مسنداحمد

Musnad Ahmad

قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان

فتنوں سے متعلقہ سیدناحذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی روایات

۔ (۱۲۸۷۷)۔ عَنْ اَبِیْ اِدْرِیْسَ عَائِذِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ الْخَوْلَانِیِّ سَمِعْتُ حُذَیْفَۃَ بْنَ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ: وَاللّٰہِ اِنِّیْ لَاَعْلَمُ النَّاسِ بِکُلِّ فِتْنَۃٍ ھِیَ کَائِنَۃٌ فِیْمَا بَیْنِیْ وَ بَیْنَ السَّاعَۃِ، وَمَا ذٰلِکَ اَنْیَّکُوْنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَدَّثََنِیْ مِنْ ذٰلِکَ شَیْأً اَسَرَّہُ اِلَیَّ لَمْ یَکُنْ حَدَّثَ بِہِ غَیْرِیْ، وَلٰکِنْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ، وَھُوَ یُحَدِّثُ مَجْلِسًا اَنَا فِیْہِ سُئِلَ عَنِ الْفِتَنِ وَھُوَ یَعُدُّ الْفِتَنَ: ((فِیْہِنَّ ثَلَاثٌ لَا یَذَرْنَ شَیْئًا مِنْہُنَّ کَرِیَاحِ الصَّیْفِ مِنْہَا صِغَارٌ، وَمِنْہَا کِبَارٌ۔)) قَالَ حُذَیْفَۃُ: فَذَھَبَ اُولٰئِکَ الرَّھْطُ کُلُّہُمْ غَیْرِیْ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۸۰)

سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! آج سے قیامت تک جتنے فتنے رونما ہوں گے، میں ان کے متعلق سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں، اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ایسی رازدارانہ چیزیں بتلائی ہوں، جو دوسروں کو بیان نہ کی ہوں، بات یہ ہے کہ ایک محفل میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے فتنوں کے بارے میں پوچھا گیا، میں بھی اس مجلس میں موجود تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فتنوں کو شمار کر کے ان کی وضاحت کرنے لگے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان میں سے تین فتنے ایسے ہوں گے، جو (اپنی سنگینی کی وجہ سے) کسی چیز کو بھی نہیں چھوڑیں گے، بعض فتنے موسم گرما کی آندھیوں کے سے ہوں گے اور بعض چھوٹے ہوں گے اور بعض بڑے۔ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس محفل میں جتنے لوگ موجود تھے وہ سب وفات پا چکے ہیں، صرف میں زندہ ہوں۔

۔ (۱۲۸۷۸)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ اَنَّہُ قَالَ: اَخْبَرَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَا ھُوَ کَائِنٌ اِلٰی اَنْ تَقُوْمَ السَّاعَۃُ، فَمَا مِنْہُ شَیْئٌ اِلاَّ قَدْ سَاَلْتُہُ اِلَّا اَنِّیْ لَمْ اَسْاَلْہُ مَا یُخْرِجُ اَھْلَ الْمَدِیْنَۃِ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۷۰)

سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ نے مجھے قیامت تک رونما ہونے والے (اہم واقعات اور فتنوں) سے آگاہ فرمایا ہے، میں آپ سے اس قسم کی ہر چیز کے بارے میں پوچھ چکا ہوں، البتہ میں یہ نہ پوچھ سکا کہ کون سی چیز مدینہ کے لوگوںکو مدینہ سے باہر نکالے گی۔

۔ (۱۲۸۷۹)۔ وَعَنْ اَبِیْ وَائِلٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَامَ فِیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَقَامًا فَمَا تَرَکَ شَیْأًیَکُوْنُ بَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ اِلَّا ذَکَرَہُ فِیْ مَقَامِہِ ذٰلِکَ حَفِظَہُ مَنْ حَفِظَہُ وَنَسِیَہُ مَنْ نَسِیَہُ، قَالَ حُذَیْفَۃُ: فَاِنِّیْ لَاَرٰی اَشْیَائَ قَدْ کُنْتُ نَسِیْتُہَا، فَاَعْرِفُہَا کَمَا یَعْرِفُ الرَّجُلُ وَجْہَ الرَّجُلِ قَدْ کَانَ غَائِبًا عَنْہُ یَرَاہُ فَیَعْرِفُہُ، قَالَ وَکِیْعٌ (اَحَدُ الرُّوَاۃِ) مَرَّۃً: فَرَآہُ فَعَرَفَہُ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۶۳)

سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قیامت تک ہونے والے ہر واقعہ کا ذکر فرما دیا، یاد رکھنے والوں نے ان کو یاد رکھا اور بھلا دینے والوں نے بھلا دیا، میں خود بھی بہت سی ایسی اشیاء دیکھتا ہوں، جو مجھے بھول گئی تھیں، لیکن وہ دیکھنے سے مجھے یاد آ جاتی ہیں، جیسے ایک آدمی جب غائب ہو جانے والے (اور بھول جانے والے) آدمی کو دیکھتا ہے تو وہ اسے پہنچان لیتا ہے۔

۔ (۱۲۸۸۰)۔ وَعَنْ حُذَیْفَۃَ (ابْنِ الْیَمَانِ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہٗقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنْ کُنَّا فِیْ شَرٍّ فَذَھَبَ اللّٰہُ بِذٰلِکَ الشَّرِّ وَجَائَ بِالْخَیْرِ عَلٰییَدَیْکَ فَہَلْ بَعْدَ الْخَیْرِ مِنْ شَرٍّ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالَ: مَاھُوَ؟ قَالَ: ((فِتَنٌ کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ یَتْبَعُ بَعْضُہَا بَعْضًا، تَأْتِیْکُمْ مُشْتَبِہَۃً کَوُجُوْہِ الْبَقَرِ لَا تَدْرُوْنَ اَیًّا مِنْ اَیٍّ۔)) (مسند احمد: ۲۳۷۱۷)

سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کفر کے شرّ میں تھے، اللہ تعالیٰ نے اس شرّ کو ختم کر دیا اور آپ کے ہاتھوں پر خیر(اور دینِ اسلام) کو لے آیا، اب سوال یہ ہے کہ آیا اس خیر کے بعد پھر شرّ آئے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ انہوںنے پوچھا: وہ کیا ہوگا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ فتنے ہوں گے، جو اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح پے در پے آئیں گے اور وہ گائیوں کے چہروں کی طرح ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوں گے اورتم ان میں امتیاز نہیں کر سکو گے۔

