TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور میں نمودار ہونے والے ان خوارج کا تذکرہ، جو متقدم الذکر عراقیوں کی اولا د تھے، ان کو حروریّہ بھی کہا جاتا ہے

Chapter 6 of قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 6 of 43 · 4 Hadith
۔ (۱۲۸۲۷)۔ عَن یُسَیْرِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقُلْتُ :حَدِّثْنِیْ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِی الْحَرُوْرِیَّۃِ، قَالَ: اُحَدِّثُکَ مَا سَمِعْتُ لَا اَزِیْدُکَ عَلَیْہِ ‘ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَذْکُرُ قَوْمًا:((یَخْرُجُوْنَ مِنْ ھٰہُنَا وَاَشَارَ بِیَدِہٖ نَحْوَ الْعِرَاقِ یَقْرَؤُوْنَ الْقُرْآنَ لَا یُجَاوِزُ حَنَاجِرَھُمْ یَمْرُقُوْنَ مِنَ الدِّیْنِ کَمَایَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ۔)) قُلْتُ: ھَلْ ذَکَرَ لَھُمْ عَلَامَۃً؟ قَالَ: ہٰذَا مَا سَمِعْتُ لَا اَزِیْدُکَ عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۶۰۷۳)
یسیر بن عمرو سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں سہل بن حنیف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا اور کہا کہ آپ مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا کوئی ایسا فرمان سنائیں جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حروریہ کے بارے میں ارشاد فرمایا ہو۔ انہوں نے کہا: میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں اور اپنی طرف سے اس میں کوئی اضافہ نہیں کروں گا۔ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سنا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عراق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : ادھر سے کچھ لوگ نکلیں گے، وہ قرآن تو پڑھیں گے، لیکن وہ ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا اور وہ دین سے یوں نکل جائیں گے، جیسے تیر شکار میں سے تیزی سے پار نکل جاتا ہے۔ میں نے پوچھا : آیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان لوگوں کی کوئی علامت بھی ذکر فرمائی تھی؟ انھوں نے کہا: جی میں نے اتنا ہی سنا ہے، میں اس پر اضافہ نہیں کروں گا۔
Takhreej
(۱۲۸۲۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۹۳۴، ومسلم: ۱۰۶۸ (انظر: ۱۵۹۷۷)
12827
Sahih
۔ (۱۲۸۲۸)۔ وَعَنْ سُوَیْدِ بْنِ غَفْلَۃَ قَالَ: قَالَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ :اِذَا حَدَّثْتُکُمْ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَدِیْثًا فَلَاَنْ اَخِرَّ مِنَ السَّمَائِ اَحَبُّ مِنْ اَنْ اَکْذِبَ عَلَیْہِ، وَاِذَا حَدَّثْتُکُمْ عَنْ غَیْرِہِ فَاِنَّمَا اَنَارَجُلٌ مُحَارِبٌ وَالْحَرْبُ خُدْعَۃٌ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یَخْرُجُ فِیْ آخِرِ الزَّمَانِ اَقْوَامٌ اَحْدَاثُ الْاَسْنَانِ سُفَہَائُ الْاَحْلَامِ یَقُوْلُوْنَ مِنْ قَوْلِ خَیْرِ الْبَرِیَّۃِ لَا یُجَاوِزُ اِیْمَانُہُمْ حَنَاجِرَھُمْ، فَاَیْنَمَا لَقِیْتُمُوْھُمْ فَاقْتُلُوْھُمْ فَاِنْ قَتْلَہُمْ اَجْرٌ لِمَنْ قَتَلَہُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۶۱۶)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں تمہیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کوئی حدیث بیان کروں تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھوٹ باندھنے کی بہ نسبت مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ میں آسمان کی بلندی سے نیچے گر جاؤں، مگر جھوٹ نہ بولوں اور جب میں تمہیں کسی دوسرے کی کوئی بات سناؤں تو یاد رکھو کہ ان دنوں میری لوگوں سے لڑائی رہتی ہے اور لڑائی چالوں اور تدبیروں کو ہی کہتے ہیں، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: آخری زمانہ میں کچھ ایسے لوگ نمودار ہوں گے، جو نو عمر اور کم عقل ہوں گے، وہ باتیں تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیان کریں گے، لیکن ان کا ایمان ان کے گلوں سے آگے نہیں اترے گا، یہ لوگ تمہیں جہاں بھی ملیں، تم انہیں قتل کر دینا، کیونکہ ان کے قاتلوں کو قیامت کے دن اس قتل کا اجر ملے گا۔
Takhreej
(۱۲۸۲۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۹۳۰، ومسلم: ۱۰۶۶ (انظر: ۶۱۶)
12828
Sahih
۔ (۱۲۸۲۹)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو ( بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ:((سَیَخْرُجُ اُنَاسٌ مِنْ اُمَّتِیْ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ یَقْرَؤُوْنَ الْقُرْآنَ لَایُجَاوِزُ تَرَاقِیَھِمْ، کُلَّمَا خَرَجَ مِنْہُمْ قَرْنٌ قُطِعَ کُلَّمَا خَرَجَ مِنْہُ قَرْنٌ قُطِعَ، حَتّٰی عَدَّھَا زِیَادَۃً عَلٰی عَشْرَۃِ مَرَّاتٍ، کُلَّمَا خَرَجَ مِنْہُ قَرْنٌ قُطِعَ حَتّٰییَخْرُجُ الدَجَّالُ فِیْ بَقِیَّتِہِمْ۔)) (مسند احمد:۶۸۷۱ )
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب میری امت میں مشرقی جہت سے ایسے لوگ نمودار ہوں گے، جو قرآن مجید تو بڑے خوبصورت انداز میں پڑھیں گے، لیکن وہ ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گا ،جب بھی ان میں سے کوئی نسل ظاہر ہو گی تو اسے قتل کر دیا جائے گا، پھر جب ان کی نسل منظرِ عام پر آئے گی تو اسے بھی قتل کر دیا جائے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دس دفعہ ان کا اسی طرح ذکر کیا (اور آخری مرتبہ فرمایا:) جب بھی ان کی نسل ظاہر ہو گی تو اسے ختم کر دیا جائے گا، یہان تک کہ ان کے باقی ماندہ لوگوں میں دجال نمودار ہو گا۔
Takhreej
(۱۲۸۲۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف شھر بن حوشب، أخرجہ الطیالسی: ۲۲۹۳، وعبد الرزاق: ۲۰۷۹۰(انظر: ۶۸۷۱)
12829
Zaeef
۔ (۱۲۸۳۰)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ :((یَخْرُجُ مِنْ اُمَّتِیْ قَوْمٌ یُسِیْئُوْنَ الْاَعْمَالَ یَقْرَؤُوْنَ الْقُرْآنَ لَایُجَاوِزُ حَنَاجِرَھُمْ۔)) قَالَ یَزِیْدُ (اَحَدُ الرُّوَاۃِ): لَا اَعْلَمُہٗاِلَّاقَالَ: ((یَحْقِرُ اَحَدُکُمْ عَمَلَہُ مَعَ عَمَلِہِمْ یَقْتُلُوْنَ اَھْلَ الْاِسْلَامِ فَاِذَا خَرَجُوْا فَاقْتُلُوْھُمْ، ثُمَّ اِذَا خَرَجُوْا فَاقْتُلُوْھُمْ، ثُمَّ اِذَا خَرَجُوْا فَاقْتُلُوْھُمْ، فَطُوْبٰی لِمَنْ قَتَلَہُمْ وَطُوْبٰی لِمَنْ قَتَلُوْہُ، کُلَّمَا طَلَعَ مِنْہُمْ قَرْنٌ قَطَعَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) فَرَدَّدَ ذٰلِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِشْرِیْنَ مَرَّۃً اَوْ اَکْثَرَ وَاَنَا اَسْمَعُ۔ (مسند احمد: ۵۵۶۲)
سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : میری امت میں ایک ایسی بد عمل قوم پیدا ہو گی، کہ وہ قرآن کی تلاوت تو کریں گے، لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا، (بظاہر ان کے عمل اتنے اچھے ہوں گے کہ) تم اپنے اعمال کو ان کے اعمال کے مقابلے میں کم تر سمجھو گے، وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے، جب ایسے لوگ نمودار ہوں تو تم انہیں قتل کر دینا، اس کے بعد پھر جب ان کا ظہور ہوتو ان کو قتل کر دینا، پھر جب وہ ظاہر ہوں تو ان کو مار ڈالنا، ان کو قتل کرنے والے کے لیے بھی بشارت ہے اور ان کے ہاتھوں قتل ہو جانے والے کے لیے بھی خوشخبری ہے، جب ان کی نسل نمودار ہوگی تو اللہ تعالیٰ اسے نیست و نابود کر دے گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس بات کو بیس یا اس سے بھی زائد مرتبہ دہرایا اور میں سنتا رہا۔
Takhreej
(۱۲۸۳۰) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۷۴ (انظر: ۵۵۶۲)
Explanation
فوائد:… محدثین نے خوارج کو درج بالا احادیث کا مصداق قرار دیا ہے۔ خوار ج، لغوي تعریف: خوارج، خارج کی جمع ہے، جوخروج سے مشتق ہے ،ان کایہ نام ان کے خروج کی وجہ سے پڑاہے ، چاہے دین سے نکل جانیکی وجہ سے یا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کیخلاف خروج کی وجہ سے خواہ مسلمانوں کے خلاف خروج کی وجہ سے۔ اصطلاحي تعریف: امام شہرستانی لکھتے ہیں: ہروہ شخص جواہل السنۃ والجماعۃ کے متفقہ امام کیخلاف خروج کرے اسے خارجی کہاجاتا ہے،یہ خروج صحابہ کرام کے زمانے میں خلفاء راشدین کیخلاف ہو، یا ان کے بعد والے زمانے میں ۔ ان کے مختلف صفاتی نام: محکمہ، مارقہ، نواصب، اہل نہروان، مکفرہ،سبیئہ، شکاکیہ اسلام میں پہلا مذہبی فرقہ جس نے شعائر سے ہٹ کر اپنا الگ گروہ بنایا۔ یہ گروہ جس کی اکثریت بدوی عراقیوں کی تھی۔ جنگ صفین کے موقع پر سب سے پہلے نمودار ہوا۔ یہ لوگ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فوج سے اس بنا پر علیحدہ ہوگئے کہ انھوں نے سیدنا امیر معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ثالثی کی تجویز منظور کر لی تھی۔ خارجیوں کا نعرہ تھا کہ حاکمیت اللہ ہی کے لیے ہے انھوں نے شعث بن راسبی کی سرکردگی میں مقام حروراء میں پڑاؤ ڈالا اور کوفہ ، بصرہ ، مدائن وغیرہ میں اپنے عقائد کی تبلیغ شروع کر دی۔ ان کا عقیدہ تھا کہ دینی معاملات میں انسان کو حاکم بنانا کفر ہے اور جو لوگ ایسے فیصلوں کو تسلیم کرتے ہیں وہ واجب القتل ہیں۔ خارجیوں کے اعتقاد کے مطابق سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خلیفہ برحق تھے۔ ان کی بیعت ہر مسلمان پر لازم تھی۔ جن لوگوں نے اس سے انکار کیا وہ اللہ اور رسول اللہ کے دشمن تھے۔ اس لیے امیر معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ان کے حامی کشتنی اور گردن زدنی ہیں۔ ان کے ساتھ کسی قسم کی صلح کرنا ازروئے قرآن کفر ہے۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے چونکہ ان کے ساتھ مصالحت کرنے اور حکم قرآنی میں ثالث بنانے کا جرم کیا ہے۔ اس لیے ان کی خلافت بھی ناجائز ہوگئی۔ لہذا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا امیر معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ دونوں کے خلاف جہاد لازم ہے۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے خارجیوں کو جنگ نہروان میں شکست فاش دی۔ لیکن ان کی شورش پھر بھی باقی رہی۔ چنانچہ سیدنا علی ایک خارجی ابن ملجم کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ خوارج حد سے زیادہ نیک تھے، لیکن کم عقلی کی وجہ سے اپنے علاوہ کسی کو مسلمان نہ سمجھتے تھے، انتہا پسند تھے، ہر گناہ کو کفر کہتے تھے اور ہر گنہگار کو کافر، نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں کو کافر کہہ کر اکثر قتل کرتے تھے اور کافروں کو معذور سمجھ کر چھوڑ دیتے تھے، انتہا پسندی کا نتیجہ ہمیشہ ایسا ہی نکلتا ہے، اس لیے انتہا پسندی، تشدد اور تکلف کی اسلام میں مذمت کی گئی ہے۔ ان لوگوں کے ظاہری حالات بہت اچھے تھے، لیکن ظاہر جتنا اچھا تھا، باطن اتنا ہی برا تھا، مسئلہ تحکیم کے بعد یہ لوگ حروراء مقام پر چلے گئے، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عبد اللہ ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ان کے پاس بھیجا کہ وہ انہیں سمجھائیں اور انہیں امیر کی اطاعت میں واپس لائیں، سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سمجھانے سے بہت سے لوگ ان سے الگ ہو گئے اور امیر کی اطاعت میں واپس آگئے، لیکن ان کے بڑے اور ان کے موافقین اپنی ضد پر اڑے رہے، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی ان کے پاس تشریف لائے، مگر ان پر کوئی اثر نہ ہوا، انہوں نے صحابی رسول سیدنا عبد اللہ بن خباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو شہید کر دیا، پھر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ان کے ساتھ معرکہ ہوا، خارجیوں کی قیادت عبد اللہ بن وہب اور ذی الخویصرہ حرقوص بن زید وغیرہ کے ہاتھ میں تھی، اس جنگ کے نتیجے میں اکثر خارجی قتل ہوگئے۔ خوارج سیدنا علی، سیدنا عثمان، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر، سیدنا عائشہ، اور سیدنا عبد اللہ بن عباس کو کافر اور مخلد فی النار قرار دیتے تھے، اس شخص کو بھی کافر کہتے تھے، جو ان کا ہم مسلک ہونے کے باوجود ان کے ساتھ قتال میں شریک نہ ہوتا، مخالفین کے بچوں اور عورتوں کے قتل کے قائل تھے، رجم کے قائل نہیں تھے، مشرکوں کے بچوں کے خلود فی النار کے قائل تھے، اس بات کے بھی قائل تھے کہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو بھی نبی بنا دیتے ہیں، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو یہ علم ہو کہ یہ بعد میں کافر ہوجائے گا، اس بات کے بھی قائل تھے کہ نبی بعثت سے پہلے معاذ اللہ کافر ہوسکتا ہے، خوارج مرتکب کبیرہ کو کافر اور مخلد فی النار قرار دیتے تھے، اس پر وہ کفر ابلیس سے استدلال کرتے تھے کہ وہ سیدنا آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کرکے مرتکب کبیرہ ہوا تھا اس بناء پر اس کو کافر قرار دیدیا گیا معلوم ہوا مرتکب کبیرہ کافر ہوجاتاہے حالانکہ ابلیس محض ارتکاب کبیرہ کی بناء پر کافر نہیں ہوا بلکہ حکم خداوندی کے مقابلے میں اباء واستکبار اس کے کفر کا سبب ہے۔ قابل ذکربات یہ ہے کہ یہ روایتِ حدیث میں ثقہ ترین لوگوں میں سے تھے، ان کی بعض روایتیں صحیح ترین سندوں میں شمارکی جاتی ہیں ، جیساکہ خطیب بغدادی نے امام ابوداؤدکا قول نقل کیاہے کہ بدعت پرستوں میں سے خوارج کی روایتوں سے زیادہ صحیح روایتیں کسی کی نہیں ہوتیں۔ خوارج جان بوجھ جھوٹ بولنے والوں میں سے نہیں تھے، یہاں تک کہاجاتاہے کہ ان کی حدیثیں صحیح ترین ہواکرتی تھیں لیکن یہ جہالت کی وجہ سے اپنی بدعت میں گمراہ ہوگئے ، اوران کی بدعت الحادوزندقیت کی بنیادپرنہیں تھی، بلکہ قرآن کریم کے فہم سے جہالت وگمراہی کی بنیاد پر تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جھوٹ جوکبیرہ گناہوں میں سے ہے، ان کے نزدیک نہ یہ کہ اس کا مرتکب گنہگار ہے، بلکہ اس کے اوپرکفرکا اطلاق ہوتاہے ۔ معلوم ہواکہ روایتِ حدیث میں اپنی ثقاہت کے باوجود تاویلی اورتخریبی فکروعمل کااثران کی گمراہیت کاسبب بناجس کی پیش گوئی پہلے ہی کی جاچکی تھی ۔ بہرحال علمائے اسلام کا اس حقیقت پر اجماع و اتفاق ہے کہ خوارج باوجود اپنی گمراہی کے مسلمانوں کا ایک فرقہ ہیں، ان کے ساتھ نکاح کرنا، ان کا ذبیحہ کھانا اور ان کی شہادت قبول کرنا جائز ہے، کسی اہل علم نے ان کو کافر نہیں کہا، ہاں یہ باغی ضرور تھے۔
12830
Sahih

Chapters

43
01
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے قیامت کے قریب ہونے کا بیان
10 Hadith
02
امت ِ محمدیہ کا فرقوں میں تقسیم ہوجانے کا بیان
9 Hadith
03
مسلمانوں کے آپس میں لڑنے کا بیان
6 Hadith
04
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو فتنوں کے دور میں ان سے اجتناب کرنے کی وصیت کرنے اور اس وقت کی خیر والی چیز کی رہنمائی کرنے کا بیان
18 Hadith
05
اس جہت کا ذکر جدھر سے فتنے آئیں گے، نیز خوارج‘ حروریہ اور روافض کا بیان
5 Hadith
06
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور میں نمودار ہونے والے ان خوارج کا تذکرہ، جو متقدم الذکر عراقیوں کی اولا د تھے، ان کو حروریّہ بھی کہا جاتا ہے
4 Hadith
07
روافض کا بیان
1 Hadith
08
قیامت سے پہلے تیس جھوٹوں کے ظہور کا بیان، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ ہو گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے، ان میں سے ایک مسیلمہ کذاب ہے
3 Hadith
09
قیامت کے قائم ہونے تک پے درپے آنے والے ان فتنوں کا بیان، جن کے باقاعدہ نام رکھے گئے ہیں
20 Hadith
10
ان عام فتنوں اور اہم امور کا بیان، جن کے وقوع پذیر ہونے کے بعد قیامت قائم ہوگی
19 Hadith
11
ذِمِّی لوگوں کا جزیہ کی ادائیگی بند کر دینے کا بیان
3 Hadith
12
فتنوں سے متعلقہ سیدناحذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی روایات
8 Hadith
13
وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
15 Hadith
14
اس سلسلے میں سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
4 Hadith
15
اس سلسلے میں دیگر صحابہ سے مروی احادیث
10 Hadith
16
قیامت کے قائم ہونے سے قبل خون ریزیوں اور گھمسان کی جنگوں کا بیان
4 Hadith
17
امام مہدی کا ظہور اور اس کی مدتِ قیام
8 Hadith
18
امام مہدی کی بیعت اور ان کے مخالفین کا زمین میں دھنسنے کا بیان
6 Hadith
19
جزیرۂ عرب ، فارس اور روم کے غزوات کا بیان
9 Hadith
20
ارضِ بصرہ میں ترکوں کے ساتھ لڑائی کا بیان
4 Hadith
21
دریائے فرات کا سونے کے ایک پہاڑ سے سر کنے اور اس پر لوگوں کے لڑنے کا بیان
2 Hadith
22
فوائد:… یہ سارا کچھ مال کو اکٹھا کرنے کی لالچ میں ہو گا۔ اس موقع پر قتل ہونے والوں کی مختلف تعداد بیان کی گئی ہے، حافظ ابن حجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ نے کہا: دس میں سے نو افراد کا قتل ہونا، یہ روایت شاذ ہے، محفوظ روایت سو میں ننانوے کا قتل ہونا ہے، جس کو مسلم نے روایت کیا، اس کا ایک شاہد بھی ہے، جس کو سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے روایت کیا، اور جمع تطبیق کی صورت بھی ہو سکتی ہے کہ دونوں احادیث کو لوگوں کی دو قسموں پر محمول کیا جائے (ایک قسم میں سو میں ننانوے قتل ہوں گے اور ایک قسم میں دس میں سے نو)۔ (فتح الباری: ۱۳/۸۱)
