قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں
اور علامتوں کا بیان - قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں
اور علامتوں کا بیان - Book 175 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 175 of Musnad Ahmad, with 43 chapters and 280 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری بعثت اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح متصل ہیں۔ ساتھ ہی آپ نے انگشت ِ شہادت اور درمیانی انگلی کو پھیلا کر اشارہ کیا۔
فوائد:… درمیانی اور شہادت والی انگلی سے اشارہ کرنے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دو مقاصد ہو سکتے ہیں: (۱) جس طرح یہ انگلیاں ایک دوسری کے قریب اور ملی ہوئی ہیں ،یہی معاملہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قیامت کا ہے، (۱) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قیامت کے مابین اتنا فاصلہ رہ گیا ہے، جتنی درمیانی انگلی شہادت والی انگلی سے بڑی ہے۔
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں کے ساتھ اشارہ کیا اور فرمایا: میری بعثت اور قیامت اب اس طرح ایک دوسرے کے قریب قریب ہیں جیسے یہ انگلی اس کے ساتھ ہے۔
سیدنا وہب سوائی کا بیان ہے،وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میری بعثت اور قیامت اس طرح متصل ہیں جیسے یہ انگلی دوسری انگلی کے ساتھ متصل ہے، یقینا قریب تھا کہ قیامت میری بعثت سے پہلے قائم ہوجاتی ۔ پھر امام اعمش نے اپنی انگشت ِ شہادت اور درمیان انگلی کو ملا کر اشارہ کیا۔
Takhreej
(۱۲۷۸۱) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ دون قولہ ان کادت لتسبقھا وھذا اسناد اختلف فیہ علی الاعمش، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۲/ ۳۴۶ (انظر: ۱۸۷۷۰)
سیدنابریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری بعثت اور قیامت کو ایک دوسرے کے ساتھ اس حد تک متصل کر دیا گیا کہ قریب تھا کہ قیامت مجھ سے سبقت لے جاتی۔
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری اور قیامت کے قرب کی مثال ان دو انگلیوں کی طرح ہے۔ اس کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگوٹھے کے ساتھ والی (انگشت ِ شہادت) اور درمیانی (انگلی) کو تھوڑا سا الگ کر کے اشارہ کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری اور قرب ِ قیامت کی مثال مقابلہ کرنے والے دو گھوڑوں کی سی ہے۔ پھر فرمایا: میری اور قرب ِ قیامت کی مثال اس شخص کی سی ہے جسے اس کی قوم نے اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا ہو، جب اسے خطرہ ہو ا کہ دشمن اس سے آگے نکل جائے گا تو وہ اپنا کپڑا لہرا لہرا کر قوم کو اطلاع دینے لگا کہ دشمن تمہارے پاس پہنچ گیا، دشمن تمہارے پاس پہنچ گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بس میں وہی ہوں۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ میدانِ عرفات میں وقوف کیے ہوئے تھے، جب سورج غروب کے وقت ڈھا ل کی مانندہو کر نظر آنے لگا تو وہ رونے لگ گئے اور بہت زیادہ روئے، ان کے قریب کھڑے ایک آدمی نے کہا : اے ابو عبدالرحمن! آپ نے میرے ساتھ کئی بار وقوف کیا ہے، لیکن آپ نے کبھی بھی ایسے تو نہیں کیا تھا۔ انھوں نے کہا:مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یاد آ گئے ہیں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہیں میری جگہ کھڑے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا : لوگو! دنیا کی گزری ہوئی مدت کے مقابلے میں بقیہ زمانے کی وہی نسبت ہے جو آج کے گزرے ہوئے دن کے ساتھ اس باقی وقت کی ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں: ایک بھیڑیا ایک چرواہے کی طرف آیا اور اس کے ریوڑ سے ایک بکری اٹھا کرلے گیا، چرواہے نے اس کا پیچھا کیا اور اس سے بکری کو چھڑالیا۔ بھیڑیا ایک اونچے ٹیلے پر چڑھ گیا اور اگلی ٹانگیں کھڑی کر کے سرین پر بیٹھ کر کہنے لگا:میں نے ایسے رزق کا قصد کیا جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا تھا، لیکن تو نے مجھ سے وہ چھین لیا، وہ چراوہا کہنے لگا: میں نے آج تلک ایسا منظر نہیں دیکھا کہ بھیڑیا انسانوں کی طرح باتیں کرتا ہو، یہ سن کربھیڑئیے نے کہا: تم میری بات سن کر تعجب کر رہے ہو، اس سے بھی عجیب تر بات یہ ہے کہ دو حرّوں کے مابین کھجوروں کے باغات میںایک ایسا شخص ہے، جو انسانوں کو ماضی اور مستقبل کی باتیں بتلاتا ہے، وہ چرواہا یہودی تھا، جب اس نے آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سارا واقعہ سنایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی تصدیق کی اور فرمایا: جانوروں کا انسانوں کی طرح باتیں کرنابھی علاماتِ قیامت میں سے ہے اور عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ انسان اپنے گھر سے باہر جا ئے گا تو اس کے اہل خانہ نے اس کی عدم موجودگی میں جو کچھ کیا ہوگا، اس کی واپسی پر اس کے جوتے اور چھڑی اسے سب کچھ بتلا دیں گے۔
Takhreej
(۱۲۷۸۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف شہر بن حوشب، أخرجہ عبد الرزاق: ۲۰۸۰۸(انظر: ۸۰۶۳)
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا،ایک آدمی نے آکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: وہ تو قائم ہو کر رہے گی، تم نے اس کے لیے تیاری کیا کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا :اللہ کی قسم ! میںنے قیامت کے لیے کوئی زیادہ اعمال تو نہیں کیے ہیں، البتہ اتنا ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جن کے ساتھ تم کو محبت ہو گی ‘ آخرت میں انہی کے ساتھ ہوگے اور تم جو امید رکھو گے، وہی کچھ تمہیں ملے گا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور جب نما ز سے فارغ ہوئے تو پوچھا: قیامت کے بارے میں پوچھنے والا آدمی کہاںہے؟ پس اسے لایا گیا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھر کی طرف دیکھا،تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے خاندان بنودوس کے ایک لڑکے پر نظر پڑھی، اس کا نام سعد بن مالک رضی اللہ عنہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ لڑکا اگر زندہ رہا تو اس کے بڑھاپے کو پہنچنے سے پہلے پہلے قیامت آ جائے گی۔ حسن کہتے ہیں: سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے مجھے بتلایا کہ وہ نوجوان ان دنوں ان کا ہم عمر تھا۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر دریافت کیا کہ قیامت کب آئے گی؟اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب محمد نامی ایک انصاری لڑکا موجود تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سوا ل کے جواب میں فرمایا : اگر یہ نوجوان زندہ رہا تو اس کے بوڑھا ہونے سے پہلے پہلے قیامت قائم ہوجائے گی۔
Takhreej
(۱۲۷۸۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۹۵۳ (انظر: ۱۳۳۸۶)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ میں قیامت قائم ہونے سے مراد اس صدی کا گزر جانا یا مخاطَب لوگوں کا فوت ہو جانا ہے، جیسا کہسیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں ہمیں نمازِ عشاء پڑھائی، سلام پھیرنے کے بعد فرمایا: ((أَرَأَیْتَکُمْ لَیْلَتَکُمْ ھٰذِہٖ، فَاِنَّ رَأْسَ مِائَۃٍ مِنْھَا لَا یَبْقٰی مِمَّنْ ھُوَ الْیَوْمَ عَلٰی ظَھْرِ الْاَرْضِ اَحَدٌ۔)) … کیا خیال ہے تمہارا اس رات کے بارے، (ذرا غور کرو کہ آج) جو زمین کی پشت پر موجود ہے، وہ سو برس تک باقی نہیں رہے گا۔ ( صحیح بخاری: ۶۰۱، صحیح مسلم: ۲۵۳۷)
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زمین کو جھنجھوڑنے والی بس آ گئی ہے، اس کے بعد (سخت بھونچال) آنے والا ہے، حقیقت تو یہ ہے کہ موت اپنا سارا کچھ لے کر آ گئی ہے۔
Takhreej
(۱۲۷۸۸) تخریج: اسنادہ ضعیف، عبد اللہ بن محمد بن عقیل ضعیف فی التفرد، أخرجہ الترمذی: ۲۴۵۷(انظر: ۲۱۲۴۱)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کا مفہوم درج ذیل آیات میںبیان کیا گیا ہے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بنو اسرائیل (۷۱) گروہوں میں تقسم ہوئے تھے، ان میں سے (۷۰) گروہ ہلاک ہو گئے اور ایک گروہ کامیاب ہوا ، اور میری امت (۷۲) فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی، ان میں سے (۷۱) فرقے ہلاک ہوں گے اور صرف ایک گروہ نجات پائے گا، ایک روایت میں ہے: سارے کے سارے فرقے آگ میں جائیں گے، ماسوائے ایک فرقے کے۔ صحابہ کرام نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! وہ کونسا گروہ ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جماعت والا‘ جماعت والا۔