۔ (۱۲۸۸۱)۔ وَعَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہُ قَدِمَ مِنْ عِنْدِ عُمَرَ ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: لَمَّا جَلَسْنَا اِلَیْہِ اَمْسِ سَاَلَ اَصْحَابَ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَیُّکُمْ سَمِعَ قَوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْفِتَنِ؟ فَقَالُوْا: نَحْنُ سَمِعْنَاہُ، قَالَ: لَعَلَّکُمْ تَعْنُوْنَ فِتْنَۃَ الرَّجُلِ فِیْ اَھْلِہِ وَمَالِہِ؟ قَالُوْا: اَجَلْ، قَالَ: لَسْتُ عَنْ تِلْکَ اَسْاَلُ، تِلْکَ یُکَفِّرُھَا الصَّلَاۃُ وَالصِّیَامُ وَالصَّدَقَۃُ، وَلٰکِنْ اَیُّکُمْ سَمِعَ قَوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْفِتَنِ الَّتِیْ تَمُوْجُ مَوْجَ الْبَحْرِ؟ قَالَ: فَاَمْسَکَ الْقَوْمُ وَظَنَنْتُ اَنَّہُ اِیَّایَیُرِیْدُ، قَالَ: قُلْتُ: اَنَا، قَالَ لِیْ: اَنْتَ لِلّٰہِ اَبُوْکَ، قَالَ: قُلْتُ: تُعْرُضُ الْفِتَنُ عَلَی الْقُلُوْبِ عَرْضَ الْحَصِیْرِ، فَاَیُّ قَلْبٍ اَنْکَرَھَا نُکِتَتْ فِیْہِ نُکْتَۃٌ بَیْضَائُ، وَاَیُّ قَلْبٍ اُشْرِبَھَا نُکِتَتْ فِیْہِ نُکْتَۃٌ سَوْدَائُ حَتّٰییَصِیْرَ الْقَلْبُ عَلٰی قَلْبَیْنِ، اَبْیَضَ مِثْلَ الصَّفَا لَا یَضُرُّہُ فِتْنَۃٌ مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْاَرْضُ، وَالآخَرُأَسْوَدُ مِرْبَدٌ کَالْکُوْزِ مُجَخَّیًا وَأَمَالَ کَفَّہُ لَایَعْرِفُ مَعْرُوْفًا وَلَا یُنْکِرُ مُنْکَرًا اِلَّا مَااُشْرِبَ مِنْ ھَوَاہُ، وَحَدَّثْتُہُ وَبَیْنَہَا بَابًا مُغْلَقًا یُوْشِکُ اَنْ یُکْسَرَ کَسْرًا قَالَ عُمَرُ: کَسْرًا؟ لَا اَبًا لَکَ، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَلَوْ اَنَّہُ فُتِحَ کَانَ لَعَّلَہٗاَنْیُعَادَ فَیُغْلَقَ، قَالَ: قُلْتُ: لَا بَلْ کَسْرًا، قَالَ وَحَدَّثْتُہٗاَنَّذٰلِکَالْبَابَرَجُلٌیُقْتَلُ اَوْیَمُوْتُ۔)) حَدِیْثًا لَیْسَ باِلْاَغَالِیْطِ۔ (مسند احمد: ۲۳۸۳۳)

ربعی بن حراش کہتے ہیں کہ جب سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے آئے تو انہوں نے کہا: کل جب ہم ان کے پاس بیٹھے تھے تو انہوں نے صحابہ سے پوچھا کہ تم میں سے کس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے فتنوں کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ سب نے کہا: جی ہاں، ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایسی احادیث سنی ہیں۔ انہوںنے کہا: شاید تم میرے سوال سے یہ سمجھ رہے ہو کہ میں انسان کے اہل وعیال اور مال کے فتنہ کے بارے میں پوچھ رہا ہوں؟ انہوںنے کہا: جی ہاں، ہم تو یہی سمجھے ہیں۔ انہوںنے کہا: میں اس کے بارے میں نہیںپوچھ رہا، ایسے فتنوں کو تو نماز، روزہ اور صدقہ جیسی نیکیاں ختم کر دیتی ہیں،یہ بتلاؤ کہ کیا تم میں سے کسی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ان فتنوں کے متعلق سنا ہے جو سمندر کی موجوں کی طرح آئیں گے؟ ان کا یہ سوال سن کر لوگ خاموش ہوگئے۔ میں سمجھا کہ وہ مجھ سے ہی پوچھ رہے ہیں، اس لیے میں نے کہا: میں بیان کروں؟ انھوں نے کہا:اللہ تمہارے باپ کا بھلا کرے، تم ہی بیان کر دو، میںنے کہا کہ چٹائی کے پھیلاؤ کی طرح فتنے رونما ہوں گے، جو دل ان فتنوں سے محفوظ رہا اس میں سفید نقطہ لگادیا جائے گا اور جو دل اس فتنے میں ملوث ہوگیا اس میں سیاہ نقطہ لگادیا جائے گا، یہاں تک کہ نقطے لگتے لگتے دل دو قسم کے ہوجائیں گے، کچھ دل تو پتھر کی طرح بالکل سفید ہو جائیں گے، جب تک زمین و آسمان قائم رہیں گے ان کو کوئی فتنہ بھی ضرر نہیں پہنچا سکے گا اور کچھ سیاہ ہو کر کوزے کی مانند اس طرح الٹ جائیں گے، اس کے ساتھ ہی انھوںنے اپنی ہتھیلی کو الٹا کر بات کو واضح کیا، وہ کسی اچھائی کو اچھائی اور برائی کو برائی نہیں سمجھیں گے اورصرف اپنی خواہشات میںمگن ہوں گے۔ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میںنے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ بھی بیان کیا کہ آپ کو ان فتنوں سے خوف زدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ آپ کے اور ان کے مابین ایک بند دروازہ ہے، ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ اسے زور سے توڑ دیا جائے، یہ سن کر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تمہارا باپ نہ رہے، کیا اسے توڑ ڈالا جائے گا؟ میں نے کہا جی ہاں، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر اسے سیدھی طرح کھول دیا جائے تو عین ممکن ہے کہ کسی وقت بند بھی ہوجائے۔ میںنے کہا: اسے کھولا نہیں جائے گا، بلکہ توڑ دیا جائے گا۔ نیز میں نے ان کو یہ بھی بیان کیا کہ اس دروازے سے مراد ایک انسان ہے جو قتل کیا جائے گا یا وہ اپنی طبعی موت مرے گا، یہ رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حدیث ہے، محض کہانیاں نہیں۔