4 Hadith
23
دجال کے اوصاف اور ان کی ابن صیاد سے مطابقت
2 Hadith
24
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا ابن صیاد کا سامنا کرنے اور اسے مارنے اور اس وقت ابن صیاد کی طرف سے خلافِ عادت امور کے ظاہر ہونے کا بیان
2 Hadith
25
ابن صیاد کی جرأت، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اس کو قتل کرنے کے ارادہ کرنے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کو اس سے منع کر دینے کا بیان
4 Hadith
26
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ابن صیاد کے بارے میں اس طرح اہتمام کرنا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مخفی انداز میں اس کی طرف جانا اور اس کی باتیں سننے کی کوشش کرنا اور اس کی ماں کو خبردار کرنا
3 Hadith
27
ابن صیاد کی چالاکی اور اس بات کا انکار کہ وہ دجال ہے
2 Hadith
28
ابن صیاد کے خلافِ عادت امور کا بیان
5 Hadith
29
دجال کے ظہور سے تین سال پہلے لوگوں پر پڑنے والی مشکلات اور اس کے ظہور کے بعد ان کے ساتھ اس کے سلوک کا بیان
2 Hadith
30
فتنہ دجال کے بڑے ہونے اور اس کے ظہور کی علامتوں کا بیان
5 Hadith
31
دجال کے مقام کے تعین اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے سے اس کے موجود ہونے کا بیان
2 Hadith
32
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دجال کے ظہور کی خبر دینے اور اس کی جائے ظہور، اوصاف، پیروکار، فتنے اور اس سے ڈرانے وغیرہ کا بیان
24 Hadith
33
ان لوگوں کا تذکرہ، جن کو اللہ تعالیٰ فتنۂ دجال سے محفوظ رکھے گا
6 Hadith
34
دجال کے ظہور کے بعد اس کی زمین پر قیام کی مدت، اس کا خضر نامی مومن کو قتل کر کے پھر زندہ کرنے اور اسے اس کے علاوہ کسی دوسرے پر اس قسم کا تسلط نہ ہونے اور اس کے ہلاک ہو جانے کا بیان
4 Hadith
35
ان احادیث کا تذکرہ، جن میں دجال کے ظہور ، زمین میں اس کے قیام کی مدت، عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور ان کا دجال کو قتل کرنے، یا جوج ماجوج کے ظہور اور ان کی ہلاکت، عیسیٰ علیہ السلام کے دنوـں میں لوگوں کی خوش حالی اور پھر اہلِ خیر و اہلِ ایمان کے فوت ہو جانے اور بد ترین لوگوں کے باقی رہ جانے، پھر صور پھونکے جانے اور قبر والوں کے جی اٹھنے کا بیان ہے
4 Hadith
36
اللہ تعالیٰ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونے، دجال کو قتل کرنے ، لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کرنے ، زمین میں چالیس برس تک قیام کرنے، پھر ان کے وفات پانے اور مسلمانوں کا ان کی نماز جنازہ ادا کرنے کا بیان
7 Hadith
37
یاجوج ماجوج کا ظہور بھی قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ہے
5 Hadith
38
یاجوج و ماجوج کے حلیے کا بیان
1 Hadith
39
سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے اور توبہ کے دروازے کے بند ہونے کا بیان
9 Hadith
40
چوپائے کا ظہور
3 Hadith
41
ایک خوش گوار قسم کی ہوا کا چلنا، جو اہل ایمان کی روحیں قبض کر لے گی
3 Hadith
42
کعبہ کا منہدم ہونااور جشیوں کے ہاتھوں اس کے خزانوں کو نکالا جانا
5 Hadith
43
لوگوں کا زمین میں دھنسا یا جانا اور لوگوں کاکثرت سے بے ہوش ہونا
10 Hadith
No chapter matched that.