Takhreej
(۱۲۷۸۹) تخریج: صحیح بشواہدہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۹۹۳(انظر: ۱۲۴۷۹)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہود (۷۱) یا (۷۲) گروہوں میں تقسیم ہو گئے تھے اور میری امت (۷۳) فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی ۔
ابو عامر عبداللہ بن لحی کہتے ہیں: ہم نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی معیت میں حج کیا، جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو نماز ظہر کے بعد انہوں نے کھڑے ہو کر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ: اہل کتاب دین کے بارے میں (۷۲) گروہوں میں تقسیم ہوگئے تھے اور یہ امت (خواہشات کی وجہ سے) (۷۳) فرقوں میں بٹ جائے گی، لیکن ایک گروہ کے علاوہ سب گروہ جہنم میں جائیں گے اور عنقریب میری امت میں بہت سے ایسے لوگ بھی ظاہر ہوں گے کہ ان میں خواہشات یوں سرایت کریں گی، جیسے باولے کتے (کے کٹنے کا زہر) آدمی میں اس طرح گھس جاتا ہے کہ اس کی کوئی رگ اور جوڑ باقی نہیں رہتا مگر اس میں سرایت کر جاتا ہے۔ اے عرب قوم! اللہ کی قسم! تمہارا نبی جس دین کو لے کر آیا ہے، اگر تم ہی اس پر کاربند نہ رہے تو ظاہر ہے کہ کوئی دوسرا اس پر قائم نہیں رہے گا۔
فوائد:… علامہ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: شیخ صالح مقبلی رحمتہ اللہ علیہ نے (العَلَم الشامخ فی ایثار الحق علی الآباء والمشایخ: صـ ۴۱۴) میں کہا: بلا شک و شبہ کثیر روایات سے امت کا تہتر فرقوں میں بٹ جانا ثابت ہوتا ہے، … (پھر انھوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ذکر کی اورکہا:) اصل اشکال اس جملے میں ہے: ((کُلُّھَا فِیْ النَّارِ اِلَّا مِلَّۃً۔)) … سارے کے سارے فرقے جہنم میں جائیں گے، سوائے ایک کے۔
ابو عمار سے مروی ہے کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ایک ہمسائے نے کہا: جب میں ایک سفر سے واپس آیا تو سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ مجھے سلام کرنے کے لیے میرے پاس تشریف لائے، میں ان کو لوگوں کے افتراق اور ان کے ایجاد کردہ نئے نئے امور کے بارے میں بتلانے لگا، یہ سن کر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ رونے لگ گئے اور پھر کہا کہ میںنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: لوگ دین میں جوق در جوق داخل ہوئے اور قریب ہے کہ وہ فوج در فوج دین سے نکلنا شروع کر دیں گے۔
Takhreej
(۱۲۷۹۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ جار جابر بن عبد اللہ (انظر: ۱۴۶۹۶)
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ایک دفعہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچا تواس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں ارشاد فرما رہے تھے : لوگو! تم جماعت کے ساتھ مل کر رہنا اور تفرقہ بازی سے بچ کر رہنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی۔
سیدنا عرفجہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کچھ فتنے اور ہنگامے ہوں گے، جب مسلمان متحد ہوں تو جو شخص ان کے درمیان تفرقہ ڈالنے کا ارادہ کرے تو اسے تلوار سے قتل کر ڈالو، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔
Takhreej
(۱۲۷۹۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۸۵۲ (انظر: ۱۸۲۹۵)
Explanation
فوائد:… اسلام نے جماعت کو بہت اہمیت دی ہے، جہاں تک ہو سکے، اسی کا اہتمام کرنا چاہیے، غور کریں کہ مسلمانوں کی جماعت میں تفرقہ ڈالنے والے کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس وقت ایک ارب سے زائد مسلمان دنیا میں موجود ہیں، لیکن مسلمانوں کا اجتماعی اور جماعتی نظام موجود نہیں ہے۔
