کہ اللہ آپ کو ان کے ساتھ ضرور ملائے گا۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو منبراور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر کے درمیان لا کر رکھا گیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ آکر صفوں آگے کھڑ ے ہوگئے اور انہوں نے تین بار کہا: آپ پر اللہ کی رحمت ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں اس ڈھانپے ہوئے آدمی کے علاوہ کوئی ایسا بشر نہیں ہے کہ میں اس جیسے نامہ اعمال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے پاس جانا پسند کروں۔
ابو حجیفہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، ان پر ایک کپڑا ڈال کر انہیںڈھانپا گیا، وہ وفات پا چکے تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے، انہوں نے آپ کے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور کہا: اے ابو حفص! آپ پر اللہ کی رحمت ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آپ سے بڑھ کر کوئی آدمی مجھے اتنا محبوب نہیں کہ میں اس جیسا نامہ اعمال لیے ہوئے اللہ تعالیٰ سے جا کر ملوں۔
معدان بن ابی طلحہ یعمری سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر بدھ کے روز قاتلانہ حملہ ہوا، ابھی تک ماہِ ذوالحجہ کے چار دن باقی تھے۔