مسنداحمد

Musnad Ahmad

قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان

ذِمِّی لوگوں کا جزیہ کی ادائیگی بند کر دینے کا بیان

۔ (۱۲۸۷۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہٗکَانَیَقُوْلُ: کَیْفَ اَنْتُمْ اِذَا لَمْ تَجْتَبُوْا دِیْنَارًاوَلَا دِرْھَمًا؟ فَقِیْلَ لَہُ: وَھَلْ تَرٰی ذٰلِکَ کَائِنًا یَااَبَاھُرَیْرَۃَ؟ فَقَالَ: وَالَّذِیْ نَفْسُ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ بِیَدِہِ! عَنْ قَوْلِ الصَّادِقِ الْمَصْدُوْقِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ قَالُوْا: وَعَمَّ ذَاکَ؟ قَالَ: تُنْتَہَکُ ذِمَّۃُ اللّٰہِ وَذِمَّۃُ رَسُوْلِہٖفَیَشُدُّ اللّٰہُ قُلُوْبَ اَھْلِ الذِّمَّۃِ فَیَمْنَعُوْنَ مَا بِاَیْدِیْہِمْ، وَالَّذِیْ نَفْسُ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ بِیَدِہِ لَیَکُوْنَنَّ مَرَّتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۸۳۶۸)

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے تھے: تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تمہیں (جزیہ کے) دینار و درہم وصول نہیں ہوں گے، کسی نے ان سے پوچھا:اے ابو ہریرہ ! کیا آپ کا خیال یہ ہے کہ ایسا ہوگا؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو ہریرہ کی جان ہے!یہ تو صادق و مصدوق ہستی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا فرمان ہے۔ لوگوں نے کہا: ایسا کیوں ہوگا؟ انھوں نے کہا: جب اللہ اور اس کے رسول کے عہد کی پاسداری نہیں کی جائے گی، تو اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ ذمیوں کے دلوں کو سخت کر دے گا اور اس طرح وہ اس چیز کو روک لیں گے، جو ان کے ہاتھ میں ہو گی، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو ہریرہ کی جان ہے! ایسا ضرور ہو کر رہے گا۔ انہوںنے یہ بات دو مرتبہ دہرائی۔

۔ (۱۲۸۷۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنَعَتِ الْعِرَاقُ قَفِیْزَھَا وَدِرْھَمَھَا، وَمَنَعَتِ الشَّامُ مُدَّھَا وَدِیْنَارَھَا۔ وَمُنَعَتَ مِصْرُ اِرْدَبَّہَا وَدِیْنَارَھَا وَعُدْتُّمْ مِنْ حَیْثُ بَدَاْتُمْ وَعُدْتُّمْ مِنْ حَیْثُ بَدَاْتُمْ۔)) یَشْہَدُ عَلٰی ذٰلِکَ لَحْمُ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ وَدَمُہُ۔ (مسند احمد: ۷۵۵۵)

۔ (دوسری سند) سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (ایک وقت آئے گا) کہ اہل عراق اپنا قفیز اور درہم، شام اپنا مُدّ اور دینار اور مصر اپنا اِرْدَب اور دینار روک لے گا، اور تم وہاں لوٹ جاؤ گے، جہاں سے تم نے ابتدا کی تھی، اور تم وہیں لوٹ جاؤ گے، جہاں سے تمہاری ابتدا ہوئی تھی۔ ابوہریرہ کا گوشت اور خون اس حقیقت پر گواہ ہے۔

۔ (۱۲۸۷۶)۔ عَنْ أَبِیْ نَضْرَۃَ، قَالَ: کُنَّا عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ: یُوْشِکُ أَھْلُ الْعِرَاقِ اَلَّایُجْبٰی إِلَیْھِمْ قَفِیْزٌ وَلاَ دِرْھَمٌ، قُلْنَا: مِنْ أَیْنَ ذَاکَ؟ قَالَ: مِنْ قِبَلِ الْعَجَمِ یَمْنَعُوْنَ ذَاکَ، ثُمَّ قَالَ: یُوْشِکُ أَھْلُ الشَّامِ أَنْ لَّایُجْبٰی إِلَیْھِمْ دِیْنَارٌ وَلَا مُدٌّ، قُلْنَا: مِنْ أَیْنَ ذَاکَ؟ قَالَ: مِنْ قِبَلِ الرُّوْمِ یَمْنَعُوْنَ ذَاکَ، قَالَ: ثُمَّ أَمْسَکَ ھُنَیَّۃً ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَکُوْنُ فِیْ آخِرِ أُمَّتِیْ خَلِیْفَۃٌیَحْثُوْا الْمَالَ حَثْوًا، لَایَعُدُّہٗ عَدًّا۔)) قَالَ: قُلْتُ لِأَبِیْ نَضْرَۃَ وَأَبِیْ الْعَلَائِ: أَتَرَیَانِ أَنَّہٗعُمَرُبْنُعَبْدِالْعَزِیْزِ؟ فَقَالَا: لَا۔ (مسند احمد: ۱۴۴۵۹)

ابونضرہ کہتے ہیں: ہم سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس تھے‘ انھوں نے کہا: قریب ہے کہ اہل عراق کی طرف قفیز اور درہم کی درآمد رک جائے۔ ہم نے کہا: یہ کیسے ہو گا؟ انھوں نے کہا: عجم کی طرف سے‘ (ایک وقت آئے گا کہ) وہ روک لیں گے۔ پھر انھوں نے کہا: قریب ہے کہ اہل شام کی طرف دینار اور مدّ کی درآمد رک جائے۔ ہم نے کہا: یہ کیسے ہو گا؟ انھوں نے کہا: روم سے (ایک وقت آئے گا کہ) وہ روک لیں گے۔ اس کے بعد وہ تھوڑی دیر کے لئے بات کرنے سے رک گئے اور پھر کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کے آخر میں ایک ایسا خلیفہ ہو گا جو مال کے چلو بھر بھر کے (لوگوں کو ) دے گا اور اسے شمار نہیں کرے گا ۔ میں نے ابونضرہ اور ابو علاء سے کہا: تمھارا کیا خیال ہے کہ وہ عمر بن عبدالعزیز ہو سکتا ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں۔