بلال عبسی سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں: ہمیں عمران بن حصن ضبی نے بیان کیا کہ وہ بصرہ گئے، ان دنوں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ وہاں کے امیر تھے، انہوں نے محل کے سائے میں ایک آدمی کو کھڑے دیکھا جو بار بار یہ کلمہ دوہرا رہا تھا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا،میں اس کے قریب ہوا اور اس سے کہا: آپ بار بار یہی کہہ رہے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا، اس کی وجہ کیا ہے؟اس نے کہا: اللہ کی قسم! اگر تم چاہو تو میں اس کی وجہ بیان کر دیتا ہوں، میں نے کہا: جی بالکل، اس نے کہا: تو پھر بیٹھ جاؤ، فلاں وقت کی بات ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں تشریف فرما تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جانا چاہا، ایک قبیلہ کے دو بزرگ تھے، ان کا بیٹا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جا ملا تھا، انہوں نے مجھ سے کہا کہ تم مدینہ منورہ جارہے ہو، ہمارا ایک بیٹا اس شخص کے ساتھ جا ملا ہے، تم ان سے ہمارے بیٹے کو طلب کرنا اور اگر وہ فدیے کا مطالبہ کریں تو تم ادا کر دینا۔ میں مدینہ منورہ پہنچا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے کہا: اللہ کے نبی! فلاں قبیلہ کے دو بزرگوں نے مجھ سے کہا ہے کہ ان کا جو بیٹا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہے‘ میں اسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے طلب کروں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تم اسے پہنچاتے ہو؟ میں نے کہا: جی، اس کا نسب جانتا ہوں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس لڑکے کو بلوایا اور فرمایا: یہ وہ لڑکا ہے، تم اسے اس کے والدین کے پاس لے جاؤ۔ میںنے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اس کا فدیہ کتنا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم آلِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے یہ جائز نہیں کہ ہم اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کسی کی قیمت لے کر کھائیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے کندھے پر ہاتھ مار کر فرمایا: : مجھے قریشیوں سے متعلقہ کوئی اندیشہ نہیں ہے، ما سوائے اس کے کہ یہ آپس میں ایک دوسرے پر چڑھائی کریں گے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی ! انہیں کیا ہوجائے گا کہ ایسا کرنے لگیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں طویل زندگی ملی تو دیکھنا کہ لوگ ان قریشیوں کے گروہوں کے درمیان ان بکریوں کی طرح آئیں جائیں گے جو دو حوضوں کے درمیان ہوں، کبھی اس حوض پر آجاتی ہوں اور کبھی دوسرے حوض پر ۔ پھر میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ہاں حاضری کے لیے اجازت لے رہے ہیں، اور اس سال دیکھا کہ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے کے پاس جانے کے لیے اجازت طلب کر رہے تھے، یہ منظر دیکھ کر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد یاد آگیا ۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے تین دعائیں کیں، اس نے دو دعائیں قبول کر لیں اور ایک قبول نہیں کی، میں نے یہ دعا کی کہ وہ میری امت کو عام قحط میں مبتلا نہ کرے، اس نے یہ دعا قبول کر لی، پھر میں نے دوسری دعا یہ کی کہ میری امت کے دشمن اس پر غالب نہ آئیں، اس نے یہ دعا بھی قبول کر لی اور میں نے تیسری دعا یہ کہ وہ ان کو مختلف گروہوں میں بٹ جانے سے بچائے، لیکن اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا قبول نہیں کی۔
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم آج صحیح دین پر قائم ہو اور میں تمہاری کثرت کے سبب دوسری امتوں پر فخر کروں گا، لہذا میرے بعد تم دین سے واپس نہ پلٹ جانا۔
حسن کہتے ہیں کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا ایک بھائی فتنوں میں پیش پیش رہتا تھا، وہ اسے منع تو کرتے تھے لیکن وہ باز نہیں آتا تھا،سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے ایک دن اس سے کہا: میں تو سمجھتا تھا کہ میری تھوڑی سی وعظ و نصیحت تیرے لیے کافی رہے گی، لیکن صورتحال یہ ہے کہ میں اس کے برعکس دیکھ رہا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: جب دومسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے کے بالمقابل نکل آئیں اور ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہوں گے ۔ صحابہ نے دریافت کیا: اللہ کے رسول ! قاتل تو جہنمی ہوا، مقتول کے جہنمی ہونے کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے اپنے مقابلے میں آنے والے کو قتل کرنے کا ارادہ کر لیا تھا۔