۔ (۱۲۸۸۲)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثََنِیْ اَبِیْ ثَنَا یَحْیٰی بْنُ سَعِیْدٍ عَنِ الْاَعْمَشِ حَدَّثَنِیْ شَقِیْقٌ قَالَ: سَمِعْتُ حُذَیْفَۃَ وَوَکِیْعٌ عَنِ الْاَعْمَشِ عَنْ شَقِیْقٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ وَقَالَ: سَمِعْتُ حُذَیْفَۃَ بْنَ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا جُلُوْسًا عِنْدَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: اَیُّکُمْیَحْفَظُ قَوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْفِتْنَۃِ؟ قُلْتُ: اَنَا، کَمَا قَالَہُ، قَالَ: اِنَّکَ لَجَرِیْئٌ عَلَیْہَا اَوْعَلَیْہِ، قُلْتُ: فِتْنَۃُ الرَّجُلِ فِیْ اَھْلِہِ وَمَالِہِ وَوَلَدِہٖوَجَارِہِیُکَفِّرُھَا الصَّلَاۃُ وَالصَّدَقَۃُ وَالْاَمْرُ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّہْیُ عَنِ الْمُنْکَرِ۔ قَالَ: لَیْسَ ہٰذَا اُرِیْدُ وَلٰکِنِ الْفِتْنَۃُ الَّتِیْ تَمُوْجُ کَمَوْجِ الْبَحْرِ، قُلْتُ: لَیْسَ عَلَیْکَ مِنْہَا بَاْسٌ یَا اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! اِنَّ بَیْنَکَ وَبَیْنَہَا بَابًا مُغْلَقًا، قَالَ: اَیُکْسَرُ اَوْ یُفْتَحُ؟ قُلْتُ: بَلْ یُکْسَرُ، قَالَ: اِذًا لاَ یُغْلَقُ اَبَدًا، قُلْنَا: اَکَانَ عُمَرُ یَعْلَمُ مَنِ الْبَابُ؟ قَالَ: نَعَمْ، کَمَا یَعْلَمُ اَنَّ دُوْنَ غَدٍ لَیْلَۃً، قَالَ وَکِیْعٌ فِیْ حَدِیْثِہِ: قَالَ: فَقَالَ مَسْرُوْقٌ لِحُذَیْفَۃَ: یَا اَبَا عَبْدِاللّٰہِ کَانَ عُمَرُ یَعْلَمُ مَا حَدَّثْتَہُ بِہٖ؟قُلْنَا: اَکَانَعُمَرُیَعْلَمُ مَنِ الْبَابُ؟ قَالَ: نَعَمْ کَمَا یَعْلَمُ اَنَّ دُوْنَ غَدٍ لَیْلَۃً، اِنِّیْ حَدَّثْتُہُ لَیْسَ بِالْاَغَالِیْطِ، فَہِبْنَا حُذَیْفَۃَ اَنْ نَسْاَلَہُ مَنِ الْبَابُ فَاَمَرْناَ مَسْرُوْقًا فَسَاَلَہُ فَقَالَ: اَلْبَابُ عُمَرُ۔ (مسند احمد: ۲۳۸۰۴)

سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہوںنے سوال کیا کہ کیا تم میںسے کسی کو فتنوں کے بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کوئی حدیث یا دہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، مجھے فتنہ کے متعلق حدیث یاد ہے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی فتنہ کے بارے میں احادیث بیان کرنے میں تم جرأت والے ہو۔ میں نے کہا: انسان اپنے اہل و عیال، مال و اولاد اور ہمسایوں کے بارے میں جتنے فتنوں میں مبتلا ہوتا ہے، نماز، صدقہ، نیکی کا حکم کرنے اور برائی سے منع کرنے جیسی نیکیاں ایسے فتنوں کا کفارہ بنتی رہتی ہیں۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں ایسے فتنے کے بارے میں نہیں پوچھ رہا، میرا سوال تو اس فتنے کے بارے میں ہے جو سمندر کی موج کی طرح آئے گا۔ میںنے کہا: اے امیر المومنین ! آپ کو اس سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں، آپ کے اور اس کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔ انہوں نے پوچھا: اس دروازے کو توڑا جائے گا یا کھولا جائے گا؟ میں نے کہا: بلکہ اسے توڑا جائے گا۔ انہوں نے کہا: پھر تو وہ کبھی بھی بند نہ ہو سکے گا۔ ہم نے سیدنا حذیفہ سے دریافت کیا کہ آیا سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ علم تھا کہ دروازہ سے مراد کون آدمی ہے؟ انہوںنے کہا:جی ہاں، وہ اس دروازے کو اس طرح جانتے تھے، جیسے وہ یہ جانتے تھے کہ کل سے پہلے رات آئے گی۔ وکیع نے اپنی حدیث میں یوں بیان کیا: مسروق نے سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے ابو عبداللہ! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جو کچھ بیان کیا، آیا وہ اس کی حقیقت اور مفہوم کو جانتے تھے؟ جبکہ ہم نے کہا: آیا سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جانتے تھے کہ یہ دروازہ کون ہے؟ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بتایا کہ وہ اس بات کو اس طرح جانتے تھے جیسے ان کو یہ علم تھا کہ کل سے پہلے رات آئے گی، یاد رکھو کہ میں نے یہ حقائق بیان کیے ہیں، یہ محض کہانیاں نہیں ہیں۔ پہلے تو ہم سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ پوچھنے کی جسارت نہ کر سکے کہ دروازہ سے مراد کون ہے؟ پھر ہم نے مسروق سے کہا کہ وہ ان سے اس کے بارے میں پوچھے، سو جب اس نے سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا تو انھوں نے بتلایا کہ اس دروازہ سے مراد سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں۔

۔ (۱۲۸۸۳)۔ وَعَنْ حُذَیْفَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اُحْصُوْا لِیْ کَمْ یَلْفِظُ الاِْسْلَامَ۔)) قُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَتَخَافُ عَلَیْنَا وَنَحْنُ مَابَیْنَ السِّتِّمِائَۃِ اِلَی السَّبْعِمِائَۃِ؟ قَالَ: فَقَالَ: ((اِنَّکُمْ لَا تَدْرُوْنَ لَعَلَّکُمْ اَنْ تُبْتَلُوْا۔)) قَالَ: فَابْتُلِیْنَا حَتّٰی جَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا لاَ یُصَلِّیْ اِلاَّ سِرًّا۔ (مسند احمد: ۲۳۶۴۸)

سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میرے لیے اسلام کا کلمہ پڑھنے والوں کو شمار کرو۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو ہمارے بارے میں کوئی ڈر ہے، جبکہ ہماری تعداد چھ سو سے سات سوکے درمیان ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نہیں جانتے، ہو سکتا ہے کہ تم پر آزمائشیں آ پڑیں۔ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: چنانچہ ہمیں اس طرح آزمایا گیا کہ آدمی کو نماز بھی چھپ چھپ کر ادا کرنا پڑی۔

۔ (۱۲۸۸۴)۔ عَنْ اَبِیْ ثَوْرٍ قَالَ: بَعَثَ عُثْمَانُ یَوْمَ الْجَرَعَۃِ بِسَعِیْدِ بْنِ الْعَاصِ ،قَالَ: فَخَرَجُوْا اِلَیْہِ فَرَدُّوْہٗقَالَ: فَکُنْتُقَاعِدًامَعَاَبِیْ مَسْعُوْدٍ وَحُذَیْفَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فَقَالَ اَبُوْمَسْعُوْدٍ: مَا کُنْتُ اَرٰی اَنْ یَّرْجِعَ لَمْ یُہْرِقْ فِیْہِ دَمًا، قَالَ: فَقَالَ حُذَیْفَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: وَلٰکِنْ قَدْعَلِمْتُ لَتَرْجِعَنَّ عَلٰی عُقَیْبِہَا لَمْ یُھْرِقْ فِیْہَا مَحْجَمَۃَ دَمٍ وَمَا عَلِمْتُ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئًا اِلَّا شَیْئًا عَلِمْتُہُ وَمُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَیٌّحَتّٰی اِنَّ الرَّجُلَ لَیُصْبِحُ مُؤْمِنًا ثُمَّ یُمِْسیْ، مَامَعَہٗمِنْہُشَیْئٌ، وَیُمْسِیْ مُؤْمِنًا وَیُصْبِحُ، مَامَعَہٗمِنْہُشَیْئٌ،یُقَاتِلُ فِئَتُہٗالْیَوْمَ وَیَقْتُلُہُ اللّٰہُ غَدًا، یُنَکِّسُ قَلْبَہٗ،تَعْلُوْہُاِسْتُہُ۔قَالَ: فَقُلْتُ: اَسْفَلُہُ،قَالَ: اِسْتُہُ۔ (مسند احمد: ۲۳۷۳۸)

ابوثور کہتے ہیں: امیرالمومنین سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جرعہ کے فتنہ کے موقعہ پر سیدنا سعید بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس فتنہ کو فرو کرنے کے لیے روانہ کیا، لوگ ان کے مقابلے کے لیے نکلے اور ان کو واپس بھگا دیا۔ ابوثور کہتے ہیں: میں سیدنا ابو مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھا تھا، سیدنا ابو مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نہیں سمجھتا تھا کہ یہ لوگ خون بہائے بغیر یوں ہی واپس پلٹ آئیں گے، ان کی بات سن کر سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں تو اس بات کو یقینی طور پر جانتا تھا کہ یہ لوگ یونہی واپس پلٹ آئیں گے اور جتنا خون سینگی لگوانے میں نکلتا ہے، اس مہم میں اتنا خون بھی نہیں بہایا جائے گا اور مجھے اس بات کا اس وقت علم ہو گیا تھا، جب محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حیات تھے، (ایسی صورتحال بھی پیدا ہو گی کہ ایک آدمی ایمان کی حالت میں صبح کرے گا، لیکن جب شام ہوگی تو اس کے پاس اس ایمان میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہے گی، اسی طرح ایک آد می ایمان کی حالت میں شام کرے گا، مگر صبح کے وقت اس کے پاس ایمان نام کی کوئی چیز باقی نہیں ہوگی، اس کا لشکر آج کسی کے ساتھ قتال کرے گا اور اگلے دن اللہ تعالیٰ اسی کو قتل کردے گا، اس کے دل کو یوں الٹ پلٹ کرے گا کہ اس کی دبر اس کی اوپر کی جانب ہوگی۔ میں نے کہا: اس کی نچلی جانب؟ اس نے جواب دیا: اس کی دبر۔